بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایتِ مسیح الزماںؑ

مصائب کی لذّت

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مومن کے لیے مصائب ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ لمبے ہوتے ہیں بلکہ اس کے واسطے رحمت، محبت اور لذت کا چشمہ جاری کیا جاتا ہے۔ عاشق لوگ عشق کے غلبہ کے وقتوں اور اِس کے دردوں میں ہی لذت پاتے ہیں۔ یہ باتیں گو ایک خشک محض انسان کے لیے سمجھانی مشکل ہیں مگر جنہوں نے اس راہ میں قدم مارا ہے وہ اُن کو خوب جانتے ہیں بلکہ اُن کو تو معمولی آرام اور آسائش میں وہ چین اور لذت نہیں ہوتی جو دکھ کے اوقات میں ہوتی ہے۔

مثنوی رومی میں ایک حکایت ہے کہ ایک مرض ایسا ہے کہ اِس میں جب تک اُن کو مکے مارتے کو ٹتے اور لتاڑتے رہتے ہیں تب تک وہ آرام میں رہتا ہے ورنہ تکلیف میں رہتا ہے سو یہی حال اہل اللہ کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب و شدائد کے مشکلات آتے رہیں اور اُن کو مار پڑتی رہےتب تک وہ خوش ہوتے اور لذت اُٹھاتے ہیں ورنہ بے چین اور بے آرام رہتے ہیں۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 295 ایڈیشن2022ء)

سوال جواب

ایک خادم نے دریافت کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے قریب کیسے ہو سکتے ہیں اور خلیفۂ وقت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیسے بن سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے قُربِ الٰہی کے حصول کے لیے احکامِ الٰہی کی بجاآوری اور عبادت کے ذریعےشکرگزاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی باتیں مانو۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میری باتیں مانو تو تم میرے قریب آ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں نے تمہیں پیدا کیا ہے، تم میرے شکر گزار بندے بنو اور شکر گزاری کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے یہ سکھایا کہ تم میری عبادت کرو اورمیرا شکر ادا کرو۔

حضورِ انور نے یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتنے احسان کیے ہیں، تو اِس کے لیے اللہ کہتا ہے کہ کم از کم پانچ وقت میرے پاس آ کے دعا کیا کرو اور شکر کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انسان بنایا، ہمیں گدھا بِلّا نہیں بنا دیا۔ شکر کرو کہ اشرف المخلوقات، سب سے اچھی مخلوق بنا دیا، اس لیے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنیں گے اور اس کے حکموں پر عمل کریں گے، جو اُس نے ہمیں باتیں عمل کرنے، عبادت کرنے، لوگوں کا خیال رکھنے، غریبوں کا خیال رکھنے اور اچھے اخلاق دکھانے کا کہا ہے، تو پھر ہم اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا ہے۔ اور جب یہ چیزیں آپ میں بطورایک اچھے احمدی پیدا ہوں گی تو خلیفۂ وقت آپ سے خوش ہوگا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے خلیفۂ وقت کی خوشنودی کے لیے خدا تعالیٰ، اُس کے رسولؐ اور حضرت مسیح موعودؑ کی کامل پیروی اختیار کرتے ہوئے ایک اچھے احمدی مسلمان بننے کی تلقین فرمائی۔

ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آپ کی محبّت میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم کسی نہ کسی پہلو سے آپ کی طرح بن جائیں، چاہے وہ لباس کے ذریعے ہو یا اندازِ گفتگو کے ذریعے، مگر کچھ لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ گویا ہم خلیفۂ وقت بننے کی کوشش کر رہے ہیں ؟

اِس پرحضورِانور نےانتہائی شفقت سے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ تمہاری نیّت نیک ہے ؟اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ تو بس عمل کرتے رہو۔اسی طرح توجہ دلائی کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ فلاں آدمی داڑھی پوری نہیں بڑھاتا یا اس طرح کا حلیہ رکھا ہوا ہے، تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جس کو جتنی محبّت ہے،اتنی ہماری نقل کر لے گا۔ تو اس میں بُرائی کوئی نہیں۔

اس حوالے سے حضورِ انور نے ایک خوبصورت عملی مثال بھی پیش فرمائی کہ ایک پُرانے بزرگ حضرت مرزا عبدالحق صاحب ہوتے تھے، وفات پا گئے ہیں، بہت لمبا عرصہ سرگودھا کے امیر بلکہ صوبائی امیر بھی رہے ہیں۔ وہ ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوئے تھے اور ۲۱۔۱۹۲۰ء میں انہوں نے حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ کی بیعت کی تھی۔ کہتےتھے کہ جب مَیں نے بیعت کرلی، تو پھر مَیں نے کہا تھا کہ مَیں نے وہ حلیہ رکھنا ہے،جو کہ حضرت مصلح موعودؓ کا حلیہ ہے۔ اس کے بعد کہتے تھےکہ مَیں نے ایک پگڑی اور کوٹ اورجس طرح حضرت مصلح موعودؓ شلوار قمیض پہنتے تھے، مَیں نے وہی لباس رکھا اور آج تک پہنتا ہوں۔ وہ بڑے اچھے وکیل بھی تھے۔لیکن کبھی کورٹ (court) میں بھی جاتے ہوئے وکیلوں کا یونیفارم نہیں پہنتے تھے، بلکہ شاید کوٹ کا رنگ کالا کر لیتے ہوں گے، جو وکیلوں کا ہوتا ہے۔ otherwise وہی ڈریس (dress) انہوں نے ہمیشہ رکھا، جس طرح کاحضرت مصلح موعود ؓپہنا کرتے تھے۔

جواب کےآخر میں سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں حضورِ انور نے محض ظاہری تقلید کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حقیقی تقلید کے ضمن میں قیامِ خلافت کے مقاصد کی تکمیل اور خلیفۂ وقت کے ارشادات پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ نقل کرنے میں تو کوئی ہرج نہیں ہے، لیکن نیّت یہ ہونی چاہیے کہ مَیں نقل اس لیے کررہا ہوں تاکہ مَیں پھر اپنے آپ کو ان باتوں کو بھی ماننے والا بھی بنوں جو مجھے کہی جاتی ہیں۔ صرف نقل کر لینا یا اس طرح بول لینا اور پھر باتوں پر عمل نہ کرنا غلط ہے۔ مثلاًخلیفۂ وقت کہتا ہے کہ تم لوگ پانچ نمازیں وقت پر باقاعدہ پڑھو، اور تم لوگ کہو کہ اچھا پڑھ لیں گے،دیکھی جائے گی اور حلیہ بنالو، تقریر کرنے لگو، نقل اُتار کے پڑھو تو یہ غلط ہے۔ نقل کرنی ہے تو پھر ان مقاصد کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کروجس مقصد کے لیے خلافت قائم کی گئی ہے اور جن باتوں کےلیے خلیفۂ وقت تمہیں بلاتا ہے۔ باقی اس میں کوئی ہرج نہیں۔

(الفضل انٹرنیشنل 25؍دسمبر 2025ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button