دادی جان کا آنگن

سچ یا اپریل فول

موسم قدرے تبدیل ہوچکا تھا اب دن بھی کچھ لمبے ہوگئے تھے شام کے وقت صحن میں احمد، محمود اور گڑیا بیٹھے باتیں کر رہے ہیں جبکہ دادی جان قریب ہی دالان میں تخت پر بیٹھی تسبیح کررہی تھیں۔

احمد: محمود! کل یکم اپریل ہے۔ کیوں نہ اِس بار ہم تینوں مل کر کسی کو اپریل فول بنائیں؟

محمود: ہاں! جیسے فوزان نے ہمیں بنایا تھا۔یاد ہے کہ آپ کو مرچ والی ٹافی دی تھی۔

احمد: بالکل مجھے اچھی طرح یاد ہے۔مگر سوچو کہ ہم فول(fool) کیسے کریں گے ؟

محمود: ہم سب مل کر شور مچائیں گے ’’آگ لگ گئی،آگ لگ گئی ‘‘،تو سب محلے والے جمع ہوجائیں گے۔

گڑیا: نہیں بھائی! یہ تو جھوٹ ہوگا۔

دادی جان جو دالان میں قدرے فاصلے پر تھیں ان کی باتیں سُن لیتی ہیں۔

دادی جان: بیٹا احمد، آپ لوگ کیا منصوبہ بنا رہے ہو؟

احمد شرارت سے: کچھ بھی نہیں دادی جان ہم تو بس ویسے ہی بات کررہے تھے۔

محمود: دادی جان! احمد بھائی اصل بات چھپارہے ہیں۔ ہم کل اپریل فول بنانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

دادی جان: بہت بُری بات احمد، آپ تو اچھے بچے ہیں اور سچائی تو ایک اچھے احمدی مسلمان کی نشانی ہے۔ آج کل تو ویسے ہی بہت سے جھوٹ بے خىالى مىں بولے جا تے ہىں جىسے، مذاق مىں، کسى کا دل جىتنے کے لىے، افواہ پھىلانے کے لیے، بہانے کے طور پر، اپرىل فول کے موقع پر بے وقوف بناتے ہوئے۔ چلو آؤ میں تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں۔

محمود: کون سی کہانی دادی جان؟

دادی جان: کسی گاؤں میں ایک چرواہا لڑکا رہتا تھا۔ وہ اپنی بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔ کبھی کبھار وہ مذاق میں زور سے چلّاتا، “شیر آیا! شیر آیا!” گاؤں والے لاٹھیاں لے کر دوڑتے ہوئے آ جاتے، مگر وہاں کوئی شیر نہ ہوتا۔ لڑکا ان کو دیکھ کر ہنسنے لگتا اور کہتا، ’’میں نے تو مذاق کیا تھا۔یہاں کوئی شیر نہیںہے‘‘۔

محمود: پھر کیا ہوا دادی جان؟

دادی جان: ایک دن واقعی جنگل سے شیر آ گیا۔ چرواہا لڑکا ڈر کر چلّایا، “شیر آیا! شیر آیا! بچاؤ!” مگرگاؤں والوں نے سمجھا کہ وہ پھر مذاق کر رہا ہے۔ اِس لیے کوئی بھی اس کی مدد کے لیے نہ آیا اور شیر اس کی سب بھیڑوں کو کھا گیا۔

محمود: اس کا مطلب لوگوں نے اس کی بات پر یقین کرنا چھوڑ دیا تھا۔

دادی جان: بالکل بیٹا! جب انسان بار بار جھوٹ بولتا ہے یا مذاق کے نام پر دوسروں کو دھوکا دیتا ہے تو لوگ اُس پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اپریل فول بھی دراصل جھوٹ سکھاتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا کہ ’’دیکھو اپریل فول کیسی بُری رسم ہے کہ ناحق جھوٹ بولنا اِس میں تہذیب کی بات سمجھی جاتی ہے‘‘۔ یعنی اچھا سمجھا جاتاہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جھوٹ کی پلیدی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔اور ہمارے پىارے رسول حضرت محمد مصطفىٰ ﷺ کا اسوہ بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ ہمىشہ سچ بولتے تھے۔ اىک دفعہ آپﷺ نے اہل قرىش کو مخاطب ہو کر فرماىا اگر مىں کہوں کہ اس پہاڑ کے پىچھے اىک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کىا تم ىقىن کر لو گے؟ تمام اہلِ مکہ نے ىک زبان ہو کر کہا کہ ہاں۔ ہم نے کبھى بھى آپﷺ کو جھوٹ بولتے نہىں دىکھا۔ سب سے بڑا دشمن اسلام ابو جہل بھى آپ ﷺ کى سچائى کا معترف تھا۔ وہ برملا اِس بات کا اظہار کىا کرتا تھا کہ مىں آپ ﷺ کو جھوٹا نہىں کہتا مگر کىا کروں آپ ﷺ کى تعلىم پر دل نہىں ٹھہرتا۔

احمد:کیا آپ کو کوئی اَور واقعہ بھی یاد ہے ؟

دادی جان: بالکل ایک بار آنحضورﷺ حضرت عبداللہ بن عامرؓ  کے گھر موجود تھے کہ اُن کی والدہ نے انہیں کو بلاىا اور کہا جلدى آؤ! مىں تمہىں کچھ دوں گى۔ آنحضور ﷺ نے کچھ دىر بعد ان کی والدہ سے پوچھا کہ کىا تم نے اپنے وعدہ کے مطابق بچے کو کچھ دىا ہے؟ انہوں نے ہاں مىں جواب دىا۔ آپ ﷺ نے فرماىا:اگر تم اسے کچھ نہ دىتى تو تمہارا شمار جھوٹوں مىں ہوتا۔

تو یہ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جھوٹ بولنا بظاہر آسان نظر آتا ہے اور اس کے مقابل سچائی کو اپنانا مشکل ہوتاہے۔ مگر سچ بولنے سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کا وہ واقعہ سنایا تھا ناں،جس میں بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک بار ایک عیسائی رَلیا رام کے پاس ایک مضمون شائع کرنے کے لیے بھجوایا اور مضمون کے ساتھ اسی پارسل میں ایک خط بھی رکھ دیا۔اب ہوا یہ کہ اس دور میں ایسا کرناایک قانونی جرم تھا او راس پر پانچ سو روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا بھی مقررتھی۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ مضمون اسلام کی تائید میں تھا اوراب رَلیا رام اسلام کاسخت مخالف تھا۔ چنانچہ اس کے ہاتھ بہانہ آگیا۔ اس نے فوراً مقدمہ کردیا۔ حضورؑ کو جب عدالت میں بلایا گیاتو آپؑ کے وکیلوں نے حضورؑکو جھوٹ بولنے کا مشورہ دیا۔

گڑیا:ہاں یاد آگیا ! جس میں وکیل نے جھوٹ بولنے کو کہاتھا۔

دادی جان: جی بیٹا بالکل !وکیل نےکہا کہ آپؑ کہہ دیں کہ پارسل میں خط مَیں نے نہیں رکھا۔ رَلیا رام نے خود ہی رکھ دیا ہوگا۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اگر سچ بولنے سے سزا ہوتی ہے تو ہونے دو، میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔

جب آپؑ کو انگریز جج کے سامنے پیش کیا گیا تو جج نے پوچھا کہ کیا یہ پارسل آپ کا ہے؟ اس میں خط آپؑ نے رکھا تھا؟ آپؑ نے سچ سچ بتایا کہ یہ خط اس مضمون کےمتعلق تھا تو اس لیے میں نے رکھ دیا۔جج پر آپؑ کی سچائی کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے آپؑ کو بَری کر دیا اور مقدمہ خارج ہوگیا۔

گڑیا: دادی جان! میں تو پہلے ہی منع کررہی تھی انہیں۔ ہمیں جھوٹ سے بچنا چاہیے۔

دادی جان: بالکل میرے بچو! میں بھی آپ لوگوں کو یہی سمجھانا چاہ رہی تھی۔

احمد: ہمیں اب سمجھ آ گیا ہے۔ ہمیں ایسا مذاق نہیں کرنا چاہیےجس میں جھوٹ کی آمیزش ہو۔

محمود: ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم کبھی اپریل فول نہیں منائیں گے۔

دادی جان: شاباش میرے بچو! ہمیشہ سچائی کو اختیار کرو، اسی میں عزت اور بھلائی ہے۔

(درثمین احمد۔ جرمنی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button