متفرق

ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب (دورہ امریکہ اور گوئٹے مالا۔ اکتوبر نومبر ۲۰۱۸ء کے چند واقعات۔ حصہ دہم)

ایک جذباتی خادم

مسجدبیت الرحمٰن میں واپسی کے فوراً بعد ملاقات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس دوران میری ملاقات خدام کے سیکیورٹی ٹیم کے ایک خادم، موسیٰ طارق (عمر ۲۹؍سال) سے ہوئی۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے موسیٰ اب لاس اینجلس میں مقیم ہیں۔ اپنی ڈیوٹی کے بارے میں بتاتے ہوئے موسیٰ نے کہا:میں نے خاص طور پر یہ ڈیوٹی کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ یہ حضور انور کے قریب رہنے کا ایک موقع تھا۔ پہلے ہفتے جن مقامات پر میں تعینات تھاو ہاں حضور کو پیدل جانا ہوتا تھالیکن میرا رُخ ہمیشہ حضور انور کی مخالف سمت میں ہوتا تھا۔ یہ ایک عجیب تجربہ تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ حضور انور صرف چند میٹر کے فاصلے پر ہیں لیکن میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے ایک مرتبہ بھی نہیں دیکھا۔ پھر کل مجھے ڈیوٹی سے وقفہ ملا اور ایک ایسے مقام پر کھڑے ہونے کا موقع ملا جہاں سے آخر کارمیں حضور انور کو قریب سے دیکھ سکا۔

یہ کہتے ہوئے موسیٰ اچانک بے اختیار رونے لگے۔ خود کو سنبھالتے ہوئے موسیٰ نے کہا:میں نے انہیں دیکھا! میں نے حضور انور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا! اسی لیے میں رو رہا ہوں۔ کیونکہ میں نے انہیں دیکھا! دورے کے دوران میں نے رات کی ڈیوٹیاں بھی انجام دیں اور کبھی کبھی حضور انور کی رہائش گاہ کی طرف دیکھ کر روشنی پر غور کرتا تھا تاکہ اندازہ ہو کہ حضور کب آرام فرماتے ہیں؟ ایک رات روشنی بمشکل چند منٹ کے لیے بند ہوئی۔ حضور دن بھر کام کرتے ہیں اور پھر ساری رات ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہیں۔ صرف یہ دیکھ کرکہ حضور کیسے کام کرتے ہیں اور خدمت کرتے ہیں نے اپنی پوری زندگی کا نظریہ ہی بدل دیا ہے۔

اُسے زندہ رہنے دو (Let her live)

اس صبح مجھے Sarjo Trawalley (بعمر ۵۲؍سال) کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا جو اصل میں گیمبیا سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سنہ۲۰۰۰ء سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین جو کہ احمدی نہیں تھے ان کے بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ اس وجہ سےان کی پرورش ان کے چچا اور بڑے بھائی نے کی جو کہ احمدی تھے اور اس طرح Trawalleyصاحب خود کو “پیدائشی احمدی” سمجھتے ہیں۔

اپنی زندگی کے دوران Trawalleyنے بارہا خلافت کی اطاعت کی بے شمار برکتیں دیکھی ہیں خاص طور پر اپنی اولاد کی صحت کے حوالے سے Sarjo Trawalley نےبتایا:جب میں گیمبیا میں تھا ہمارا ایک بچہ پیدائشی طور پر دل کی بیماری (congenital heart defect)کے ساتھ پیدا ہوا تھا، میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھا کہ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ہمارا بچہ مر جائے گا۔ اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے لکھا کہ بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔چونکہ گیمبیا میں علاج موجود نہیں تھا تو میں نے دوبارہ حضورؒ کو لکھا کہ آیا مجھے اپنے بچے کو علاج کے لیے برطانیہ یا جرمنی لے جانا چاہیے۔ اس کے جواب میں حضور نے صبر اور دعا کرنے کا فرمایا اور کہا کہ اللہ خود علاج کے اسباب مہیا کر دے گا۔ چند ہفتے بعدمجھے ایک خط ملا کہ نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال نے غیر متوقع طور پر ہمارے بچے کے علاج کی پیشکش کی ہے۔ چنانچہ ہم یہاں آئے اور وہ علاج کروایا جو اللہ کی مدد کے بغیر ناممکن تھا۔

کچھ سال بعد Trawalley صاحب کی اہلیہ امریکہ میں ایک بیٹی سے امید سے تھیں لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے میں ڈاؤن سنڈروم کے آثار ہیں اور ان سے پوچھا کہ آیا وہ بچے کو رکھنا چاہتے ہیں یا اسقاطِ حمل کروانا چاہتے ہیں۔ اس غم اور تذبذب کے وقتTrawalley نے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں راہنمائی کے لیے لکھا۔ Sarjo Trawalley نے کہا:ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف ایک ہفتہ ہے کہ ہمیں اسقاط حمل کروانا ہے یا نہیں۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ جب تک میں لندن میں اپنے خلیفہ سے مشورہ نہ کر لوں میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا ۔ اس پرڈاکٹر کا لہجہ خاصا بےاعتنائی والا اور تحقیر آمیز تھا۔ اس نے کہا، ’باپ تم ہو، لندن میں موجود کوئی اَور نہیں۔‘

اس پرمیں نے اسے بتایا کہ میں اپنے خلیفہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرتا۔اس پر ڈاکٹر نے پھر اپنا بزنس کارڈ نکالا اور کسی قدر طنزیہ انداز میں کہا، ’یہ اپنے خلیفہ کو دے دینا!‘

حضور انور کو لکھنے کے بعد Trawalley صاحب جواب کے منتظر رہے ۔ اسقاطِ حمل کی آخری تاریخ کے ختم ہونے سے محض ایک رات قبل انہیں لندن سے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے دفتر سے کال موصول ہوئی۔

Sarjo Trawalley نے پیغام بیان کرتے ہوئے کہا:پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر سے مجھے حضور انور کا واضح پیغام موصول ہوا۔ فون پر موجود شخص نے کہا کہ حضور نے فرمایاہے: ’’اگر آپ مخلص احمدی ہیں تو اپنی بچی کا اسقاط نہ کرائیں۔ وہ بالکل ٹھیک ہوگی، اگر آپ اسے زندہ رہنے دیں!‘‘

“If you are a sincere Ahmadi, do not abort your child. She will be fine, if you let her live!”

جیسے ہی یہ پیغام ملا Trawalley کے ذہن میں موجود ہر شک دُور ہوگیا۔ وہ اپنی بیگم کے پاس گئے اور کہا کہ بچی کا جنم ہوگا۔اگلی صبح وہ ڈاکٹر کے پاس گئے تاکہ انہیں بتا سکیں کہ وہ بچی کو رکھنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ سکتے ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور کہا: “مبارک ہو!”

Sarjo Trawalley نے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیوں مجھے مبارکباد دے رہے ہیں کیونکہ ہماری بچی بیمار تھی۔ لیکن پھر ڈاکٹر نے وضاحت کی اور بتایا کہ میری بیوی کی آخری appointmentپر ایک اور ٹیسٹ لیا گیا تھا جس سے ظاہر ہوا کہ ہماری بچی بالکل ٹھیک ہے اور ڈاؤن سنڈروم کی ابتدائی تشخیص غلط تھی!

یہ سن کر میں نے انہیں وہ پیغام بتایا جو ہمیں ایک رات پہلے ہی ملا تھا اور یہ کہ ہمارے خلیفہ نے ہمیں پہلے ہی خوشخبری دے دی تھی۔ وہ ڈاکٹر جو پہلے ہمارے حضور سے راہنمائی لینے کے فیصلے کو نظرانداز کر رہا تھا واقعی حیران ہوگیا۔ اس کےگہری دلچسپی لینے پر میں نے اسے مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بتایا اور یوں تبلیغ کرنے کا موقع بنا۔اب ایک دہائی سے زیادہ گزر چکی ہے، میری بیٹی دس سال کی ہے اور جیسے حضور انورنے فرمایا تھا وہ بالکل ٹھیک اور صحت مند ہے، الحمدللہ!

یہ سن کر ایمان کو تقویت ملتی ہے کہ حضورِانور کے الفاظ کیسے سچ ثابت ہوئے۔ صرف وہی شخص جسے الٰہی راہنمائی حاصل ہو اتنے اعتماد سے کہہ سکتا ہے کہ ایک بچہ جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ٹھیک ہوگاجب کہ تمام طبی شواہد اس کے برعکس ہوں۔

اس کے بعدجب ہم مسجد کے صحن میں بیٹھے تھےSarjo Trawalleyنے مجھے بتایا کہ انہیں ایک بار خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ خواب میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بابرکت صحبت میں مسجد بیت الرحمٰن میں اسی درخت کے پاس جس کے قریب ہم اب بیٹھے ہوئے تھے، بیٹھے تھے۔ اپنی خواب کو بیان کرتے ہوئے Sarjo Trawalley نے کہا:خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ یہاں ایک صحافی موجود ہے اور تمہیں اسے بتانا چاہیے کہ امام مہدی آ چکے ہیں۔ ہم بالکل اسی درخت کے پاس کھڑے تھے جس کے پاس اب آپ اور میں کھڑے ہیں۔ میری نظر میں آپ ہماری جماعت کے صحافی ہیں اور اس طرح میرا خواب پورا ہوگیا ہے۔ لہٰذا مجھے پوری دنیا کے سامنے اعلان کرنے دیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام مہدی آ چکے ہیں اور ان کے پانچویں خلیفہ آج یہاں موجود ہیں!

یہ الفاظ کہتے ہوئے Trawalley رونے لگے اور بار بار “الحمدللہ” دہراتے رہے۔

میں ان سے مل کر اور یہ جان کر نہایت خوش اور اللہ تعالیٰ کے حضور جذباتِ تشکر سے معمور ہو گیا کہ کس طرح ان کے خاندان کا خلافتِ احمدیہ پر پختہ ایمان تھا۔

(مترجم:طاہر احمد۔انتخاب:مظفرہ ثروت)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیات

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. ماشاءالله بہت ایمان افروز واقعات ہیں عابد خان صاحب کی ڈائری کے ۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین اور مجھے بھی اپنے پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف ملاقات کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button