متفرق مضامین

ذات بابرکات کے لحاظ سے ملنے والی قوتِ قدسیہ

(ابن قدسی)

جب آسمان سے دعا کی قبولیت ہوتی ہے اور پاک نمونہ انسانی اعمال کی شکل میں ظاہر ہورہا ہوتا ہے تو اس امتزاج کے نتیجہ میں ایک تیسری قوت پیدا ہو جاتی ہے جس کو قُوّتِ قُدسیہ کہا جاتا ہے اس قُوّتِ قُدسیہ کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔ نہ پیدا ہو سکتی ہے(حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ)

قرآن کریم میں قوت قدسیہ کا ذکر

اللہ تعالیٰ لوگوں کو پاکیزہ کرنے، ان کا تزکیہ کرنے کے لیے اپنے انبیاء کو بھیجتا ہے ۔ قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کاذکر مبارک کچھ اس طرح ہے: ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۔ (الجمعۃ:۳) وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔

اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی صفت بیان ہوئی کہ آپؐ یُزَکِّیْھِمْ یعنی انہیں پاک کرتے ہیں ۔ جو خود پاک ہو وہی دوسروں کو پاک کر سکتا ہے۔ پس آنحضرتؐ دوسروں کو پاک کرنے کی کامل صلاحیت رکھتے تھے۔

قُوتِ قُدسیہ کی تعریف

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ قُوتِ قُدسیہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یہ ایک ایسی روحانی قوت ہے جو نیک بندہ کو عطا کی جاتی ہے اور براہ راست اصلاح کرتی ہے۔‘‘(خطبات طاہر جلد اول صفحہ ۲۶۵)

نیز فرمایا : ’’جب آسمان سے دعا کی قبولیت ہوتی ہے اور پاک نمونہ انسانی اعمال کی شکل میں ظاہر ہورہا ہوتا ہے تو اس امتزاج کے نتیجہ میں ایک تیسری قوت پیدا ہو جاتی ہے جس کو قُوتِ قُدسیہ کہا جاتا ہے اس قُوتِ قُدسیہ کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔ نہ پیدا ہو سکتی ہے۔‘‘(خطبات طاہر جلد اول صفحہ ۲۶۶)

اردو لغت کی کتاب ’’فیروز اللغات ‘‘ میں قوت کے معنی طاقت، قدرت، زوراورتوانائی کے ہیں۔اور قدسیہ کے معنی پاک، پاکیزہ کے ہیں۔پس لغت کی رو سے قوت قدسیہ سے مراد ہے پاک کرنے کی طاقت۔

جن کو قوّت قدسیہ عطاہو

جن کویہ قوّت قدسیہ عطاہوتی ہے،ان کے بارے میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:’’خداکانوراُن کی پیشانی میں اپنا جلوہ ظاہرکرتاہے۔ایساہی ان کے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کاپہنا ہوا کپڑابھی متبرک ہوجاتاہے اور اکثر اوقات کسی شخص کوچھونایااس کوہاتھ لگانا اس کے امراض روحانی یاجسمانی کے ازالہ کاموجب ٹھیرتا ہے۔اسی طرح ان کے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عزّوجلّ ایک برکت رکھ دیتاہے وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتاہے ۔خدا کے فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔اسی طرح ان کے شہریاگاؤں میں بھی ایک برکت اورخصوصیت دی جاتی ہے۔اسی طرح اُس خاک کوبھی کچھ برکت دی جاتی ہے جس پران کاقدم پڑتاہے۔‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۱۹)

وہ نبی معصوم اپنی قوت قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر

آنحضرت ﷺکی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں جو پاک روحانی انقلاب بپا ہوا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بے خبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بُت پرستی و دیگر ناپاک خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیّاشی اور بد مستی اور شراب خواری اور قماربازی وغیرہ فسق کے طریقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا اور چوری اور قزاقی اور خون ریزی اور دختر کشی اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگانہ حقوق دبا لینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا … اور ہر یک نوع کا اندھیرااور ہر قسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں میں چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہور ہے کہ کوئی متعصب مخالف … اس سے انکار نہیں کر سکتا اور پھر …وہی جاہل اور وحشی اور یاوہ اور ناپا رسا طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہو گئے اور کیو نکر …صحبت نبی معصوم نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکلخت ایسا مبدل کر دیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہو گئے اور محبت دنیا کے بعد الٰہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں ، اپنے مالوں ، اپنے عزیزوں ، اپنی عزتوں ، اپنی جان کے آراموں کو اللہ جل شانہ کے راضی کرنے کے لیے چھوڑ دیا… پس وہ کیا چیز تھی جو ان کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی وہ … یہ کہ وہ نبی معصوم اپنی قوت قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہو گا۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد۲ صفحہ ۷۶-۷۷،حاشیہ)

جوشخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی پیروی کرتا ہے وہ بلا شبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’ جوشخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے وہ بلا شبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے…اور آسمانی مدد یں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفرّد انسان ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اپنے اسرارخاصہ اس پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے حقائق و معارف کھولتاہے اور اپنی محبت عنایت کے چمکتے ہوئے علامات اس میں نمودار کر دیتا ہے اور اپنی نصرتیں اس پر اتارتا ہے اور اپنی برکات اس میں رکھ دیتا ہے اور اپنی ربوبیت کا آئینہ اس کو بنا دیتا ہے ، اس کی زبان پر حکمت جاری ہوتی ہے اور اس کے دل سے نکات لطیفہ کے چشمے نکلتے ہیں اور پوشیدہ بھید اس پر آشکار کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان تجلی اس پر فرماتا ہے اور اس سے نہایت قریب ہو جاتا ہے اور وہ اپنی استجابت دعاؤں میں اور اپنی قبولیتوں میں اور فتح ابواب معرفت میں اور انکشاف اسرار غیبیہ میں اور نزول برکات میں سب سے اوپر اور سب پر غالب رہتا ہے چنانچہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر انہیں امور کی نسبت اور اسی اتمام حجت کی غرض سے کئی ہزار رجسٹری شدہ خط ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے نامی مخالفوں کی طرف روانہ کئے تھے تا اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ یہ روحانی حیات بجز اتباع خاتم الانبیاء ﷺ کے کسی اور ذریعہ سے بھی مل سکتی ہے تو وہ اس عاجز کا مقابلہ کرے ۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۲۲۱-۲۲۲)

قوّت قدسیہ کے پہلو اور اس کی تاثیرات

اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں میں موجود قوت قدسیہ کئی پہلوؤں کو لیے ہوتی ہے ۔ان کی ذات ،ان کے وجود، ان کے کلام اور ان کی تحریر میں بھی برکت ہوتی ہے ۔ان پہلوؤں کے لحاظ سے تاثیرات و برکات غیر معمولی اور اَن گنت ہیں ۔ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا قائم ہونا، حقائق و معارف کا ملنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہونا، ترک معاصی، پاکیزہ خیالات کاپیدا ہونا، اطمینان قلب، قول میں برکت عطا ہونا، خداداد رعب عطا ہونا، مقناطیسی جذب کا عطا ہونا، تقویٰ و طہارت پر قائم ہونا، فاسد عقائد سے توبہ کرنا، صادق اور وفادار جماعت کا قیام، جانی و مالی قربانی کی توفیق ملنا، نشانات کا ظہور ہونا، غیبی خبریں ملنااور شفا وغیرہ شامل ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات کے لحاظ سے ملنے والی قوّت قدسیہ کا ذکر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجودمیں کس قدرنور، کشش اورجاذبیت تھی کہ دیکھنے والے پہلی ہی نظرمیں بھانپ لیتے تھے کہ یہ کسی جھوٹے کا منہ نہیں۔ اورپہلی ہی نظرمیں رام ہوجاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کاچہرہ مبارک دیکھتے ہی سعیدفطرت روحیں آپؑ پردل وجان سے فدا اور قربان ہونے لگتیں اور بے قرارہوجاتیں کہ اس وجودکے بغیران کوکہیں قرارنہ ملتاتھا۔

حضرت مولاناحکیم نورالدین خلیفۃالمسیح الاوّلؓ آپؑ کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات اوراس دلی کیفیت کااظہاریوں فرماتے ہیں:’’آپؑ اُس وقت سیڑھیوں سے اُترے ۔تومیں نے دیکھتے ہی دل میں کہایہی مرزاہے۔ اور اس پرمیں ساراہی قربان ہو جاؤں‘‘۔(حیات نور،صفحہ۱۱۶جدیدایڈیشن)

مزید فرماتے ہیں: میں ساری آمدنیوں کوچھوڑ کر جو دوسرے شہروں میں مجھے ہوسکتی ہیں کیوں قادیان میں رہنے کوترجیح دیتاہوں۔اس کامختصر جواب یہی دوں گاکہ میں نے یہاں وہ دولت پائی جوغیرفانی ہے جس کوچوراورقزاق نہیں لے جاسکتا۔مجھے وہ ملاہے جوتیرہ سوبرس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا۔پھرایسی بے بہا دولت چھوڑکرمیں چند روزہ دنیاکے لیے مارا مارا پھروں …میں سچ کہتاہوں کہ اگرکوئی مجھے ایک لاکھ کیاایک کروڑروپیہ یومیہ بھی دے اورقادیان سے باہررکھناچاہے میں نہیں رہ سکتا! ہاں امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں ! پھرخواہ مجھے ایک کوڑی بھی نہ ملے۔پس میرے دوست،میرامال،میری ضرورتیں،اس امام کی اتباع تک ہیں! اوردوسری ساری ضرورتوں کواُس ایک وجودپرقربان کرتاہوں!۔ (ماخوذ از حقائق الفرقان،جلدنمبر۴، تفسیر سورۃجمعہ،صفحہ۱۳۲)

میں تو ان کے منہ کا بھوکا ہوں

حضرت منشی اروڑے خاں صاحبؓ کی مسٹر والٹر سے ملاقات کا غیر معمولی واقعہ اس طرح پر ہے کہ اوائل جنوری ۱۹۱۶ء کاواقعہ ہے کہ ایک یورپین مسٹروالٹر(سیکرٹری کرسچن ینگ مین ایسوسی ایشن)تحریک احمدیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے قادیان آئے۔دورانِ قیام مسٹروالٹرحضرت منشی اروڑے خاں صاحبؓ تحصیلدارکپورتھلہ سے بھی ملے اورآپ سے رسمی گفتگو کے بعددریافت کیاکہ آپ پرمرزاصاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثرکیا؟حضرت منشی صاحب نے جواب دیا: میں زیادہ پڑھالکھاآدمی نہیں اورزیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتامگرمجھ پرجس بات نے زیادہ اثر کیاوہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔جس سے زیادہ سچااور زیادہ دیانت داراورخداپرزیادہ ایمان رکھنے والاشخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتاکہ یہ شخص جھوٹاہے باقی میں تو ان کے منہ کابھوکاہوں مجھے زیادہ دلیلوں کاعلم نہیں۔

یہ کہہ کرحضرت منشی صاحبؓ پررقت کی ناقابلِ بیان اوردَردناک کیفیت طاری ہوگئی اورآپؓ حضرت مسیح موعودؑ کی یادمیں پھوٹ پھوٹ کررونے لگے اورگریہ وزاری سے آپ کی ہچکی بندھ گئی۔(الفضل،۹ستمبر۱۹۴۱ء،صفحہ۴-۵،مضمون حضرت مرزابشیراحمدصاحب)

حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ بھی اپنی پہلی ملاقات کا احوال یوں بیان فرماتے ہیں:’’حضرت اقدس کی خدمت عالی میں حاضرہوا۔چہرہ مبارک دیکھتے ہی میں بے تاب ہوگیا اوردل میں عشق کی آگ بھڑک اُٹھی…تین دن قادیان میں رہ کراجازت لے کرواپس آیاجب پٹیالہ پہنچاتودل ایسابے قرارہواکہ پھرقادیان چلاگیا۔ حضرت اقدسؑ نے پوچھاکہ کیوں واپس گئے تھے؟عرض کیا!یاحضرت!حضور سے جدا ہونے کودل نہیں چاہتا۔ مسکرا کر فرمایا: اچھا اور رہو‘‘۔ (کتاب حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب صفحہ نمبر ۹۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ)

چہر ہ منور دیکھ کر کوئی غم باقی نہیں رہتا

حضرت شیخ محمداسماعیل صاحبؓ سرساوی مہاجر قادیان بیان فرماتے ہیں:’’ہم جب حضورکے روئے اَنورکودیکھتے توہم کوایسامعلوم ہوتاکہ ہم جنت میں ہیں۔آپ کے چہرہ منورکودیکھ کرہم کوکوئی غم باقی نہ رہتانہ ہماری آنکھیں حضورکے چہرۂ منورکودیکھ کراُکتاتی تھیں۔آپؑ کے ساتھ نمازپڑھنے سے دل میں خشیت اللہ پیداہوتی تھی اورنمازمیں ایک حلاوت پیدا ہوتی تھی اوردل محبت الٰہی سے سرشارہوجاتاتھااوراگرکبھی ایسااتفاق ہوجاتاکہ ہماری آنکھیں اس چہرہ کودیکھنے سے محروم ہوجاتی تھیں توہمارے اندرایک شدیدکرب وبے چینی پیداہوجاتی تھی‘‘۔(الحکم،۷؍دسمبر۱۹۴۰ء صفحہ۴)

ایک آفتاب، جس کے جلوہ کی تاب عارفوں کونہ تھی

حضرت چودھری غلام محمد خان صاحبؓ آف ضلع ہوشیارپور کابیان ہے:’’رسالہ الوصیت‘‘شائع ہونے کے جلدبعدمیں ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں گیا یہ ۱۹۰۶ء کی بات ہے۔حضورپرنُورنمازِظہرپڑھ کربیت مبارک میں ہی لیٹ گئے۔دوسرے خدام کے ہمراہ یہ عاجزبھی حضورکاجسم مبارک دبانے لگا۔حضورؑ کی آنکھیں اتنی روشن تھیں جیسے سورج۔ان کے سامنے ہماری آنکھیں نہیں کھل سکتی تھیں۔اسی طرح چہرہ مبارک پرنظرنہ ٹکتی تھی۔میں نے کئی بارحضور کوغورسے دیکھنے کی کوشش کی مگرآنکھیں دیکھنے کی تاب نہ لاسکیں۔پیرانہ سالی کے باوجودچہرے پراتنی رونق تھی کہ بچے اورجوان کے چہرے پربھی نہیں ہوسکتی‘‘۔(حضرت چوہدری غلام اللہ خاںصفحہ۱۳،مؤلفہ جناب ڈاکٹر غلام اللہ خاں مرحوم)

یہ نورانی شخص

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ ایڈیٹر’’بدر‘‘ ۱۹۰۹ء کے آغازمیں دورہ کرتے ہوئے ضلع امرتسر کے گاؤں مدّپہنچے توانہیں ایک بزرگ محمدیعقوب صاحب نے ایک نہایت دلچسپ اورعجیب واقعہ سنایاجوآپ ہی کے قلم سے ہدیہ قارئین ہے۔

’’وہ سلسلہ کے سخت مخالف تھے…اتفاق سے اُن کابھائی بیمارہوکرعلاج کے واسطے قادیان گیاتووہ بھی اپنی والدہ مکرمہ کے اصرارسے بھائی کی خبرگیری کے واسطے قادیان چلے گئے۔کسی مغالطہ کے سبب بڑی مسجد کومسلمانوں کی مسجد سمجھ کراس میں جاداخل ہوئے۔وہاں اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحب وعظ فرمارہے تھے اورحضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی رونق افروز تھے اب ان کے خیال میں یہ مسجد (غیروں)کی ہے اس واسطے واعظ اورسامعین سب غیر احمدی ہیں۔حضرت موصوف کاوعظ سن کربہت خوش ہوئے کہ اس جگہ ایک ایسالائق اوربااثرواعظ ہے۔

پھرجب حضرت مرزاصاحب کے نورانی چہرے پر نظر پڑی توکہنے لگے مرزاکی تولوگ خواہ مخواہ بیعت کرتے ہیں اس میں کیارکھاہوگا بیعت کرنے کے لائق تویہ نورانی شخص نظرآتاہے میں تواگربیعت کروں گا تواس شخص کی کروں گا۔اِتنے میں اُن کے بھائی صاحب جواحمدی ہیں وہ بھی آگئے اِن کوتعجب ہواکہ یہ غیراحمدیوں کی مسجد میں کیوں آگئے مگربے اختیاراُن سے بھی ذکرکیاکہ دیکھوبیعت کے لائق یہ شخص ہے بھائی نے سمجھااِن کوغلطی لگی ہے مگرجان بوجھ کروہ خاموش ہورہے کہ اچھامیاں تم اُسی کی بیعت کرلو قادیان میں تواس بہانے سے آتے رہوگے توباہم ملاقات بھی ہوجائے گی۔الغرض اس طرح برادر محمد یعقوب صاحب نے حضرت کوپہچانا‘‘۔ (اخباربدر، ۸-۱۵اپریل۱۹۰۹ء،صفحہ۱) (ازالفضل ۱۸؍مارچ ۱۹۹۹ء)

سر سے پا تک نور کے پتلے

حضرت حسن علی صاحبؓ مونگھیروی جوبرصغیرکے نامور بزرگوں میں شامل تھے۔ آپ اپنے پہلے سفر قادیان (۲جنوری۱۸۹۴ء) کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’۱۸۸۷ء میں جب مرزاصاحب کودیکھاتھاوہ نہ تھے آواز و نقشہ تووہی تھالیکن کل بات ہی بدلی ہوئی تھی۔اللہ اللہ !سر سے پا تک ایک نور کے پتلے نظرآتے تھے۔ جولوگ مخلص ہوتے ہیں اوراخیررات کو اٹھ کراللہ کی یادمیں رویادھویاکرتے ہیں ان کے چہروں کوبھی اللہ اپنے نورسے رنگ دیتاہے اورجن کو کچھ بھی بصیرت ہے وہ اُس نورکوپرکھ لیتے ہیں لیکن حضرت مرزا صاحب کوتواللہ نے سرسے پاؤں تک محبوبیّت کالباس اپنے ہاتھوں سے پہنایاتھا‘‘۔(تائیدحق، صفحہ۶۶۔ طبع سوم اشاعت ۲۳؍دسمبر۱۹۳۲ء قادیان، از الفضل ۱۸مارچ۱۹۹۹ء)

سید وزارت حسین صاحب امیر صوبہ بہار اپنی دستی بیعت کی روح پرورکیفیت کاتذکرہ یوں بیان فرماتے ہیں: ’’جمعہ بیت اقصیٰ میں ہوا اورحضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھایا۔نمازکے بعد حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایااب تمہاری بیعت لی جائے گی۔میں حضورکے سامنے بیٹھ گیا۔ اگرچہ اس وقت اورلوگ بھی بیعت کرنے والے تھے مگرخداتعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرکہ حضورنے میراہاتھ اپنے دست مبارک میں لیا۔ اورباقی لوگوں کے ہاتھ میرے ہاتھ پرتھے۔اورکچھ حضرت کے ہاتھ پر۔ بیعت کے وقت میں نے محسوس کیاکہ ایک روشنی حضور کی روح پاک سے نکل کرمیرے جسم میں سرایت کررہی ہے۔‘‘(الحکم۲۸جنوری۱۹۳۸ء،صفحہ۴)

حضرت بانی سلسلہ کانورانی چہرہ ایک ہندوکے تاثرات

حضرت ملک گل محمد صاحبؓ پنشنرریڈرمرحوم کابیان ہے کہ۱۹۳۳ء میں سلانوالی تحصیل سرگودھا میں ایک بھاری اجتماع ہوا۔فیصلہ کے مطابق آخری خطاب احمدی مقرر کو کرنا تھا۔ ایک گدی نشین کے بھائی اوران کے زیراثرلوگوں نے شورمچاناشروع کردیاکہ تقریرسننے کی ضرورت نہیں۔ سب انسپکٹر پولیس بھی اس شورکوبندنہ کرسکا ۔’’ایک شخص ہندومسمی جوالاسہائے ساکن حضورپور تحصیل بھیرہ کھڑاہوا اورتمام لوگوں کو زورسے پکارکرکہامیں ہندوہوں…ذراٹھہرجاؤاورمیری بات سنو۔ اس پرلوگ ٹھہرگئے۔لالہ جوالاسہائے نے بلند آواز سے کہا۔دوستو!میں بیمارہوکرعلاج کے لیے مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں قادیان گیاتھاوہ ہمارے شہربھیرہ کے رہنے والے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب زندہ تھے میں نے وہاں ان کے درشن کئے۔مجھے معلوم نہیں کہ …تم میں سے کسی نے ان کادرشن کیاتھا۔مگرمیں نے ان کادرشن کیا تھا۔ وہ ایسانورانی اورمہاتماشکل کاتھاکہ اس کے درشن کرنے سے تسلی اورشانتی ہوجاتی تھی اورکوئی شخص اس کوجھوٹانہیں کہہ سکتا تھا۔یہ الفاظ سن کرمخالف شرمندہ ہوئے۔ایک ہندوکی اس نہایت اعلیٰ شہادت سے عوام پر بڑااثرہوا۔(ریویوآف ریلیجنزاردوقادیان مارچ۱۹۴۳ء، صفحہ۴۰)

سراپا نور ہی نور

برکت علی خاں صاحب گڑھ شنکری حضرت مسیح موعودؑ کی پہلی بار زیارت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’مسجد مبارک میں پہنچنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک کھڑکی میں سے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ میں نے جب حضو رکو دیکھا تو بے اختیار میری زباں سے نکلا کہ یہ تو سراپا نور ہی نور ہے یہ تو سچوں اورراست بازوں کا سا چہرہ ہے یہ وہی شخص ہے جس مقدس وجود با جود کی مجھے تلاش تھی الحمد للہ۔‘‘( اصحاب احمدجلد ہفتم صفحہ ۲۰۲)

محبت کا بھر جانا

شیخ رحمت اللہ صاحب اپنی پہلی ملاقات کا تاثر یوں بیان کرتے ہیں :’’ حضور کوئی ڈیڑھ بجے مسجد میں تشریف لائے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپ غسل خانہ سے نکل کر آئے ہیں حضور کا انوار سے منور چہرہ دیکھ کر حضور کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی ۔‘‘( اصحاب احمد جلد ۱۰صفحہ ۱۸۶)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں:’’آپ کے رنگ ڈھنگ اور خدو خال میں ایک خداداد رعب تھا مگر آپ کے ملنے والوں کے دل آپ کے متعلق محبت سے بھر جاتے تھے اور کوئی مخفی طاقت لوگوں کو آپ کی طرف کھینچتی تھی سینکڑوں لوگ مخالفت کے جذبات لے کر آئے اور آپؑ کا چہرہ دیکھتے ہی رام ہو گئے اور کوئی دلیل نہیں پوچھی ۔ رعب کا یہ حال تھا کہ کئی شقی بد ارادوں کے ساتھ آپ کے سامنے آتے تھے مگر آپ کے سامنے آ کر دم مارنے کی طاقت نہ ملتی تھی ۔‘‘ ( سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۵۳, ۵۴)

ایک چینی قیافہ شناس کی گواہی

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :’’ ایک عرب صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک چینی آدمی کے رُو برو میں نے آپ کی تصویر کو پیش کیا وہ بہت دیر تک دیکھتا رہا ۔ آخر بولا کہ یہ شخص کبھی جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔ پھر میں نے اور تصاویر بعض سلاطین کی پیش کیں مگر ان کی نسبت اس نے کوئی مدح کا کلمہ نہ نکالا اور بار بار آپ کی تصویر کو دیکھ کر کہتا رہا کہ یہ شخص ہرگز جھوٹ بولنے والا نہیں۔‘‘ (ملفوظا ت جلد دوم صفحہ ۵۷۹-۵۸۰، ایڈیشن ۱۹۸۸ء)

غیرمسلم خاتون کی گواہی

اب ایک غیرمسلم خاتون کی گواہی آپؑ کی شخصیت کے بارہ میں پیش کرتے ہیں جنہوں نے صرف تصویردیکھ کرآپؑ کی عظیم الشان شخصیت اوراپنی دلی کیفیت کااظہاریوں کیا،حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی ایک کتاب میں اس کاذکرفرمایاہے:’’ایک عورت امریکہ سے میری نسبت اپنے خط میں لکھتی ہے کہ میں ہروقت ان کی تصویردیکھتی رہناپسندکرتی ہوں۔یہ تصویربالکل مسیح کی تصویرمعلوم ہوتی ہے‘‘۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن،جلد۲۱صفحہ۱۰۶)

ہندوستان کے مشہورنامورادیب نیاز فتح پوری نے اپنے رسالہ میں لکھا:’’وہ بڑے غیرمعمولی عزم واستقلال کاصاحب فراست وبصیرت انسان تھاجوایک خاص باطنی قوت اپنے ساتھ لایاتھا۔‘‘(رسالہ نگارلکھنؤماہ نومبر۱۹۵۹ء)

الغرض آپ کی شخصیت ایسی پُرکشش،پُرنوراورخدانماتھی کہ سعیدروحیں ایک ہی نظرمیں فِداوقربان ہونے اوراپناسب کچھ اس وجودِپاک کی خاطرلٹانے کے لیے تیارہوجاتیں۔

اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی گواہی پیش کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: اِس وقت تک جوجماعت کی ترقی ہوئی اس کے اسباب مختلف تھے جن میں سے ہم بعض کواس جگہ اختصارکے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

اوّل ایک بہت بڑانہایت مؤثرسبب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات تھی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسامقناطیسی وجودعطاکیاتھاکہ وہ اپنے ساتھ مناسبت رکھنے والی روح کوفوراََاپنی طرف کھینچ لیتا تھی …سینکڑوں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے صرف حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا چہرہ دیکھ کربغیرکسی دلیل کے آپ کومان لیا۔اوران کی زبان سے بےاختیاریہ الفاظ نکلے کہ یہ منہ جھوٹوں کانہیں ہوسکتاسینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جوچنددن کی صحبت میں رہ کرہمیشہ کے لیے رام ہوگئے اورپھرانہوں نے آپ کی غلامی کوسب فخروں سے بڑافخرجانا۔غرض آپؑ کی کامیابی کاایک بڑاسبب آپؑ کی ذات اورآپ کا اخلاقی اور روحانی اثر تھا۔…بعض لوگوں نے آپ کے اس روحانی اثرکو سحراورجادوکے نام سے تعبیرکیا۔اورمشہورکیا کہ مرزاصاحب کے پاس کوئی نہ جائے کیونکہ وہ جادوکر دیتے ہیں۔مگریہ جادونہیں تھابلکہ آپ کی روحانیت کی زبردست کشش تھی جوسعیدروحوں کواپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔(سلسلہ احمدیہ،جلد اول صفحہ۹۷-۹۸)

آپؓ ایک اور جگہ تحریر فرماتے ہیں: ’’دل آپ کے متعلق محبت سے بھر جاتے تھے اور کوئی مخفی طاقت لوگوں کو آپ کی طرف کھینچتی تھی ۔ سینکڑوں لوگ مخالفت کے جذبات لے کر آئے اور آپ کا چہرہ دیکھتے ہی رام ہو گئے اور کوئی دلیل نہیں پوچھی ۔ رعب کا یہ حال تھا کہ کئی شقی بد ارادوں کے ساتھ آپ کے سامنے آتے تھے مگر آپ کے سامنے آ کر دم مارنے کی طاقت نہ ملتی تھی ۔‘‘( سیرت المہدی جلد اول صفحہ۶۴ نیا ایڈیشن )

ایک روایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’بیان کیا مجھ سے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحبؓ نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مردان کا کوئی آدمی میاں محمد یوسف صاحب مردانی کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے علاج کے واسطے یہاں قادیان آیا ۔ یہ شخص سلسلہ کا سخت دشمن تھا اور بصد مشکل قادیان آنے پر رضامند ہوا تھا۔…

جب کچھ دنوں کے بعد اسے کچھ افاقہ ہوا تو و ہ واپس جانے لگا۔ میاں محمد یوسف صاحب نے اس سے کہا کہ تم قادیان آئے اور اب جاتے ہو ہماری مسجد تو دیکھتے جاؤ۔ اس نے انکار کیا ، میاں صاحب نے اصرار سے اسے منایا تو اس نے اس شرط پر مانا کہ ایسے وقت میں مجھے وہاں لے جاؤ کہ وہاں کوئی احمدی نہ ہو اور نہ مرزا صاحب ہوں۔ چنانچہ میاں محمد یوسف صاحب ایسا وقت دیکھ کر اسے مسجد مبارک میں لائے مگر قدرت خدا کہ ادھر اس نے مسجد میں قدم رکھا اور ادھر حضرت مسیح موعود کے مکان کی کھڑ کی کھلی اور حضور کسی کام کے لیے مسجد میں تشریف لے آئے۔ اس شخص کی نظر حضور کی طرف اٹھی اور وہ بےتاب ہوکر حضو رکے سامنے آ گرا اور اسی وقت بیعت کرلی۔‘‘( سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۵۴)

آپؑ کے انتہائی قریبی اورنہایت باریک نظرسے دیکھنے والے اور۲۵سال تک قریب سے دیکھنے والے ساتھی اورمحب حضرت ڈاکٹرمیر محمد اسماعیل صاحبؓ فرماتے ہیں: ’’آپ میں ایک مقناطیسی جذب تھا،ایک عجیب کشش تھی،رعب تھا، برکت تھی،موانست تھی، بات میں اثرتھا، دعا میں قبولیت تھی، خدام پروانہ وارحلقہ باندھ کر آپ کے پاس بیٹھتے تھے اور دلوں سے زنگ خودبخوددُھلتاجاتاتھا۔غرض یہ کہ آپؑ نے اخلاق کاوہ پہلودنیاکے سامنے پیش کیاجومعجزانہ تھا۔سراپا حسن تھے،سراسراحسان تھے اوراگرکسی شخص کامثیل آپ کو کہا جاسکتاہے تووہ صرف محمدرسول اللہﷺ ہے و بس۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلددوم،صفحہ:۵۹۷)

قوّت قدسیہ کے ذریعہ شفا

خداکے مامورین مقربین اورمرسلین کی یہ بھی ایک خاصیت ہے کہ وہ اپنی عظیم الشان اوربے نظیر قوّت قدسیّہ کے ذریعہ جہاں روحانی بیماریوں سے شفا کاموجب ہوتے ہیں وہاں جسمانی بیماریوں اورظاہری مشکلات سے بھی نجات اور شفا کاذریعہ بن جاتے ہیں۔اس بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’انسانوں کواپنی دعااورتوجہ سے مشکلات سے رہائی دینا بیماریوں سے صاف کرنا۔…جواس میں بھی میں کمال دعویٰ سے کہتاہوں کہ جس قدرخداتعالیٰ نے میری ہمت اور توجہ اور دعا سے لوگوں پر برکات ظاہرکی ہیں اس کی نظیر دوسروں میں ہرگزنہیں ملے گی۔…جودنیاکی مشکلات کے لیے میری دعائیں قبول ہوسکتی ہیں دوسروں کی ہرگزنہیں ہوسکتیں…اگرتمام لوگ میری مقابل پراٹھیں توخداتعالیٰ کے فضل سے میراہی پلّہ بھاری ہوگا۔‘‘(ایاّم الصلح روحانی خزائن جلد۱۴صفحہ۴۰۶ ،۴۰۷)

نیزفرمایا: ’’ایساہی ان کے ہاتھوں میں اورپیروں میں اورتمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے…اکثر اوقات کسی شخص کوچھونایااس کوہاتھ لگانااس کے امراض روحانی یاجسمانی کے ازالہ کاموجب ٹھہرتاہے۔ ‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲صفحہ۱۹)

حضرت مسیح موعودؑ آنحضرتﷺکی اسی قوّت قدسیّہ کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ہمارے سیدومولیٰ، سیدالرسل حضرت خاتم الانبیاءﷺنے جنگ بدرمیں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفارپرچلائی اوروہ مٹھی کسی دعاکے ذریعے نہیں بلکہ خوداپنی روحانی طاقت سے چلائی…ایسا خارق عادت اس کااثرپڑاکہ کوئی ان میں ایسانہ رہاکہ جس کی آنکھ پراس کااثرنہ پہنچاہو۔اوروہ سب اندھوں کی طرح ہوگئے…ایساہی دوسرامعجزہ آنحضرتﷺکا جوشق القمرہے اسی الٰہی طاقت سے ظہورمیں آیاتھاکوئی دعااس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الٰہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آگیاتھا…اوربھی بہت سے معجزات ہیں جوصرف ذاتی اقتدارکے طور پرآنحضرتﷺنے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعانہ تھی…کئی دفعہ دوچارروٹیوں پرہاتھ رکھنے سے ہزارہابھوکوں پیاسوں کاان سے شکم سیر کر دیا۔…بعض اوقات سخت مجروحوں پراپناہاتھ رکھ کران کواچھا کردیا۔اوربعض اوقات آنکھوں کوجن کے ڈھیلےباہرجاپڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کردیا۔ایساہی اوربھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدارسے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد۵صفحہ۶۶،۶۵)

اپنی ذاتی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اسی طرح بہت سی صورتیں پیش آئیں جومحض دعااورتوجہ سے خداتعالیٰ نے بیماروں کو اچھاکردیاجن کا شمارکرنامشکل ہے۔…میرالڑکامبارک احمدخسرہ کی بیماری سے گھبراہٹ اوراضطراب میں تھاایک رات توشام سے صبح تک تڑپ تڑپ کراس نے بسرکی اورایک دم نیندنہ آئی اوردوسری رات میں اس سے سخت ترآثارظاہرہوئے اوربے ہوشی میں اپنی بوٹیاں توڑتا تھا اورہذیان کرتاتھا۔اورایک سخت خارش بدن میں تھی اس وقت میرادل دردمندہوااورالہام ہواکہ اس کے بسترپرچوہوں کی شکل پر بہت سے جانورپڑے ہیں اوروہ اس کوکاٹ رہے ہیں اورایک شخص اٹھااوراس نے تمام وہ جانور اکٹھے کرکے ایک چادر میں باندھ دئیے اورکہاکہ اس کو باہرپھینک آؤاورپھروہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نہیں جانتاکہ پہلے وہ کشفی حالت دورہوئی یاپہلے مرض دورہوگئی اورلڑکاآرام سے فجرتک سویا رہا۔ ‘‘(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲صفحہ نمبر۹۰ ،۹۱حاشیہ)

چہرہ دیکھنے سے شفا

حضرت منشی محمد اروڑے صاحب کپور تھلویؓ حضرت مسیح موعود ؑ کے ذکر پر کہا کرتے تھے کہ ’’ہم تو آپ کے منہ کے بھوکے تھے بیمار بھی ہوتے تھے تو آپؑ کا چہرہ دیکھنے سے اچھے ہوجاتے تھے۔ ‘‘(سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۵۶)

ہاتھ لگانے سے شفا

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ طاعون کے زورکے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی مولوی محمد علی صاحب ایم اے کوسخت بخارہوگیااوران کوظن غالب ہوگیاکہ یہ طاعون ہے اورانہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیّت کردی اور مفتی محمد صادق کوسب کچھ سمجھادیااوروہ میرے گھرکے ایک حصہ میں رہتے تھے جس گھرکی نسبت خداتعالیٰ کایہ الہام ہے ’’اِنّی اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ‘‘ تب میں ان کی عیادت کرنے کے لیے گیااوران کوپریشان اورگھبراہٹ میں پاکرمیں نے ان کوکہاکہ اگرآپ کو طاعون ہوگئی ہے توپھرمیں جھوٹاہوں اورمیرادعویٰ الہام غلط ہے یہ کہہ کر میں نے ان کی نبض پرہاتھ لگایا یہ عجیب نمونہ قدرت الٰہی دیکھاکہ ہاتھ لگانے کے ساتھ ہی ایسابدن سردپایاکہ تپ کانام ونشان نہ تھا‘‘۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد۲۲صفحہ۲۶۵)

’’ایک دفعہ میراچھوٹالڑکا مبارک احمد بیمارہوگیا۔غشی پرغشی پڑتی تھی اورمیں اسکے قریب مکان میں دعا میں مشغول تھااورکئی عورتیں اس کے پاس بیٹھی تھیں کہ یک دفعہ ایک عورت نے پکارکرکہاکہ اب بس کرو کیونکہ لڑکافوت ہوگیا ہے۔ تب میں اس کے پاس آیااوراس کے بدن پرہاتھ رکھا اورخداتعالیٰ کی طرف توجہ کی تودوتین منٹ کے بعد لڑکے کوسانس آناشروع ہوگیااورنبض بھی محسوس ہوئی اور لڑکا زندہ ہوگیا۔تب مجھے خیال آیاکہ عیسیٰ ؑ کا احیائے موتیٰ بھی اسی قسم کاتھا۔اورپھرنادانوں نے اس پر حاشیئے چڑھادیئے‘‘۔(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد۲۲صفحہ۲۶۵)

اس ضمن میں صاحبزادہ حضرت مرزابشیراحمد صاحبؓ نے اپنی کتاب سیرت المہدی میں کئی روایات بیان فرمائی ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں۔’’حافظ نبی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ میں ایک دفعہ بوجہ کمزوری نظرحضرت خلیفہ اول ؓکے پاس علاج کے لیے حاضرہوا۔حضرت خلیفہ اولؓ نے فرمایاکہ شایدموتیااترے گا۔میں نے دو اور ڈاکٹروں سے بھی آنکھوں کامعائنہ کرایا۔سب نے یہی کہاکہ موتیا اترے گا۔تب میں مضطرب وپریشان ہوکرحضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضرہوااورتمام حال عرض کردیا۔حضورنے الحمدللہ پڑھ کر میری آنکھوں پردست مبارک پھیرکرفرمایا ’’میں دُعاکروں گا‘‘ اس کے بعد پھرنہ وہ موتیا اُترا اور نہ ہی وہ کم نظری رہی۔اوراسی وقت سے خداکے فضل وکرم سے میری آنکھیں درست ہیں۔

خاکسار(یعنی حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ) عرض کرتا ہے کہ حافظ صاحب اس وقت اچھے معمّرآدمی ہیں اوراس عمرکوپہنچ چکے ہیں جس میں اکثرلوگوں کوموتیابندکی شکایت ہوجاتی ہے ۔‘‘(سیرت المہدی ۔جلداوّل صفحہ۵۱۸)

پاؤں مس کرنے سے شفا

حضرت میاں محمدحسین صاحبؓ  ٹیلر صحابی حضرت مسیح موعودؑ اپناواقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’پھربعدمیں جب لوگ نمازپڑھ کرچلے گئے توایک پٹھان نے حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ  کی خدمت میں عرض کیا۔کہ متواترچھ ماہ میں نے آپ سے نقرس کاعلاج کروایاہے مگرکچھ بھی آرام نہیں آیا۔مگرآج یہ واقعہ ہواکہ جب حضورؑ کھڑکی سے باہرنکلے توسب لوگ استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے مگرمیں کچھ دیرسے اٹھا۔تواتفاقاًحضورؑ کاپاؤں میرے پاؤں پرپڑگیااس وقت میں نے محسوس کیاکہ میری نقرس کی بیماری اچھی ہوگئی ہے۔جب نمازکے بعدحضوراندرتشریف لے جانے لگے۔تو میں نے عرض کیا۔کہ حضورہے توبے ادبی کی بات۔مگرآپ میرے پاؤں پرپاؤں رکھ کرچلے جائیں حضورنے میری درخواست پرایساکردیا۔اوراب مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل صحت ہے۔اس پرمولوی نورالدین صاحبؓ نے جواب میں فرمایا۔کہ بھائی میں تومعمولی حکیم ہی ہوں۔لیکن وہ توخدا کے رسول ہیں۔ان کے ساتھ میں کیسے مقابلہ کرسکتاہوں۔میں نے تومعمولی دواہی دیناتھی۔ ‘‘

اس واقعہ کے گواہ مولوی محبوب عالم صاحب اورمیرے بھائی بابومحمد رشید صاحب اسٹیشن ماسٹر اور مستری علم دین صاحب ہیں۔(سیرت المہدی، جلداوّل صفحہ۶۵۳)

خاکِ پاک سے شفا

شیخ رحمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ’’میری اہلیہ کو زچگی کے دوران تشنج کے دورے پڑنے لگے۔… اگلے دن جب حضور صبح کو سیر پر جانے لگے تو میں نے خیال کر کے کہ الٰہی !مرسل و مامور کی ہر چیز برکت والی ہوتی ہے اور میری نیت شرک کی نہیں جب حضور نے سیر کے لیے پہلا قدم اٹھایا تو وہاں سے خاکِ پالا کر تیل میں ملا کر مالش کرنی شروع کی اور ساتھ سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم پڑھتا گیا ۔ پہلے تو بیہوش تھیں اور تشنج کا درد شدید تھا اب بفضلہ تعالیٰ ہوش آنا شروع ہوا اور چند منٹ میں مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔‘‘( اصحاب احمد جلد ۱۰صفحہ ۲۴۸)

تمام وجود سے ظلمت کا دُور ہونا

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:’’جب وہ روح القدس نازل ہوتاہے تواس انسان کے وجودسے ایساتعلق پکڑجاتاہے کہ جیسے جان کاتعلق جسم سے ہوتاہے وہ قوت بینائی بن کرآنکھوں میں کام دیتاہے اورقوت شنوائی کاجامہ پہن کرکانوں کوروحانی حِسّ بخشتاہے وہ زبان کی گویائی اوردل کے تقویٰ اوردماغ کی ہوشیاری بن جاتا ہے اورہاتھوں میں بھی سرایت کرتاہے اورپیروں میں بھی اپنااثرپہنچاتاہے غرض تمام ظلمت کووجودمیں سے اٹھادیتاہے اورسرکے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخنوں تک منورکردیتاہے۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۷۲-۷۳)

اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ وجودوں سے وابستہ برکتوں کے شمار میں بہت وسعت ہے جسے ایک جگہ سمیٹا نہیں جاسکتا ۔صرف ایک جھلک ہی دکھائی جاسکتی ہے ۔نور ایمان رکھنے والوں کے لیے یہ ایک روشن دلیل ہے ۔مخالفین انبیاء اس سے کم ہی مستفید ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کو ان برکتوں سے وافر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خلافتِ راشدہ میں پوری ہونے والی قرآنی پیشگوئیاں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button