متفرق شعراء

جہاں میں پھیلے گا امن و اماں خلافت سے

جہاں میں پھیلے گا امن و اماں خلافت سے

محبتوں کے ہیں دریا رواں خلافت سے

نئی زمین نیا آسماں خلافت سے

ہے مومنوں کا رواں کارواں خلافت سے

زمیں میں چار سُو پہنچا ہے راستی کا پیام

کہ گونجتی ہے بلالی اذاں خلافت سے

ہمیں نے تھام کے رکھا خدا کی رسی کو

ترقیات ہیں پنہاں یہاں خلافت سے

اندھیرے بانٹنے والے نہ جان پائے یہ

کہ ہو کے رہتا ہے حق تو عیاں خلافت سے

ہو جس کے نور سے باطل کی تیرگی زائل

جہانِ نَو بھی ہوا ضوفشاں خلافت سے

(منصورہ فضل منؔ۔ قادیان)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button