خوش قسمت ہیں وہ جو اس عظیم کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنا کر اس پر عمل کریں
امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ اس آیت [شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ … (البقرۃ:186) ] میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے کی اہمیت اس حوالے سے بیان فرمائی ہے کہ اس مہینے میں قرآن اتارا گیا جو انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں تمام امور کا احاطہ کرکے، تمام ہدایات دے کر، انسان کے اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے تمام راستے دکھا کر، شیطان کے تمام راستوں سے ہوشیار کرکے، موجودہ اور آئندہ آنے والے امور کی طرف راہنمائی کرکے، ان کے خطرات سےآگاہ کرکے، ان سے بچنے کے راستے دکھا کر، دہریت کا مقابلہ کرنے کے راستے دکھا کر، شرک سے ہوشیار کرنے اور اس سے بچنے کے طریقے سکھا کر غرضیکہ تمام امور جو موجودہ ہیں یا پرانے زمانے میں تھے یا آئندہ ہوں گے ان سب کو قرآن مجید میں بیان کر کے خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے تمام راستے اس آخری کامل اور مکمل شریعت میں بیان کر دیے ہیں۔ پس خوش قسمت ہیں وہ جو اس عظیم کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنا کر اس پر عمل کریں اور اپنی دنیا و عاقبت سنوار لیں۔ سچائی کو پکڑلیںاور سچائی پر قائم ہو جائیں تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے پیار کے سلوک کے نظارے بھی دیکھیں گے۔
پس یہ ہے رمضان کے مہینے کی اہمیت کہ اِس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت ہم پر اتاری ہے اور اُس کتاب میں ہمیں روزوں کی فرضیت اور عبادتوں کے طریقے بھی سکھائے ہیں… رمضان میں روزے رکھنے یا فرض نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے یا کچھ نوافل پڑھ لینے سے رمضان کا حق ادا نہیں ہوتا بلکہ قرآن کریم کو پڑھنا اور اس کے احکامات تلاش کر کے اس پر عمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے… قرآن کریم کی تلاوت کی اہمیت کے بارے میں بتا دوں کہ یہ بھی انتہائی ضروری چیز ہے جسے رمضان میں خاص طور پر ہر ایک کو ضرور کرنا چاہیے اور کم از کم ایک سیپارہ روزانہ تلاوت کرنی چاہیے تا کہ رمضان رمضان میں قرآن کریم کا ایک دَور مکمل ہو جائے۔
(خطبہ جمعہ 22؍ مارچ 2024ء)
