گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
دعا کی طاقت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بار یہ حکایت بیان فرمائی کہ ایک شخص سفر کی تیاری کر کے اپنے مرشد کے پاس گیا اور اجازت چاہی ۔ انہوں نے کہا کہ تم مارے جائو گے۔ یہ سفر نا مبارک ہے۔ چونکہ اُس نے تیاری مکمل کر لی تھی اِس لئے وہ ایک اور باخدا انسان کی خدمت میں حاضر ہوا اور سفر کیلئے دعا کی درخواست اور اجازت چاہی ۔ انہوں نے فرمایا جائو خدا مبارک کرے گا۔ انشاء اللہ فائدہ ہو گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہو گیا ۔ ایک دن وہ ایک جگہ نہانے لگا اور ہزار روپے کی اپنی تھیلی کھول کر رکھ دی۔ بعد ازاں وہ تھیلی بھول گیا اور رات کو کسی اور جگہ پہنچ کر سو رہا ۔ خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص نے اُس پر تلوار سے قاتلانہ حملہ کر دیا ہے۔ اس کی چیخ نکل گئی ، آنکھ کھل گئی اور تھیلی نہ پا کر بھاگتے ہوئے جہاں نہایا تھا وہاں پہنچا اور تھیلی موجود تھی۔ اٹھا کر چلا گیا ، سودا خریدا اور بیچا ۔ بڑا نفع ہوا اور تحائف لئے ہوئے واپس وطن پہنچا۔ دل میں سوچا کہ پہلے مرشد کے پاس جائوں یا دوسرے کامل بزرگ کے پاس؟ سوچ سوچ کر اپنے مرشد کے پاس تحائف لے گیا۔ مرشد نے کہا کہ یہ تحائف اس بزرگ کے پاس لے جا جس نے ستر بار تیرے لئے دعا کی اور اس بلا کو جو فی الواقع ہونے والی تھی خواب میں بدلوا کر اُسے ٹلوا دیا۔
(سیرت احمد صفحہ162-163۔ مرتبہ قدرت اللہ سنوری)
سوال جواب
٭…مجلس خدام الاحمديہ امريکہ کے مڈویسٹ ريجن کے ایک خادم نے حضرت امیر المومنین سے درخواست کی کہ حضور! گذشتہ خلفائے کرام سےاپنی ملاقاتوں کی کچھ یادیں بیان فرمادیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میں پوری طرح ہوش میں آنا شروع ہوا توخلیفہ ثانیؓ اس وقت بیمار تھے لیکن اُس وقت بھی وہ جیسا کہ میں نے بتایا ان کو کہ نصیحت کیا کرتے تھے۔ باقی خلیفة المسیح الثالثؒ نصیحت کرتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ میں سٹوڈنٹ تھا میرے ابا نے خلیفہ ثالثؒ کوکہہ دیا کہ یہ پڑھتا کم ہے۔ لگتا ہے سوتا زیادہ ہے۔ اس کو نصیحت کریں۔ تو حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے بڑا ہنس کے مجھے کہا جتنی دیر تمہیں نیند آتی ہے اچھی طرح سویا کرو اس کے بعد بیٹھ کے اچھی طرح پڑھ لیا کرو۔ simple نصیحت، کوئی کچھ نہیں۔
یونیورسٹی میں جب ہم پڑھتے تھے اُس وقت 74ء کے فساد ہوئے ۔ انہوں نے احمدی سٹوڈنٹس کو یونیورسٹی سے نکال دیا تھا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ دوسرے غیر احمدی ہمیں مار دیں گے۔ وہ لوگ بڑے vicious ہوئے ہوئے تھے ۔ اُس وقت خلیفہ ثالثؒ نے مجھے کہا کہ تم یونیورسٹی جاؤ اور دو احمدی لڑکے اور لے جاؤ۔ تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ تو میرے والد صاحب نے کہا کہ بڑی خطرناک بات ہے۔ میں نے کہا اب تو خطرناک ہو یا نا خطرناک ہو خلیفہ ثالثؒ نے کہہ دیا میں نے تو جانا ہی جانا ہے۔ تو ہم چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ۔مجھے تو انہوں نے(خلیفہ ثالثؒ نے) کہا تھا کہ تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ مجھے تو کچھ نہیں کہا۔ دو احمدی لڑکے تھے۔ وہ جو لڑکے تھے غیر احمدیوں کے قابو آگئے۔ انہوں نے انہیں خوب مارا اور پھر ان کے خلاف کیس بھی ہو گیا۔ مار بھی انہوں نے کھائی ہے کیس بھی ان کے خلاف ہو گیا۔ پولیس نے ان کو اوپر چارج کر کے prison میں ڈال دیا۔ بہرحال اس کے بعد تھوڑی دیر تک وہ prison میں رہے۔ پھر bail ہوئی اور free ہو گئے۔ تو خلیفہ ثالثؒ کی بات میں نے مانی تھی۔ میں نے کچھ نہیں کہا اور وہ بات پوری ہوئی ۔ مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا میں یونیورسٹی سے ہوکے آ گیا۔ وائس چانسلر سے ملنے کی کوشش کی انہوں نے کہا ملنا نہیں لیکن تم چلے جاؤ ہم تمہیں یہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ میں نے آ کے خلیفہ ثالثؒ کوساری بات بتا دی۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم نے جو کام کرنا تھا کر لیا۔ اب بیٹھو حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ اور ایک دو مہینے بعدسب ٹھیک ہو گیا۔
اسی طرح خلیفہ رابعؒ کے ساتھ واسطہ رہا۔ کام میں کرتا رہا، واقف زندگی تھا۔ اُس وقت میں گھانا میں تھا اور مجھے وہاں سے ہدایت دیتے رہتے تھے کہ یہ کام کرنا ہے،یہ کام کرنا ہے اور appreciate بھی کرتے تھے۔ پھرربوہ آ گیا وہاں بھی ایسا ہی رہا۔ بہرحال میں بھی کوشش کرتا تھا کہ پوری طرح اُن کے جو حکم ہیں اُن کو فالو کروں اور وہ بھی میری باتوں کو پسند کرتے تھے اور appreciate بھی کرتے تھے۔ میری بھی یہ دعا ہوتی تھی کہ میرے سے کوئی خلیفہ ناراض نہ ہو جائے۔ بس اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی تھیں ۔ باقی باتیں جو لمبی چوڑی ہیں وہ مجھے اس وقت نہ یاد آتی ہیں ،نہ بیان کر سکتا ہوں، نہ وقت ہے۔(الفضل انٹرنیشنل 6؍نومبر 2025ء)
٭… ایک واقفہ نو نے سوال کیا کہ روز کے روز صدقہ نکال کر جب کافی سارا جمع ہو جائے تو اُس کو کدھر استعمال کرنا چاہئے ؟ میں زیادہ دیر اُسے گھر میں رکھنا نہیں چاہتی۔
اِس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:بہت اچھی عادت ہے، روز صدقہ نکالتی ہو۔ صدقہ نکال کر جمع کر لیا کریں۔ اگر کوئی ایسانہ ملے جس کو دے سکیں تو پھر مہینہ کے آخر پر کسی جگہ دے دیں۔ جماعت کے صدقات میں دے دیں۔ کسی چیریٹی میں دے دیں۔ جس کا پتہ ہو کہ صحیح طرح استعمال ہورہا ہے۔ Save The Children چیریٹی ہے یا اور بہت سی چیریٹیز ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مریم فنڈ میں فنڈ کے طور پر دیں۔ صدقہ کر کے نہ دیں۔ صدقہ غریب کو دیں اور آپ مختلف جگہوں پر دے سکتی ہیں۔ روز کا روز نکالتی ہیں تو بڑی اچھی بات ہے۔ نکالنا چاہئے۔ میں خود روز نکالتا ہوں، پھر اکٹھا کر کے کسی کو دے دیتا ہوں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مریضوں کی امداد میںبھی دے سکتی ہو۔ افریقہ میں ہمارے بہت سارے غریبوں کے فنڈ ہیں، ان میںصدقہ دے سکتی ہو۔ ہیومینٹی فرسٹ میں دے سکتی ہو۔ اُن کو جمع کروا دو، ان کو ضرورت پڑتی ہے۔ جرمنی والے ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ بینن میں دار الیتامیٰ چلا رہے ہیں اور پھر کچھ ہسپتال کھول رہے ہیں تو وہاں مدد ہو جائے گی۔ بلکہ وہاں صدقہ جاریہ ہو جائے گا۔ اس طرح یتیم خانہ کے لئے یا ہسپتال کے لئے وہ ایسا صدقہ ہے کہ تمہاری رقم تو وہاں ایک دفعہ دی گئی ہے لیکن کیونکہ وہ ایسا کام ہے جو مستقل جاری ہے اور اس سے مخلوق کی خدمت ہورہی ہے۔ تو اس کو صدقہ جاریہ کہتے ہیں۔ وہاں تمہارا نام آجاتا ہے۔ ظاہری نہ بھی آئے تو اللہ تعالیٰ کی فہرست میں ضرور آجاتا ہے۔
(الفضل انٹرنیشنل 12؍جو لائی2013ء )
