عید یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم سب نیکیوں کو جاری رکھیں گے (خلاصہ خطبہ عید الفطر)

یہ عید صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ یہ عہد کرنے کا بھی دن ہے کہ اب ہم ان سب نیکیوں کو جاری رکھیں گے۔ اگر یہ ہوگا تو تب ہی ہماری عید حقیقی عید ہوگی
٭…عید ہمیں یہ سوچنے کا پیغام دیتی ہے کہ ہم نے آئندہ نیک باتوں کو جاری رکھنا ہے اور برائیوں سے بچنا ہے۔ اگر آج عید منانے کے بعد ہم اپنی اُسی حالت پر واپس چلے گئے جوحالت رمضان سے پہلے ہم میں سے بعض کی تھی یا اگر ہمارے قدم ترقی کی طرف نہ بڑھے تو یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہوگی؛ مومن کی شان تو یہی ہے کہ وہ نیکیوں میں مسلسل آگے سے آگے بڑھتا ہے
٭…بہت ساری جگہوں پر بہت سے مجبور احمدی بلا وجہ نام نہاد قانون کی گرفت میں ہیں،جیسا کہ پاکستان میں کہ جو مذہبی آزادی سے نمازِ عید بھی نہیں پڑھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ انہیں یہ موقع عطا فرمائے کہ وہ حقیقی عید منانے والے ہوں، اپنے آپ کو خداکے قریب لانے والے ہوں اور عید کی ظاہری خوشیاں بھی مناسکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات جلد دُور فرمائے
٭…اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل اور سمجھ دے یہ لوگ حقیقی معنوں میں خدا کا دامن پکڑ سکیں، اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑکو قبول کرکےیہ لوگ خدا کی رضا کو پاسکیں اور حقیقی عید مناسکیں
٭…پاکستان کے احمدیوں کے حوالے سے خصوصی دعا کی تحریک اور عید مبارک کا تحفہ
٭…ساڑھے چار ہزار کے قریب احباب جماعت کی حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اقتدا میں نماز عید کی ادائیگی کے حوالے سے ایک رپورٹ
(نمائندگان الفضل انٹرنیشنل، اسلام آباد ،ٹلفورڈ، ۳۱؍مارچ۲۰۲۵ء) آج یکم شوال ۱۴۴۶ھ بمطابق ۳۱؍مارچ ۲۰۲۵ء برطانیہ میں عید الفطر کا دن ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے بعض ممالک میں کل بروز اتوار بھی عید الفطر منائی گئی تاہم دنیائے احمدیت میں حقیقی عید امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ عید سے ہی ہوتی ہے جسے سننے اور دیکھنے کے لیے ہر احمدی منتظر ہوتا ہے۔ بر سبیل تذکرہ یہاں اظہارِ تشکر کے طور پر یہ عرض کر دینا بھی بر محل ہو گا کہ بلا شبہ یہ احباب جماعت احمدیہ عالمگیر کی انتہائی خوش قسمتی اور خلافت احمدیہ کی عظیم الشان برکات کا ہی ایک ثمر ہے کہ گذشتہ چار روز میں تین مرتبہ (خطبہ جمعہ، خطبہ کسوفِ شمس اور خطبہ عید الفطر) کے مواقع پر براہ راست حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پُر معارف خطبات سننے اور دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے محبوب امام کو لمبی، فعال عمر عطا فرمائے اور ہمیں آپ کی تمام نصائح پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نماز عید کی امامت فرمانے کے لیے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ گیارہ بج کر تین منٹ پر مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ سنتِ رسولﷺ کی پیروی میں حضور انور نے پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ جبکہ دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت فرمائی۔ بعد ازاں گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر حضور انور منبر پر رونق افروز ہوئے اور پُر معارف خطبہ عید الفطر ارشاد فرمایا۔

خلاصہ خطبہ عید الفطر
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
رمضان کل ختم ہوا اور آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے عیدالفطرمنارہے ہیں۔ اس لیے خوشی کا دن منارہے ہیں کہ جن نیکیوں کو ہم نے رمضان میں کیا اور جن نیکیوں کو بجالانےکا ہم نے عہد کیا، تجدید کی، اُن کی خوشی منائی جائے۔ پس
یہ عید صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ یہ عہد کرنے کا بھی دن ہے کہ اب ہم ان سب نیکیوں کو جاری رکھیں گے۔ اگر یہ ہوگا تو تب ہی ہماری عید حقیقی عید ہوگی۔

صرف برائیوں سے بچنا تقویٰ نہیں بلکہ حقیقی تقویٰ نیکیوں پر قائم ہونا اور ان کو جاری رکھنا ہے۔ آج ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مضبوطی سے ہمیشہ قائم رہیں گے۔
عید صرف کھانے پینے، کھیلنے کودنے یا نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ عید ہمیں یہ سوچنے کا پیغام دیتی ہے کہ ہم نے آئندہ نیک باتوں کو جاری رکھنا ہے اور برائیوں سے بچنا ہے۔ اگر آج عید منانے کے بعد ہم اپنی اُسی حالت پر واپس چلے گئے جوحالت رمضان سے پہلے ہم میں سے بعض کی تھی یا اگر ہمارے قدم ترقی کی طرف نہ بڑھے تو یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہوگی؛ مومن کی شان تو یہی ہے کہ وہ نیکیوں میں مسلسل آگے سے آگے بڑھتا ہے۔
آج کے دن ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا ہم اس عہد پر کاربند رہنےکے لیے خود کو تیار پاتے ہیں۔ کیا ہم حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ عید الفطر ہمیں یہ نظارہ دکھائے کہ ایک ماہ کے روزوں سے ہمیں خدا مل گیا ہے، اگر خدا مل جائے تو تب تو نیکیوں میں ترقی نظر آنی چاہیے۔
عید کا دن صرف خوشیاں منانے کا دن نہیں بلکہ یہ عبادات کی طرف خاص توجہ کرنے کا دن ہے، اس دن ہم پر بقیہ دنوں کی نسبت زیادہ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ باقی دنوں میں تو ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں، لیکن عید کے دن ہم پر چھ نمازیں فرض ہوجاتی ہیں۔ پس یہ عبادات کے لیے ایک خاص دن ہے اور اس بات کو ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔

اگر ہمیں خدا نہیں ملا، اگر ہم اس کی عبادت کا حق ادا نہ کرسکے اور حقوق العباد ادا نہیں کر پائے، اگر ہم نے خدا کو پانے کا حق ادا نہیں کیا تو پھر صرف خوشیاں منانا تو عید کا مقصد نہیں۔ حقوق العباد بھی ادا کرنا ضروری ہیں، یہ بھی ایک قسم کی عبادت ہے۔ ایسا شخص جسے خدا نہیں ملا اس کی مثال حضرت مصلح موعودؓ نے ایسے پاگل سے دی ہے جسے ہیرے جواہرات کی پہچان ہی نہیں اور وہ شیشے کے ٹکڑے کو ہیرا سمجھتا ہے۔ جب انسان کا خدا سے خاص تعلق پیدا ہوگا تو تب ہی وہ خدا کو شناخت کرسکے گا۔ جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اسے اپنی پہچان اور معرفت عطا کرتا ہے۔ ایک حقیقی مومن کی خوشی تو یہی ہے کہ وہ خداکو حاصل کرلے۔

آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک ماں کو اپنے گم شدہ بچّے کے ملنے کی جس قدر خوشی ہوتی ہے خدا کو اپنے بندے کے اُس کی طرف واپس آنے پر اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
عید کا دن بےشک مبارک دن ہے، مگر ایک دن اس سے بھی زیادہ مبارک دن ہے اور وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے، یہ دن جمعے اور عید کے دن سے بھی بڑھ کر خوشی کا دن ہے۔
فرمایا حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے، ہرقسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا شرط ہے ورنہ محض توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ جس میں انسان اپنے بدکرتوتوں سے توبہ کرکے اللہ کے ساتھ سچا عہدِ صلح باندھ لےاور اس کے احکام کے لیے اپنا سر خم کردے تو کیا شک ہے کہ اُس عذاب سے جوپوشیدہ طور پر اس کی بدعملیوں کی پاداش میں تیار ہورہا تھابچایا جائے گا، اور اس طرح وہ انسان وہ چیز پالےگا جس کی گویا اسے امید ہی نہ تھی۔
دنیا میں آج کل اتنی غلاظتیں ہیں لیکن ان دنوں میں جب ایک مومن اللہ تعالیٰ کی خاطر روزے رکھتا ہے اور اُس کا قرب پانے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر بہت زیادہ دیتا ہے۔ جب ہم ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو ہم اور ہمارا خاندان اُن حقیقی عید کی خوشیوں کو پانے والا ہوگا جو عید کا اصل مقصد ہے۔
اللہ کرے کہ ہم اب اُن نیکیوں کو جاری رکھنے والے بنیں جو ہم نے رمضان میں اختیار کرنے کی کوشش کی تھی، اگر رمضان میں تراویح یا تہجد کے لیے مساجد میں آرہے تھے تو اب گھروں میں کچھ نہ کچھ نوافل کا اہتمام کرنے والے ہوں، اللہ کرے کہ ہم حقوق العباد اداکرنے والے ہوں، ایک دوسرے کا حق ادا کرنے والے بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ یہ پاک تبدیلی ہمارے اندر پیدا کرتا چلا جائے۔
حضورِانورنے دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ دعائیں بھی کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے۔

بہت ساری جگہوں پر بہت سے مجبور احمدی بلا وجہ نام نہاد قانون کی گرفت میں ہیں،جیسا کہ پاکستان میں کہ جو مذہبی آزادی سے نمازِ عید بھی نہیں پڑھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ انہیں یہ موقع عطا فرمائے کہ وہ حقیقی عید منانے والے ہوں، اپنے آپ کو خداکے قریب لانے والے ہوں اور عید کی ظاہری خوشیاں بھی مناسکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات جلد دُور فرمائے۔
آج بھی بڑی خوف کی حالت میں انہوں نے عید کی نماز پڑھی ہے، وقت بدل بدل کر اور جگہیں بدل بدل کر نماز اداکی ہے۔ کراچی میں اور بعض جگہوں پر نمازیں پڑھنے سے روکا بھی گیا اور مساجد پر مخالفین نے حملے بھی کیے، قانون نافذ کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ حملہ کرنے والوں کو روکتے، انہوں نے ہماری مساجد کو تالے لگا دیے۔ اللہ تعالیٰ جلد ان مخالفین کی پکڑ کے سامان کرے۔ آمین

بیماروں کے لیے بھی دعا کریں، اللہ تعالیٰ سب بیماروں کو صحت دے، انسانیت، اسلام اور جماعت کی خاطر مالی اور ہر طرح قربانی کرنے والوں پر بھی اللہ تعالیٰ اپنے افضال نازل فرمائے۔آمین
شہداء کے بچوں کے لیے، اسیرانِ راہِ مولیٰ کےلیے، واقفینِ زندگی کے لیے، عمومی طور پر امّتِ مسلمہ کےلیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل اور سمجھ دے یہ لوگ حقیقی معنوں میں خدا کا دامن پکڑ سکیں، اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑکو قبول کرکےیہ لوگ خدا کی رضا کو پاسکیں اور حقیقی عید مناسکیں۔
خطبہ ثانیہ کے اختتام پر حضورِ انور نے گیارہ بج کر ترپّن منٹ پر دعا کروائی۔ حضور انور نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ فرما کر تمام احباب جماعتہائے احمدیہ عالمگیر کو عید مبارک کا تحفہ عنایت فرمایا۔

پاکستان کے احمدیوں کے حوالے سے خصوصی دعا کی تحریک اور عید مبارک کا تحفہ
بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے کہا تھا کہ پاکستان کے لوگوں کو مستقل دعاؤں میں یاد رکھیں۔ کافی سخت حالات ہیں۔ اللہ تعالیٰ حقیقی معنوں میں ان کے لیے عید مبارک کرے۔ ان سب کو عید مبارک ہو۔ بےچارے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ بظاہر مایوسی ہے لیکن انہیں فکر نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ جلد حالات بدلے گا۔ (آمین)
بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسلام آباد کے بعض مقامات کا دورہ فرمایا جہاں پر نماز عید ادا کی گئی تھی۔ آج اسلام آباد میں ساڑھے چار ہزار کے قریب احباب جماعت نے حضورِ انور کی اقتدا میں نماز عید ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر دو سو سے زائد خدام نے ڈیوٹیاں سر انجام دیں۔
ادارہ الفضل کی جانب سے امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، تمام افراد جماعتہائے احمدیہ عالمگیر اور امّتِ مسملہ کو عید مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ عید ہمارے لیے دائمی خوشیوں کا پیغام لائے۔ آمین۔
٭…٭…٭