وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا
امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ یہ دن جماعت میں پیشگوئی مصلح موعودکے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اِس حوالے سے اِس دن یا ان دنوں میں آگے پیچھے جماعتوں میں پیشگوئی مصلح موعود کے جلسے بھی ہوتے ہیں۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک لمبی پیشگوئی ہے جس میں ایک بیٹے کی پیدائش اور اُس کی خصوصیات کا ذکر ہے۔ 20؍فروری 1886ء کو اِس کو اشتہار کی صورت میں شائع کیا گیا۔ اِس پیشگوئی میں لڑکے کی خصوصیات کے بارے میں الہامی الفاظ کا ایک حصہ اِس طرح سے ہے کہ ’’وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا‘‘ اور پھر ہے کہ ’’…علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔‘‘(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 647)
اور اللہ تعالیٰ نے اِس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو بیٹا عطا فرمایا جو ان خصوصیات کا حامل تھا جن کا نام حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد تھا، جن کو مصلح موعود بھی کہاجاتا ہے۔ جو بچے بھی جماعت کی تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں، بڑے تو رکھتے ہی ہیں اِس پیشگوئی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اطفال میں خدام میں ہر جگہ ہی جلسے ہوتے ہیں۔
جیسا کہ پیشگوئی کے الفاظ ہیں کہ وہ لڑکا علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا خدا تعالیٰ نے خود ان کی ذہانت کو جلا بخشی اور علوم سے پُر کیا۔دنیاوی لحاظ سے تو آپؓ کی تعلیم شاید پرائمری تھی بلکہ یہ بھی نہیں تھی۔ ہاں سکول جاتے رہے لیکن امتحانوں میں حضرت مصلح موعودؓ نے خود لکھا ہے، بتایا ہے کہ کبھی پاس نہیں ہوتے تھے۔ دنیاوی مضمونوں میں بہت کمزور تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؓ سے ایسے ایسے علمی اور دینی اور انتظامی کام کروائے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی آپؓ کے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں، بالکل بچے لگتے ہیں اور آپؓ کا باون سالہ دورِ خلافت اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آپؓ نے دنیا کے مختلف موضوعات پر بےشمار تقاریر کیں، مضامین لکھے۔ دینی اور قرآنی علوم کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ آپؓ نے دنیاوی موضوعات پر بھی، ملکی سیاست، بین الاقوامی سیاست کے بارے میں تقاریر کیں، مضمون لکھے۔ تاریخی حوالے سے غیر معمولی معیار کے مضامین لکھے اور تقاریر کیں۔ اقتصادی امور اور دنیا کے مختلف نظاموں سوشل ازم، کمیونزم، کیپٹل ازم کے بارے میں بھی ان کا تجزیہ کیا اور ایک تقریر کی جو بعد میں کتابی صورت میں بھی چھپ گئی۔ یہ جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ حتٰی کہ عسکری معاملات، فوجی معاملات اور سائنسی اور علمی موضوعات پر بھی علم و معرفت کی وہ باتیں بیان فرمائیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ بہت سی تقاریر آپؓ نے غیروں کے سامنے کیں اور وہ اِن کی گہرائی اور معرفت کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ ہزاروں صفحات پر یہ مضامین اور تقاریر حاوی ہیں۔(خطبہ جمعہ 21؍ فروری 2025ء)
