متفرق مضامین

زیرہ میں نفوذِ احمدیت کا آغاز

(سمیع اللہ زاہد۔ کینیڈا)

حضرت مولوی علی شیر زیروی صاحب رضی اللہ عنہ اور ان کے چھوٹے بھائی چودھری محمد عیسیٰ زیروی صاحب کا قبولِ احمدیت

تقسیم ہند سے قبل زیرہ جوضلع فیروز پور کا تحصیل ہیڈکوارٹر تھا میں وہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔وہاں کمبوؤں کے محلہ میں واقع مسلمانوں کی جامع مسجد کے اِمام اور خطیب حضرت مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ جیّد عالمِ دین اور اہل علاقہ میں وسیع اثرو رسوخ کے مالک بزرگ تھے۔ علاقہ کے با اثر مسلمان اپنے بچوں کو قرآن کریم اور دینی تعلیم کے لیے آپ کے پاس بھیجناباعثِ فخر سمجھتے تھے۔ تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ علومِ دینیہ کی تحصیل کے لیے طلبہ کی ایک کثیر تعدادہر وقت آپ کے سامنے زانوئےتلمّذ طے کرتی نظر آتی تھی۔ حضرت مولوی حکیم اللہ بخش صاحب(والد محترم ثاقب زیروی صاحب) جو آپ سے حدیث پڑھتے تھے کا بیان ہے کہ جالندھر کے ایک احمدی دوست حضرت میاں محمد جھنڈا صاحب رضی اللہ عنہ جوپھیری لگا کر چوڑیا ں بیچتے تھے دو جمعوں کو جمعہ کے بعد حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعودعلیہ السلام کی آمد کا مژدۂ جانفزا سنانے مسجد آئےاور دونوں دفعہ مولوی صاحب کے حکم سے دھکے دے کر نکال دئیے گئےاور ان کی چوڑیاں بھی توڑ دی گئیں۔اگلی دفعہ وہ جمعرات کو آئے، مولوی صاحب مسجد کے صحن میں تدریس میں مصروف تھے انہوں نے دُور سے ہی مولوی صاحب کو مخاطب کیا اور فرمایا مولوی صاحب میں تو آپ کو عالمِ ربانی سمجھتا تھالیکن آپ تو عام علماء کی طرح ہی نکلے۔ میں روز روز اپنی چوڑیاں نہیں تڑوا سکتایہ میری آمد کا ذریعہ ہیں۔یہ کتاب لیں اور پڑھیں۔یہ کہہ کر انہوں نے ایک کتاب فرش پر رکھی اور جلدی سے مسجد سے نکل گئے۔ مولوی صاحب نے وہ کتاب اُٹھا کر اس کی گرد وغیرہ جو فرش پر رکھنے کی وجہ سے لگ گئی تھی جھاڑی اور کتاب کی ورق گردانی شروع کر دی۔ یہ امامِ دوراں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ تھی۔ مولوی صاحب پندرہ بیس صفحات پڑھنے کے بعد ہی کہنے لگےکہ تم مسجد کے ناظم کو بتا دو کہ اِس مسجد کے لیے کسی اور امام اور خطیب کا انتظام کر لے اور ہندوؤں کے محلہ میں گجروں کی جو غیر آباد مسجد ہےوہاں اللہ دتہ نمبردار کو جا کر کہوکہ وہ ہمیں اُس مسجد میں نمازیں ادا کرنے کی اجازت دے دے۔مولوی اللہ بخش صاحب نے کہا مولوی صاحب آپ نے اِس کتاب سے کیا پالیا ہے کہ یہ جگہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ یہاں آپ کی عزت اور وقار ہے ، ایک مقام ہے۔ آپ کی معقول آمد کا یہ ذریعہ ہے۔ مولوی علی محمد صاحبؓ نے جواب دیا،یہ شخص بالکل سچی باتیں کرتا ہے، میں تو اِسے فیضیٔ زماں ہی سمجھتا رہامگر یہ تو امام الزمان نِکلا۔ دیکھو!کل کو یہ مجھے کوئی الزام لگا کر نکالیں گےاس لیےبہتر ہے کہ میں خود ہی اس جگہ سے الگ ہو جاؤں۔تم دیکھنا خدا مجھےاکیلا نہیں چھوڑے گااور مجھے عزت بھی دے گا۔ چنانچہ اُستاد شاگرد گجروں کے محلہ کی مسجدکو اندر باہر سے صاف کر کے اور اُس میں اُگی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کو اکھیڑ کر وہاں منتقل ہو گئے اور یوں بیعت سے بھی قبل مولوی صاحب اور اُن کے پندرہ بیس شاگردوں نے الگ نمازیں شروع کر دیں۔اب دن رات وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے دعاوی کا ذکر ہونے لگا۔ آپ کے شاگر د اور کچھ دیگر لوگ مولوی صاحب سے سوال کرتے اور مولوی صاحب جواب دیتے اور بعض اوقات تو نمازِ عشاء کے بعد شروع ہو کر طلوعِ فجر تک یہ ذکر چلتا۔حضرت مولوی حکیم اللہ بخش صاحب کہتے ہیں کہ سوال کرنے والوں میں مَیں پیش پیش ہوتا تھا۔ ایک دن میرے ایک سخت سوال پر حضرت مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو اللہ بخش !تم مجھے بیٹوں کی طرح عزیز ہو تمہاری بات سُن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر تم نے دوبارہ ایسی کوئی بات کی تو میں تمہیں بالکل اُسی طرح چھوڑ دونگاجس طرح بیوی کو طلاق دے کر الگ ہوا جاتا ہے۔ تم صاحبِ علم ہو، یہ بے باکی کا طریق چھوڑ دو اور دعااور استخارہ کے ذریعہ خدا سے راہنمائی کے طالب بنو۔ مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے دعائیں شروع کیں۔ تیسرے دن میں نے خواب میں دیکھاکہ میں اپنے گھر کے باہر چوک میں کھڑا ہوں (ہمارا گھر دو گلیوں کے سنگم پر تھا) کہ ایک طرف سے ایک گھوڑ سوارجنہوں نے یونیفارم پہنی ہوئی ہے اور سینے پر تمغے وغیرہ بھی آویزاں ہیں آئے ہیں وہ کہتے ہیں میں معاذ بن جبل ہوں اور استفسار کرتے ہیں کہ مولوی علی محمد صاحب کہاں ہیں اُن کو بلاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ وہ تو تالاب پر بھینس کو پانی پلانے گئے ہیں۔گھوڑ سوار نے کہا کہ آنحضورﷺاور حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا رہے ہیں وہ چوک میں لیکچر دیں گے اور جھنڈا گاڑیں گےاور پڑاؤنامی میدان میں بیعت لیں گے۔ اب میری کیفیت یہ تھی کہ میں چند قدم مولوی صاحب کو بلانے کے لیے آگے کو دوڑتا، انہیں آوازیں دیتا اور اس خدشہ کے پیش نظرکہ کہیں وہ بزرگ ہستیاں آکر آگے نہ نکل جائیں ایک دو قدم پیچھے لے لیتا۔ اِسی دوران میں نے دیکھاکہ دو نورانی وجود جن کی شکلیں تقریباً ایک جیسی ہی تھیں گھوڑوں پر سوار چلے آتے ہیں۔ میں نے دوڑ کر دونوں کو سلام کیا اورگھوڑوں کی ایال کو بوسہ دیا۔ وہاں سے وہ چوک میں آگئےجہاں چار بازار ملتے تھے۔وہاں حضرت مسیح موعودؑ تو بیٹھے رہے اور آنحضور ﷺ نے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق وعظ فرمایا اور پڑاؤ میں بیعت لی۔ اس خواب سے میرے دل اور دماغ دونوں سے شکوک وشبہات کی دُھند مکمل طور پرچھٹ گئی اور میں نے قادیان جا کر اپنے آپ کو امام الزماں کی غلامی میں دینے کا فیصلہ کر لیا۔

قادیان جانے کے عزم کو ایک اور واقعہ نے مہمیز دی۔ حضر ت مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ جیسے صاحبِ اثرو رسوخ اور جیّدعالم ِ دین کے دن رات احمدیت کے ذِکر نے زیرہ میں ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ ہر گلی کوچہ نیز بازاروں اور گھروں میں موافقت و مخالفت میں حضرت مسیح موعودؑ اورآپ کے دعاوی کا تذکرہ ہونے لگا۔ اس ماحول سے متاثر ہو کر تحصیل کے دفاتر میں چپڑاسیوں کے ناظم حضرت منشی کوکے خان صاحب ایک دن بہت پُرجوش لیکن دردمندانہ انداز میں حضرت مولوی علی محمدصاحب کی مجلس میں کہنے لگےمولوی صاحب! کیا آپ خدائے واحد کی قسم کھا کر مرزا صاحب کے دعاوی کی تصدیق کر سکتے ہیں ؟حضرت مولوی صاحب جو اس وقت وعظ فرما رہے تھےنے قرآن کریم ہاتھ میں بلند کرتےہوئے فرمایا:کوکے خاں!خدائے واحدو یگانہ جس نے یہ زمین و آسمان بنایا اور جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہےکی قسم کھا کر میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحبؑ اپنے تمام دعاوی میں صادق ہیں۔یہ سُنتے ہی حضرت منشی کوکے خان صاحب خوشی سےسرشار، نہایت مسرت آفریں لہجے میں بولے۔بھائیو!میں تو پھر قادیان جا رہا ہوں اور کون کون میرے ساتھ چلتا ہے۔

[آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضرور ی معلوم ہوتی ہے کہ خاکسار نے زیرہ میں احمدیت کے نفوذ کی ابتداکے متعلق یہ تمام معلومات مندرجہ ذیل دو ذرائع سے حاصل کی ہیں:

۱۔ محترم ثاقب زیروی صاحب کا روزنامہ الفضل ۱۷؍نومبر۲۰۰۰ء میں شائع ہونے والا مضمون بعنوان ’’حضرت حکیم مولوی اللہ بخش خان صاحب رضی اللہ عنہ رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ایک ورق‘‘

۲۔ محترم ثاقب زیروی صاحب ہی کا ایم ٹی اے لاہور کے لیے دیا گیا انٹرویو جو کہ یوٹیوب پر بھی دستیاب ہے۔]

دونوں میں ایک دوسرے کی نسبت کمی اور بیشی کے علاوہ بعض جگہوں پر کسی قدر اختلاف کا بھی احساس ہوتا ہے۔انٹرویو میں یہ ذکر ہے کہ حضرت مولوی اللہ بخش صاحب(والد ثاقب زیروی صاحب) اپنے تین دوستوں حاجی محمد بخش صاحب، حاجی الٰہی بخش صاحب اور منشی کوکے خان صاحب کو حضرت مولوی علی محمد صاحب سے ہونے والی گفتگو اور صداقت حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق مولوی علی محمد صاحب کے بیان کردہ دلائل کی تفصیل بتا دیا کرتے تھے۔جب مولوی اللہ بخش صاحب نے آنحضورﷺ،حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا اور آنحضورﷺ نے حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے متعلق تقریر کی تو انہوں نے اپنے دوستوں کو بتایاکہ میری تو اب تسلی ہو گئی ہے اس لیےمیں تو اب بیعت کے لیے قادیان جارہا ہوں۔اس پر دوستوں نے کہا ہم بھی ساتھ جائیں گےاس کے بعد چاروں دوستوں کے جانے اور چاروں کے بیعت کرنے کا ذکر ہے۔لیکن ساتھ جانے والے اپنے تین دوستوں کے نام انہوں نے دوبارہ نہیں لیے، صرف دلائل بتاتے وقت نام لیےہیں کہ ان تین دوستوں کو میں مولوی علی محمد صاحب کے دلائل بتایا کرتا تھا۔جبکہ الفضل کے مذکورہ بالا مضمون میں خواب کا مختصراً ذکر ہے کہ تین بزرگوں کو خواب میں دیکھا (کسی بزرگ کا نام نہیں لکھا) ایک بزرگ نےصداقت حضرت مسیح موعود ؑکے متعلق تقریر کی۔خواب کے بعد میر ی تسلی ہو گئی اور میں دامے درمے قدَمے سخَنے(ہر طرح مدد کرنے کو تیار)حضرت مولوی علی محمد صاحب کا مؤیدو معاون بن گیا اور اس کے بعد منشی کاکوخان صاحب رضی اللہ عنہ (کوکے خان کی بجائے کاکو خان نام لکھا گیا ہے)کے مطالبہ پر جب حضرت مولوی علی محمد صاحب نے خدا کو حاضر وناظر جان کر حلفاً یہ بیان دیا کہ حضرت مرزا صاحب اپنے تمام دعاوی میں سچے ہیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ میں تو پھر قادیان جا رہا ہوں۔ اس پر مولوی اللہ بخش صاحب اورحاجی محمددین صاحب بھی کاکو خان صاحب کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ قادیان جانے والا یہ وفدکس موقع پر تیارہوا اس میں اختلاف کے علاوہ وفد میں شامل افراد کی تعداد اور ناموں میں بھی اختلاف ہے۔انٹرویو کے مطابق چار افراد پر مشتمل وفدمیں حضرت مولوی اللہ بخش صاحب، حضرت منشی کوکے خان صاحب، حاجی محمد بخش صاحب اور حاجی الٰہی بخش صاحب شامل تھے۔ الفضل کے مطابق تین افراد پر مشتمل وفد میں پہلے دو دوستوں کے ساتھ تیسرے دوست حاجی محمد دین صاحب تھے۔ خاکسار کے ننھیال اور ددھیال دونوں زیرہ اور اس کےگردو نواح کے قریبی دیہات کے رہنے والے تھے۔خاکسار نے اس سلسلہ میں جب ان کی دوسری اور تیسری نسل جو اس وقت موجود ہے سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ زیرہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ملسیاں گاؤں میں خاکسار کی پھپھوجو والد صاحب سے ۶-۷ سال بڑی تھیں اور ان کی پیدائش۱۹۰۲ء ؍۱۹۰۳ء کے قریب کی ہو گی بیاہی گئی تھیں۔ان کے سسر محمد بخش صاحب جن کا دوسرا نام محمد دین تھا حاجی محمد بخش یا حاجی محمد دین کے نام سے معروف تھےاور ان کے چھوٹے بھائی الٰہی بخش، حاجی الٰہی بخش کے نام سے جانے جاتے تھے۔ دونوں بھائیوں نے حج نہیں کیا تھا لیکن اُس زمانہ میں نماز، روزہ کے پابند اور کسی قدر دینی علم رکھنے والے بزرگ کو لوگ عزت اور احترام کی خاطر میاں جی اور حاجی صاحب کے نام سے مخاطب کرنا زیادہ مناسب سمجھتے تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے بھی حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں اُسی زمانہ میں بیعت کی تھی لیکن یہ امر کہ وہ دونوں بھائی اس وفد میں شامل تھے یقینی نہیں۔ یہ دونوں بھائی ہفتہ میں تین چار دفعہ زیرہ جاتےاور جمعہ باقاعدگی سے زیرہ میں ہی ادا کیاکرتے تھے۔ بہر صورت تین،چار یا پانچ عاشقانِ مسیح الزمان پرمشتمل یہ قافلہ ۱۹۰۵ء کے کانگڑہ کے زلزلہ کے اگلے دن یعنی ۵؍اپریل ۱۹۰۵ءکو زیرہ سےروانہ ہوا۔ ہری کے پتّن سے دریا عبور کر کے پٹّی تک پیدل گئے اور وہاں سے ٹرین پر سوا ر ہوئے۔ قادیان پہنچے تو حضرت منشی کوکے خاں صاحب عشق و محبت میں سرشار، اُن کی وارفتگی کا تو یہ عالم تھا کہ جس بزرگ صورت کو دیکھتے لپک کر اُس کے پاس پہنچ جاتے اورپوچھتے آپ مرزا صاحب ہیں ؟آخرمسجد مبارک پہنچےاور انہیں بتایا گیا کہ یہاں بیٹھیں اس کھڑکی سے حضرت مرزا صاحب مسجد میں تشریف لائیں گے۔یہ سب دوست کھڑکی کے ساتھ ہی لائن میں بیٹھ گئے۔جب حضرت مسیح موعودؑ کھڑکی سے اندر داخل ہوئے تو لپک کر آپؑ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور بیعت لینے کی درخواست کرد ی۔ حضرت منشی کوکے خاں صاحب نے اپنی ٹانگوں سے کپڑا ہٹا کر گرد آلود ٹانگیں دکھائیں اور عرض کیا کہ حضور! ہماری تو ابھی بیعت لے لیں۔ان عاشقانِ مسیح الزمان کے جذبہ ٔعشق و محبت اور ان کے والہانہ پن کا شاید اثر تھا کہ اپنی عادت اور معمول کے خلاف اُسی وقت حضرت اقدسؑ نے بیعت لے لی اور توقف اورمزید مطالعہ و تحقیق وغیرہ کی نصیحت نہ فرمائی۔

جب تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مجلس میں موجود رہےیہ سب تو گویا عشق ومحبت میں مدہوش تھے،جب حضور علیہ السلام اندر واپس تشریف لے گئے تو یاد آیا کہ حضرت مولوی علی محمد صاحب کا خط تو حضرت اقدسؑ کو دیا ہی نہیں۔ چنانچہ دروازے پر دستک دے دی۔ ایک خادمہ کے آنے پر حضرت مسیح موعودؑ کو دروازے پر تشریف لانے کی درخواست کی تو خادمہ نے آکر بتایا کہ حضرت مسیح موعودؑ تو اب تحریر کے کام میں مصروف ہیں حضو رنے فرمایا ہے کہ خط مجھے(خادمہ ) کو ہی دے دیں۔ مولوی اللہ بخش صاحب نے خادمہ کے ذریعہ دوبارہ عرض کیا کہ ہمیں تاکید ہے کہ خط حضرت اقدسؑ کے ہاتھ میں ہی دیا جائے۔ اس پر حضرت اقدسؑ کھڑکی میں تشریف لائے۔ حضور اُس وقت ننگے سَراور ننگے پیر تھےایک پاؤں گھر کے اندر اور دو سرا باہر تھا۔ حضور نے خط پڑھا اور فرمایا کہ مولوی صاحب(مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ) سے کہیں کہ وہ اب غزنوی باغ کی بجائے احمدی باغ کی بلبل ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں زیرہ میں بہت جلد مضبوط اورمخلص جماعت دے گا۔

حضرت مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ جو حضرت میاں محمد جھنڈا صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ کے تیر سے گھائل ہو کر احمدیت کی آغوش میں آگرے، غالباً انہیں اس سے قبل بھی حضرت مسیح موعودؑ سے کسی حد تک نہ صرف تعارف تھا بلکہ آپ سے کسی قدر متاثر بھی تھے۔کتاب کے چند صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد ان کے یہ الفاظ ’’ہم تو اس شخص کو فیضیٔ زماں سمجھتے تھےیہ تو اِمام الزمان نکلا‘‘ اس کا بیّن ثبوت ہے۔ چند صفحات کے مطالعہ کے نتیجہ میں نہ صرف انہوں نے اس آسمانی نور کو پہچانا بلکہ یقین کی اُس مستحکم چٹان پر قائم ہوگئےکہ وہ بلند مقام اور مرتبہ جو انہیں حاصل تھا اور ایک معقول ذریعہ آمد، سب پر لات مار کر الگ ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب اپنے آپ کو غزنوی باغ کی بلبل کہا کرتے تھے۔ حضرت مولوی عبداللہ غزنوی صاحب وہ صاحبِ رؤیا و کشوف بزرگ تھے جنہوں نے خدا سے خبر پاکر یہ اعلان کیا تھا کہ قادیان میں ایک نور اُترا، لیکن میری اولاد اس سے محروم رہ گئی۔ حضرت مولوی عبداللہ غزنوی صاحب حضرت مسیح موعودؑکے دعویٰ سے قبل ہی فوت ہو گئےتھےاور ان کی پیشگوئی کے مطابق ان کی جسمانی اولادتو واقعی اس آسمانی نور کو پہچاننے اور اسے قبول کرنے سے محروم رہی لیکن مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ جیسے بہت سے ان کے بیعت کنندگان جو اِن کی روحانی اولاد تھے، کے قبولِ احمدیت کا ذکر تاریخ ِاحمدیت کے اوراق میں محفوظ ہے۔ اِسی طرح مولوی علی محمد صاحب کا جو خط حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حضرت مولوی اللہ بخش صاحب نے پیش کیااس کے متعلق الفضل کے مضمون میں دو دفعہ ’’تحریری بیعت کا خط؍رقعہ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ حضرت مولوی صاحب آئینہ کمالات اسلام کے مطالعہ کے بعد سے امام الزمان علیہ السلام کے منادی اور پرجوش مبلغ کے طور پر نہایت اخلاص و وفا سے ہمہ تن مصروف جہاد تھےلیکن انہوں نے باقاعدہ بیعت اس خط کے ذریعہ سے ہی کی۔ حضرت مولوی علی محمد صاحب ؓ اپنے آپ کو زیرہ میں اکیلا اور پہلا احمدی کہتے تھے اور اس کا ذکر محترم ثاقب زیروی صاحب کے انٹرویو اور مضمون دونوں میں ہے۔ خاکسار کے دادا حضرت مولوی علی شیر صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول احمدیت والی روایت میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ حضرت مولوی علی محمد صاحب کے بھائی مولوی جلال الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے پہلے بیعت کی تھی اور اُنہوں نے مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ کو بیعت کی تحریک کی تھی۔حضرت مولوی جلال الدین صاحب جو بعد میں یو پی میں مبلغ بھی رہے غالباً زیرہ میں نہیں رہتے تھے اور حضرت مولوی علی محمد صاحب جو آئینہ کمالات اسلام کے مطالعہ سے قبل حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق حُسنِ ظَن رکھتے تھے اور آپؑ سے کسی رنگ میں متاثر تھے جس کا اظہار اُنہوں نے ’’ہم تو اس شخص کو فیضیٔ زماں سمجھتے تھے مگر یہ تو اِمام الزمان نکلا‘‘ کے الفاظ میں فرمایا تھاغالباً یہ تاثر اور حُسنِ ظَن حضرت مولوی جلال الدین صاحبؓ کی تحریک اور تبلیغ سے قائم ہوا تھا۔ اور بعد میں حُسنِ ظَن کی صورت میں روشن ہونے والا یہ شعلۂ نور ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کے زندگی بخش کلام کے چند صفحات کے مطالعہ سے ایک روشن الاؤ کی صورت میں بھڑک اُٹھا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے حضرت مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ کا خط ملاحظہ فرمانے کے بعد انہیں تسلی دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اِنہیں زیرہ میں ایک مخلص اور مضبوط جماعت دےگا۔ چنانچہ پارٹیشن سے قبل زیرہ میں احمدی مسلمانوں کے پچاس کے قریب گھر تھے۔ زیرہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔میونسپلٹی میں مسلمانوں کے ۳ ممبر ہوتے تھے اور اِن تین میں سے ایک ممبر ہمیشہ احمد ی ہوتا تھا۔بعض اوقات دو بھی ہوتے اور میونسپلٹی کا چیئرمین ؍ صدریا نائب صدر بھی بعض اوقات احمد ی ہوتا۔زیرہ میں احمدیوں کی اپنی وسیع اور خوبصورت مسجد، لائبریری اور عیدگاہ تھی نیز زیرہ کے اِردگردچبّہ، ملسیاں، قطب پور، بھاگو ارائیں،کوکل پوراور سوداں وغیرہ میں بھی چھوٹی بڑی جماعتیں قائم ہو گئی تھیں۔ بلکہ فیروز پور جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر تھا کی ڈسٹرکٹ کونسل کے نائب ناظم ؍ چیئرمین بھی محترم پیر اکبر علی صاحب ایڈووکیٹ رہے جبکہ ڈسٹرکٹ چیئرمین ڈی سی ہوتا تھا۔ زیرہ سے چند میل کے فاصلے پر ریاست کپور تھلہ کی حدود تھیں جہاں نہایت ہی مخلص اور جلیل القدر صحابہ کی جماعت تھی۔ اس وجہ سے بھی اس علاقہ میں احمدیت کو تیزی سے نفوذ حاصل ہوا،اور چھوٹی بڑی بہت سی جماعتیں قائم ہوئیں۔

خاکسار کے دادا حضرت مولوی علی شیر صاحب زیروی رضی اللہ عنہ بھی حضرت مولوی علی محمد صاحب رضی اللہ عنہ کے شاگر د تھے اور اپنے اُستاد کی تبلیغ سے ۱۹۰۶ء میں احمدیت کے حصارِعافیت میں آئے۔حضرت مولوی صاحب کی تحریک پر اُنہوں نے استخارہ اور دعائیں شروع کیں۔ چالیس روز تک دعائیں کرتے رہے اور ’’یَا خَبِیْرُاَ خْبِرْنِیْ‘‘ کے ورد کو دن رات حرزِ جان بنایا۔آخر خدا تعالیٰ کی طرف سےبتایا گیا کہ مدعی سچا ہے۔ کہتے ہیں مجھے تسلی نہ ہوئی۔ دوسری رات پھر بتایا گیا کہ دعویٰ کرنے والا سچا ہےلیکن دل میں اشتباہ رہا کہ نامعلوم کس مدعی کے بارے میں ہے۔تیسری رات بتایا گیا کہ قادیان میں جس شخص نے دعویٰ کیا ہے وہ سچا ہے اس پر بیعت کر کے حصارِاحمد یت میں داخل ہو گئے۔ قبولِ احمدیت کے متعلق ان کی یہ روایت، رجسٹر روایات صحابہؓ نمبر۱ کے صفحہ ۲۱۹ پر حضرت مولوی قمر الدین صاحب کے قلم سے درج ہےاور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے روایات صحابہ کے تسلسل میں اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲؍نومبر۲۰۱۲ء میں یہ روایت بیان فرمائی ہے۔ خاکسار کے چچا جان چودھری محمد یعقوب صاحب ریٹائرڈ وارنٹ آفیسر دارالرحمت وسطی ربوہ حال کینیڈا نے ایک مجلس میں حضرت مولوی قمر الدین صاحب کو یہ روایت بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے۔ چچا جان اس مجلس میں اتفاقاً پہنچے تھے اور مولوی قمرالدین صاحب یہ روایت حضرت مولوی اللہ بخش صاحب ؓ والد ثاقب زیروی صاحب کی طرف منسوب کر کے سنا رہے تھے۔ مولوی قمر الدین صاحب اس وقت بہت معمّر اور ضعیف ہو چکے تھے۔ چچا جان نے تصحیح کی کہ یہ روایت ان کے والد مولوی علی شیر صاحب زیرویؓ کی ہےنہ کہ حضرت مولوی اللہ بخش صاحبؓ کی تو انہوں نے تسلیم فرما لیا تھا۔

حضرت مولوی علی شیر صاحبؓ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھےلیکن اپنی دینی تعلیم کی وجہ سے مولوی علی شیر کے نام سے معروف تھے۔ ان کے دادا چودھری قطب الدّین صاحب نے اپنی زرعی زمینوں پر چھوٹی سی ایک بستی بسائی جس کا نام اُنہوں نے قطب پور رکھا۔ جو آہستہ آہستہ ایک گاؤں بن گیا۔ قطب پور زیرہ سے تین چار میل کے فاصلہ پر تھا۔گاؤں کی نمبرداری بھی پارٹیشن تک ان کے اور ان کے خاندان کے پاس رہی اور دوسرے کاشتکاروں اور زمینداروں سے لگان اور معاملہ وغیرہ (سرکاری ٹیکس) اکٹھا کر کے گورنمنٹ کو جمع کروانا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ علاقہ چونکہ بارانی تھااور کاشتکاری کا دارومدارمکمل طور پر بارش پر تھا اس لیےبارشیں وقت پر ہونے کی صورت میں تو کشائش اور فراوانی ہوتی، دوسری صورت میں تنگی و ترشی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان دنوں زمینوں سے کوئی قابل ذکر آمدنی بھی نہیں تھی۔اس لیےغالباً قطب الدین صاحب کے بیٹے جن کا نام ’ماہی‘ تھا، قریبی قصبہ زیرہ منتقل ہو گئے اور زمینیں اور نمبرداری وغیرہ اپنے قریبی عزیزوں کے سپرد کر دی۔ خاکسار کے چچا بتاتے ہیں کہ تقسیم ہند تک قطب پور سے غلہ اور دیگر اجناس گدھوں اور خچروں وغیرہ پر ان کے گھر زیرہ آتی تھیں۔

حضرت مولوی علی شیر صاحب رضی اللہ عنہ نے ۱۹۰۶ء میں احمدیت قبول کی۔ان کی پیدائش اندازاً ۱۸۷۵ء کی ہے۔ بیعت کے وقت ان کے والد جن کا نام ماہی تھافوت ہو چکے تھے۔ داد ا جان کی تحریک پر ان کی والدہ جن کا نام عائشہ تھا، نے بھی اِمام الزمان کو پہچان لیا۔وہ ۱۹۳۰ء میں ۸۰؍سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔وصیت کی بابرکت تحریک میں شامل ہوئیں۔وصیت نمبر۱۴۹۰؍اور بہشتی مقبرہ قادیان میں ان کا یادگاری کتبہ نمبر۱۹۵؍نصب ہے۔دادا جان کے چھوٹے بھائی چودھری محمد عیسیٰ زیروی صاحب نے ۱۹۰۷ء میں خط کے ذریعہ بیعت کی۔حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں قادیا ن نہ جا سکے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر دستی بیعت کی توفیق پائی۔ وہ تقسیم ہند کے بعد رائے وِنڈ اور قصور کے درمیان ایک قصبہ راجہ جنگ میں سکونت پذیر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد قادیان جانے والے جلسہ سالانہ کے جماعتی وفود میں کئی سال شامل رہے۔تاریخ احمدیت میں قادیان جانے والے وفود کے فوٹوز میں ان کی تصویر موجود ہے۔ چلتی پھرتی احمدیت کی تصویر، نمازوں کے علاوہ تہجد میں باقاعدہ، سجدوں میں گداز دل،بریاں سینہ، گریہ و زاری اور آہ و بکا ان کا وطیرہ تھا۔ معماری کا کام سیکھا اور بہت اچھے کاریگر بن گئے۔ احمدی انجینئر مکرم نعمت اللہ صاحب جن کی نگرانی میں ربوہ اور چنیوٹ کے درمیان دریائے چناب پر پرانا پل تعمیر ہوا وہ وہاں بہت سے احمدی معماروں اور دیگر کاریگروں کو کام کے لیےلائے۔انہوں نے بھی وہاں کام کیا۔ اسی طرح اوکاڑہ کے نواح میں مچل گارڈنز کی تعمیر ہوئی تو وہاں بھی بطور معمار کام کیا۔ کام کے دوران ظہر اور عصر کی نماز ہمیشہ الگ الگ ادا کرتے۔ کھانے کے وقفہ کے دوران جلدی سے کھانا کھا کر ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور وقت بچانے کے لیےاسی وضو کے ساتھ عصر کی نماز ادا کر لیتے۔ مچل گارڈنز کا پراجیکٹ انچارج جو کہ ایک انگریز انجینئر تھا ایک دن سائٹ کے وزٹ پر آیا تو انہیں عصر کی نماز ادا کرتے دیکھا۔ اس نے استفسار کیا کہ یہ کیا اٹھک بیٹھک کر رہا ہے؟ اسے بتایا گیا کہ یہ کاریگر نماز ادا کر رہا ہے۔ آگے بڑھ کر اس نے ان کو بازو سے پکڑ کر نماز سے روکنا چاہا تو مزدوروں نےاسے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور وہ انگریزی میں بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ انہیں اس کی بڑبڑاہٹ کی تو سمجھ نہ آئی صرف Damn foolکے الفاظ یاد رہ گئےجس کے معنی بعد میں کسی سے معلوم کیے۔ پاکستان آکر راجہ جنگ میں پنساری کی دکان کر لی۔ خالص دیسی ادویات،مختلف قسم کے عرق، مربّہ جات اور اچار وغیرہ میں چونکہ خالص اجزا استعمال کرتے، اس لیےعلاقہ میں دُور دُور تک معروف تھے۔ مسجد مبارک ربوہ میں کئی سال تک متواتر اعتکاف کی توفیق پاتے رہے۔ شاید ہی کسی جلسہ میں شرکت سے محروم رہے ہوں۔ ۱۹۷۲ء کے زندگی کے آخری جلسہ میں بیماری کی وجہ سے شرکت سے محروم رہے لیکن جلسہ کے آخری دن صاف شفاف سفید لباس میں لپٹا ان کا جسد خاکی ربوہ پہنچ گیا۔

حضرت مولوی محمد اسحاق صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھریپڑ (ضلع قصور)والے آپ کی میّت کے سرہانے کھڑے آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ تبلیغی مہمّات میں ساتھ دینے والا میرا ساتھی مجھ سے جدا ہو گیا۔ میں تو جلسہ کے تینوں دن اسے تلاش کرتا رہا اور حیران تھا کہ میرا دوست مجھے ملا کیوں نہیں۔ اس نے تو جلسہ میں شرکت سے کبھی ناغہ نہیں کیا۔ آج رات میں نے خواب میں اسے صاف شفاف سفید لباس میں ملبوس جلسہ گاہ کے درمیان میں ایک چبوترے پر کھڑے دیکھاتھا۔ اس لیےمیں تو ملنے آیا تھا لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس صورت میں ملاقات ہو گی۔ دونوں نے ایک تبلیغی مہم میں جس میں کسی سے کھانا مانگنے کی اجازت نہیں تھی (غالباً شدھی کی تحریک کے دوران)۱۸۔۲۰ گھنٹے کی بھوک کے بعد دیسی کیکر کی پھلیاں اور بارش کا کھڑا گدلا پانی مزے لے لے کر پیا تھا۔

جلسہ کے دنوں میں جلسہ کے پروگراموں اور نمازِ تہجد اور نمازوں میں شرکت کےعلاوہ ان کا واحد شوق دورانِ سال چھپنے والی سلسلہ کی کتابوں کی خرید ہوتا تھا۔۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط سے ستّر کی دہائی کے شروع تک جامعہ کی تعلیم کے سالوں میں خاکسار کو ہر سال جلسہ سالانہ، اجتماع مجلس انصاراللہ، مجلس شوریٰ اور رمضان کے اعتکاف کے دنوں میں ان کی صحبت اور دعاؤں سے حصہ لینے کا موقع ملتا رہا۔ اسی طرح مڈل کا بورڈ کا امتحان دینے کے بعد راجہ جنگ جا کر ۵۔۶؍ہفتے ان کے پاس گزارےاور اپنی اس وقت کی عمر اور استعداد کے مطابق ان کی صحبت سے فائدہ اٹھایا۔ ہر سال جلسہ سالانہ اور رمضان میں مسجد مبارک ربوہ میں اعتکاف اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی اقتدا میں نماز عید ادا کرنے کے بعد اپنی بیٹی امۃالرشید صاحبہ کے پاس چند دنوں کے لیےسرگودھا جاتے جو کہ خاکسار کے چچا چودھری محمد یعقوب صاحب ریٹائرڈ وارنٹ آفیسر جو ان دنوں سرگودھا بیس پر تھے کی اہلیہ ہیں۔ ان دنوں نماز عید مسجد مبارک میں ہوتی تھی اور عید الفطر کی نماز کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ سے تمام حاضرین کو شرف مصافحہ بھی حاصل ہو جایا کرتا تھا۔ جامعہ میں عموماً عیدالفطر کی صرف ایک یا دو تعطیلات ہوتی تھیں اس لیےاپنے گھر ضلع ساہیوال جانے کا تو موقع نہیں ہوتا تھا لہذا خاکسار بھی بعض سالوں میں سرگودھا کے سفر میں ان کا ہمرکاب رہا۔

خاکسار کے ددھیال اور ننھیال کی آپس میں رشتہ داریاں تھیں اور زیرہ کے قریبی گاؤں ملسیاں، چبّہ، قطب پوراور بھاگو ارائیں وغیرہ میں رہائش پذیر تھے۔ دادا جانؓ نے خاندان میں سب سے پہلے امامِ وقتؑ  کو پہچاننے کی توفیق پائی اور پھر اپنی والدہ، چھوٹے بھائی اور دیگر رشتہ داروں کو حصارِ احمدیت میں لانے میں کامیاب ہوئے۔چبّہ سے خاکسار کے پڑنانا چودھری فتح دین صاحب اور ان کے پانچ بیٹے بھی احمدیت کے حصار میں آگئے۔چودھری فتح دین صاحب کی ایک بیٹی فاطمہ خاکسار کے دادا کے چھوٹے بھائی چودھری محمدعیسیٰ صاحب سے بیاہی ہوئی تھیں۔ وہ ۱۹۳۵ء میں ۴۵؍ سال کی عمر میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔خاکسار کی دادی جو کٹر اہل حدیث خاندان سے تعلق رکھتی تھیں بدقسمتی سے احمدیت کی نعمت سےمحروم رہیں۔خاکسار کے دادا اور پڑنانا دونوں نے دادی کو بہت سمجھایا بعد میں والد صاحب نے بھی بہت کوشش کی لیکن وہ ضد کی پکی نکلیں۔ دادی کے احمدیت قبول نہ کرنے کی وجہ سے جب دادا جان نے دوسری شادی کا فیصلہ کیاتو خاکسار کے پڑنانا چودھری فتح دین صاحب آف چبّہ نے اپنی چھوٹی بیٹی جنّت بی بی کی شادی خاکسار کے دادا سے کر دی۔ دادی عملاً دادا جان سے الگ ہو گئی تھیں لیکن طلاق یا خلع کے ذریعہ باقاعدہ علیحدگی نہیں ہوئی تھی۔خاکسار کے والد صاحب جب برسرروزگار ہوگئےتو اپنی والدہ کو ان کی خدمت کا حق ادا کرنے کے لیے اپنے والد صاحب کی اجازت سے زیرہ لے آئے۔ دادا جان نے انہیں گھر کے ایک طرف الگ رہائش دے دی تھی۔ والد صاحب شادی کے بعد زیرہ میں ہی الگ مکان میں منتقل ہوگئےتو ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئیں۔ والد صاحب نے اپنی والدہ کے احمدیت قبول نہ کرنے کی وجہ سے ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تھا۔

اِسی طرح خاکسار کی پھپھو (دادا جان حضرت مولوی علی شیر صاحب ؓکی بیٹی)رحمت بی بی جو ایک قریبی گاؤں ملسیاں میں چودھری عبدالغنی صاحب کے ساتھ بیاہی ہوئی تھیں ان کے سسرچودھری محمد بخش صاحب نے بھی ۱۹۰۷ء میں تحریری بیعت کی اور ۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جا کر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پردستی بیعت کی سعادت پائی۔ان کےپانچ بیٹےاور ان کے بھائی الٰہی بخش صاحب بھی احمد یت کی آغوش عافیت میں پناہ گزین ہوئے۔ دادا جان کے پڑوس میں مکرم صوفی خدا بخش زیروی صاحب کا گھر تھا،متدین مزاج، نیک فطرت، چھوٹی عمر سے ہی نماز اور دیگر دینی کاموں اور نیکیوں میں ذوق شوق سے حصہ لینے والے۔جوانی میں ہی بزرگی کی علامت چھڑی پکڑنی شروع کر دی۔ لوگوں نے صوفی خدا بخش کہنا شروع کردیااور آہستہ آہستہ صوفی کا لفظ ان کے بھائیوں کے نام کا بھی جزو بن گیا۔ حضرت مولوی اللہ بخش صاحب رضی اللہ عنہ والد ثاقب زیروی صاحب اور خاکسار کے داداعلی شیر صاحب ؓ نیز سید حبیب احمد صاحب عربی ٹیچر کے ذریعہ صوفی صاحب کو احمدیت کا پیغام پہنچا۔دادا جان پڑوس میں تھے، ان سے الفضل لے کر پڑھتے اور احمدیت کے اتنےقریب آگئے کہ حصول ِتعلیم کے لیے قادیان جانے کو ترجیح دی اور وہاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آغوشِ احمدیت میں آگئے۔ بی اے کیا، زندگی وقف کی اور لمبا عرصہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ)کے ساتھ وقفِ جدیدمیں نائب ناظم مال، نائب ناظم ارشاد، سیکرٹری مجلس وقفِ جدیداور آڈیٹر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔

خاکسار کے والد مولوی محمد عبداللہ صاحب کو تین،چار سال کی عمر میں دادا جان قادیان لےکر گئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی گود میں دےکر دعائیں لیں۔بعد میں والد صاحب کو جامعہ احمدیہ میں داخل کروا دیا۔ والد صاحب نے ۱۹۳۴ءمیں مولوی فاضل کیا اور اپنےآپ کو وقف کے لیے پیش کیا۔ مکرم سید احمد علی شاہ صاحب نائب ناظر اصلاح وارشادکے کلاس فیلو تھے۔اُس سال ۸۔۱۰؍نوجوانوں نے مولوی فاضل کر کے وقف کے لیے پیش کیا لیکن صدر انجمن کے بجٹ میں صرف ایک آدمی کے لیے وقف میں قبول کیے جانے کی گنجائش تھی اس لیےوالد صاحب بطور واقفِ زندگی خدمتِ دین سے محروم رہے لیکن بطور عربی ٹیچر ہائی سکول کی ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ربوہ آگئے۔نظارتِ تعلیم القرآن وقفِ عارضی کے ماتحت مسجد مبارک میں قرآن کریم کی تدریس اور روزنامہ الفضل میں پروف رِیڈر کے طور پر اور بہت سے گھروں میں بچوں اور بڑوں کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کی توفیق پائی۔ مکرم مولوی فضل الٰہی انوری صاحب اور مکرم چودھری اللہ بخش صادق صاحب زُعماءمجلس انصاراللہ مقامی ربوہ کے ساتھ انصاراللہ مقامی کے دفتر میں دفتری اُمور سر انجام دیےاور ۱۹۹۹ء میں تقریباً ۹۰؍ سال کی عمر میں وفات پائی۔

دادا جان ؓ حقہ پیتے تھے لیکن طبیعت میں صفائی اور نفاست تھی،ہر دفعہ حقہ تازہ کر کے نئے سرے سے تیار کرتے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نےابھی حقہ ترک کرنے کی تحریک نہیں فرمائی تھی اس لیےکبھی چھوڑنے کا خیال نہیں آیا تھا۔ چھوٹے بھائی محمد عیسیٰ صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ ہم دونوں بھائی زیرہ سے قطب پور جا رہے تھے کہ حقّہ کی طلب ہوئی۔ ایک زمیندار ہل چلا رہا تھا اور اس کا حقّہ کھیت کے کنارے پڑا تھا۔ علیک سلیک کے بعد کھیت کے کنارے بیٹھ گئے اور حقّہ کا ایک ہی کش لگایا اور اٹھ کر چل پڑے۔ کہنے لگے لو بھئی عیسیٰ آج سے حقّے کی چھٹی۔ پوچھنے پر بتایا کہ حقّے کا پانی وغیرہ نہ بدلنے کی وجہ سے اس میں سے ایسی بدبو آئی کہ دل حقّے سے متنفّر ہو گیااور پھر ایسا عزم دکھایا کہ حقّہ کو دوبارہ کبھی منہ نہیں لگایا۔

دادا جانؓ نماز یں تعہّد سے اور سنوار کر ادا کرتے۔تہجد اور نوافل میں تضرع اور گریہ و زاری سے خدائے سمیع وعلیم کے حضور اپنی معروضات پیش کرتے۔ خدائے رحمان و مجیب نے بہت سے مواقع پر ان کی تضرعات کو سنا اور خوشخبریوں سے نوازا۔ مسیح و مہدیؑ کی آمد کا مژدہ سنا تو خداتعالیٰ سے راہنمائی کے خواستگار ہوئےاور خدا تعالیٰ سے مسلسل تین دن تک قادیان میں ظاہر ہونے والے مسیح و مہدی کی سچائی کی خبر پا کر قبولِ احمدیت کی سعادت پائی۔خلافتِ ثانیہ کے قیام کے وقت جب جماعت کے کرتا دھرتااور ستون سمجھے جانے والے کچھ بزرگ جماعت مبائعین سے الگ ہو گئےتو دادا جان پھر خدائے علیم وخبیرسے راہنمائی کے طالب ہوئےاور خداتعالیٰ سے خبر پا کر جماعت مبائعین میں شامل ہوئے۔ پہلی بیوی نے دادا جان کے احمدی ہونے کی وجہ سے عملاً علیحدگی اختیار کر لی (باقاعدہ طلاق یا خلع نہیں ہوا تھا)۔ دوسری شادی سے اولاد کے متعلق ملنے والی خوشخبری سے پُر یقین تھے کہ اللہ تعالیٰ ۵بچے دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ۴ بچوں سے نوازا، اس خیال سے کہ کہیں میری کوتاہیاں اور کمزوریاں خدا کے اس انعام سے محرومی کا سبب نہ ہو ں بہت الحاح اور گریہ و زاری سے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے۔

دادا جان اور ان کے چھوٹے بھائی چودھری محمد عیسیٰ زیروی دونوں تحریکِ جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ دونوں نے زیرہ میں ۱۹۲۴ء۔۲۵ء کے قریب اپنے نئے مکان بنائے تھے۔دونوں مکان الگ الگ تھےلیکن وسیع احاطہ پر مشتمل صحن مشترکہ تھا۔خاکسار نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ دونوں نے اپنے یہ مکان شدھی کی تحریک کے حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے حضور پیش کیے تھےلیکن دونوں کی رہائش چونکہ انہی مکانوں میں تھی اس لیےحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے ان کی یہ قربانی قبول نہیں فرمائی تھی۔ دارالرحمت وسطی ربوہ میں رہنے والے زیرہ کے ایک بزرگ جو اکثر چچا جان محمد یعقوب صاحب کے گھر آیا کرتے تھے، ان کا نام اب یاد نہیں رہا انہوں نے بتایا تھا کہ دونوں بھائی مالی قربانی میں پیش پیش ہوتےاور ان کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ ہر قسم کی آمد گھرلےجانے سے قبل اس کا واجب الادا چندہ سیکرٹری مال کو ادا کردیں۔

دادا جان کے بھتیجے حکیم خلیل احمد صاحب مرحوم آف وہاڑی پاکستان کے بیٹے محمود احمد صاحب حال مقیم ہالینڈ نے بتایا کہ ان کے والد صاحب اپنے والد محمد عیسیٰ زیروی صاحب کی نسبت اپنے تایا علی شیر زیرویؓ کی باتیں زیادہ بتایا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ میں نے والد صاحب کی نسبت تایا جان کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہے اور اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ والد صاحب معماری کاکا م کرتے رہے اور تجارت بھی کرتے تھےاس لیےزیادہ وقت گھر سے باہر رہتے۔تایاجان زیرہ کے اندر ہی مختلف کام کرتے رہے۔ انہوں نے آٹا پیسنے کی چکی بھی لگائی تھی۔گھر اور باہر کے بہت سے کام میں نے تایا جان سے سیکھےاور تایا جان کی ترجیح ہوتی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کام ہاتھ سے خود کریں اور اس نیت سےکریں کہ پیسے بچا کر زیادہ سے زیادہ چندہ دیا جائے۔ ہر سال قربانی کرتے تو بکرا خود ذبح کر کے کھال اُتارتےاور گوشت بناتے۔ قادیان جلسہ پر پیدل جانےکو اس لیےترجیح دیتے کہ بچت کر کے چندہ دیا جائے۔ چارپائیاں وغیرہ بن لیتے۔گھر اور گھریلو استعمال کی چیزوں کی مرمت وغیرہ کر لیتے، یہ سارے کام میں نے اُن سے سیکھے ہیں۔ میں تایا جانؓ کے ساتھ پیدل قادیان جاتا جبکہ والد صاحب گاڑی پر جاتے۔ اُنہوں نے ایک عجیب واقعہ ہمیں سنایا تھا۔ تایا جان ایک دفعہ شدید بیمار ہو گئے۔ بیماری کی کچھ سمجھ نہیں آتی تھی۔زیرہ ایک بڑا قصبہ تھااورتحصیل ہیڈ کوارٹر تھا۔ وہاں اور قرب و جوار میں جو علاج میسر تھا اُس سے کوئی افاقہ نہ ہوا۔آخر ہم انہیں بیل گاڑی پر فیروز پور جو ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر تھا لے گئے۔وہاں ایک مشہور اور بہت قابل طبیب تھا۔ اُس نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کا مرض اب اس سٹیج پر پہنچ چکا ہے کہ کوئی علاج ممکن نہیں بمشکل چند دن کا ان کے پاس وقت ہے چنانچہ ہم انہیں واپس لےکر چلے۔راستہ میں تایا جان نے پیشاب کی حاجت ظاہر کی چنانچہ سڑک کے کنارے چھکڑا کھڑا کیا۔ میں نے تایاجان کو سہارا دے کرچھکڑے سے اتارا۔ سڑک سے تھوڑا سا ہٹ کر انہوں نے اپنی حاجت پوری کی اور قریبی گنے کے کھیت سے ایک گنا اکھیڑ کر چوسا۔اگلے دن سے ان کی طبیعت میں بہتری آنے لگی حتیٰ کہ بیماری بالکل جاتی رہی۔ ہمیں حیرانی تھی لہذا حکیم صاحب کو دوبارہ جا کر جب یہ صورتِ حال بتائی تو اُس نے بتایا کہ مریض کا واحد علاج میرے نزدیک یہ تھا کہ وہ ایسی زمین میں اُگی ہوئی کوئی چیز کھائےجہاں کوئی زہریلا سانپ دفن ہو۔ ہم نے واپسی پر وہ جگہ جہاں سے گنا اُکھیڑا تھا تلاش کر کے کھدائی کی تو ہمیں مردہ سانپ کی ہڈیوں کے آثار ملے۔ اس عجیب اتفاق پر جو محض خدا کے فضل و احسان سے وقوع پذیر ہوا ہمیں بہت حیرانی ہوئی۔تایا جان اس کے بعد کافی سال زندہ رہے۔

دادا جان ۱۹۳۸ء کے قریب تقریباً ۶۳؍سال کی عمر میں اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہو گئےاور خاکسار کے ددھیال و ننھیال دونوں خاندانوں کو احمدیت کی نعمت سے سرفراز کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان سے عفو و مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی آئندہ نسلوں کو اس عظیم نعمت کی کما حقہ قدر کرنےاور اسے حرزِجان بنائے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکرم محمد عبد اللہ سوہاوہ صاحب کا قبول احمدیت

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button