پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان (اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۴ء)

(مہر محمد داؤد)

اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۴ء میں سامنے آنے واے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب

گذشتہ کچھ عرصے کی طرح ان مہینوں میں بھی جماعت احمدیہ کو عوامی اجتماعات میں اشتعال انگیزی سے لے کر ریاستی سرپرستی میں مساجد پر حملوں جیسے سنگین مظالم کا سامنا رہا۔

اکتوبر ۲۰۲۴ء میں ربوہ میں منعقد ہونے والی تینتالیسویں ختم نبوت کانفرس میں پندرہ سے اٹھارہ ہزار افراد شریک ہوئے اور اس میں مولویوں اور سیاستدانوں نے اشتعال انگیز تقاریر کیں ۔ ان تقاریر کرنے والوں میں جمعیت علماء اسلام (ف )کے سربراہ مولوی فضل الرحمان بھی شامل تھے۔ مقررین نے کھلے عام جماعت احمدیہ کی کردار کشی کرتے ہوئے احمدیوں پر توہین کا ارتکاب کرنے ، غدار اور جھوٹے ہونے کا الزام لگاتے ہوئے نہ صرف ان کے معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کا مطالبہ کیا بلکہ لوگوں کو انہیں قتل کرنے پر بھی ابھارا۔ تقاریر میں احمدیوں کی زمینیں خریدنے کو فلسطین میں صیہونی آبادکاری کی مشابہت دیتے ہوئے یہودیت اوراستعماری طاقتوں کا استعارہ قرار دیا گیا۔اور احمدیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ربوہ کے گردو نواح میں برطانوی اور یہودی لابیوں سے امداد حاصل کرتے ہیں۔ مولوی عزیز الرحمان اور مولوی نور محمدنے اشتعال انگیزی کو مذہبی فریضہ قرار دیا اور احمدیوں کو نشانہ بنانے والے قوانین کی کامیابی کو سراہا اور ایسی کسی بھی ترمیم کو ماننے سے انکار کردیا جو کسی بھی طرح سے احمدیوں کے حق میں جاتی ہے۔ اس کانفرنس سے لاحق خطرات کے باعث جماعت احمدیہ کی تحریری طور پر اس کانفرنس کو روکنے کی استدعا کو بھی حکومت نے مسترد کردیا۔

ماہ نومبر۲۰۲۴ء میں احمدیہ مساجد کو پاکستان بھر میں حملوں کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا ۔ جس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر محرابوں اور مناروں کی مسماری اور بے حرمتی کی شکل میں نکلا۔متعدد واقعات میں مسلح گروہ اور پولیس کی ملی بھگت کے باعث احمدیہ مساجد کے مینار، محراب اور عمارتوں کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان میں سب سے زیادہ اہم واقعات میں بیس مسلح افراد کا فیصل آباد میں حملہ اور پولیس کی قیادت میں سیالکوٹ اور شیخوپورہ میں نقصان پہنچانے کے واقعات شامل ہیں۔ ماہ نومبر۲۰۲۴ء میں پانچ سے زائد مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔

ماہ دسمبر۲۰۲۴ء میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے دو احباب کو مذہبی وجوہات کی بنا پر دو مختلف واقعات میں شہید کردیا گیا۔ ۵؍ دسمبر کو طیب احمد پر راولپنڈی میں کلہاڑی سے جان لیوا حملہ کیا گیا۔ ۱۳؍ دسمبر کو امیر حسن کو میر پور خاص سندھ میں اس وقت گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر واپس لوٹ رہے تھے۔ یہ دونوں واقعات احمدیوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے جان سے مارنے کے بعد سزا سے بچ جانے کے احساس کی واضح نشاندہی کرتے ہیں اور ا س بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سے منسلک افراد کے تحفظ کے لیے مؤثر تدابیر اختیار کرنے کی کس قدر فوری ضرورت ہے۔ ان دو شہادتوں کو ملا کر سال ۲۰۲۴ء میں احمدی شہداء کی تعداد چھ ہوگئی ۔ مجموعی طور پر اس عرصے میں ظلم و بربریت کی کہانی احمدیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی صورت میں رقم ہوتی رہی۔ مختلف اضلاع سے ہراسانی ،تشدد اور مقدس مقام کی بے حرمتی کے قابل مذمت واقعات وقوع پذیر ہوتے رہے۔

لاڑکانہ میں چھ احمدیوں کو لوگوں کا مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کے جھوٹے الزام کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں انہیں گرفتاری اور متشدد گروہ کی جانب سے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی طرح لودھراں میں محمد اکرم پر توہین کے ایک جھوٹے مقدمے سے حالات کافی سنگین ہو گئے باوجود اس کے کہ اصلی قصورواروں کا پتا چل چکا تھا۔ جوہر آباد میں انتظامیہ نے تحریک لبیک کے دباؤ میں آکر احمدیوں کو جمعہ کی نماز سے روک دیا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کیسے احمدیوں کی مذہبی رسوم کی ادائیگی کو محدود کیا جا رہا ہے۔

ماہ نومبر میں ہی بھلیر ضلع قصور میں ایک احمدی کےگھر پر مسلح حملہ کیا گیا۔ اور شاہ فیصل کالونی کراچی میں نفرت انگیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

ماہ دسمبر میں وہاڑی میں احمدیوں کو ہدف بنا کر گولیاں برسائی گئیں اور سیالکوٹ میں احمدیوں کی قبروں کے اوپر کندہ مقدس الفاظ کو پولیس کی سربراہی میں مٹایا گیا جبکہ ان کے لیے واضح قانونی تحفظ موجود تھا۔

ہجکہ ضلع سرگودھا میں متشدد گروہ کی جانب سے مسجد اور قبرستان کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دی گئیں۔

۲۰۲۴ء کے اواخر میں دو بین الاقوامی رپورٹوں میں پاکستان میں احمدیہ مسلم جماعت کے ساتھ ناروا سلوک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا میں مذہبی آزادی کے متعلق جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں احمدیوں کو منظم طریق پر ظلم و ستم کا نشانہ بنانے ،قانونی طور پر امتیازی سلوکروا رکھنےاور احمدیوں کو تشدد کا ہدف بنانے کا ذکر اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی کارروائی کامطالبہ کیا گیا۔

اسی طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کی کمیٹی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی،توہین کے قوانین کی مذمت،انتخابی عمل میں حصہ لینے سے محرومی اور احمدیوں پر پُرتشدد ہجوم کی جانب سے حملوں کی نشاندہی کی۔دونوں رپورٹوں میں فوری قانونی اصلاحات،مجرمانہ نفرت انگیزی کے خلاف قانونی کارروائی اورمذہبی اقلیتوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں سے نمٹنے اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کر نے پر زور دیا گیا۔

ربوہ میں احمدیت مخالف کانفرنس :نفرت اور اشتعال انگیزی کا ایک پلیٹ فارم

کئی دہائیوں سے جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ کے مضافات میں موجود مسلم کالونی میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس احمدیت مخالف گروہوں کی جانب سے منعقد کی جاتی ہے اور اسے تاریخی طور پر سیاسی اور مذہبی شخصیات کی پشت پناہی حاصل رہی ہے جن میں جمعیت علما اسلام کا سربراہ مولوی فضل الرحمان بھی شامل ہے۔ یہ پلیٹ فارم اشتعال انگیزی، نفرت انگیزی اور احمدیوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کو پروان چڑھانے کےلیے استعمال ہو رہا ہے۔ کانفرنس میں ایسے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کو مدعو کیا جاتا ہے جو کھلے عام احمدیوں کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں ۔ مقرر عام طور پر احمدیوں کو پاکستان اور اسلام کے غدار قرار دیتے ہیں ، انہیں توہین کے مرتکب قرار دیتے ہیں اور لوگوں سے استدعا کرتے ہیں کہ احمدیوں کا معاشی اور سماجی مقاطعہ کیا جائے۔ وہاں غلیظ اور متشدد زبان کا استعمال عام ہے اور ساتھ ہی احمدیوں کو کچل دینے کے مطالبے کیے جاتے ہیں ۔اس کانفرنس میں انتہا پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوتےہیں۔ شاملین کو پاکستان بھر سے منظم طور پر یہاں لایا جاتا ہے جس سے ربوہ میں حالات کو کشیدہ کیا جاتا ہے جہاں کی اکثریتی آبادی احمدیوں پر مشتمل ہے۔

امسال یہ کانفرنس ۲۴ سے ۲۶؍اکتوبر ۲۰۲۴ء کو منعقد کی گئی۔ اپنی نوعیت کی یہ تینتالیسویں کانفرنس ہے جس کا انعقاد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیرسرپرستی کیا جاتا ہے۔ اس میں پندرہ سے اٹھارہ ہزار افراد اور بیس مقررین نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران ان مقررین نے جماعت احمدیہ کو اشتعال انگیز اور نفرت انگیز جملوں سے نشانہ بنایا۔ کانفرنس کے پہلے حصے میں مقررین نے جماعت کے خلاف مہم جاری رکھنے کی قسمیں کھائیں اور اسے ایک مقدس مذہبی فریضہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے اپنی جان، مال اور حتیٰ کہ اپنے بچوں کو بھی قربان کرنا جائز قرار دیا۔ انہوں نےاحمدیوں کو گستاخِ رسولؐ قرار دیا اور ان کو قتل کرنے کی اپیل کی۔ حکومت سے بھی احمدیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور حاضرین کو احمدیوں کے معاشی اور سماجی مقاطعہ پر ابھارا۔

مقررین میں مولوی محمد الیاس چنیوٹی بھی شامل تھا۔ اس نے احمدیوں کے ربوہ کے گرد و نواح میں زمین خریدنے کو فلسطین میں یہودیوں کے زمین خریدنے سے مشابہت دی۔ اس نے کہا کہ یہ احمدیوں کا اس علاقے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔اس نے مولوی فضل الرحمان کے بیسویں ترمیم میں مدرسوں کی حمایت کو بھی سراہا اور اسے احمدیوں کی کارروائیوں کو لگام ڈالنے کے ساتھ جوڑا۔سرگودھا کے مولوی نور محمد نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد ؑ کے خلاف انتہائی گستاخانہ زبان استعمال کی۔ نور محمد نے تمام ریاستی منتظمین کو متنبہ کیا کہ وہ احمدیوں کی حمایت سےباز رہیں، چاہے وہ فوجی ہوں یا جج یا کوئی اور افسر ۔ ساتھ ہی اس نے ان کی ترقی کے راستے روکنے اور ان کے مستقبل کے حوالے سے دھمکیاں دیں۔

مولوی غلام اللہ حلیجوی نے امام ابو حنیفہ کاحوالہ دیتے ہوئے احمدیوں کو اسلام سے خارج قرار دیا۔ اس نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ختم نبوت کے منکرین کی تذلیل کی کوششوں کو جائز قرار دیا۔ مولوی مبشر محمود نے حاضرین کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت میں احمدیوں کے خلاف مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ایک بھی احمدی پاکستان میں موجود ہے۔

کانفرنس کے روز نماز جمعہ کے بعد بھی احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا یہ سلسلہ جاری وساری رہا۔ ملائوں نےاس پلیٹ فارم کو احمدیو ں کے خلاف نفرت پھیلانے کےلیے بھرپور طریق سے استعمال کیا اور ساتھ ہی ان بے بنیاد سازشوں کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جو کہ عرصہ درازسے احمدیوں کو بدنام کرنے اور پاکستان میں احمدیوں پر ظلم و ستم روا رکھنے کے لیے پھیلائی جارہی ہیں۔ مولوی الیاس چنیوٹی نے کہا کہ احمدی آئین پاکستان کو توڑنے والے ہیں اور انہیں اسلامی دائرے سے خارج کرنا چاہیے۔ اس نے حاضرین سے تمام احمدی مصنوعات کا مقاطعہ کرنے کا کہا اور ساتھ ہی احمدی آبادی کے شہر ربوہ میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے کو گناہ قرار دیا۔ مولوی راشد مدنی نے احمدیوں کو مشرک اور کذاب قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ احمدیوں کے ساتھ کاروبار کرنا منع ہے۔ مولوی عزیز الرحمان نے احمدیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور اسے ایک مذہبی فریضہ بیان کیا۔ اس نے احمدیوں پر الزام عائد کیا کہ یہ اسلامی اصولوں کو نیچا دکھا رہے ہیں اورخاص طور پر ختم نبوت کے عقیدے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس نے اپنی تقریر میں اسلامی رسوم کی حفاظت اور تحفظ پر زور دیا اور احمدیوں کو ایک سازشی ٹولہ قرار دیا۔

جمعیت علماء اسلام فاٹا کے مولوی فضل الرحمان نے کانفرنس سے اختتامی خطاب کیا۔ اس نے مدرسہ بل کی منظوری کو اللہ کی خاص عنایت قرار دیا کیونکہ یہ بل اس وقت منظور کیا گیا جب کہ اس کی پارٹی اقتدار میں بھی نہیں تھی۔ اس نے مبارک ثانی والے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی سخت مذمت کی۔ اس نے کہا جب علماءکی جانب سے اس معاملے میں احتجاج کیا گیا تو سپریم کورٹ نے علماء سے اس معاملے میں مشاورت کی اور ایسا فیصلہ دیا جو مسلمانوں کے حق میں آیا اور اس نے قادیانیت کو تباہ کر دیا ۔

اس نے آئین و قانون میں کسی بھی ایسی ترمیم کے شبہ کو خارج از امکان قرار دیا جس سے احمدیوں کو کسی بھی قسم کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے بطور خاص ختم نبوت کے عقیدے کے متعلق اور ساتھ ہی ستائیسویں آئینی ترمیم کے متعلق بحث کے امکان کی مخالفت کی۔ اس نے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے پاکستان فاٹا کسی صورت ان معاملات پر خاموش نہیں رہے گی۔

گو کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کی طرف سے ایک تحریری بیان میں انتظامیہ کو اس کانفرنس سے متعلق اپنے تحفظات پہنچائے گئے۔ جس میں اس تقریب کو احمدیوں کے لیےایک خطرہ بتایا گیا تھا۔ اس میں اس حقیقت سے بھی پردہ ہٹایا گیا کہ باوجود اکثریتی احمدی آبادی ہونے کے اس شہر میں احمدیوں کو اپنی تقریبات کے انعقاد پر پابندی ہے جبکہ ایسی نفرت انگیز کانفرنسوں کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس میں انتظامیہ سے استدعا کی گئی کہ یا تو ایسی کانفرنس کی اجازت نہ دی جائے یا پھر اسے ایک خاص جگہ تک محدود کیا جائےاور اس کی سختی سے نگرانی کی جائے اور احتسابی عمل کےلیے اس کانفرنس میں ہونے والے معاملات کو ریکارڈ رکھا جائے۔ احمدی اکابرین نے حکومت سے امن کے قیام اورا س کانفرنس کے باعث احمدیوں کو لاحق خطرات سے تحفظ دینے کی بھی اپیل کی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button