صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(سر کے متعلق نمبر ۴) (قسط ۱۰۸)

(ڈاکٹر طاہر حمید ججہ)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل‘‘ کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کلکیریا کاربونیکا

Calcarea carbonica

کلکیریا کارب کا مریض واضح طور پر پہچانا جا تا ہے۔ جسم فربہی مائل ہو ، زرد رنگت ،سر نسبتاً بڑا، پسینہ آنے کا رجحان ہو۔ جسم کبھی ٹھنڈا کبھی گرم، سارے جسم کا نظام سست ہو تو یہ کلکیریا کارب کے مریض کی عمومی تصویر ہے لیکن مریض میں اس کی ہر علامت کا موجود ہونا ضروری نہیں ہو تا، نہ ہی کوئی ایک علامت اکیلی کلکیریا کارب کی نشان دہی کر سکتی ہے۔ مثلاً بعض بچوں کا سر پیدائشی بناوٹ کے لحاظ سے بڑا ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ کلکیریا کارب کے مریض ہوں، بعض ہو بھی سکتے ہیں۔ بعض دفعہ کلکیریا کی علامتیں عمر کے ساتھ رفتہ رفتہ ظاہر ہوتی ہیں۔(صفحہ۱۹۳)

اس کی علامتوں میں ہر قسم کا سر درد ہو تا ہے لیکن دوسری دواؤں سے تمیز کرنے والی نشانی یہ ہے کہ سر درد روشنی سے بڑھتا ہے۔ دن کے وقت رات کی نسبت زیادہ سر درد ہوتا ہے۔ گریفائٹس کا سردرد بھی روشنی سے بڑھتا ہے کیونکہ دونوں میں کاربن کا عنصر موجود ہے۔ کاربو و یج میں بھی یہ علامت ہے۔ سردرد میں ٹھنڈی ٹکور سے آرام محسوس ہو تا ہے۔(صفحہ۱۹۵)

اگر بچے کا سر بڑا ہونے لگے آنکھوں کی پتلیاں کمزور ہوجائیں اور بچہ رات کو سوتے میں دردناک چیخ مارے تو عموماً ایسے بچوں کا آپریشن کروانا پڑتا ہے جس میں شفا کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ بچہ نیم پاگل سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر وقت پر ہو میو پیتھی علاج کیا جائے تو کلکیریا کارب کام کر سکتی ہے مگر زیادہ تر سلیشیا کی ضرورت پڑتی ہے جس کے اثر سے بعض دفعہ آنکھوں کے رستے اور بعض دفعہ کانوں کے رستے اچانک پانی خارج ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی ایک آنکھ یا کان سے بکثرت پانی بہ کر نیچے کا تکیہ گیلا کر دیتا ہے اور اس طرف سے سر چھوٹا ہونے لگتا ہے۔ پھر چند دن کے بعد یہ عمل دوسری طرف شروع ہو جائے گا۔اس بیماری کا جسے انگریزی میں ہائیڈروکیفیلس (Hydrocephalous) کہتے ہیں ، بسا اوقات انہی دو دواؤں سلیشیا اور کلکیریاکارب سے ایسے متعدد بچوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔ اگر بیماری کافی زیادہ آگے بڑھ چکی ہو توکلکیریا کارب اونچی طاقت میں مفید ثابت ہو سکتی ہے مگر ضروری نہیں۔(صفحہ۱۹۵-۱۹۶)

آنکھوں کی تھکاوٹ اور دباؤ سے پیدا ہونے والی کمزوری میں بھی کلکیریا کارب اچھی دوا ہے لیکن اونو سموڈیم (Onosmodium) آنکھوں کی تھکاوٹ کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔ اس میں سر میں درد بھی ہو تا ہے جو آ کر ٹھہر جاتا ہے لیکن زیادہ شدت اختیار نہیں کرتا۔ اگر جلسیمیم ۲۰۰بھی ساتھ ملا کر دیں تو غیر معمولی فائدہ ہوتا ہے۔(صفحہ۱۹۶)

مریض کو سر کی چوٹی پر بوجھ کا احساس ہو تا ہے ، سر میں درد ہو تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ ذہنی دباؤ سے سر درد میں اضافہ ہو جاتاہے۔ سر کی جلد پر خارش ہوتی ہے۔آنکھیں روشنی برداشت نہیں کرسکتیں۔(صفحہ۱۹۷)

اگر کسی مریض میں انتہائی کمزوری کے باعث بار بار سر تکیے سے نیچے ڈھلکتا رہے تو اس کی سب سے نمایاں دوا میوریٹک ایسڈ (Muriatic Acid) ہے جو فوری اثر دکھاتی ہے۔(صفحہ۱۹۸)

کلکیریا فاس

Calcarea phosphorica

ہوا لگنے یا خنکی سے جوڑوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔ خصوصاً کمر اور گردن میں اکڑاؤ پیدا ہو جاتا ہے سر بوجھل محسوس ہوتا ہے اور اعضاء سن ہو جاتے ہیں۔(صفحہ۲۰۷)

کلکیریا فاس میں سردرد بہت شدید ہوتا ہے۔ سر گرم محسوس ہو تا ہے اور بالوں کی جڑوں میں درد ہوتا ہے۔ گلے کے غدود سوج جاتے ہیں اور منہ کھولنے سے درد ہوتا ہے۔(صفحہ۲۰۷)

کلکیریا سلف

Calcarea sulphurica

(Sulphate of Lime-Plaster of Paris)

مرگی کا علاج کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ ’’اورا (Aura) کہاں سے شروع ہوا ہے۔ اس کی تفصیل کے لئے دیکھیں کلکیریا آرس۔ بعض مریضوں میں جہاں خون کارجحان چہرہ اور سر کی طرف ہو ، عموماً بیلاڈونا کی طرف خیال جا تا ہے لیکن بیلاڈونا اس میں علاج نہیں ہے ، کچھ تھوڑا فائدہ دے کر رک جاتی ہے۔ اور بھی کئی دواؤں میں خون کا رجحان سر کی طرف ہو تا ہے۔ (صفحہ۲۱۱)

اگر چہرہ پر خون کا دباؤ بہت زیادہ ہو جائے اور شدید تشنج پیدا ہو اور تشنجی رجحان صرف چہرہ پر ہی نہیں بلکہ جسم کے مختلف اعضاء میں بھی پایا جائے چھاتی ، بازو، ٹانگ یا سر میں بھی اچانک خون کا دباؤ اور جکڑنے کا احساس ہو تو کلکیر یا سلف بھی علامتیں ملنے پر بہت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔(صفحہ۲۱۲)

کیمفر

Camphora

(Camphor)

کیمفر کا سر درد سارے سر میں نہیں ہوتا بلکہ یا تو سر کی پشت پر شروع ہو گا یا پیشانی پر۔ وہ سر درد جو سر کے پیچھے اور گردن کے نچلے حصہ میں محدود ہو نیز دھڑکن بھی پائی جائے اس کا کیمفر سے علاج ممکن ہے۔(صفحہ۲۱۹)

کیمفرمیں اسہال کی نسبت قے کا زیادہ رجحان ہوتا ہے۔ اسہال تھوڑے تھوڑے آتے ہیں اور ان کے ساتھ کمزوری اور تشنج ضرور ہوتے ہیں۔ اگر اسہال اور الٹیاں بہت زیادہ ہوں اور تشنج پنڈلیوں پر اثر کرے تو وریٹرم البم (Veratrum Album ) چوٹی کی دوا ہے۔ دونوں دواؤں میں جسم ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن وریٹرم البم میں صرف پیشانی پر ٹھنڈا پسینہ آتا ہے۔ (صفحہ۲۲۰)

کینیبس انڈیکا

Cannabis indica

کینیبس کے مریض کے سر میں لہریں مارتے ہوئے درد کا احساس ہوتا ہے جس کے ساتھ دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے، گدی میں بوجھ محسوس ہوتا ہے ،کنپٹیوں میں بھی دھڑکن کا احساس ہو تا ہے۔(صفحہ۲۲۴)

کینیبس سٹائیوا

Cannabis sativa

کینیبس سٹائیوا کے مریض کو یہ احساس ہوتا ہے کہ سر کے اوپر یا پچھلی طرف ٹھنڈے پانی کی بوندیں گر رہی ہیں۔ (صفحہ۲۲۷)

کیپسیکم

Capsicum

(Cayenne Pepper)

کیپسیکم میں غصہ ،چڑچڑاپن اور بے اطمینانی کی علامات کیمومیلا سے ملتی ہیں۔ ایک گال سرخ ہو تا ہے اور ایک زرد۔ بچوں کی بیماریوں میں یہ علامت اکثر دکھائی دیتی ہے۔ سر کی جلد پر پسینہ آتا ہے۔(صفحہ۲۳۴)

مریض کو خود کشی کا خیال تو آتا ہے لیکن عملی قدم نہیں اٹھاتا اور ڈرتا ہے۔ اکیلا رہنے کی خواہش کرتا ہے۔ سریا کوئی اور عضو بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔ سباڈیلا میں بھی یہ علامت ہے۔ کیپسیکم میں دھڑکن کا احساس بھی ہو تا ہے۔ سر میں شدید درد جو آرام کرنے سے زیادہ ہو جاتا ہے اور حرکت سے کم۔ (صفحہ۲۳۴)

کاربو ا ینییمیلس

Carbo animalis

کار بو انییمیلس کا مریض غمگین اداس اور تنہائی پسند ہوتا ہے۔ عموما ًخاموش رہتا ہے، رات کو بے چین اور خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ خون کا دوران سر کی طرف ہو تا ہے۔ ذہن الجھا ہوا نظر دھندلا جاتی ہے، آنکھوں پر بوجھ محسوس ہو تا ہے گدی میں درد ہو تا ہے، ہونٹ اور گال نیلگوں ہو جاتے ہیں، ناک سوج جاتا ہے اور اس پر نیلے رنگ کی غدود سی ابھر آتی ہے۔ قوت شنوائی بھی متاثر ہوتی ہے ، آوازوں کی سمت کا اندازہ لگانا مشکل ہو تا ہے ، خشک زکام ہو تا ہے اور قوت شامہ ختم ہو جاتی ہے۔ چہرے پر تانبے کے رنگ کے دانے اور کیل بنتے ہیں۔ سر اور چہرے پر گرمی کا احساس ہو تا ہے۔ بوڑھے لوگوں کے چہرے اور ہاتھوں پر مسے نکلتے ہیں۔ مریض ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے۔(صفحہ۲۳۷)

کار بوویج

Carbo vegetabilis

اچانک کھڑے ہونے سے سر خالی خالی ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ پنڈلیوں سے خون صحیح طرح پمپ ہو کر اوپر نہیں آیا۔ اس کیفیت میں کاربو و یج بہت مفید ہے۔ (صفحہ۲۴۳)

اس میں سردرد عموما ًگدی میں بیٹھ جاتا ہے جس کا نزلہ سے تعلق ہو تا ہے۔ بالآخر سارے سر میں درد محسوس ہوتا ہے جیسے ہتھوڑے چل رہے ہوں۔ ہتھوڑے چلنے کی یہ علامت نیٹرم میور میں بھی ہے۔ سر کے بال بھی گرنے لگتے ہیں۔ ماتھے پر ٹھنڈا پسینہ آتا ہے۔ رات کو مریض خوفزدہ ہو جاتا ہے اور جنوں اور بھوتوں کا خیال آنے لگتا ہے۔ (صفحہ۲۴۶)

کار بو نیم سلفیوریٹم

Carboneum sulphuratum

(Alcohol Sulphuris-Bisulphide of Carbon)

کار بو نیم سلف کے دونوں عناصر کاربن اور سلفر ایک دوسرے سے متضاد علامات رکھتے ہیں۔ سلفر گرم اور کاربن بہت ٹھنڈی دوا ہے۔ اس میں بیرونی طور پر ہمیشہ سردی کا احساس ہو تا ہے اور جسم ٹھنڈا رہتا ہے لیکن اندرونی طور پر بعض جگہوں میں جلن ہوتی ہے۔ سلفرمیں مسلسل گرمی پائی جاتی ہے جو جسم کا جزو بن جاتی ہے۔ ہاتھ پاؤں اور سر کی چوٹی جلتے ہیں۔ پلسٹیلا میں بھی گرمی کا احساس ہو تا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پلسٹیلا میں پیاس نہیں ہوتی اور سلفرپیاس والی دوا ہے۔ (صفحہ۲۵۲-۲۵۳)

سر میں خشکی، سکری اور بال جھڑنے کی علامات بھی ملتی ہیں۔(صفحہ۲۵۳)

کار بو نیم سلف میں سردرد زیادہ تر بائیں طرف ہو تا ہے لیکن دائیں طرف بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں دائیں بائیں کا فرق قطعی نہیں۔ ہاں عموماً صرف ایک طرف درد ہونے کارجحان پایا جا تا ہے۔(صفحہ۲۵۳)

کارڈس میر یانس

Carduus marianus

اس کے مریض میں نکسیر بہنےکا رجحان ہو تا ہے اس کے ساتھ سر پر ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے ، آنکھوں میں باہر کی طرف دباؤ محسوس ہوتا ہے ، ڈیلا با ہر کو ابھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بیلاڈونا میں بھی یہ علامت ہے۔کارڈس میریانس میں پہلے ناک میں جلن محسوس ہوتی ہے پھر نکسیر پھوٹتی ہے۔(صفحہ۲۵۹)

کاسٹیکم

Causticum

سردرد جو فالج پر منتج ہو اس کی بھی کاسٹیکم دوا ہو سکتی ہے۔ بعض قسم کی سردرد سے مریض وقتی طور پر اندھا ہو جاتا ہے۔ اگر ایسی سردرد سے بینائی جاتی رہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد واپس آجائے اور کوئی فالجی علامت ظاہر نہ ہو تو کاسٹیکم کی بجائے جلسیمیم زیادہ مؤثر ہو گی۔ اگر فالجی علامتیں ظاہر ہوں تو پھر کاسٹیکم دوا ہے ۔ (صفحہ۲۶۴)

(نوٹ: ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(سر کے متعلق نمبر ۳)(قسط ۱۰۷)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button