از مرکز

جلسہ سالانہ کےعظیم الشان مقاصد کا پُر معارف بیان (خلاصہ افتتاحی خطاب حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۴ء)

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ اسے کوئی معمولی جلسہ نہ سمجھو۔

جلسہ سالانہ برطانیہ کی تقریب پرچم کشائی اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز افتتاحی خطاب کا خلاصہ

(حدیقۃ المہدی، ۲۶؍جولائی۲۰۲۴ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آج جماعت احمدیہ برطانیہ کے ۵۸ ویں جلسہ سالانہ کا اپنے بصیرت افروز خطاب سے افتتاح فرمایا۔ ساڑھے چار بجے کے قریب حضورِ انور نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا۔ جیسے ہی حضورِ انور نے لوائے احمدیت لہرایا فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ اس کے بعد حضورِ انور نے دعا کروائی اور جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کے لیے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔

چار بج کر چھتیس منٹ پر حضور انور مردانہ پنڈال میں رونق افروز ہوئے۔ جونہی حضورِانور پنڈال میں داخل ہوئے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے اور عشاقانِ خلافت نے ان نعروں کا بھرپور جواب دیا۔ بعد ازاں افتتاحی اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مولانا فیروز عالم صاحب کو سورت آل عمران کی آیات۱۳۴ تا ۱۳۷ کی تلاوت کرنے اور اس کا ترجمہ تفسیر صغیر سے پیش کرنے کی سعادت ملی۔ بعد ازاں مکرم عصمت اللہ صاحب آف جاپان نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا اردو منظوم کلام بعنوان ‘‘بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین’’ میں سے بعض اشعار پیش کیے۔ یہ اشعار حسب ذیل شعروںسے شروع ہوئے:

ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے

نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے

کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے

کہ یہ حاصل ہو جو شرطِ لقا ہے

بعد ازاں مکرم دانش خرم صاحب اورمکرم احسان احمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا قرآن کریم کی مدح میں فارسی منظوم کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کا آغاز درج ذیل شعرسے ہوا:

بکوشید اے جواناں تا بدیں قوّت شود پیدا

بہار و رونق اندر روضۂ ملّت شود پیدا

ان اشعار کا اردو ترجمہ مکرم محمود احمد طلحہ صاحب کو پیش کرنے کی سعادت ملی۔

خلاصہ خطاب حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ

پانچ بجے فلک شگاف نعروں کی گونج میں حضور انور منبر پر رونق افروز ہوئے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عطا فرماتے ہوئے افتتاحی خطاب کا آغاز فرمایا۔

تشہد،تعوذ اورسورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ الحمدللہ! اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ پھر ہمیں جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کی توفیق دے رہا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی خواہش اور جلسے کے انعقاد کےمقصد کے مطابق

ہم ایک مرتبہ پھر اپنے نفس کی اصلاح، پاکیزگی، آپسی محبت اور بھائی چارہ بڑھانےکی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں۔

پس ان تین دنوں میں اس مقصد کو سامنے رکھیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ

اسے کوئی معمولی جلسہ نہ سمجھو ۔ پس یہ مقصد تب ہی پورا ہوسکتا ہے کہ جب ہم اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کریں۔

حضرت مسیح موعودؑ نے جلسے کے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں ان میں

زہد ہے، تقویٰ ہے،اسی طرح خدا ترسی، نرم دلی،محبت و مواخات،عاجزی، سچائی اور راست بازی اور دینی مہمات کے لیے سرگرمی دکھانا شامل ہیں۔

یہ وہ مقاصد ہیں جنہیں ان دنوں میں ہر ایک کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

ان مقاصد میں پہلی چیز زُہد ہے یعنی ہر قسم کے جذبات کو قربان کرنا، اپنی دلی خواہش اور دعوے سے دست بردار ہونا۔

ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم یہ حالت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اس ایک لفظ میں حضرت مسیح موعودؑ نے ہمارے لیے اصلاح کے تمام پہلو بیان کردیے ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اسلام میں رہبانیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ حلال کو اپنے اوپر حرام کرلینا اور اپنے مال کو ضائع کردینے کا کوئی تعلق زہد سے نہیں ہے۔ اگر کوئی دنیاوی جھمیلوں سے نجات حاصل کرکے جنگل میں چلا جاتا ہے اور دنیاوی رشتوں سے فرار حاصل کرتا ہے تو یہ زہد کے خلاف ہے۔ فرمایا دنیا میں رہتے ہوئے خدا تعالیٰ کی خاطر جذبات کی قربانی کی جائے تو یہ زہد ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دین اور دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے سوائے اس حالت میں کہ جب خداچاہے تو کسی شخص کی فطرت کو ایسا سعید بنائے کہ وہ دنیا کے کاروبار میں پڑ کر بھی اپنے دین کو مقدم رکھے۔ ایسے شخص بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔ پس!

زہد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ لغویات کو ردّ کرنا ضروری ہے۔ بداخلاقی سے رکنا اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا یہ زہد ہے۔ رنجشوں کو دُور کرکے صلح کی بنیاد ڈالنا یہ زہد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا یہ زہد ہے۔

پھر حضورؑ نے فرمایا ہے کہ

ایک مقصد جلسے کا تقویٰ پیدا کرنا ہے۔

ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑنے یہ مصرعہ فرمایا کہ

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

اس پر خداتعالیٰ کی طرف سے دوسرا مصرعہ الہام ہوا کہ

اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بےشمار جگہ تقویٰ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں کافی نہیں، اگر تقویٰ کی شرط پوری نہیں۔ خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت کے لوازمات پورے نہیں ہوتے۔ جب یہ ہوگا تو تب ہی حقیقی نمازیں بھی ہوں گی۔

جس شدّت سے ہم اپنی دنیاوی ضروریات کے لیے دعائیں کرتے ہیں اگر اس شدّت سے ہم روحانیت میں بڑھنے اور حصولِ تقویٰ کے لیے دعائیں نہیں کرتے تو پھر ایسی نمازوں اور دعاؤں کی اللہ تعالیٰ پروا نہیں کرتا۔

نمازیں تو ہمارے مخالفین بھی پڑھتے ہیں بلکہ پاکستان میں تو ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ نمازیں پڑھنے کاحق صرف ہمیں حاصل ہے، احمدی نماز بھی نہیں پڑھ سکتے مگر یہ مخالفین تقویٰ سے عاری ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے لوگوں کی عبادتیں، جو ظلم کرنے والے ہیں، قبول نہیں ہوتیں۔

اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل ہوگا تو برائیوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی طرف انسان توجہ کرے گا۔ اس کو سمجھنے کے لیے یومِ آخرت پر ایمان ہے۔ یہ قوی ہوگا تو برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ ہوگی کیونکہ یہ بات آخرت کے انجام کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ پھران سب امور کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کو پڑھنے کی طرف توجہ ضروری ہے۔ قرآن کریم سے ہی اللہ تعالیٰ کے احکامات کا علم ہوتا ہے اور پھر ان پر عمل کرکے انسان تقویٰ میں بڑھتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ورنہ

صرف بیعت کرلینا اور کہہ دینا کہ ہم الحمدللہ احمدی مسلمان ہیں کافی نہیں

پس ان جلسے کے دنوں میں ہر ایک کو اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

اس بات کا جائزہ لیں کہ جب اللہ ہمیں عہد کے بارے میں پوچھے تو ہم کہہ سکیں کہ ہم نے انہیں پورا کرنے کی کوشش کی ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اور احکام ہیں جو قرآن میں ہمیں دیے گئے ہیں۔ جب ہم قرآن کو اس نیت سے پڑھیں گے کہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ تبھی تقویٰ پر چلنے والے کہلا سکیں گے۔پھر

تقویٰ پر چلنے والے کے لیے ملکی قانون کی پاسداری بھی ضروری ہے۔

سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے حکموں سے ٹکرائے۔

جیسا کہ

پاکستان میں مناسکِ دین نہ ادا کرنے کا حکم ہے۔ دین کے بارے میں حکومتوں کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔ اس کے علاوہ ملکی قانون پر عمل کرنا اور ملک سے وفا کا عہد ہر احمدی کو ادا کرنا چاہیے۔

بہر حال ہر بات جو اللہ کا حق اور اس کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانے والی ہے وہ تقویٰ ہے اور تقویٰ پر عمل کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔

پھر

حضرت مسیح موعودؑ نے نرم دلی پیداکرنا ایک مقصد قرار دیا۔

اگر یہاں آکر بھی تبدیلی پیدا نہ کی تو یہاں آنا بے مقصد ہے۔

قرآن کریم میں غصہ دبانے اور معاف کرنے کا حکم ہے۔ جن کے دل غصے سے بھرے ہوئے ہیں وہ توجہ کریں صلح کی بنیاد ڈالیں اس ماحول میں اور اپنی زندگیوں میں جہاں بھی رہیں وہ ماحول بنائیں جو اسلامی معاشرے کا حقیقی نمونہ ہے۔ معاف کرنے کا خلق اللہ کو اتنا پسند ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے اللہ معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ان دنوں میں سب کو معاف کرکے کدورتیں دور کریں۔ صرف رنجشیں دور کرنے کا حکم نہیں بلکہ اس سے آگے احسان کا حکم ہے۔ آنحضرت ﷺ نے محبت پیدا کرنے کے لیے تحفہ دینا ایک طریقہ بیان کیا ہے۔ غیر اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اللہ کی خاطر غصہ کا گھونٹ پی لیتے ہیں تو اس کا بہت بڑا اجر ہے۔ پھر وہ اجر ملے گا جو اللہ کے فضلوں کا وارث بنائے گا۔ دلوں کی سختی آہستہ آہستہ نرم دلی کو ختم کر دیتی ہے۔ اور وہ نمونہ ہم قائم نہیں کر سکتے جس کے قیام کا حضرت مسیح موعودؑ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اسی لئے فرمایا اس خلق کے معیار کو اس جلسہ میں بڑھانے کے کوشش کرو۔

حضرت مسیح موعودؑ نے جلسے کا ایک مقصد آپس میں محبت اور مواخات کاپیدا ہونا بیان فرمایاہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے رحماء بینھم کہ آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے ہیں۔ جب ہر ایک رحم کر رہا ہوگا تو لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ محبت اور پیار بڑھے گا۔ بھائی چارے کی فضا قائم ہوگی۔ انتظامیہ کے سامنے پیش ہونے والے جھگڑے نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور عظمت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آج جب میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں۔ میں انہیں پناہ دوں گا۔ کیا ہی خوش قسمت ہیں جو اس ارشاد کے وارث بنتے ہیں۔

پھر

حضرت مسیح موعودؑ نے عاجزی کے خُلق کی طرف توجہ دلائی ہے۔

اس خلق کا اظہار لوگوں سے توملتے وقت ہوتا ہے۔ بہت لوگ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب مفاد کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو عاجزی پیچھے رہ جاتی ہے۔ بڑائی اور تکبر سامنے آ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمٰن کی نشانی عاجزی بیان فرمائی ہے۔ مومن عاجز ی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر دکھانے والے کو اللہ تعالیٰ نے جاہل ٹھہرایا ہے۔ جب حضرت مسیح موعودؑ نے ایک مقابلے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

’’تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں‘‘

یہ نمونہ ہے جسے ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پس تم رحمان خدا کے بندے بن کر اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کو جذب کرنے والے بنو یہ معاشرے میں امن کی بنیاد ہے۔

معاشرے جھوٹی اناؤں سے خراب ہوتے ہیں ۔ ملکوں کا ٹکراؤ تکبر کی وجہ سے ہے۔

یہی چیز دنیا کو عالمی جنگ کی طرف لے جا رہی ہے۔

جہاں ان نمونوں کو اپنانے کی کوشش کریں وہیں دنیا کے لیے دعا کریں۔ انسان یہ سمجھتا ہے تھوڑی سی طاقت آ گئی ہے تو میں سب کچھ بن گیا ہوں اور دوسرے کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں ۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں

شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں

پھر

سچائی اور راستی کی تعلیم کی طرف حضرت مسیح موعودؑ نے توجہ دلائی ہے ۔

یہ ایک احمدی کا خاصہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ جس قدر راستی کے لیے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہرگز باور نہیں کرسکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی ہے۔ ایک مومن کا شیوہ راستبازی ہے۔ ہمیں اپنے جائزے لینا ہوں گے۔ کیا ہم سچائی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہیں؟ اگر ہم یہ معیار حاصل کر لیں تو لڑائیاں ختم ہوجائیں۔ رشتوں میں دراڑیں بھی ختم ہوجائیں۔

پھر فرمایا کہ

دین کو دنیا پر مقدم کرو اور دینی مہمات کے لیے ایک جوش اور سرگرمی دکھاؤ۔

اگر پہلے بیان کیے گئے اوصاف پیدا ہو جائیں تو دین تو مقدم ہو جائے گا۔ تو پھر ہی ہم حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کو پورا کر سکتے ہیں، آنحضرتﷺ کے جھنڈے تلے دنیا کو لا سکتے ہیں۔پھر ہی ہم خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کر سکتے ہیں۔

ورنہ ہمارے قول اور فعل کا تضاد ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کر دے گا۔ اگر ہم نے بیعت کا حق ادا کرنا ہے تو عملی تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کی پہچان کروانے ، دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروانے کے لیے ہر احمدی کو اپنی تمام تراستعدادیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو اسلام کا ایک خوبصورت پیغام پہنچانے کی ضروت ہے۔ جب ہمارے مردوں عورتوں بچوں بوڑھوں کی دعائیں عرش تک جائیں گی تب ہی ہم دنیا میں انقلاب لانے والے بن سکیں گے، دشمن سے بچ سکیں گے، فتوحات کے نظارے دیکھیں گے۔ یہ بہت بڑا کام ہے جس کی حضرت مسیح موعودؑ نے ہم سے توقع کی ہے۔ اگر ہم میں وہ اعلیٰ اخلاق نہیں اور وہ درد نہیں پیدا ہو رہا جس سے ہم تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ تو ہم اپنے عہد بیعت کو ادا نہیں کررہے۔

پس اس جلسے میں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے والے بنائے جو حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کا مقصد ہے ورنہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ جلسہ ایک معصیت اور طریقۂ ضلالت ہے اور بدعتِ شنیعہ ہے۔ پس اگر تبدیلی پیدا نہ کی تو اس جلسے کا کوئی فائدہ نہیں ورنہ یہ جلسہ ایک بدعت ہے جیسے اور بدعات دنیا میں رائج ہیں۔

ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس جلسے کو ہم برکات کا ذریعہ بنائیں نہ کہ گمراہی ، بدعات اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے کابلکہ اِسے دنیا میں انقلاب کاذریعہ بنائیں اور

یہ عہد کریں اور اس کے لیے اِن دنوں میں دعائیں بھی کریں کہ ہم اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دنیا میں خدا تعالیٰ کی حکومت قائم نہ کر دیں، شیطان اور شیطان کے چیلوں کا خاتمہ نہ کردیں اوردنیا کو گمراہی سےنہ نکال دیں۔

یہ بہت بڑا کام ہے۔ لیکن اگر ہماری نیت نیک ہے ، ہم نے اپنی حالتوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق کر لیا ہے ،اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہمارے کام میں برکت عطا فرمائے گا۔ پس دنیا کے ہر کونے میں بیٹھے ہوئے ہر احمدی کو یہ عہد کرنا چاہیے اوراِس کے حصول کے لیے اپنے اپنے وسائل کے مطابق کوششیں کرنی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور خاص تضرع اور زاری کرنی ہے۔اِن دنوں میں درود بھی بہت پڑھیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں نیک مقاصد کے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کے لئے یہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے اور ہم حقیقی معنوں میں اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کا اظہار کرنے والے بن جائیں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں ۔

ان دنوں میں مظلوم فلسطینیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی جلد آسانیاں پیدا فرمائے۔

پاکستان کے مظلوم احمدیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جنہیں جلسوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اُن کے لیے بھی جلد آزادی اور آسانی کے سامان پیدا فرمائے۔

پانچ بج کر پینتیس منٹ کے قریب حضور انور نے اجتماعی دعا کروائی۔ جس کے ساتھ اس اجلاس کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button