کوئز یومِ مصلح موعودکی تیاری
دادی جان آنگن میں بیٹھی تھیں اور سہ پہر کی ہلکی دھوپ سینک رہی تھیں۔ احمد ٹیب (Tab)ہاتھ میں پکڑے، گڑیا اور محمود کے ساتھ آیا۔
احمد: دادی جان السلام علیکم ۔ مربی صاحب نے کہا ہے کہ 21 فروری 2025ء کے خطبہ جمعہ میں سے تیاری کرنی ہے۔
گڑیا : جی دادی جان، جلسے کے بعد اِسی خطبے سے کوئز ہوگا۔
محمود: ہم نے خطبہ سُن بھی لیا ہے اور نوٹس بھی دیکھ لیے ہیں۔اب آپ ہمارا امتحان لے لیں۔
دادی جان: بہت خوب، تو پھر شروع کرتے ہیں۔ احمد، پہلا سوال۔ اِس خطبہ میں کس عظیم پیشگوئی کا ذکر تھا؟
محمود: مصلح موعود کی پیشگوئی کا۔
دادی جان: شاباش۔ لیکن ہاتھ کھڑا کریں۔ یا میں نام لے کر پوچھتی ہوں۔ اچھاگڑیا، یہ پیشگوئی کس تاریخ کو شائع ہوئی تھی؟
گڑیا: 21؍فروری 1886ء۔
دادی جان: بالکل درست۔ محمود، اب بتاؤ، اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ نے اُس لڑکے کے بارے میں کیا فرمایا؟
محمود: کہ وہ بڑا نیک ہوگا۔
دادی جان: بات درست ہے، مگر ذرا مکمل کرو، ایک خاص بات رہ گئی ہے۔
محمود: اوہ ہاں… وہ لڑکا علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔
دادی جان: ماشاء اللہ، یہی جملہ کوئز میں بھی آسکتا ہے۔ احمد، اگلا سوال۔ حضور انور نے کیافرمایا کہ یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوئی؟
احمد: حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ کی ذاتِ مبارک میں۔
دادی جان: آپؓ کا دورِ خلافت کتنا بیان ہوا؟
محمود: باون سالہ دورِ خلافت ۔ یہ مجھے گڑیا آپی نے یاد کروایا ہے۔
بہت خوب۔ گڑیا، اب یہ بتاؤ کہ حضور انور نے اس پیشگوئی کو ایمان بڑھانے کا ذریعہ کیوں بتایا؟
گڑیا: کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سچائی کا نشان ہے۔
دادی جان: بالکل۔ محمود، ایک اور سوال۔ حضرت مصلح موعودؓ کو کن علوم میں کمال عطا ہوا؟
محمود: دینی علوم میں۔
دادی جان: اور؟
محمود: امم… شاید دنیاوی علوم میں بھی؟
دادی جان: ہاں بیٹا، دنیاوی، سیاسی، انتظامی اور روحانی علوم سب شامل ہیں۔
احمد: جی دادی جان، حضور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے عسکری معاملات، فوجی معاملات اور سائنسی اور علمی موضوعات پر بھی علم و معرفت کی وہ باتیں بیان فرمائیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
دادی جان: گڑیا آپ بتائیں کہ حضورؓ کی کن کتب کا تعارف بیان فرمایا۔
گڑیا: اسلام کا اقتصادی نظام، نظام نَو اور اسلام میں اختلافات کا آغاز ۔
محمود فوراً بولا: اور گول میز کانفرنس
دادی جان ہنستے ہوئے : گول میز کانفرنس اور مسلمانوں کی نمائندگی۔ یہ مکمل نام ہے۔ اس کتاب کا ذکر تو نہیں ہوا لیکن اِس کا ایک حوالہ پیش ہوا تھا۔
دادی جان: احمد، اب یہ بتاؤ کہ حضور انور نے بچوں اور نوجوانوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
احمد: کہ ہم علم حاصل کریں اور دعا کے ساتھ محنت کریں۔ آپؓ کے علم و عرفان کے اس لٹریچر کو ہمیں پڑھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے
دادی جان: شاباش۔ گڑیا، اب یہ سوال آپ کے لیے۔ اِس خطبے میں تفسیر کبیر کے متعلق کیا بیان فرمایا ہے؟
گڑیا: کہ پرانی تفسیر کبیر پہلے دس جلدوں میں تھی اور اب آپؓ کے نوٹس سے اِس میں مزید کچھ شامل کیا گیا ہے تو پندرہ جلدوں میں نئی چھپ چکی ہے۔
دادی جان: بالکل صحیح۔ محمود، ایک ذرا مشکل سوال۔ حضور انور نے کیوں فرمایا کہ مصلح موعودؓ کا علم عام انسانوں جیسا نہیں تھا؟
محمود: کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید سے تھا۔
دادی جان: بہت خوب۔ احمد، اب آخری سوال۔ حضور انور نے کیا فرمایا کہ تفسیرِ کبیر کی کتنی جلدیں بن جائیں گی؟
احمد: یہ فرمایا کہ مزید سورتوں کی تفسیر میں بھی بعض نوٹس آپ کے ملے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شاید جب اُن کو شائع کیا جائے تو اُس کی بھی تیس جلدیں بن جائیں گی کیونکہ تیس ہزار صفحات ہیں۔
دادی جان: ماشاء اللہ۔ گڑیا، تم کچھ کہنا چاہو گی؟
گڑیا: دادی جان، اگر کوئز میں تھوڑا مشکل سوال آ جائے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔
محمود: دادی جان، اب مجھے لگتا ہے ہم اچھی طرح تیار ہیں۔
دادی جان: ہاں بیٹا، تم تینوں نے محنت کی ہے۔ اللہ برکت ڈالے گا۔
احمد: دعا کریں ہمارا کوئز اچھا ہو جائے۔
دادی جان: اللہ تعالیٰ تم سب کو کامیابی دے اور علمِ نافع عطا فرمائے۔
سب بولے: آمین۔
(ابو الفارس محمود)
