خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۹؍جنوری ۲۰۲۴ءبمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےخطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: جنگ اُحد کے بارے میں ذکر ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں مزید بیان کروں گا۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احد میں آنحضرتﷺکی شہادت کی خبر پھیلنے اور مسلمانوں کےگروہوں میں تقسیم ہونےکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: اس کی تفصیل میں بیان ہوا ہے کہ جب ابنِ قمئہ نے یہ سمجھا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو شہید کر دیا ہے اور اس نے منادی کر دی کہ محمد (ﷺ ) شہید ہو گئے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منادی کرنے والا شیطان تھا جو جُعَالْ یا جُعَیلِ بنِ سُراقہ کی شکل میں تھا۔ جُعَال ابتدائی صالح مسلمانوں میں سے تھے اور اہل صفہ میں بھی شامل تھے۔ ان کا نام رسول اللہ ﷺ نے خندق کے موقع پر تبدیل کر کے عمر رکھ دیا تھا۔ بہرحال یہ سن کر لوگ جُعَال پر لپکے کہ انہیں قتل کر دیں مگر انہوں نے اس منادی سے براء ت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا میں نے تو کوئی اعلان نہیں کیا۔اور خَوَّاتْ بن جُبَیر اور ابوبُرْدَہ نے گواہی دی کہ جب یہ منادی ہوئی تو وہ ان کے پاس اور پہلو میں قتال کر رہے تھے۔ انہوں نے گواہی دی کہ یہ تو میرے ساتھ مل کے دشمن کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اعلان کرنے والا اَزَبُّ الْعَقَبَہ تھا جس نے تین مرتبہ اعلان کیا کہ محمد ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور اس بارے میں کئی قول ہیں کہ یہ اعلان کس نے کیا تھا۔ ممکن ہے مختلف لوگوں نے مختلف طور پر دیکھا ہو۔ مختلف لوگوں نے کیا ہو یعنی ابنِ قَمِئَہ نے،ابلیس اور اَزَبُّ الْعَقَبَہ میں سے ہر ایک نے اعلان کیا ہو۔ کوئی شیطان فطرت انسان بھی یہ اعلان کر سکتا ہے۔اس خبر کے پھیلتے ہی مسلمانوں میں سے بعض نے کہا کہ اب جبکہ رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو تم اپنی قوم کے پاس لوٹ چلو وہ تمہیں امان دیں گے۔ اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو کیا تم اپنے نبی ﷺ کے دین اور اس کے پیغام کے لیے نہیں لڑو گے یہاں تک کہ تم اپنے رب کے حضور شہید ہو کر حاضر ہو؟ حضرت ثابت بن دَحْدَاحؓ نے انصار سے کہا کہ اے انصار کے گروہ! اگر محمدﷺ شہید ہوگئے ہیں تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آ سکتی۔ اپنے دین کے لیے قتال کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں فتح و کامرانی عطا کرنے والا ہے۔یہ سن کر انصاری مسلمانوں کا ایک گروہ اٹھا اور انہوں نے حضرت ثابتؓ کے ساتھ مل کر مشرکین کے اس گروہ پر حملہ کر دیا جس میں خالد بن ولید،عِکْرِمَہ بن ابوجہل اور عَمرو بن عاص اور ضِرَار بن خَطَّاب تھے۔ مسلمانوں کی اس چھوٹی سی جماعت کو حملہ کرتے ہوئے دیکھ کر خالد بن ولید نے ان پر سخت جوابی حملہ کیا اور ثابت بن دَحْدَاحؓ اور ان کے انصاری ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ ابتری کی اس کیفیت کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں جو لکھا ہے وہ اس طرح ہے۔ کہتے ہیں کہ’’اس وقت مسلمان تین حصوں میں منقسم تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جو آنحضرت ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر میدان سے بھاگ گیا تھا مگر یہ گروہ سب سے تھوڑا تھا۔ ان لوگوں میں حضرت عثمان بن عفانؓ بھی شامل تھے۔ مگرجیساکہ قرآن شریف میں ذکر آتا ہے اس وقت کے خاص حالات اور ان لوگوں کے دلی ایمان اوراخلاص کومدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ ان لوگوں میں سے بعض مدینہ تک جاپہنچے اوراس طرح مدینہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی خیالی شہادت اورلشکر اسلام کی ہزیمت کی خبر پہنچ گئی جس سے تمام شہر میں ایک کہرام مچ گیا اور مسلمان مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے نہایت سراسیمگی کی حالت میں شہر سے باہر نکل آئے اوراُحد کی طرف روانہ ہو گئے اوربعض توجلد جلد دوڑتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچے اوراللہ کانام لے کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔‘‘ یعنی انہوں نے جنگ شروع کر دی۔ ’’دوسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جوبھاگے تونہیں تھے مگر آنحضرت ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر یاتو ہمت ہار بیٹھے تھے اوریااب لڑنے کوبیکار سمجھتے تھے اوراس لئے میدان سے ایک طرف ہٹ کر سرنگوں ہو کر بیٹھ گئے۔ تیسرا گروہ وہ تھا جو برابر لڑ رہا تھا۔ ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جو آنحضرت ﷺ کے اردگرد جمع تھے اوربے نظیر جان نثاری کے جوہر دکھا رہے تھے اوراکثر وہ تھے جومیدان جنگ میں منتشر طورپر لڑ رہے تھے۔ ان لوگوں اور نیز گروہ ثانی کے لوگوں کوجوں جوں آنحضرت ﷺ کے زندہ موجود ہونے کاپتہ لگتا جاتا تھا یہ لوگ دیوانوں کی طرح لڑتے بھڑتے آپؐ کے ارد گرد جمع ہوتے جاتے تھے۔‘‘
سوال نمبر۳: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگِ احدمیں مکہ کےایک رئیس ابی بن خلف کے آنحضرتﷺپرحملہ کرنےکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: مکہ کے ایک رئیس اُبَی بن خَلَف کا آنحضرت ﷺ پر حملہ کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔جب آنحضرت ﷺ گھاٹی کی طرف جا رہے تھے تو اُبَی بن خَلَف ادھر آ گیا۔ اُبَی بن خَلَف نے غزوۂ بدر میں قیدی بننے کا فدیہ ادا کیا تھا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس عُوْد گھوڑا ہے جسے میں ہر روز ایک فَرَق یعنی ساڑھے سات کلو مکئی کھلاتا ہوں۔ بہت طاقتور ہے اور بڑا صحت مند ہے۔ میں اس پر سوار ہو کر محمد (ﷺ) کو قتل کر وں گا۔ جب آپؐ تک اس کی یہ بات پہنچی تو آپؐ نے فرمایا :نہیں! بلکہ میں اسے قتل کروں گا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے یہ بات ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں آپؐ سے کی تھی۔ الغرض جب غزوۂ اُحد ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اُبَی بن خَلَف میرے پیچھے سے مجھ پر حملہ آور ہو گا۔ جب تم اسے دیکھو تو مجھے بتا دینا۔ وہ زرہ پہنے ہوئے گھوڑے کو رقص کراتا آ رہا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی اسے دیکھ لیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ محمد (مصطفیٰﷺ ) کہاں ہیں؟ اگر وہ بچ گئے تو مَیں نہیں بچ سکوں گا۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓاس کے سامنے آ گئے۔ وہ آپؐ کا دفاع کر رہے تھے۔مصعب بن عمیر ؓآپ ﷺ کا دفاع کر رہے تھے۔ اس نے مصعب بن عمیر ؓکو شہید کر دیا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یا رسول اللہؐ! ابی آپؐ کی طرف آ رہا ہے۔ اگر آپؐ پسند کریں تو ہم میں سے ایک شخص اس کا کام تمام کر دے۔ دوسری روایت میں ہے کہ صحابہ کرامؓ اس کے سامنے آگئے۔آپؐ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔ اس کے راستے سے ہٹ جاؤ۔ جب وہ آپؐ کے قریب ہو گیا تو آپؐ نے فرمایا:اے کذاب! بھاگ کر کہاں جاتا ہے؟ حضور اکرمؐ نے حضرت حارِثہ بن صِمَّہؓ سے نیزہ لیا۔دوسرے قول کے مطابق حضرت زبیر بن عوامؓ سے نیزہ لیا۔آپؐ نے جھرجھری لی۔صحابہ کرامؓ آپؐ سے یوں پرے ہو گئے جیسے اونٹ کی کمر سے مکھیاں دُور ہو جاتی ہیں۔ آپؐ ابی کے سامنے آئے اس کی گردن پرنیزہ مارا یا خَود اور زرہ کے درمیان نظر آنے والی جگہ پر نیزہ مارا جس کی وجہ سے وہ اپنے گھوڑے سے کئی بار نیچے لڑھکا۔ وہ بیل کی طرح ڈکارنے لگا۔ اس کی گردن پر معمولی سی خراش آئی اس کا خون رک گیا یا اس کی پسلیوں میں سے کوئی پسلی ٹوٹ گئی۔ وہ اپنی قوم کے پاس واپس گیا اور کہا بخدا! مجھے محمد عربی (ﷺ ) نے قتل کر دیا ہے۔ قوم نے کہا تیرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ بخدا ! تجھے کچھ نہیں ہوا۔ یہ معمولی خراش ہی ہے اگر ہم میں سے کسی کی آنکھ پر بھی اتنا زخم آتا تو اس کو کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس نے کہا کہ مجھے لات اور عزیٰ کی قَسم! جو چوٹ مجھے لگی ہے اگر اہل ذُوْالمَجَاز یا رَبِیعہ اور مُضَر کے قبائل کو لگتی تو سارے مر جاتے۔ اس نے مجھے مکہ مکرمہ میں کہا تھا یعنی آنحضرت ﷺ نے کہ میں تجھے قتل کروں گا۔ بخدا! اگر وہ یعنی آنحضرت ﷺ مجھ پر تھوک بھی دیتا تو میں مر جاتا۔ جب مشرکین واپس آ رہے تھے تو یہ سَرِف کے مقام پر واصل جہنم ہو گیا۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احدمیں آنحضرتﷺکے دانت مبارک کےشہیدہونےکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: اسی جنگ میں آنحضرت ﷺ کا دانت مبارک بھی شہید ہوا تھا۔ اس وقت کا جو نقشہ حضرت ابوبکرؓ نے کھینچا ہے اس کے متعلق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓجب یوم اُحد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے وہ دن سارے کا سارا طلحہ کا تھا۔ پھر اس کی تفصیل بتاتے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس لوٹے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپؐ کی حفاظت کرتے ہوئے لڑ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپؓ نے فرمایا،یعنی حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کو بچا رہا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓکہتے ہیں کہ میں نے کہا کاش! طلحہ ہو۔ مجھ سے جو موقع رہ گیا سو رہ گیا اور میں نے دل میں کہا کہ میری قوم میں سے کوئی شخص ہو تو یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے۔حضرت ابوبکر ؓنے اس وقت یہ سوچا۔ کہتے ہیں میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک شخص تھا جس کومیں نہیں پہچان سکا حالانکہ میں اس شخص کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے زیادہ قریب تھا اور وہ اتنا تیز چل رہا تھا کہ میں اتنا تیز نہ چل سکتا تھا تودیکھا کہ وہ شخص ابوعُبَیدہ بن جَرَّاح ؓتھے۔یعنی دو بندے یہ تھے۔ حضرت طلحہ ؓبھی وہاں تھے اور عُبَیدہ بن جَرَّاحؓ بھی تھے، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپؐ کا نچلا رباعی دانت، سامنے والے دو دانتوں اور نوکیلے دانت کے درمیان والا دانت ٹوٹ چکا تھا اور چہرہ زخمی تھا۔ آپؐ کے رخسار مبارک میں خَود کی کڑیاں دھنس چکی تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم دونوں اپنے ساتھی کی مدد کرو۔اس سے آپؐ کی مراد طلحہ تھی اور ان کا خون بہت بہ رہا تھا۔ حضرت طلحہؓ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے بہت زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے بجائے یہ کہنے کے کہ مجھے دیکھو فرمایا کہ طلحہ کو جاکے دیکھو۔ ہم نے ان کو رہنے دیا اور میں آگے بڑھا یعنی حضرت طلحہ ؓکی طرف توجہ نہیں دی بلکہ ہم نے آنحضرت ﷺ کی طرف توجہ دی تا کہ خَود کی کڑیوں کو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے نکال سکیں۔ اس پر حضرت ابوعُبَیدہؓ نے کہا کہ میں آپ کو اپنے حق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اسے میرے لیے چھوڑ دیں۔ پس میں نے ان کو چھوڑ دیا۔ حضرت ابوعُبَیدہؓ کی درخواست پر کہ میں نکالوں گا یہ کڑیاں آپ پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت ابوعُبَیدہؓ نے ناپسند کیا کہ ان کڑیوں کو ہاتھ سے کھینچ کر نکالیں اور اس سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچے تو انہوں نے ان کڑیوں کو اپنے منہ سے نکالنے کی کوشش کی اور ایک کڑی کو نکالا تو کڑی کے ساتھ ان کا اپنا سامنے کا دانت بھی ٹوٹ گیا۔ پھر دوسری کڑی نکالنے کے لیے مَیں آگے بڑھا کہ مَیں بھی ایسا ہی کروں جیسا انہوں نے کیا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓکہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ مَیں بھی اسی طرح دوسری کڑی نکالنے کی کوشش کرتا ہوں تو حضرت ابوعُبَیدہؓ نے پھر کہا کہ مَیں آپ کو اپنے حق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اسے میرے لیے چھوڑ دیں۔ یعنی دوسری کڑی بھی مَیں ہی نکالوں گا، آپ نہیں۔ انہوں نے حضرت ابوبکر ؓکو کہا تھا تو پھر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ پھر انہوں نے ویسے ہی کیا جیسے پہلے کیا تھا۔ ابوعُبَیدہ ؓکا سامنے کا دوسرا دانت بھی کڑی کے ساتھ ٹوٹ گیا اور حضرت ابوبکر ؓیہ فرمایا کرتے تھے کہ ابوعُبَیدہؓ سامنے کے ٹوٹے ہوئے دانتوں والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے علاج معالجہ سے فارغ ہو کر طلحہؓ کے پاس آئے۔ وہ ایک گڑھے میں تھے تو دیکھا کہ ان کے جسم پر نیزے، تلوار اور تیروں کے کم و بیش ستّر زخم تھے اور ان کی انگلی بھی کٹی ہوئی تھی تو ہم نے ان کی مرہم پٹی کی۔
سوال نمبر۵:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فلسطین کےلیےاحباب جماعت کودعاکی کیاتحریک فرمائی؟
جواب: فرمایا: فلسطین کے لیے میں دعا کے لیے کہتا رہتا ہوں۔ اب مسلمان ملکوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ اکٹھے ہو کے فلسطین کو بچانے کی فکر کریں خود مسلمانوں نے لڑنا شروع کر دیا ہے اور پاکستان اور ایران میں بھی اب سنا ہے چپقلش شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے پہ بم بھی مارے ہیں۔ تو یہ خطرناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ان مسلمان ملکوں کو، لیڈروں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے۔ ان کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ حقیقت میں ان کو اپنے مقصد کو سمجھنے کی توفیق دے اور ایک امّتِ واحدہ بننے والے ہوں۔
مزید پڑھیں: اسلام کے بنیادی احکام