خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۵؍جنوری ۲۰۲۴ءبمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں جو دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ شبنم کی طرح تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا پھل لگاتا ہے۔جماعتی ترقیات اسی کی گواہ ہیں۔ غریب لوگ ہیں جو معمولی سی قربانی کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ بےانتہا پھل لگاتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ خاص طور پر غریب احمدی اور تھوڑے وسائل رکھنے والے احمدی زیادہ قربانی کرتے ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ میں وقتاً فوقتاً بیان کرتا بھی رہتا ہوں۔ آج بھی بیان کروں گا۔… اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اکثریت آج ایسی ہے کہ قربانی کرنے والی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے خود بھی قربانی کرنا چاہتے ہیں اور بغیر کہے کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے کے مخلصین کی قربانیوں پر عمل کرتے ہوئے آج بھی ایسی مثالیں ہیں جو ہمیں نظر آتی ہیں۔ جیساکہ میں نے کہا رپورٹس میں ذکر ہوتا ہے۔ مَیں بیان کرتا بھی رہتا ہوں۔ حیرت انگیز طور پر مالی قربانی کرتے ہیں۔ افریقہ کے دُور دراز ممالک میں رہنے والے مخلصین جو دنیا میں اشاعت اسلام اور دین کے غلبہ کے لیے حضرت مسیح موعودؑ کے مددگار اور معاون بننا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے اس ارشاد کو اپنے سامنے رکھ کر قربانیاں کرتے ہیں جس میں آپؑ نے فرمایا کہ’’تمہارے لیے ممکن نہیں ہے کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔‘‘یہ حضرت مسیح موعود ؑ کا ارشاد ہے۔آج بھی ہم اس کے نظارے دیکھتے ہیں کہ کس طرح لوگوں نے خدا کی راہ میں دیا اور کس طرح فوری خدا نے انہیں لوٹا دیا۔ ایک ہی جگہ، ایک ہی ماحول میں کام کرنے والے ہیں لیکن احمدی کے مال میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے اور دوسرے کو وہ برکت نہیں ملتی اور یہ باتیں پھر ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا ان مخلصین کی چندمثالیں پیش کرتا ہوں۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صحابہؓ کےنقش قدم پرچلتےہوئےافرادجماعت کی مالی قربانی کےحوالے سےکیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: صحابہ ؓ کا تو یہ حال تھا کہ کہتے ہیں کہ جب بھی آنحضرت ﷺ کی مالی تحریک ہوتی تھی ہم بازار جاتے تھے، مزدوری کرتے تھے اور تھوڑی سی بھی کوئی مزدوری ملتی تھی تو وہ کمائی لا کر آنحضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیتے تھے۔ایسی ہی قربانی کرنے والے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے غلامِ صادق کو بھی عطا فرمائے ہیں۔ ان کی بےشمار مثالیں ہیں۔ تاریخ میں ایسے بھائیوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے ایسی قربانیاں کیں کہ حیرت ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے بھی ان کا ذکر فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روز مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔ وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر للّٰہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔‘‘

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم حافظ معین الدین صاحبؓ کے اخلاص اور مالی قربانی کے حوالے سے کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: جماعت کی تاریخ میں ان قربانی کرنے والوں کے نام محفوظ ہیں۔ یہ لوگ جو خدا کی رضا حاصل کرنے کا ایک خاص جوش رکھتے تھے خواہ انہوں نے معمولی قربانیاں کیں یا زیادہ، ان کا نام مسیح موعودؑ کے مشن کے مددگاروں میں شامل ہو گیا، تاریخ نے محفوظ کر لیا۔ ایک اَور بزرگ کا بھی ذکر کر دوں۔ یہ معذور اور غریب تھے ان کا نام حافظ معین الدین صاحب تھا۔ ان کی طبیعت میں بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کریں، اس کے لیے قربانی کریں حالانکہ بڑی تنگی میں گزارہ کرتے تھے اور بوجہ معذوری کے ان کا کوئی کام بھی نہیں تھا۔ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا پرانا خادم سمجھ کر کچھ تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن حافظ صاحب کا یہ اصول تھا کہ وہ اس طرح کی رقم جو تحفے کے طور پر انہیں ملتی تھی کبھی اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو سلسلہ کی خدمت کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے اور کبھی کوئی ایسی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوئی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو۔ چاہے وہ ایک پیسہ ڈال کر حصہ لیتے لیکن حصہ ضرور لیتے۔ اب ایک پیسہ اس زمانے میں ایک penny کے برابر آپ سمجھ لیں لیکن بہرحال حصہ لیتے۔ ان کے حالات کے مطابق یہ معمولی قربانی بھی غیر معمولی قربانی تھی اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا تھا کہ حافظ صاحب بھوکے رہ کر بھی یہ خدمت کیا کرتے تھے۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سینٹرل افریقہ کےایک نومبائع کی مالی قربانی کاکیاواقعہ بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: ریپبلک آف سینٹرل افریقہ میں وُدَمْبَالا (Vdambala) ایک جگہ ہے۔ وہاں ایک نومبائع عیسیٰ صاحب ہیں۔ کہتے ہیں میں نے نو مہینے پہلے بیعت کی تھی اور 2016ء سے میرے پاس ایک پلاٹ تھا جو میں نے گھر بنانے کے لیے خریدا تھا لیکن رقم نہیں اکٹھی ہو رہی تھی کہ گھر بناسکوں۔ جماعت میں مَیں شامل ہوا ہوں۔ چندے کی اہمیت اور برکات کے بارے میں سنتا رہا۔ جو بھی خدا کی راہ میں تھوڑی سی قربانی کر سکتا تھا کرتا تھا اور یہی سنتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے کام آسان کرتا ہے اور اموال و نفوس میں ترقی بھی دیتا ہے۔ بہرحال کہتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ جب ہم غیراحمدی تھے تو ہم نے ایک دفعہ بھی خدا کی راہ میں چندہ نہیں دیا اور نہ ہی اس بارے میں ہمیں کسی نے تحریک کی تو کہتے ہیں اب تحریک ہوئی۔ نومبائعین سے عموماً تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ مجھے کہا گیا تو میں نے وقف جدید میں پندرہ سو سیفا ادا کر دیا اور خدا تعالیٰ نے اس کا اجر اس طرح دیا کہ ایک دوست نے گھر کے لیے دس ہزار اینٹیں بنانے کی پیشکش کر دی اور پھر اینٹیں بنوا بھی دیں۔ وہاں خود بنائی جاتی ہیں۔ سیمنٹ سے بلاک بنائے جاتے ہیں۔ اس طرح گھر کی تعمیر شروع ہو گئی جس کا کئی سال سے انتظار تھا اور پھر گھر مکمل بھی ہوگیا۔ یہ کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے ورنہ میرے اندر تو یہ طاقت نہیں تھی اور میرے لیے ناممکن تھا۔

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فلپائن کےصدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کی مالی قربانی کا کیا واقعہ بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: فلپائن کے مبلغ کہتے ہیں کہ خدام الاحمدیہ کے صدر نے بیان کیا کہ میں نے وعدہ کے مطابق وقفِ جدید کی ادائیگی تو کر دی تھی لیکن مالی سال ختم ہو رہا تھا۔ دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وعدے سے بڑھ کر ادائیگی کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے اپنے مرحوم والد، والدہ اور سسر کے نام پر بھی ایک ہزار پیسو (peso)چندہ وقف جدید کی ادائیگی کردی۔ ان دنوں میں مقامی میونسپلٹی کے دفتر میں رسک ریڈکشن مینیجر(risk reduction manager) کے طور پر کانٹریکٹ پر کام کر رہا تھا۔ نئے سال کی چھٹیوں کے بعد جیسے ہی کام پہ گیا تو مقامی میئر نے میری نوکری پکی کر دی اور میری تنخواہ بھی دگنی کر دی جبکہ میں گذشتہ چار سال سے کنٹریکٹ پہ کام کر رہا تھا اور بار بار درخواست کے باوجود بھی میری نوکری پکی نہیں ہوتی تھی۔ اب کہتے ہیں مجھے یہی یقین ہے کہ یہ جو قربانی میں نے کی ہے اسی کا ثمر ہے اور یقیناً خدا تعالیٰ ہمارے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر دینے والا ہے۔

سوال نمبر۶:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ٹوگوکی ایک احمدی خاتون کی مالی قربانی کاکیاواقعہ بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: ٹوگو مغربی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ وہاں کے مبلغ انچارج کہتے ہیں کہ ایک احمدی خاتون کے پاس چندہ وقفِ جدید کی رقم موجود نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے گھر کے استعمال کے لیے سبزی اگائی ہوئی تھی۔ چنانچہ وہ سبزی بازار میں بیچ کر اپنا خدا سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا اور وقفِ جدید کا چندہ ادا کر دیا۔ بڑی معمولی سی چیز تھی۔ یہ وہی مثالیں ہیں جو صحابہؓ بازار میں جا کے کام کرتے تھے یا حافظ صاحب جو بھی تحفہ ملتا وہ دے دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ایک ممبر حمزہ صاحب کے پاس وقفِ جدید کا چندہ دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ ان کے پاس اپنی مرغیاں تھیں۔ انہوں نے نو مرغیاں بیچ کے چندہ ادا کر دیا۔ یہ غریب لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانی کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو پرانے بزرگوں کی یاد بھی تازہ کرتے ہیں۔

سوال نمبر۷: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فجی کےایک نومبائع کی مالی قربانی کاکیاواقعہ بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: فجی بھی ایک دُور دراز کا علاقہ ہے۔ وہاں نومبائع ظینل بیگ صاحب ہیں۔ دو تین سال قبل انہوں نے بیعت کی ہے۔ ابتدائی طور پر جب ان کو تحریکات میں شامل کیا گیا تو معمولی رقم کا وعدہ تھا۔ پھر کچھ عرصہ بعد چندہ عام میں بھی شامل کیا گیا اور نظام کی اہمیت کا بھی ان کو پتہ لگا لیکن اس سال میرے خطبات سن کے موصوف نے از خود ہی اپنے وعدے جو ہیں تحریکِ جدید وقفِ جدید میں بڑھا دیے اور دس گنا اضافہ کر دیا اور ادائیگی بھی کر دی۔ پھر چندہ عام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہفتہ وار انکم پر چندہ عام کی بھی 16/1 کی شرح کے مطابق ادائیگی کا وعدہ کیا اور باقاعدگی سے ہر ہفتہ اپنی تنخواہ سے تمام چندہ جات کی ادائیگی آ کے کر جاتے تھے۔ یہ نومبائع بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں نے چندہ میں اضافہ کیا ہے مجھے ملازمت میں ترقی ملی ہے اور کہتے ہیں جنوری ۲۰۲۴ء سے تنخواہ میں مزید اضافہ ہو جائے گا ان شاءاللہ۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے چندے کی برکت جاننی ہے تو وہ مجھ سے پوچھے۔

سوال نمبر۸:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے انڈیاکےایک احمدی کی مالی قربانی کاکیاواقعہ بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: انڈیا کی ایک جگہ ساونت واڑی ہے۔ وہاں کے ایک احمدی سراج صاحب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مالی قربانی کی برکات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وقفِ جدید کے چندے کووڈ کی بیماری کی وجہ سے بقایا رہ گئے تھے۔ دو تین سال سے موصوف کے باغات کی لکڑیاں بارش کے پانی سے ضائع ہو رہی تھیں۔ جس خریدار نے لینے کا وعدہ کیا تھا اور جو رقم طے ہوئی تھی اس کی ادائیگی نہیں کر رہا تھا۔ بہرحال موصوف خریدار ڈھونڈتے رہے، کوئی نہیں مل رہا تھا۔ موصوف کہتے ہیں کہ جب انسپکٹر وقفِ جدید آئے اور وقفِ جدید کے چندے کا مطالبہ کیا تو موصوف نے دو ہزار روپے فوری نکال کے ادا کر دیے۔ کہتے ہیں کہ دو دن کے اندر اندر جو خریدار قیمت طے کرنے کے باوجود سامان نہیں لے رہا تھا اچانک آ کر بیس ہزار روپے دے کر سارا مال لے گیا اور یہ کہتے ہیں میرا تو یہی ایمان ہے کہ چندے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے دو ہزار کو بڑھا کر بیس ہزار مجھے واپس لوٹا دیا ورنہ جو سامان برسوں سے ضائع ہو رہا تھا وہ آگے بھی ضائع ہو سکتا تھا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2024ء کے اختتامی اجلاس سے بصیرت افروز خطاب

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button