خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب (خطبہ جمعہ ۲؍فروری ۲۰۲۴ء)

خطبہ جمعہ فرمودہ ۲؍فروری ۲۰۲۴ءبمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جنگِ اُحد کے واقعات میں صحابہؓ کی قربانیوں اور ان کے عشقِ رسولؐ کی مثالیں میں نے دی تھیں۔ ان میں حضرت علی ؓکی بہادری کے واقعات کا بھی ذکر ملتا ہے۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ احدمیں حضرت علیؓ کی بہادری کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت علیؓ کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر جب ابنِ قَمِئہ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو شہید کیا تو اس نے یہ گمان کیا کہ اس نے رسول اللہﷺ کو شہید کر دیاہے۔چنانچہ وہ قریش کی طرف لَوٹا اور کہنے لگا کہ میں نے محمدﷺ کو قتل کر دیا ہے۔جب حضرت مصعب ؓشہید ہوئے تو رسول اللہﷺ نے جھنڈا حضرت علیؓ کے سپرد کیا۔ چنانچہ حضرت علیؓ اور باقی مسلمانوں نے لڑائی کی۔حضرت علیؓ نے یکے بعد دیگرے کفار کے علمبرداروں کو تہ تیغ کیا۔ رسول اللہﷺ نے کفار کی ایک جماعت دیکھ کر حضرت علی ؓکو ان پر حملہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔ حضرت علیؓ نے عمرو بن عبداللہ جمحی کو قتل کر دیا اور انہیں منتشر کر دیا۔ پھر آپؐ نے کفار کے دوسرے دستے پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت علیؓ نے شَیبَہ بن مالک کو ہلاک کیا تو حضرت جبرئیلؑ نے کہا: یا رسول اللہﷺ! یقیناً یہ ہمدردی کے لائق ہے یعنی حضرت علیؓ کے بارے میں یہ کہا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں علی مجھ سے ہے اورمیں علی سے ہوں۔ تو جبرئیلؑ نے کہا کہ میں آپ دونوں میں سے ہوں۔اس بات کو شیعہ حضرات مبالغہ آرائی کر کے بہت زیادہ بڑھا چڑھا بھی لیتے ہیں ۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ اُحد میں جب رسول اللہﷺ کے پاس سے لوگ ہٹ گئے تومیں نے شہداء کی لاشوں میں دیکھنا شروع کیا تو ان میں رسول اللہﷺ کو نہ پایا۔ تب میں نے کہا خدا کی قسم! رسول اللہﷺ نہ بھاگنے والے تھے اور نہ ہی میں نے آپؐ کو شہداء میں پایا ہے لیکن اللہ ہم سے ناراض ہوا اور اس نے اپنے نبی کو اٹھا لیا ہے۔ پس اب میرے لیے بھلائی یہی ہے کہ میں لڑوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ پھرمیں نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور کفار پر حملہ کیا۔ وہ اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ ان کے درمیان میں ہیں۔سعید بن مُسَیبؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ اُحد میں حضرت علی ؓکو سولہ زخم لگے تھے۔حضرت مصلح موعود ؓ نے اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے کہ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں، یہ بیان فرمایا کہ ’’حضرت علیؓ نے اُحد سے واپس آ کر حضرت فاطمہؓ کو اپنی تلوار دی اور کہا اس کو دھو دو۔ آج اس تلوار نے بڑا کام کیا ہے۔ رسول کریمﷺ حضرت علیؓ کی یہ بات سن رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: علیؓ! تمہاری ہی تلوار نے کام نہیں کیا۔ اَور بھی بہت سے تمہارے بھائی ہیں جن کی تلواروں نے جوہر دکھائے ہیں۔ آپؐ نے چھ سات صحابہؓ کے نام لیتے ہوئے فرمایا۔ ان کی تلواریں تمہاری تلوار سے کم تو نہ تھیں۔‘‘

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےجنگ احدمیں حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کی جاںنثاری کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: یہ قریش میں سے تھے۔ جنگ اُحدکے دن آنحضرتﷺ کو بچاتے ہوئے یہ تیر اپنے ہاتھوں پہ لیتے تھے۔ حضرت طلحہؓ اُحد کے دن حضورﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس روز رسول اللہﷺ کے ہمراہ ثابت قدم رہے اور آپؐ سے موت پر بیعت کی۔ مالک بن زُھَیرنے رسول اللہﷺ کو تیر مارا تو حضرت طلحہؓ نے رسول اللہﷺ کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے بچایا۔ تیر اُن کی چھوٹی انگلی پر لگا جس سے وہ بےکار ہو گئی۔ جس وقت انہیں پہلا تیر لگا تو تکلیف سے سی کی آواز نکلی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ بسم اللہ کہتے تو اس طرح جنت میں داخل ہوتے کہ لوگ انہیں دیکھ رہے ہوتے۔ اسی واقعہ کی تفصیل سیرت الحلبیہ میں ایک روایت میں اس طرح بھی ہے: قیس بن ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے اُحد کے دن حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کے ہاتھ کا حال دیکھا جو رسول اللہﷺ کو تیروں سے بچاتے ہوئے شل ہو گیا تھا۔ایک قول ہے کہ اس میں نیزہ لگا تھا اور اس سے اتنا خون بہا کہ کمزوری سے بےہوش ہو گئے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ان پر پانی کے چھینٹے ڈالے یہاں تک کہ ان کو ہوش آیا۔ ہوش آنے پر انہوں نے فوراً پوچھا کہ رسول اللہﷺ کا کیا حال ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں اور انہوں نے ہی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ حضرت طلحہؓ نے کہا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کُلُّ مُصِیبَةٍ بَعْدَہٗ جَلَلٗ۔کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں۔ ہر مصیبت آپﷺ کے بعد چھوٹی ہے۔ عائشہ اور ام اسحاق جو حضرت طلحہ کی بیٹیاں تھیں۔ ان دونوں نے بیان کیا کہ اُحد کے دن ہمارے والد کو چوبیس زخم لگے جن میں سے ایک چوکور زخم سر میں تھا اور پاؤں کی رگ کٹ گئی تھی۔ انگلی شل ہوگئی تھی اور باقی زخم جسم پر تھے۔ ان پر غشی کا غلبہ تھا۔ رسول اللہﷺ کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے تھے۔آپؐ کا چہرہ بھی زخمی تھا۔ آپﷺ پر بھی غشی کا غلبہ تھا۔ حضرت طلحہؓ آپؐ کو اٹھا کر اپنی پیٹھ پر اس طرح الٹے قدموں پیچھے ہٹے کہ جب کبھی مشرکین میں سے کوئی ملتا تو وہ اس سے لڑتے یہاں تک کہ آپؐ کو گھاٹی میں لے گئے اور سہارے سے بٹھا دیا۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احدمیں حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کی بہادری اور وفا کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ان جاںنثاروں میں سے ایک تھے جنہوں نے بڑی بہادری اور وفا کا مظاہرہ کیا۔ عائشہ بنت سعد نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے یعنی دشمنوں نے پلٹ کر حملہ کیا تومیں ایک طرف ہو گیا۔میں نے کہا ان کو خود سے ہٹا دوں گا یا تومیں خود نجات پا جاؤں گا اور یامیں شہید ہوجاؤں گا تو اچانک میں نے ایک سرخ چہرے والے شخص کو دیکھا۔ قریب تھا کہ مشرکین ان پر غالب آ جائیں تو اس نے اپنا ہاتھ کنکریوں سے بھر کر ان کو مارا تو اچانک میرے اور اس شخص کے درمیان مِقْدَاد آ گئے تومیں نے ان سے پوچھنے کا ارادہ کیا۔ اس نے مجھے کہا اے سعد! یہ رسول اللہﷺ تھے، تجھے بلا رہے تھے۔ تومیں کھڑا ہوا اور مجھے ایسا لگا گویاکہ مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔میں آپﷺ کے پاس آیا تو آپؐ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا۔میں تیر چلانے لگا اورمیں کہتا کہ اے اللہ! تیرا تیر ہے تُو اس کو اپنے دشمن کو مار دے اور رسول اللہﷺ کہتے:اے اللہ! تُو سعد کی دعا قبول کرلے۔ اے اللہ! سعد کے نشانے کو درست کر دے۔ اے سعد! تجھ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں۔ سعد کہتے ہیں یعنی کہ یہ واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ اس طرح میں کر رہا تھا لیکن اس وقت نظارہ ایسا تھا کہ مجھے لگتا تھا کوئی فرشتہ ہمارے بیچ میں آ گیا ہے اور وہ بھی ساتھ لڑ رہا ہے لیکن اس وقت مجھے کسی نے بتایا کہ وہ آنحضرتﷺ تھے۔ لگتا ہے مختلف کشفی حالتیں لوگوں میں تھیں یا پھر حقیقت تھی۔ لیکن آخر میں یہ بہرحال رسول اللہﷺ کے پاس تھے۔ چنانچہ سعدؓ کہتے ہیں کہ میں نے جو تیر بھی چلایا تو رسول اللہﷺ اس کے ساتھ یہ فرماتے اے اللہ! اس کے نشانے کو درست کر دے اور اس کی دعا کو قبول کر لے۔ حتی کہ جب میں اپنے ترکش کے تیر چلا کر فارغ ہوا تو رسول اللہﷺ نے اپنے ترکش کے تیر پھیلا دیے اور مجھے ایک بغیر پیکان اور بغیر پر کے تیر دیا اور وہ دوسرے تیروں سے زیادہ تیز تھا۔ علامہ زہریؒ نے لکھا ہے کہ اس دن سعدؓ نے ایک ہزار تیر چلائے تھے۔غزوۂ اُحد کے موقع پر جب رسول اللہﷺ کے پاس ثابت قدم صحابہؓ تھوڑے رہ گئے اس وقت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یوں لکھا ہے کہ سعد بن وقاص کو آنحضرتﷺ خود تیر پکڑاتے جاتے تھے اور حضرت سعدؓ یہ تیر دشمن پربے تحاشا چلاتے جاتے تھے۔ ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے حضرت سعدؓ سے فرمایا:تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں برابر تیر چلاتے جاؤ۔ سعداپنی آخری عمر تک ان الفاظ کونہایت فخر کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔ ایک روایت میں بیان ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے جنگ اُحد کے دن اپنے ترکش سے تیر نکال کر میرے لیے بکھیر دیے اور آپﷺ نے فرمایا تیر چلاؤ تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے علاوہ رسول اللہﷺ کو کبھی کسی کے لیے اپنے ماں باپ فدا کرنے کی دعا دیتے نہیں سنا۔ آپﷺ نے حضرت سعدؓ سے غزوۂ اُحد کے موقع پر فرمایا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں تیر چلاتے جاؤ۔اے بھرپور طاقتورجوان! تیر چلاتے جاؤ۔لیکن بخاری میں ایک اَور روایت بھی ہے کہ حضرت سعدؓ کے علاوہ تاریخ میں حضرت زُبیر بن عوام ؓکا نام بھی ملتا ہے جنہیں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ فِدَاکَ اَبِی وَاُمِّی یعنی تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔

سوال نمبر۵:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ احدمیں حضرت ام عمارہؓ کی بہادری کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت اُمّ عُمَارہؓ کا بھی ذکر ملتا ہے جنہوں نے جنگ اُحد میں بہادری کے جوہر دکھائے اور یہ بہادری کے جوہر دکھانے والی بڑی باوفا جاں نثار صحابیہ ؓتھیں۔ ان کا پورا نام اُمّ عُمَارہ، عمارہ مَازِنِیہ تھا۔ حضرت اُمّ عُمَارہؓ کا نام نُسَیبَہ تھا۔ نُسَیبَہ ان کا اصل نام تھا۔ یہ حضرت زید بن عاصمؓ کی بیوی تھیں۔ حضرت اُمّ عمارہؓ خود بیان کرتی ہیں کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر میں یہ دیکھنے کے لیے روانہ ہوئی کہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ میرے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک مشکیزہ بھی تھا جو میں نے زخمیوں کو پلانے کے لیے ساتھ لے لیا تھا یہاں تک کہ میں آنحضرتﷺ کے پاس پہنچ گئی۔ اُس وقت آپؐ صحابہؓ کے درمیان میں تھے اور اس وقت مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا یعنی جنگ کا شروع کا حصہ تھا۔ پھر اچانک صحابہؓ افراتفری میں اِدھر اُدھر ہو گئے۔ وہی جو درّہ چھوڑنے والوں کا واقعہ ہوا اور مشرکوں نے پیچھے سے حملہ کیا۔ کہتی ہیں کہ ادھر مشرکوں نے چاروں طرف سے آنحضرتﷺ پر یلغار کر دی۔ یہ صورتحال دیکھ کر میں کھڑی ہو کر جنگ کرنے لگی۔ میں تلوار کے ذریعہ دشمنوں کو آپؐ کے قریب آنے سے روک رہی تھی۔ ساتھ ہی میں کمان سے تیر بھی چلا رہی تھی یہاں تک کہ میں خود بھی زخمی ہو گئی۔ ان کے کندھے پر بہت گہرا زخم لگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ تمہیں کس نے زخمی کیا تو انہوں نے کہا ابنِ قمئہ نے۔ حضرت اُمّ عمارہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب اچانک مسلمان آنحضرتﷺ کے پاس سے تتر بتر ہو گئے تو وہ یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ مجھے محمدؐ کی نشاندہی کر دو کیونکہ اگر آج وہ بچ گئے تو سمجھو کہ میں نہیں بچا۔ یعنی یا تو آج وہ رہیں گے اور یا میں رہوں گا۔ وہ جب قریب آیا تو کہتی ہیں کہ مَیں نے اور مصعب بن عمیرؓ نے اس کا راستہ روکا۔ اس وقت اس نے مجھ پر حملہ کردیا۔ حملہ کر کے یہ زخم لگایا۔ یہ جو کندھے کا زخم پوچھ رہے ہو ناں یہ اس نے مجھے لگایا تھا۔ مَیں نے اس پر کئی وار کیے مگر وہ خدا کا دشمن دو زرہیں پہنے ہوئے تھا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر نُسَیبَہ، ان کے شوہر حضرت زید بن عاصمؓ اور اُن کے دونوں بیٹے خُبیب اور عبداللہ سب کے سب جنگ کے لیے گئے تھے اور آنحضرتﷺ نے ان سب کو فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم گھر والوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔ ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گھرانے میں برکت عطا فرمائے۔ بہرحال یہ جو دعا آنحضرتﷺ نے کی تو حضرت اُمّ عُمَارہ یعنی نُسَیبَہ نے آپﷺ سے عرض کیا کہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ ہم جنت میں آپؐ کے ساتھ ہوں۔ آپﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کو جنت میں میرا رفیق اور ساتھی بنا۔ اسی وقت حضرت اُمّ عُمَارہؓ نے کہا کہ اب مجھے اس کی پروا نہیں ہے کہ دنیا میں مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ یہ دعا مجھے مل گئی میرے لیے بہت ہے۔آنحضرتﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اُحد کے دن میں دائیں یا بائیں جدھر بھی دیکھتا تھا ان کو دیکھتا تھا کہ میری حفاظت کے لیے دشمن سے لڑ رہی ہیں۔ غزوۂ اُحد میں حضرت اُمّ عمارہؓ کو بارہ زخم آئے جن میں نیزوں کے زخم بھی تھے اور تلواروں کے بھی تھے۔

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button