نظم

رغبتِ دل سے ہو پابند نماز و روزہ

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے

پر ہے یہ شرط کہ ضائع مرا پیغام نہ ہو


چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو

تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو


رغبتِ دل سے ہو پابند نماز و روزہ

نظر انداز کوئی حصۂ احکام نہ ہو


پاس ہو مال تو دو اس سے زکوٰۃ و صدقہ

فکرِ مسکیں رہے تم کو غمِ ایام نہ ہو


اپنی اِس عمر کو اِک نعمتِ عظمیٰ سمجھو

بعد میں تاکہ تمہیں شکوۂ ایام نہ ہو


میری تو حق میں تمہارے یہ دعا ہے پیارو

سر پہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو

(کلامِ محمود مع فرہنگ صفحہ134تا 136)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button