دادی جان کا آنگن

انفاق فی سبیل اللہ

افطار کے بعد احمد اور محمود تراویح کے لیے چلے گئے۔ واپس آ کر احمد، محمود اور گڑیا دوڑتے ہوئے آئے اور دادی جان کو اپنے کمرے میں ہی بیٹھا ہوا پایا۔

احمد: دادی جان! ہم آ گئےہیں۔ آ ج کہانی سنائیں ناں کوئی۔ آج کا وعدہ تھا آپ کا۔

دادی جان (مسکرا کر): اچھا بھئی، اسی لیے تو میں یہاں بیٹھی ہوں آج میں تمہیں ایک ایمان افروز واقعہ سناتی ہوں جو حدیث میں بیان ہوا ہے۔ مگر شرط ہے غور سے سنو گے۔

محمود: جی دادی جان!

دادی جان نے چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے خطباتِ مسرور کی ایک جلد اٹھائی اورکہا: یہ واقعہ حضور انور ایدہ ا للہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 16؍ مارچ 2007ء میں بیان فرمایا تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی تھے۔ ایک کوڑھی، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کے لیے اُن کے پاس انسانی شکل میں ایک فرشتہ بھیجا۔

دادی جان: اچھا بتاؤ بچو، تین آدمی کون کون تھے؟

احمد: ایک بیمار، ایک گنجا اور ایک اندھا۔

دادی جان: شاباش۔پہلے وہ کوڑھی کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا خوبصورت رنگ، خوبصورت جلد، میری وہ بدصورتی جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے گھن آتی ہے۔ اس فرشتے نے اُس پر ہاتھ پھیرا اور اُس کی بیماری جاتی رہی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے تھے اور خوبصورت رنگ اس کو مل گیا۔ پھر فرشتے نے کہا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے اونٹ یا گائے کا نام لیا۔ اسے اعلیٰ درجہ کی دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں دے دی گئیں۔ فرشتے نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تیرے مال میں برکت دے۔

گڑیا: دادی جان! اسے کیا ملا؟

دادی جان: صحت بھی اور مال بھی۔پھر وہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے کہا کون سی چیز تجھے پسند ہے؟ اس نے جواب دیا خوبصورت بال اور گنجے پن کی بیماری چلی جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے گھن آتی ہے۔ اِس فرشتے نے اُس کے سرپر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور خوبصورت بال اُس کے اُگ آئے۔ پھر فرشتے نے کہا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اُس نے کہا گائیں۔ فرشتے نے اُس کو گابھن گائیں دے دیں یعنی ایسی گائیں جو بچے دینے والی تھیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دے۔

محمود: دادی جان! گابھن کا کیا مطلب ہے؟

دادی جان: یعنی جو بچہ دینے والی ہو یعنی اگلی نسل بھی تیار تھی۔پھر وہ اندھے کے پاس گیا اور کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا مَیں چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ میری نظر کو لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتہ نے اُس پر ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اُس کو نظر واپس دے دی۔ پھر فرشتے نے پوچھا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے جواب دیا بکریاں۔ چنانچہ خوب بچے دینے والی بکریاں اسے دے دی گئیں۔

احمد: دادی جان! تینوں کی دعائیں قبول ہو گئیں؟

دادی جان: ہاں، کیونکہ اللہ آزمائش بھی لیتا ہے اور انعام بھی دیتا ہے۔پس اُن تینوں کے پاس اونٹ گائے اور بکریاں خوب پھلی پھولیں۔ جس نے اونٹ مانگے تھے اس کے ہاں اونٹوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اسی طرح گائیوں کے گلوں اور بکریوں کے ریوڑوں سے وادیاں بھر گئیں۔ کچھ مدت کے بعد فرشتہ کوڑھی کے پاس خاص غریبانہ شکل و صورت میں آیا اور کہا مَیں غریب آدمی ہوں میرے تمام ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔ خداتعالیٰ کی مدد کے سوا آج میرا کوئی وسیلہ نہیں جس سے مَیں منزل مقصود تک پہنچ سکوں۔ مَیں اس خداتعالیٰ کا واسطہ دے کر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھ کو خوبصورت رنگ دیا ہے، ملائم جلد دی ہے اور بے شمار مال غنیمت دیا ہے۔

گڑیا: دادی جان! اب کیا وہ دے دے گا؟

دادی جان: سنو آگے۔اِس پر اُس نے کہا مجھ پر بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔ مَیں ہر ایک کو کس طرح دے سکتا ہوں۔ انسان نما فرشتے نے کہا۔ تُو وہی کوڑھی غریب اور محتاج نہیں ہے جس سے لوگوں کو گھن آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت عطا فرمائی اور مال دیا۔ اس پر وہ بولا تم کیسی باتیں کرتے ہو۔ مال تو مجھے آباءو اجداد سے ورثے میں ملا ہے یعنی میں خاندانی امیر ہوں۔ اس پر فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔

محمود: اوہ! اس نے جھوٹ بولا!

دادی جان: ہاں، اور ناشکری بھی کی۔پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور اُس کو بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا۔ اس نے بھی وہی جواب دیا جوپہلے نے دیا تھا۔ اس پر فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔ ان دونوں کا حال اس جھوٹ کی وجہ سے اور حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ویسا ہی ہو گیا۔

احمد: یعنی دونوں کو سزا ملی!

دادی جان: بالکل۔پھر وہ فرشتہ اسی ہیئت اور صورت میں اندھے کے پاس آیا اور اسے مخاطب کرکے کہا۔ مَیں غریب مسافر ہوں سفر کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا منزل مقصود تک پہنچنے کا کوئی وسیلہ نہیں پاتا۔ تجھ سے مَیں اس خدا کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں جس نے تجھے نظر واپس دے دی اور تجھے مال ودولت سے نوازا۔ اس آدمی نے کہا بے شک میں اندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دیا ہے جتنا چاہو اس مال میں سے لے لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو۔ سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔ خداتعالیٰ کی قسم آج جو کچھ بھی تم لواس میں سے مَیں کسی قسم کی تکلیف اور تنگی محسوس نہیں کروں گا۔ اس پر اس انسان نما فرشتے نے کہا اپنا مال اپنے پاس رکھو یہ تو تمہاری آزمائش تھی۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے خوش ہے اور تیرے دوسرے ساتھیوں سے ناراض ہے۔ تُو اس کی رحمت کا مستحق ہے اور وہ اس کے غضب کے مورد بن گئے۔

گڑیا: دادی جان! جس نے سچ بولا، شکر کیا اور سخاوت دکھائی ا سے اور انعام ملا؟

دادی جان: جی یہ انعام ہی سب سے بڑھ کر ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا۔۔

محمود: دادی جان! کیا ہمیں بھی آزمایا جاتا ہے؟

دادی جان: ہاں بیٹا، ہر نعمت ایک امتحان ہی ہوتی ہے۔دوسروں کا حصہ بھی ہوتا ہے۔ اب سونے کا وقت ہورہا ہے اور صبح سحری کے لیے بھی تو اٹھنا ہے ناں!

تینوں بچے سونے کے لیے لیٹ گئے۔ دادی جان نے جاتے جاتے کمرے کی لائٹ بند کر دی۔

(بخاری کتاب الانبیاء باب حدیث ابرص حدیث نمبر 3464)

(مسلم کتاب الزھد باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر حدیث نمبر 7325)

(ابو الفارس محمود)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button