گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
دعا کی طاقت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا ۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھادیتے ہیں۔ ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو اُن کو تنبیہہ نہیں کرتے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باق ہوتے جاتے ہیں ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکا اپنے جرائم کی وجہ سے پھانسی پر لٹکایا گیا ۔اس آخری وقت میں اس نے خواہش کی کہ میں اپنی ماں سے ملنا چاہتاہوں ۔جب اس کی ماں آئی تو اس نے ماں کے پاس جاکر اسے کہا کہ میں تیری زبان کو چوسنا چاہتا ہوں ۔جب اُس نے زبان نکالی تو اسے کاٹ کھایا ۔دریافت کرنے پر اُس نے کہا کہ اِسی ماں نے مجھے پھانسی پر چڑھایا ہے ۔کیونکہ اگر یہ مجھے پہلے ہی روکتی تو آج میری یہ حالت نہ ہوتی ۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 562 ایڈیشن 1988ء)
سوال جواب
٭…ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ ایک وقفِ نَو خادم مبلغ بننے کے علاوہ کون سا پیشہ اختیار کر سکتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے کسی بھی موزوں پیشے کو اختیار کرتے ہوئے جماعتی خدمت کے جذبے کو مقدّم رکھنے کی بابت پختہ عزم کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ آپ مربی، ڈاکٹر، ٹیچر، انجینئر، وکیل یا کسی بھی ایسے شعبے کا انتخاب کر سکتے ہیں کہ جسے آپ اپنے لیے موزوں سمجھتےہیں۔ آپ جس بھی میدان کا انتخاب کریں جس بھی حیثیت میں ہوں، اگر آپ کاپختہ ارادہ ہو کہ آپ نے جماعت کی خدمت کرنی ہے تو آپ جماعت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر تعلیم مکمل کرنے، ملازمت حاصل کرنے اور ایک اچھی اور منافع بخش نوکری ملنے کے بعد آپ یہ کہیں کہ اب مَیں اپنے دنیاوی معاملات میں بہت زیادہ مصروف ہوں تو پھر آپ جماعت کی خدمت نہیں کر سکیں گے۔ اِس کے برعکس اگر آپ اِس بات پر مضبوطی سے قائم ہوں کہ آپ نے جماعت کی خدمت کرنی ہے تو پھر یقیناً آپ کسی بھی پیشے میں رہتے ہوئے ،کسی بھی حیثیت میں ، جماعت کی خدمت کر سکتے ہیں۔
(الفضل انٹرنیشنل 22 جنوری 2026ء )
٭…عامر سفیر صاحب نے سوال کیا کہ حضور! آج کل ہم میں سے اکثر لوگ نمازیں گھروںمیں اپنے گھر والوں کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ بسااوقات ایسا ہوتاہے کہ میں نماز پڑھ رہاہوں اور میرے دونوں بچے میرے پاس آکر کھیلنے لگتے ہیں اور شور مچانے لگتےہیں۔ حضور ! کیا ایسا آپ کے اور آپ کے پوتوں یا نواسے، نواسیوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں بچوں سے کس طرح پیش آیا جائے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
جب میں گھر میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں تو بہت شاذ ہی وہ میرے پاس آتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی کبھی میرا کوئی پوتا آتا ہو گا۔ میرے نماز پڑھنے کے وقت وہ بالعموم نہیں آتے۔ اگر وہ آجائیں تو پھر ہاں ، وہ شرارتیں کرتے ہیں میرے اردگرد کھیلتے ہیں تو میں اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں اپنے ساتھ کھڑا کر لیتاہوں تاکہ وہ میرے ساتھ نماز ادا کریں یا اشارے سے انہیں ایسا کرنے کا کہتا ہوں۔ پھر وہ میرے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں لیکن جب میری نماز لمبی ہوجائے تو وہ جلد ہی تھک جاتے ہیں اور بالآخر نماز چھوڑ جاتے ہیں اور کبھی کبھار وہ خود میرے ساتھ نماز پڑھنے لگتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ یہ میرے چھوٹے پوتوں کا حال ہے۔ میرے بڑی عمر کے پوتے یا نواسے ، نواسیاں کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بنتے کیونکہ وہ خود نماز پڑھنے کے عادی ہیں۔
آنحضورﷺ کے دور میں آپؐ کے نواسے آتے اور آپﷺ کی کمر پر بیٹھ جاتے۔ حضرت امام حسین ؓ ایک دفعہ تشریف لائے اور آپﷺ کی کمر پر بیٹھ گئے تو آپﷺ نے سجد ہ لمبا کردیا۔ تو جب نماز ختم ہوئی تو صحابہ نے اِس قدر طویل سجدہ کی وجہ پوچھنا چاہی تو آپﷺ نے فرمایا میرا نواسہ میری کمر پر بیٹھ گیا تھا تو میں نے خیال کیا کہ جب وہ اترے تو پھر میں سجدہ سے اٹھوں چنانچہ آپﷺ نے ایسا ہی کیا۔ یوں آپﷺ نے اپنے نواسے کی وجہ سے اپنی نماز لمبی کردی جو آپﷺ کی کمر پر بیٹھ گیا تھا۔ یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ بچوں کو ڈانٹنا نہیں چاہیے بلکہ پیار سے اُنہیں سمجھانا چاہیے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو انہیں بتائیں کہ اُنہیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے جب بھی وہ ایسے وقت میں آئیں۔
(الفضل انٹرنیشنل 27؍مئی 2021ء)
