خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍جنوری ۲۰۲۴ءبمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جنگ اُحد میں آنحضرتﷺ کی سیرت کے حوالہ سے ذکر ہو رہا تھا۔

سوال نمبر۲: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احدمیں کفارکےحملہ کےوقت آنحضرتﷺکےساتھ صحابہؓ کےثبات کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس حوالہ سے مزید تفصیل اس طرح ہے کہ رسول اللہﷺ لوگوں میں دشمن سے سب سے زیادہ قریب تھے اور آپؐ کے ساتھ پندرہ افراد ثابت قدم رہے۔ آٹھ مہاجرین میں سے جو تھے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰن بن عوفؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، ابوعبیدہ بن جراحؓ اور سات انصار میں سے حضرت حباب بن منذرؓ، ابودجانہؓ، عاصم بن ثابتؓ، حارث بن صِمَّہ،ؓ سہل بن حنیفؓ اور سعد بن معاذؓ۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ سعد بن عُبادہؓ تھے۔ اور محمد بن مَسْلَمہ ؓبھی تھے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ آپؐ کے سامنے تیس افراد ثابت قدم رہے اور سارے یہی کہتے تھے کہ میرا چہرہ آپﷺ کے چہرے کے سامنے رہے اور میری جان آپؐ کی جان کے سامنے اور آپؐ پر سلامتی ہو۔ آپؐ پر قربان ہو۔ آپؐ پر سلامتی ہو اور میری جان قربان ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ گیارہ افراد اور طلحہ بن عُبَید اللہؓ رہ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کو گھیر لیا تو آپﷺ سات انصاری صحابہؓ اور ایک قریشی صحابیؓ کے درمیان تھے۔ اسی طرح ایک اَور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نوافراد میں اکیلے رہ گئے۔ سات انصار میں سے اور دو قریش میں سے اور آپﷺ دسویں تھے… صحابہؓ آپؐ کے گرد آتے تھے اور پھر دشمن کے حملے سے حلقہ ٹوٹ جاتا تھا ،بکھر جاتے تھے پھر اکٹھے ہوتے تھے۔بہرحال بات یہی ہے کہ صحابہؓ ثابت قدمی کا نمونہ دکھاتے رہے اور کسی کو کسی قسم کا یہ خوف نہیں تھا کہ موت آئے گی۔ یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے اُحد کے دن اپنے صحابہؓ کی ایک جماعت سے موت پر بیعت لی۔ جب بظاہر مسلمانوں کی پسپائی ہوئی تو وہ ثابت قدم رہے اور اپنی جان پر کھیل کر آپﷺ کا دفاع کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ شہید ہو گئے۔ اس روز آٹھ افراد نے آپؐ کے دستِ اقدس پر موت کی بیعت کی۔ ان بیعت کرنے والے خوش نصیبوں کے جو اسماء روایات میں بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:حضرت ابوبکر ؓ، حضرت عمر ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت طلحہ ؓ، حضرت زبیر ؓ، حضرت سعد ؓ، حضرت سہل بن حُنَیف ؓ، حضرت ابودُجانہ ؓ، حضرت حارث بن صِمَّہ ؓ، حضرت حُباب بن مُنذِر ؓ اور حضرت عاصم بن ثابت ؓ۔ ان میں سے کوئی بھی شہید نہیں ہوا۔

سوال نمبر۳: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عیسائیوں کے الزام کہ آنحضرتﷺ نے جھوٹ بولنا یا غلط بیانی کرناجائزقراردیاہے کاجواب دیتے ہوئےکیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ عیسائیوں کے آنحضرتﷺ پر ایک الزام کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ عیسائیوں نے یہ الزام لگایا کہ آپؐ نے جھوٹ بولنا یا غلط بیانی کرنا جائز قرار دیا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس نبوی کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس توریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا آنحضرتﷺ نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم دیا۔ توریہ کے لغوی معنی تو یہ ہیں کہ زبان پر کچھ کہنا اور دل میں کچھ ہونا یعنی ایسی بات کرنا جو دو معنی بھی رکھتی ہو۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ نے توریہ کے لفظ کو مزید تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لغوی معنی تو میں نے بیان کیے۔ وضاحت اس طرح فرمائی کہ فتنہ کے وقت خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لیے کسی اَور غرض سے یا کسی اَور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں بیان کیا جائے کہ عقلمند ان باتوں کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے۔ یعنی حکمت سے اس طرح بات کرنا کہ جھوٹ بھی نہ ہو اور اس کے معنی جو عقلمند ہے وہ سمجھ جائے کہ اصل حقیقت کیا ہے اور بیوقوف آدمی نہ سمجھ سکے۔ اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے۔ لیکن آپؑ نے فرمایا کہ یہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے خلاف ہے۔ یہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ یہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے خلاف ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس پہ کھل کے بیان فرمایا۔ پس یہ آنحضرتﷺ سے تو کبھی ثابت نہیں کیا جا سکتا لیکن حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائیوں کے مطابق جس شخص کو وہ خدا کہتے ہیں اس کا تو یہ حال ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر غلط بیانی کی ہے۔بہرحال اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپؑ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے۔ جو شخص خدائی کا دعویٰ کرے وہ تو شیرِببر کی طرح دنیا میں آنا چاہیے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ اختیار کرکے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کاملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لاپرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (جس کو تم خدا کہتے ہو وہ تو ساری عمر توریہ سے کام لیتا رہا ہے۔ جو خدا ہے بلکہ خدا کے نبی بھی نہیں کرتے۔) فرمایا اور جو اللہ پہ توکل کرنے والے ہوتے ہیں کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے۔ مجھے تو ان باتوں کو یاد کرکے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلینﷺ جنگ اُحد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے کہ میں محمد ہوں، میں نبی اللہ ہوں۔ میں ابن عبد المطلِب ہوں اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں حالانکہ اس کلمہ سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا تو میں دریائے حیرت میں غرق ہو جاتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ میں دریائے حیرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ یا الٰہی یہ شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حضرت زیادبن سکنؓ کی شہادت کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ جب کفار نے رسول اللہﷺکو گھیر لیا تو آپﷺ نے فرمایا مَنْ رَجُلٌ یَشْرِی لَنَا نَفْسَهٗ؟کون شخص ہے جو ہمارے لیے خود کو بیچ دے گا تو زِیاد بن سَکَن ؓ پانچ انصاری صحابہؓ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور بعض لوگ کہتےہیں کہ وہ عُمَارہ بن یزید بن سکنؓ تھے۔تو یہ رسول اللہﷺ کے سامنے دادِشجاعت دیتے دیتے ایک ایک کر کے شہید ہوتے رہے حتّٰی کہ ان میں سے آخری زِیاد یا عُمارہ تھے یہ لڑتے رہے یہاں تک کہ ان کو کئی زخم لگے۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت لَوٹ آئی اور مشرکین کو رسول اللہﷺ سے دھکیل دیا۔ تو اس کے بعد رسول اللہﷺنے فرمایا زِیاد بن سَکَن کو میرے پاس لاؤ۔ انہیں لایا گیا تو وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا اس کو میرے اَور قریب کرو تو صحابہ کرامؓ نے ان کو نبی کریمﷺ کے قریب کر دیا۔ آپؐ نے اپنا قدم مبارک ان کی طرف کیا انہوں نے اپنا چہرہ حضورﷺ کے قدم مبارک پر رکھ دیا اور حضرت زیادؓ کی موت اس حالت میں ہوئی کہ ان کا رخسار رسول اللہﷺ کے قدم مبارک پر تھا اور ان کے جسم پر چودہ زخم آئے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک وقت جب قریش کے حملہ کی ایک غیرمعمولی لہر اٹھی تو آپؐ نے فرمایا ’’کون ہے جو اس وقت اپنی جان خدا کے رستے میں نثار کردے؟‘‘ ایک انصاری کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ اورچھ اَورانصاری صحابی دیوانہ وارآگے بڑھے اوران میں سے ایک ایک نے آپؐ کے اردگرد لڑتے ہوئے جان دے دی۔ اس پارٹی کے رئیس زیاد بن سکن تھے۔ آنحضرتﷺ نے اس دھاوے کے بعد حکم دیا۔‘‘ وہ کفار کا ایک زبردست حملہ تھا جب وہ ذرا کم ہوا اور دوسرے صحابہؓ آ گئے اور جگہ ذرا صاف ہوگئی تو آنحضرتﷺ نے حکم دیا ’’کہ زیادؓ کواٹھا کرمیرے پاس لاؤ‘‘۔ زخمی پڑے تھے’’ لوگ اٹھا کر لائے اورانہیں آنحضرتﷺ کے سامنے ڈال دیا۔ اس وقت زیادؓ میں کچھ کچھ جان تھی مگروہ دم توڑ رہےتھے۔ اس حالت میں انہوں نے بڑی کوشش کے ساتھ اپنا سر اٹھایا اوراپنا منہ آنحضرتﷺ کے قدموں پر رکھ دیا اوراسی حالت میں جان دے دی۔‘‘

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حضرت مصعب بن عمیرؓ کےاسلامی جھنڈےکی حفاظت کاحق اداکرنے اوران کی شہادت کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: تاریخ میں آتا ہے کہ غزوۂ اُحد کے علمبردار حضرت مصعب بن عمیرؓ نے جھنڈے کی حفاظت کا حق خوب ادا کیا۔ غزوۂ احُد کے روز حضرت مصعبؓ جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے کہ ابنِ قَمِئہ نے جو گھوڑے پر سوار تھا حملہ آور ہو کر حضرت مصعبؓ کے دائیں بازو پر جس سے آپؓ نے جھنڈا تھام رکھا تھا تلوار سے وار کیا اور اسے کاٹ دیا۔ اس پر انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ سے تھام لیا۔ ابن قمئہ نے بائیں ہاتھ پر وار کر کے اسے بھی کاٹ ڈالا تو آپؓ نے دونوں بازوؤں سے اسلامی جھنڈے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کے بعد ابن قمئہ نے تیسری مرتبہ نیزے سے حملہ کیا اور حضرت مصعبؓ کے سینے میں گاڑ دیا۔ نیزہ ٹوٹ گیا، حضرت مصعبؓ گر پڑے اس پر بنو عبدالدار میں سے دو آدمی سُوَیبِط بن سَعدِ بنِ حَرْمَلَہؓ اور ابو رُوم بن عُمَیر ؓآگے بڑھے اور جھنڈے کو ابوروم بن عمیرؓ نے تھام لیا اور وہ انہی کے ہاتھ میں رہا یہاں تک کہ مسلمان واپس ہوئے اور مدینہ میں داخل ہو گئے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یوں لکھا ہے کہ ’’قریش کے لشکر نے قریباً چاروں طرف گھیرا ڈال رکھا تھا اوراپنے پے درپے حملوں سے ہرآن دباتا چلاآتا تھا۔ اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیربعد سنبھل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبداللہ بن قمئہ نے مسلمانوں کے علمبردار مصعب بن عمیرؓ پر حملہ کیا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ گرایا۔ مصعبؓ نے فوراً دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اورابن قمئہ کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھے مگراس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔ اس پر مصعبؓ نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کوجوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا۔ جس پر ابن قمئہ نے ان پر تیسرا وار کیا اور اب کی دفعہ مصعب ؓشہید ہوکر گر گئے۔ جھنڈا توکسی دوسرے مسلمان نے فوراًآگے بڑھ کر تھام لیا مگر چونکہ مصعبؓ کا ڈیل ڈول آنحضرتﷺ سے ملتا تھا ابن قمئہ نے سمجھاکہ میں نے محمدﷺ کو مار لیا ہے۔ یایہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اوردھوکہ دہی کے خیال سے ہو۔ بہرحال اس نے مصعب کے شہید ہوکر گرنے پرشور مچادیا کہ میں نے محمد (ﷺ) کو مار لیا ہے۔ اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہوگئی۔‘‘

مزید پڑھیں: خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ ۲۰۲۴ء

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button