گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
بہرے کی حکایت
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’مثنوی میں ایک بہرہ کی حکایت لکھی ہے کہ وہ کسی بیمار کی عیادت کو گیا اور خود ہی تجویز کر لیا کہ پہلے مزاج پوچھوں گا۔وہ کہے گا اچھا ہے۔میں کہوں گا الحمدﷲ۔اور پھر میں پوچھوں گا کہ آپ کیا کھاتے ہیں تو وہ چونکہ بیمار ہے یہی کہے گا کہ مونگ کی دال کھاتا ہوں۔میں کہوں گا بہت اچھا ہے اور پھر پوچھوں گا طبیب کون ہے۔وہ کہے گا کہ فلاں ہے۔میں کہوں گا خوب ہے۔دستِ شفا ہے۔لیکن جب وہاں گئے تو
بہرہ۔(مریض سے) آپ کامزاج کیسا ہے؟
مریض۔مَر رہا ہوں۔
بہرہ۔الحمدﷲ۔
بہرہ۔(مریض سے) آپ کی غذا کیا ہے؟
مریض۔خونِ جگر۔
بہرہ۔بہت اچھی غذا ہے۔
بہرہ۔(مریض سے) طبیب کون ہے؟
مریض۔ملک الموت۔
بہرہ۔طبیب اچھا ہے۔دستِ شفا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 212-213)
سوال جواب
بِگ بینگ (Big Bang) سے پہلے کیا تھا
٭…ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ بِگ بینگ (Big Bang) سے پہلے کیا تھا، کیا اس سے پہلے کوئی اَور دنیا موجود تھی اور اللہ تعالیٰ کب سے زندگی بنا رہا ہے اور کب تک بناتا رہے گا؟
اس پر حضورِانور نے انسانی علم کی محدودیت کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ ہمیں یہ ساری باتیں پتا ہوتیں تو ہم عالم الغیب نہ ہو جاتے۔
پھر حضورِانور نے قرآنِ کریم کی روشنی میں آغازِ کائنات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ سب ایک بند چیز تھی، جو قرآنِ شریف سورة الانبیاء میں اس نے لکھا ہے کہ یہ سب کچھ بند تھا ، پھر مَیں نے اس کو پھاڑا ، تووہ بِگ بینگ (Big Bang)ہو گیا اور یہ ساری کائنات بنی اور اس طرح کی اور بہت ساری کائناتیں ہیں۔
بعدازاں حضورِانور نے کائنات کے انجام اور دوبارہ تخلیق کے قرآنی تصوّر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ پھر مَیں لپیٹ لوں گا، جس طرح کتابیں لپیٹی جاتی ہیں اور صحیفے کاغذ لپیٹتے ہو، اس طرح لپیٹوں گا۔ پھر ایک اور دوبارہ بِگ بینگ ہوگا اور پھر دوبارہlife اللہ تعالیٰ بنائے گا۔
جواب کےآخر میں حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ تو جتنا ہمیں پتا ہے، وہ اتنا ہی پتا ہے ، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے بتایا نہیں ۔ نیز اس مضمون کی مزید تفہیم حاصل کرنے کی غرض سے تحریک فرمائی کہ قرآنِ شریف میں سورۂ انبیاء کی تفسیر پڑھو۔
عید کے دن روزہ رکھنا کیوں منع ہے؟
ایک خادم نے دریافت کیا کہ عید کے دن روزہ رکھنا کیوں منع ہے؟
اس پر حضورِانور نے روزے رکھنے کی غرض اور عبادت کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں، اس لیے رکھتے ہیں کہ اللہ نے حکم دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبادت بنایا، روزے رکھنے کو بھی ایک عبادت بنایا، کلمۂ طیّبہ کے بعد نماز، روزہ، زکوٰة، حج ۔ اس کا مطلب ہے کہ روزہ عبادت ہے، سو! عبادت وہ چیز ہوتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے جس طرح حکم دیا ہے، اس کے مطابق کرنا، اوروہ ہم کرتے ہیں کہ صبح سے شام تک جائز چیزوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے عید کے دن روزہ نہ رکھنے کی حکمت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں مضمر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم نے تیس دن روزے رکھے، اب تمہیں مَیں رِیوارڈ دے رہا ہوں، تو آج تم خوشی کا دن مناؤ۔ آج تم نے روزہ نہیں رکھنا ، کیونکہ اب تمہارے جو تیس دن یا اُنتیس دن جو عبادت کے گزرے اور اُس میں اللہ تعالیٰ کے قریب تم آئے اور عبادت کے معیار کو اُونچا کیا، تو اُس میں شیطان بڑا پریشان تھا، تو آج تم خوشیاں مناؤ اور شیطان اس پریشانی میں آج روزہ رکھ رہا ہے ۔تو تم نے عید کے دن روزہ رکھنا ہے تو شیطان کے ساتھ مل جاؤ گے اور اللہ کی عبادت نہیں کرو گے۔ ہم نے تو وہ کرنا ہے کہ جو اللہ میاں نے ہمیں کہا۔ عبادت تو وہ ہے کہ جو اللہ کے حکم کے مطابق کی جائے۔
مزید برآں حضورِ انور نے عید کے دن خوشیوں اور غریبوں کے حقوق کی ادائیگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے تیس دن روزے رکھو اور عید والے دن روزہ کھولو اور خوشیاں مناؤ اور پھر ان دنوں میں غریبوں کا بھی خیال رکھو کہ وہ تمہارے ساتھی ہیں، تمہارے بھائی ہیں، ان کو تم نے کھانا پلانا ہے، ان کی خدمت کرنی ہے اور ان کو تحفہ دینا ہے تاکہ وہ بھی اچھی عید گزار سکیں۔ تو اللہ کے حکم کے مطابق ہم کام کرتے ہیں۔
بعدازاں حضورِ انور نےاحکامِ الٰہی کی بجا آوری میں سحری اور افطاری کی فضیلت اور اِن کی عبادت میں حیثیت واضح فرمائی کہ پھر تم یہ بھی کہہ دو گے کہ ہم سحری کیوں کھاتے ہیں اور افطاری کیوں کرتے ہیں؟ سحری کھانا بھی ضروری ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری بھی کھایا کرو افطاری بھی کیا کرو۔ آٹھ پہرے روزے مجبوری سے رکھتے ہیں، لیکن عموماً تو یہی ہے کہ آدمی کو سحری کھا کے روزہ رکھنا چاہیے اور افطاری کر کے روزہ کھولنا چاہیے۔ یہ بھی اللہ کا حکم ہے۔ جو بھی اللہ کے حکم پر عمل کرو گے تووہ عبادت بن جائے گی۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے سب کام اللہ کی خوشنودی کے لیے بجا لانے پر زور دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ اس لیےیہ ہمیشہ یاد رکھو کہ ہم نے جو کام کرنا ہے اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرنا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ خوش ہو اور ہمیں انعام دے اورہم سے راضی ہو۔
(الفضل انٹرنیشنل 26 فروری 2026ء)
