خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍جنوری ۲۰۲۴ءبمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: آنحضرتﷺ کو جنگ میں جو زخم پہنچے تھے اس کی تفصیل میں بعض روایات اس طرح ہیں۔

سوال نمبر۲:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احدمیں آنحضرتﷺکے زخمی ہونےکے بعد دعا کرنے کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق اس موقع پر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى مَنْ قَتَلَهُ النَّبِیُّ فِی سَبِیْلِ اللّٰهِ، اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِیِّ اللّٰهِ۔ اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص پر سخت ہو جاتا ہے جسے اللہ کے نبیﷺ نے اللہ کے راستے میں قتل کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر سخت ہو جاتا ہے جس نے رسول اللہﷺ کا چہرہ خون آلود کر دیا ہو۔ طبرانی کی روایت ہے کہ جب نبی کریمﷺ زخمی ہوئے تو فرمایا: اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى قَوْمٍ كَلَّمُوْا وَجْهَ رَسُوْلِ اللّٰهِ۔اس قوم پر اللہ کا غضب انتہائی سخت ہو جاتا ہے جس نے رسول اللہﷺ کے چہرۂ مبارک کو زخمی کیا۔ پھر تھوڑی دیر رک کر فرمایا: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَاِنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نادان ہیں۔صحیحین کی روایت میں بھی یہی ہے کہ آپﷺ بار بار فرما رہے تھے: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّهُمْ لَایعْلَمُوْنَ۔اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نادان ہیں۔پس آپؐ کی رحمت جو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں کامل طور پر رنگی ہوئی تھی اس حالت میں بھی غالب آئی جبکہ آپؐ زخمی تھے، خون بہ رہا تھا اور آپؐ نے پھر یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے جب لوگ اس کے نبی پر ظلم کرتے ہیں ،اس کے پیارے پر ظلم کرتے ہیں ۔لیکن اے اللہ! یہ ظلم جو کر رہے ہیں یہ لاعلمی اور بیوقوفی کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ ان کو بخش دے۔ ان پر ان کی غلطیوں کی وجہ سے عذاب نازل نہ کرنا۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔کیا شفقت اور رحمت کا مظاہرہ ہے۔…حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ گویا مَیں نبیﷺ کو اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال آپؐ سنا رہے ہیں جس کو اس کی قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا تھا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔

سوال نمبر۳:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے جنگ احد میں آنحضرتﷺ کے زخمی ہونےکی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی سیرت خاتم النبیینؐ میں تفصیل لکھی ہے کہ ’’درّہ میں پہنچ کر آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کی مدد سے اپنے زخم دھوئے اور جو دو کڑیاں آپؐ کے رخسار میں چبھ کر رہ گئی تھیں وہ ابوعبیدہ بن الجراح ؓنے بڑی مشکل سے اپنے دانتوں کے ساتھ کھینچ کھینچ کرباہر نکالیں حتیٰ کہ اس کوشش میں ان کے دو دانت بھی ٹوٹ گئے۔ اس وقت آپؐ کے زخموں سے بہت خون بہ رہا تھا اور آپؐ اس خون کو دیکھ کر حسرت کے ساتھ فرماتے تھے۔ کَیفَ یَفْلَحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیْھِمْ بِالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ۔ ’’کس طرح نجات پائے گی وہ قوم جس نے اپنے نبی کے منہ کو اس کے خون سے رنگ دیا۔اس جرم میں کہ وہ انہیں خدا کی طرف بلاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپؐ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوگئے اور پھر فرمایا۔اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِقَوْمِیْ فَاِنَّہُمْ لَایعْلَمُوْنَ۔ یعنی ’’اے میرے اللہ! تُو میری قوم کومعاف کر دے۔ کیونکہ ان سے یہ قصور جہالت اور لاعلمی میں ہوا ہے۔‘‘ روایت آتی ہے کہ اسی موقعہ پر یہ قرآنی آیت نازل ہوئی کہ لَیسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْئٌ۔ یعنی عذاب وعفو کامعاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس سے تمہیں کوئی سروکار نہیں۔ خدا جسے چاہے گا معاف کرے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ پھر لکھتے ہیں کہ ’’فاطمة الزہرا ؓجوآنحضرتﷺ کے متعلق وحشتناک خبریں سن کر مدینہ سے نکل آئی تھیں وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد اُحد میں پہنچ گئیں اورآتے ہی آپؐ کے زخموں کودھونا شروع کر دیا،مگر خون کسی طرح بندہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔ آخر حضرت فاطمہؓ نے چٹائی کاایک ٹکڑا جلا کر اس کی خاک آپؐ کے زخم پرباندھی تب جاکر کہیں خون تھما۔دوسری خواتین نے بھی اس موقعہ پرزخمی صحابیوں کی خدمت کر کے ثواب حاصل کیا۔‘‘

سوال نمبر۴:حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نےجنگ احدمیں آنحضرتﷺکےزخمی ہونےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ‘‘غزوہ اُحد کے موقعہ پر ایک پتھر آپؐ کے خَود پرآلگا اور اس کے کیل آپؐ کے سر میں گھس گئےاور آپؐ بے ہوش ہوکر ان صحابہؓ کی لاشوں پر جاپڑے جو آپؐ کے ارد گر د لڑتے ہوئے شہید ہوچکے تھے اوراس کے بعد کچھ اَور صحابہؓ کی لاشیں آپؐ کے جسم اطہر پر جا گریں اور لوگوں نے یہ سمجھا کہ آپؐ مارے جا چکے ہیں۔ مگرجب آپؐ کو گڑھے سے نکالا گیا اور آپؐ کو ہوش آیا تو آپؐ نے یہ خیال ہی نہ کیا کہ دشمن نے مجھے زخمی کیا ہے۔ میرے دانت توڑدیئے ہیں اورمیرے عزیزوں اوررشتہ داروں اور دوستوں کو شہید کر دیا ہے بلکہ آپؐ نے ہوش میں آتے ہی دعاکی کہ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَاِنَّھُمْ لَایعْلَمُوْنَ اے میرے ربّ! یہ لو گ میرے مقام کو شناخت نہیں کرسکے اس لئے تُوان کو بخش دے اوران کے گناہوں کو معاف فرما دے۔’’

سوال نمبر۵:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےجنگ احدمیں فرشتوں کےنزول کی بابت کیاروایات بیان فرمائیں؟

جواب: فرمایا: سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے اُحد کے دن رسول اللہﷺ کے دائیں اور بائیں دو آدمی دیکھے۔ اُن پر سفید لباس تھا۔ بڑی سخت لڑائی کررہے تھے۔ مَیں نے ان دونوں کو نہ اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا۔ یعنی جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام اور اس کو بیہقی نے روایت کیا ہے۔پھر مجاہد نے روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں: فرشتوں نے صرف بدر کے دن لڑائی کی تھی۔بیہقی کہتے ہیں کہ ان کی مراد یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کی نافرمانی کی اور رسول اللہﷺ کے دیے گئے حکم پر صبر نہیں کیا تو اس وقت فرشتوں نے لڑائی نہیں کی۔ یہ اشارہ درّے والوں کی طرف ہے کہ جب انہوں نے اطاعت کا نمونہ دکھایا اور صبر کیا تو فرشتے حفاظت کر رہے تھے۔ جب انہوں نے بے صبری دکھائی تو فرشتوں نے اپنا سایہ اٹھا لیا۔ واللہ اعلم۔ اس بارے میں محمد بن عمر نے اپنے شیوخ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان بَلٰی اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے صبر نہیں کیا اور بھاگ گئے تو ان کی مدد نہیں کی گئی اور ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ ان کے شیوخ نے کہا کہ مصعب بن عمیرؓ شہید ہو گئے تو مصعب بن عمیرؓ کی شکل میں ایک فرشتے نے جھنڈا پکڑ لیا اور اس دن فرشتے حاضر ہوئے تھے لیکن انہوں نے قتال نہیں کیا۔ حارث بن صِمَّہؓ ان حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن رسول اللہﷺ گھاٹی میں تھے۔ آپﷺ نے مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بارے میں پوچھا تو مَیں نے عرض کیا کہ مَیں نے ان کو پہاڑ کی جانب دیکھا ہے تو آپﷺ نے فرمایا:بیشک فرشتے ان کے ساتھ قتال کر رہے ہیں۔ حارثؓ کہتے ہیں پھر مَیں عبدالرحمٰن ؓکی طرف لوٹا تو مَیں نے ان کے سامنے سات کفار کو مرے ہوئے دیکھا تو مَیں نے کہا تیرا دایاں ہاتھ کامیاب ہو گیا۔ ان سب کو آپؓ نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس اور اس کو میں نے قتل کیا ہے اور ان لوگوں کو ایسے شخص نے قتل کیا ہے جس کو مَیں نے نہیں دیکھا۔تو مَیں نے کہا اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے سچ کہا تھا۔ یعنی فرشتے ان کے ساتھ مل کر قتال کر رہے تھے۔ ابن سعد نے عبداللہ بن فضل بن عباسؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں:اُحد کے دن رسول اللہﷺ نے مصعب بن عمیرؓ کو جھنڈا دیا تو مصعبؓ شہید ہو گئے تو اس جھنڈے کو ایک فرشتے نے مصعب کی صورت میں پکڑ لیا تو رسول اللہﷺ فرمانے لگے: اےمصعب! آگے بڑھو تو فرشتے نے آپؐ کی طرف متوجہ ہو کر کہا مَیں مصعب نہیں تو رسول اللہﷺ پہچان گئے کہ یہ فرشتہ ہے اس کے ذریعہ آپؐ کی مدد کی گئی ہے۔ محمد بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اُحد کے دن فرمایا:اے مصعب! تُو آگے بڑھ۔تو عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ! مصعب تو شہید نہیں کر دیے گئے؟ آپؐ نے فرمایا:بالکل لیکن ایک فرشتہ ان کا قائمقام بنا ہے اور ان کا نام اس کو دے دیا گیا ہے۔ علامہ ابن عساکرؒ نے سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن مَیں نے خود کو دیکھا کہ مَیں تیر چلاتا ہوں اور ان تیروں کو میرے پاس سفید کپڑوں والا خوبصورت شخص واپس لے آتا تھا۔ مَیں اس کو نہیں جانتا تھا حتی کہ اس کے بعد مَیں گمان کرتا تھا کہ وہ فرشتہ تھا۔ عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ اُحد کے دن لوگ رسول اللہﷺ سے دُور ہو گئے اور سعدؓ آپؐ کے سامنے تیر اندازی کرتے رہے اور ایک نوجوان ان کو تیر اٹھا کر دیتا۔ جب بھی تیر پھینکتے وہ اس کو اٹھا کر لے آتا۔ آپؐ نے فرمایا:اے ابواسحاق! تیر چلا۔ جب جنگ سے فارغ ہوئے تو نوجوان کو کہیں نہیں دیکھا اور نہ اس کو کوئی جانتا تھا۔ علامہ بیہقیؒ نے عروہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ(آل عمران:153) کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے صبر اور تقویٰ پر وعدہ کیا تھا کہ پانچ ہزار لگاتار فرشتوں کے ذریعہ ان کی مدد کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا لیکن جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے حکم کی نافرمانی کی اور صفوں کو چھوڑ دیا اور تیر اندازوں نے رسول اللہﷺ کی اس وصیت کو کہ اپنی جگہوں سے نہ ہٹنا کو چھوڑ دیا اور دنیا کا ارادہ کیا تو ان سے فرشتوں کی مدد اٹھا لی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ إِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ(آل عمران: 153)اور یقیناً اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایاجب تم اس کے حکم سے ان کی بیخ کنی کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ان کو فتح دکھائی لیکن جب انہوں نے حکم عدولی کی تو ان کو آزمائش میں مبتلا کیا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے بھی اپنے ایک خطبہ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ’’صحابہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں جو فرشتے دیکھے گئے ان کے سروں پر سیاہ پگڑیاں تھیں اور ان کی ایک یونیفارم تھی۔ صحابہؓ نے جب ان فرشتوں کو مختلف حالتوں میں دیکھا تو اسی طرح سیاہ پگڑیاں انہوں نے پہنی ہوئی تھیں۔ جب روایتیں اکٹھی ہوئیں تو وہ تعجب میں پڑ گئے۔ مگر جیساکہ آنحضورﷺ نے مُسَوِّمِینَ کی تفسیر فرمائی تھی ویسا ہی مقدر تھا اور بعینہٖ ایسا ہوا۔ اسی طرح جنگ اُحد میں جو فرشتے دکھائی دیے ان کے سروں پر بطور نشان سرخ پگڑیاں تھیں۔ سرخ رنگ میں کچھ غم کا پیغام بھی تھا کیونکہ جتنا دکھ صحابہؓ کو جنگ اُحد میں آنحضورﷺ کے زخموں کی وجہ سے پہنچا ویسا دکھ آنحضرتﷺ کی ساری زندگی میں کبھی صحابہؓ کو نہیں پہنچا۔ ایک غم کے بعد دوسرے غم کی خبر ان کو ملی اور وہ غموں سے نڈھال ہو گئے۔ پس اس غزوہ میں فرشتوں کی علامت کے لئے بھی ایک ایسا رنگ چنا گیا جس میں غم اور خون اور دکھ کا پہلو شامل ہے۔‘‘

سوال نمبر۶:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے احباب جماعت کودعاکی کیاتحریک فرمائی؟

جواب: فرمایا: آج کل دعاؤں میں یمن کے احمدیوں کے لیے بھی دعا کریں وہ آج کل کافی مشکلات میں گرفتار ہیں۔ اسی طرح مسلم امّہ کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان میں بھی اکائی اور وحدت پیدا کرے اور عقل اور سمجھ دے۔ دنیا کے عمومی حالات کے لیے بھی دعا کریں۔ بڑی تیزی سے جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button