روزے سے تقویٰ کس طرح حاصل ہوتا ہے (قسط دوم۔آخری)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ۱۹؍مئی ۱۹۲۲ء)
۱۹۲۲ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۴ کی روشنی میں روزہ کے ذریعہ تقویٰ کے حصول کے فلسفہ کو بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
روزہ دار خدا تعالی کے لئے اپنے رزق کو چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا متکفل ہو جاتا ہے۔ اور یہ اس کا فرض ہے
[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍مارچ۲۰۲۴ء](گذشتہ سے پیوستہ)۶۔ انسان کو روزوں میں جو تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے اپنی کمزوری کا علم ہو جاتا ہے ایک تو غریبوں کی حالت معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے اپنی کمزوری کا بھی پتہ لگتا ہے۔ گرمی کی شدت میں جب پانی نہیں ملتا۔ اور موت کی سی حالت ہونے لگتی ہے تو اس کو فنا کا خیال آتا ہے۔ اور یہ خیال گیارہ مہینہ تک اس کے پیش نظر رہتا ہے۔ پس
روزوں کے مقرر کرنے میں یہ بھی فائدہ ہے کہ انسان روزے کی تکلیف سے موت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے کیونکہ جب انسان کو اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے تو وہ خدا کی طرف توجہ کرتا ہے۔
۷۔ مشہور ہے کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔ جسم چونکہ مادی ہے اس لئے مادیت کی طرف جھک جاتا ہے لیکن
جب انسان مادی چیزوں سے بچتا ہے تو ملائکہ کو اس کی طرف توجہ ہوتی ہے
پہلے تو یہ تھا کہ ملائکہ کی طرف روح روزوں میں متوجہ ہوتی ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ ملا ئکہ اس سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس کو نیک تحریکیں کرتے ہیں اس کی مثال میں واقعات موجود ہیں۔ مثلاً یہی کہ احادیث میں آتا ہے۔ رمضان شریف میں جبرئیل نبی کریمﷺ کے ساتھ قرآن کریم کا دورہ کرنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ (بخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبي يكون في رمضان) دیکھو جبرئیل تو آپ ﷺکے پاس بغیر رمضان کے بھی آیا کرتے تھے۔ لیکن رمضان میں ان کا آنا اور حیثیت کا تھا پہلے دنوں میں بطور فرض کے آتے تھے مگر رمضان میں دوست کی حیثیت سے آتے تھے۔ پس رمضان میں انسان کو ملائکہ سے ایک نسبت پیدا ہو جاتی ہے۔
۸۔ رمضان کے دنوں میں انسان سحری کے لئے اٹھتا ہے اور اس طرح عبادت کا موقع ملتا ہے اور اس وقت تہجد پڑھتا ہے اور
تہجد نفس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے
اگرچہ رمضان میں اٹھتا تو کھانا کھانے کے لئے ہے لیکن اس کو شرم آجاتی ہے کہ جب اٹھا ہوں اور وقت بھی ہے تو کیوں تہجد نہ پڑھوں۔ اور جب پڑھتا ہے تو اسے روحانیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ
تہجد نفسانیت کے توڑنے اور اس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے
جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً (المزمل :۷)رات کا اٹھنا بہت سخت ہے اور نفس کے کچلنے اور اصلاح کرنے کے لئے بڑا ہتھیار ہے پس جب انسان کھانا کھانے کے لئے اٹھتا ہے تو تہجد بھی پڑھتا ہے جو ’’اَشَدُّ وَطۡاً‘‘ ہے اور نفس کی اصلاح کے لئے ہتھیار ہے۔ اور یہ ایک مہینہ کی مشق سارے سال میں کام آتی ہے۔ جیسا کہ پہاڑ پر ایک دو مہینہ رہنا باقی سال کے لئے مفید ہوتا ہے۔ یا کمزوری صحت کو دور کر دیتا ہے اور اس ایک مہینہ میں جسم کو بہت فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح رمضان میں ایک مہینہ تہجد پڑھنا مفید ہو جاتا ہے۔
۹۔ پھر رمضان کے دنوں میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔ ایک تو تہجد کے ذریعہ عبادت زیادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اور تسبیح اور تہجد زیادہ کی جاتی ہے علاوہ اس کے زیادہ دعاؤں کا موقع ملتا ہے۔ اور
رمضان کو قبولیت دعا سے خاص تعلق بھی ہے
جیسا کہ خدا تعالیٰ رمضان کے ذکر کے ساتھ فرماتا ہے وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (البقرہ:۱۸۷) میرے بندے جب میرے بارے میں سوال کریں تو ان سے کہو کہ میں قریب ہوں۔ اور پکارنے والے کی دعا سنتا ہوں۔ چونکہ ان دنوں تمام عالم اسلامی دعاؤں میں مصروف ہوتا ہے۔ اس لیے دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ جس کام کو زیادہ لوگ مل کر کریں وہ عمدگی اور اچھی طرح ہو جاتا ہے۔ پس ایک تو روزوں میں عبادت زیادہ کی جاتی ہے۔ دوسرے دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ اور اس سے روحانیت کے سلسلہ میں ترقی ہوتی ہے۔
۱۰۔ دسواں تعلق روزوں اور تقویٰ میں یہ ہے کہ گناہ کی عادت چھوٹ جاتی ہے۔
جو انسان چوری کرتا ہے۔ اور اس کو اس کی عادت ہے یا جھوٹ بولنے کی عادت ہے جب وہ رمضان کے مہینہ میں خدا کا حکم سمجھ کر روزے رکھتا ہے تو اس کو برے کام کرنے سے شرم آتی ہے۔
کیونکہ خیال کرتا ہے کہ اگر ان سے نہ بچا تو روزہ رکھ کر خواہ مخواہ بھوکا مرنا ہو گا۔ کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اس طرح وہ جھوٹ اور چوری سے بچتا ہے اور اس ایک مہینہ کی مشق سے بدی سے بچنے میں مدد مل جاتی ہے۔
پھر جب
روزہ دار خدا تعالیٰ کے لئے اپنے رزق کو چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا متکفل ہو جاتا ہے۔ اور یہ اس کا فرض ہے۔
خدا تعالیٰ کے لئے فرض کا لفظ تو نہیں بولا جا سکتا۔ مگر فرض اس لئے کہتے ہیں کہ خود اس نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ کہ وہ اس کو رزق دیتا ہے۔ اور اس سے بہتر دیتا ہے جو کہ انسان اس کی خاطر چھوڑتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ آتا ہے۔وَاِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا(النساء:۸۷) انسان جب خدا کے لئے جسمانی رزق ترک کرتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے روحانی رزق مہیا فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روحانیت میں ترقی کرنے اور خدا سے شرف مکالمہ پانے کے لئے روزے ضروری ہوئے ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی سے پہلے روزے رکھے۔ (بخارى كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم)اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی چھ ماہ تک رکھے۔ پس اس طرح روزے سے روحانیت اور تقویٰ میں ترقی ہوتی ہے۔
بارھویں وجہ یا بارھواں تعلق روزے اور تقویٰ میں یہ ہے کہ
انسان کا روزوں میں سحری کھانا بھی ثواب میں داخل ہوتا ہے۔
کیونکہ سحری کا وقت اصل میں کھانے کا نہیں۔ نفس نہیں چاہتا کہ اس وقت اٹھے اور کھانا کھائے۔ وجہ یہ کہ کھانا کھانے کا وہ وقت نہیں ہوتا۔ لیکن انسان خدا کے حکم کے مطابق اٹھتا ہے اور کھانا کھاتا ہے۔ اس لئے اس کو اس کا ثواب ملتا ہے۔ پھر اس کا دل چاہتا ہے کہ دن میں کھائے۔ مگر اس کو کہا جاتا ہے کہ اس وقت مت کھاؤ۔ اور شام کے وقت کھانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کا بھی اس کو ثواب ملتا ہے۔ کیونکہ اگر شام کا کھانا وہ اپنی مرضی سے کھاتا تو وہ اس وقت سے پہلے بھوک لگنے پر کسی وقت کھا لیتا۔ مگر اس نے خدا کے حکم کے مطابق اس کھانے کے وقت کو پیچھے کر دیا اس لئے اس کو ثواب ملتا ہے۔ پس
روزوں میں دونوں وقت کے کھانوں میں ثواب ملتا ہے۔
کیونکہ جس وقت یہ کھانا نہیں چاہتا اس کو کھانے کا حکم دیا جاتا ہے اور جس وقت سے پہلے کھانے کی خواہش اس کے دل میں ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے ابھی نہیں۔ اس کے بعد کھانا۔ پھر جماع چونکہ دن کے وقت روزے کی حالت میں اس پر حرام ہوتا ہے اور رات کو اس کو اجازت ملتی ہے۔ وہ بھی عبادت ہو جاتا ہے گویا ان دنوں میں انسان کا ہر فعل عبادت ہو جاتا ہے۔ قرآن شریف میں آتا ہے کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا(المومنون:۵۲) طیبات کھاؤ تاکہ صالح اعمال بجا لاؤ ۔ سوٴر کا کھانا کیوں حرام ہے اس لئے کہ سوٴر کے کھانے سے سوٴر کے سے اعمال کی عادت ہوتی ہے۔ اور
پاک چیزیں کھانے سے پاک جسم تیار ہوتا ہے
رمضان میں چونکہ جسم عبادت سے تیار ہو گا اس لئے جو اعمال صادر ہونگے وہ بھی مطہر اور پاک ہونگے پہلے تو جسم سے روح بنتی تھی مگر اب روح سے جسم تیار ہوتا ہے جو بقیہ گیارہ مہینہ کام آتا ہے در حقیقت ایسا انسان اس حد میں آجاتا ہے جس کا کھانا پینا خدا کے حکم سے ہوتا ہے اس کی شہوت بھی جو جسم کا حصہ ہے عبادت بن جاتی ہے اس کا کھانا پینا بھی عبادت ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کا جسم عبادت سے تیار ہوتا ہے اوراس جسم سے عبادت ہی صادر ہوگی۔ جیسا کہ کہا گیا ہے۔
گندم از گندم بروید جو ز جو
یہ خاص طریق روزے سے تقویٰ حاصل کرنے کا ہے۔
اگر اس مضمون کو پھیلایا جائے تو بہت پھیل سکتا ہے لیکن میں نے مختصر طور پر روزے کی فضیلت کے متعلق یہ باتیں بیان کر دی ہیں۔ روزوں کی فضیلت کے بارہ میں ایک اور بھی بات ہے کہ
اس ماہ کے آخری عشرہ میں ایک شب ہوتی ہے۔ جس کو لیلتہ القدر کہتے ہیں۔ وہ اس عشرہ کے وتر دنوں میں خصوصاً ہوتی ہے۔ یہ رات بڑی برکت والی ہے۔ ان ایام میں اس شب کی تلاش کریں۔ اور اس میں برکت حاصل کریں۔
پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے لئے دعائیں کرو۔ اور اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو۔ تم لوگوں نے عہد کیا ہے کہ تم خدا کے نام کو پھیلاؤ گے۔ مگر اس کے رستہ میں بعض روکیں ہیں اور افسوس ہے کہ ان میں سے بعض خود تمہاری پیدا کردہ ہیں۔ مثلاً آپس کا لڑائی جھگڑا بھی بہت بڑی روک ہے۔ آپس کے لڑائی جھگڑے کو لیلتہ القدر سے ایک تعلق ہے اور وہ یہ کہ اس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلتہ القدر کا وقت بھول گیا۔ چنانچہ آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ اور آپؐ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے لیلتہ القدر کے وقت کے متعلق علم دیا تھا۔ مگر تمہارا جھگڑا دیکھ کر میں بھول گیا۔(بخاری کتاب الصوم باب رفع معرفۃ ليلة القدر لتلاحي الناس)پس لیلتہ القدر کے علم سے جو فائدہ امت محمدیہ کو ہونا تھا اس سے تمام امت دو شخصوں کے جھگڑے کے باعث محروم ہو گئی ۔ یہ وہ رات ہے کہ اس میں جو نیک دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ لیکن خدا سے کچھ لینے کے لئے قربانی کی ضرورت ہے اور وہ قوم کہاں قربانی کر سکتی ہے جو ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو۔ تم میں سے بعض لڑتے ہیں اور اس لڑائی سے جماعتی اور ملی فوائد کو ذاتی فوائد یا جھگڑے پر قربان کر دیتے ہیں مگر ایسے لوگوں کو معلوم نہیں کہ ذاتی عزت بھی جماعت ہی کی عزت ہوتی ہے اور اگر جماعت کی عزت نہ رہے تو اس کے افراد بھی ذلیل ہو جائیں۔
ایک شخص نے کہا کہ اب سکول کی حالت بہت خراب ہے۔ لڑکے کم ہو رہے ہیں لیکن پتہ لگایا گیا۔ تو معلوم ہوا جس جماعت کے متعلق یہ کہا گیا تھا اس میں پہلے کی نسبت زیادہ لڑکے تھے اور نتیجہ بھی اچھا تھا۔ پھر بات کیا تھی جو اس شخص نے یہ کہا۔ یہ کہ اس کی قاضی عبداللہ صاحب ؓسے ناراضگی تھی اس وجہ سے اس نے ایک قومی کام کو بدنام کرنے سے دریغ نہ کیا۔ ہم تو دیکھتے ہیں حیوان بھی اپنے عیب کو چھپاتے ہیں۔ بلّی اپنے پاخانہ کو چھپاتی ہے۔ پھر وہ لوگ جو اپنے کسی بھائی کا عیب نہیں چھپاتے وہ بلیوں سے بدتر ہوئے یا نہیں۔
اگر کسی میں عیب ہو تو اس کو چھپاؤ۔ اور دُور کرو۔ نہ یہ کہ اس کو شہرت دو۔ اگر تم ایسا کروگے تو اس حال میں کس طرح خدا کے انعام حاصل کر سکتے ہو۔
اگر جماعت بدنام ہو گی تو لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کریں گے وہ کہیں گے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ بدنام جماعت میں داخل ہونے کے لئے گھر بار چھوڑیں عزیزوں رشتہ داروں سے علیحدہ ہوں لوگوں سے تکلیفیں اٹھائیں گالیاں سنیں۔ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی شخص کو بدنام کرنا اسی شخص کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ اس کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہے۔ قاضی عبداللہؓ ہوں یا ماسٹر محمدالدینؓ، مولوی شیر علیؓ ہوں یا مولوی سید سرور شاہؓ ، حافظ روشن علیؓ یا میاں بشیر احمدؓ یا میر محمد اسحاقؓ۔ اگر یہ لوگ بدنام ہونگے۔ تو یاد رکھو۔ ساری جماعت بدنام ہوگی۔ پس
تمہاری ترقی میں سب سے بڑی روک تمہارے آپس کے جھگڑے ہیں۔ ان کو دُور کرو۔
اگر کسی بھائی میں عیب دیکھتے ہو تو اس کی پردہ پوشی کرو جو شخص اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے عیب چھپاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص زید کا عیب چھپاتا ہے وہ زید کا عیب نہیں چھپاتا بلکہ اسلام کا چھپاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زید کی حرف گیری کا اثر اسلام پر پڑتا ہے۔
پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور اس بدی کو مٹاؤ۔ ذاتی عداوت اور بغض کی وجہ سے ملت کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
جو شخص ایسا کرتا ہے اس کی خدا کے ہاں کوئی عزت نہیں کیونکہ وہ نفسانیت پر مذہب کو قربان کرتا ہے۔ اور اعلیٰ کو ادنٰی کے لئے قربانی کرتا ہے۔ لیکن کیا جو شخص بکرے کے لئے انسان کو ذبح کرے اسے انسان سمجھا جاتا ہے۔ جو لوگ ذاتی لڑائیوں سے ملت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں وہ جب مریں گے اور ضرور مریں گے تو اس وقت پچھتائیں گے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ ان باتوں کو چھوٹا مت سمجھو۔ اور ابدالاباد کی زندگی کے لئے یہاں کی ستر اسی سالہ عمر کی تکلیف کو کچھ مت خیال کرو۔ کیونکہ وہاں جو تکلیف ہوگی وہ بہت زیادہ ہوگی۔ کیونکہ وہاں کی زندگی روحانی زندگی ہوگی اور روحانی زندگی میں احساس بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے تکلیف زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اور میں تو کہتا ہوں اس دنیا میں اگر کوئی ساری عمر بھی صلیب پر لٹکا رہے تو یہ تکلیف کم ہوگی بہ نسبت اس تکلیف کے جو وہاں چند لمحوں میں محسوس ہوگی۔ پس اس رمضان سے فائدہ اٹھاؤ اور ذاتی فوائد کے لئے ملت کو بدنام مت کرو۔ اگر تم ان دنوں میں کوشش کرو گے تو تمہیں ایسے گناہوں سے بچنے کی طاقت حاصل ہوجائے گی۔
(الفضل ۲۵؍مئی ۱۹۲۲ء)