تربیتِ اولاد اور رمضان ۔ تقویٰ کی عملی بنیاد
انسانی زندگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے نہایت مختصر اور عارضی ہے۔ قرآنِ کریم اس حقیقت کو بڑے جامع انداز میں بیان فرماتا ہے:كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ (آل عمران:۱۸۶) یعنی ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔ یہ آیت ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ دنیا کی زندگی پانی کا بلبلہ ہے۔ کوئی بھی انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔ اسے ایک نہ ایک دن اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہونا ہی ہے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جس کی بنا پر ایک مسلمان اپنی زندگی کے ہر عمل کو بامعنی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی آخرت کی تیاری کرتا ہے اور اسی طرح اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بھی فکر مند ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ جذبہ ودیعت فرمایا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دینی و دنیاوی طور پر کامیاب انسان بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنی استطاعت اور علم کے مطابق اپنی نسل کی تربیت کرتا ہے۔ ایک عالم اپنی اولاد کو علم سکھاتا ہے، ایک تاجر انہیں کاروبار کے اصول سمجھاتا ہے، ایک ڈاکٹر یا حکیم اپنی مہارت یا اپنے نسخے منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سب کاوش کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی اولاد نہ صرف اس کے قائم کردہ کاروبار وغیرہ کو برقرار رکھے بلکہ اسے مزید ترقی دے۔
لیکن ایک مسلمان کے لیے اس سے بھی بڑھ کر ایک اہم ذمہ داری ہے،اور وہ ہے اپنی اولاد کو دین کی تعلیم دینا، ان میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنا اور تقویٰ کی روح کو بیدار کرنا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کے بعد بھی اس کے لیے صدقہ جاریہ اور اس کی دائمی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے چند چیزوں کے، جن میں سے ایک ایسی نیکیاں ہیں جو اس کی اولاد میں جاری رہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اولاد کی صحیح تربیت نہ صرف دنیاوی فائدہ دیتی ہے بلکہ آخرت میں بھی انسان کے لیے باعثِ رحمت ہے۔
رمضان المبارک اس تربیت کے لیے ایک نہایت موزوں اور بابرکت مہینہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ایک مسلمان خود بھی عبادت، روزہ، نماز اور تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوتا ہے اور اس کا دل چاہتا ہے کہ اس کی اولاد بھی ان نیکیوں میں شریک ہو۔ اس ماحول میں بچوں کے دلوں میں بھی عبادت کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور وہ اپنے والدین کی پیروی کرتے ہوئے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔
تاہم یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو روزے کی عادت کس عمر سے ڈالنی چاہیے؟ کیا کم عمر بچوں کو بھی روزے رکھنے پر مجبور کرنا چاہیے یا اس میں تدریج اختیار کرنی چاہیے؟ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اس میں افراط سے کام لیتے ہوئے بہت چھوٹے بچوں سے زبردستی روزے رکھواتے ہیں تو بعض تفریط سے کام لیتے ہوئے اپنے بالغ بچوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین نہیں کرتے۔ قرآنِ کریم ہمیں عمومی اصول سکھاتا ہے کہ نصیحت اور تربیت کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے:وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ (الذاریات:۵۶) پس نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت یقیناً مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔
اسی اصول کی روشنی میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے نہایت حکیمانہ انداز میں بچوں کے روزوں کے متعلق راہنمائی فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں: ’’پھر کئی ہیں جو چھوٹے بچوں سے بھی روزہ رکھواتے ہیں۔ حالانکہ ہر ایک فرض اور حکم کے لئے الگ الگ حدیں اور الگ الگ وقت ہوتا ہے۔ میرے نزدیک بعض احکام کا زمانہ چار سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ سات سال سے بارہ سال تک ہے اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ پندرہ یا اٹھارہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔ میرے نزدیک روزوں کا حکم پندرہ سال سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے بچے پر عائد ہوتا ہے اور یہی بلوغت کی حد ہے۔
میرے نزدیک اس سے پہلے بچوں سے روزے رکھوانا ان کی صحت پر بہت برا اثر ڈالتا ہے کیونکہ وہ زمانہ ان کے لئے ایسا ہوتا ہے جس میں وہ طاقت اور قوت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ پس جس زمانہ میں کہ وہ طاقت اور قوت کے ذخیرہ کو جمع کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ان کی طاقت کو دبانا اور بڑھنے نہ دینا ان کے لئے سخت مضر ہے۔ دیکھو آئیل کے انجن یا دوسرے انجنوں کی زائد سٹیم چھوڑی جاتی ہے یہ کبھی نہیں کیا جاتا کہ جس وقت کہ سٹیم انجن میں تیار ہو رہی ہو اور کافی مقدار تک نہ پہنچی ہو اس وقت نکال دی جائے۔ دریا کو بند لگا کر دوسری طرف نہر کے ذریعے پانی کا رخ تبھی بدلا جاتا ہے جب کہ دریا میں پانی زیادہ ہو۔ لیکن اگر دریا میں پانی کافی نہ ہو تو پھر اس سے پانی نہیں نکالا جاتا پس جس زمانہ میں بچہ طاقت پیدا کر رہا ہو اس کو روزہ نہ رکھوانا چاہیے۔ تاوقتیکہ اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو جائے۔ کیونکہ اس سے پہلے بچہ پر روزہ فرض نہیں ہوتا۔ تو نہ صرف یہ کہ اس عمر میں بچوں سے روزے نہ رکھوائیں۔ بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ روزے نہ رکھیں۔ کیونکہ بچوں کو خود بھی شوق ہوتا ہے کہ روزہ رکھیں۔‘‘
حضورؓ مزید فرماتے ہیں:’’ بارہ سال سے کم عمر کے بچے سے روزہ رکھوانا تو میرے نزدیک جرم ہے اور بارہ سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچے کو اگر کوئی روزہ رکھواتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔ پندرہ سال کی عمر سے روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور اٹھارہ سال کی عمر میں روزے فرض سمجھے جانے چاہئیں… اس طرح بتدریج اس وقت ان کو روزہ کا عادی بنایا جائے۔‘‘
(خطباتِ محمودؓ، جلد ۹، صفحات ۸۸-۸۹، خطبہ جمعہ فرمودہ ۳ اپریل ۱۹۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ کا یہ ارشاد اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کو نمایاں کرتا ہے کہ عبادات میں بھی توازن، حکمت اور تدریج کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اسلام نہ تو غیر ضروری سختی کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی غفلت کی اجازت دیتا ہے، بلکہ ہر چیز کو اس کے مناسب وقت اور حالت کے مطابق انجام دینے کی ہدایت دیتا ہے۔
اسی طرح قرآنِ کریم بیماری کے معاملے میں بھی واضح رعایت دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی انسان کی فطری کمزوری اور بہانہ جُوئی کی طرف بھی اشارہ فرماتا ہے:إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا (المعارج:۲۰)کہ یقیناً انسان بے صبرا اور کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جس کی نہایت خوبصورت وضاحت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمائی۔ حضورِ انور فرماتے ہیں: ’’قرآنِ کریم کی واضح ہدایت ہے کہ مریض ہو تو نہ رکھو۔ مریض ہونے کے امکان پر کہ مریض بن جائیں گے روزہ چھوڑنا یہ غلط ہے… حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں … بہت لوگ بہانہ جُو ہیں… خدا اس کی نیت اور ارادے کو جانتا ہے… جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے اس کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ صدق اور اخلاص دکھانے والے کا سلوک کرتا ہے لیکن جو بہانہ جُو ہے اس سے پھر اس کے مطابق سلوک ہوتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، فرمودہ ۲۴؍ اپریل ۲۰۲۰ء)
یہ تعلیم ہمیں ایک نہایت متوازن نقطۂ نظر دیتی ہے۔ ایک طرف اسلام بیماری اور کمزوری کی حالت میں رعایت دیتا ہے، اور دوسری طرف ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہم اپنی کمزوری کو بہانہ نہ بنائیں بلکہ اخلاص کے ساتھ عبادت کریں۔
پس رمضان المبارک محض روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع تربیتی نظام ہےجس میں انسان اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے، اپنی عبادات کو بہتر بناتا ہے اور اپنی اولاد کو بھی اس نیکی کے راستہ پر گامزن کرتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہایت حکمت، محبت اور تدریج کے ساتھ اپنے بچوں میں دین کی محبت پیدا کریں، نہ کہ سختی اور جبر کے ذریعے۔
الغرض اگرچہ انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا، بلکہ ایک مختصر عرصہ گزار کر اسے واپس جانا ہے لیکن اس مختصر زندگی کو وہ دائمی بنا سکتا ہےاگر وہ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرے جو تقویٰ، عبادت اور خدا تعالیٰ کی محبت پر قائم ہو۔
رمضان المبارک ہمیں یہ سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم نہ صرف اپنی اصلاح کریں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی نیکی کے راستوں پر گامزن کر جائیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: رمضان’’خدا کے فضلوں کا مہینہ ہےاس سے جس قدر ہو سکے فائدہ اٹھا لو‘‘




