رمضان اورتلاوتِ قرآنِ کریم
رمضان کی پرسکون شام تھی۔ افطار کے بعد گھر میں ہلکی ہلکی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ سب لوگ گھر کے لاؤنج میں بیٹھے تھے۔ نماز تراویح کی تیاری ہو رہی تھی۔ دادی جان قرآن پاک کی زیر لب تلاوت کررہی تھیں ۔
محمود: دادی جان! فجر پر ہم سب تلاوت کرتے ہیں۔ لیکن آپ آجکل روز افطار کے بعد بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہیں؟
دادی جان نے رکوع مکمل کیا اور قرآن کریم کو غلاف میں لپیٹ دیا اور کہا محمود بیٹا ! یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ اسی مہینے میں قرآن پاک نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کوہم سب کے لیے ہدایت کی کتاب بنایا ہے اور حکم دیا ہے کہ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا( المزّمّل:5) کہ قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کریں اور ساتھ ہی اس کےترجمے پر بھی غور و فکر کیا کریں ۔ اسی لیے میں بھی روز تلاوت کررہی ہوں تاکہ ایک سے زیادہ دفعہ قرآن کریم کا دور مکمل کرسکوں اسی لیے ہر نماز کے بعد میں تلاوت کرتی ہوں ۔
گڑیا: دادی جان! قرآن مکمل کرنے کو’’ دور مکمل کرنا ‘‘ کیوں کہتے ہیں؟
دادی جان: بہت اچھا سوال ہے۔ دور کا مطلب ہے ایک چکر۔ جیسے کہتے ہیں چکریا راؤنڈ مکمل کرنا۔ قرآن مجید کو باقاعدگی سے روزانہ پڑھتے ہیں تاکہ پورے رمضان میں کم از کم ایک بار قرآن کریم مکمل ختم ہو جائے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔ اس پر میں نے عرض کیاکہ میں زیادہ قوت پاتا ہوں۔ اس پر آنحضورﷺ نے فرمایا :اچھا سات راتوں میں پڑھ لیا کرو اور اس سے زیادہ نہیں۔
مجھے یاد آگیا کہ ایک بار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس حوالے سے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا تھا کہ اگر وقت ہے تو پھر بھی اجازت نہیں کہ ایک ہفتہ سے پہلے قرآن کریم کا دور پورا مکمل کیا جائے کیونکہ فکر اور غور نہیں ہو سکتا۔ جلدی جلدی پڑھنا صرف مقصد نہیں ہے۔
گڑیا : کیا صرف رمضان میں ہی دور مکمل کیا جاتا ہے یا ویسے بھی ایک ماہ میں مکمل کر سکتے ہیں ْ
دادی جان : جی ہاں بیٹا! تلاوت قرآن کریم تو ہماری زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیے مگر عام روٹین میں تو ہم ایک یا دو رکوع کی ہی تلاوت کرتے ہیں لیکن رمضان المبارک میں کوشش کرنی چاہیے کہ سارا قرآن ایک بار تو ضرور مکمل کریں ۔
احمد: کیا پہلے لوگ بھی یہ دور مکمل کرتے تھے ؟
دادی جان: جی ہاں بیٹا! یہ سنت ہمیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ سے ملی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جبریل ؑ ہر سال رمضان میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نازل شدہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور آپؐ کے وصال کے سال یہ دور دو مرتبہ کیا گیا۔ دو دفعہ قرآن کریم دہرایا گیا۔
محمود: تو کیا میں بھی قرآن پاک کا دور مکمل کرسکتا ہوں ؟
دادی جان (مسکراتے ہوئے): کیوں نہیں! اگر ہم روز تھوڑا تھوڑا کرکے ایک پارہ قرآن پڑھیں تو تیس دن میں ہمارا بھی دور مکمل ہو جائے گا۔
گڑیا: میں بھی پڑھوں گی! لیکن مجھے لگتا ہے کہ جلدی جلدی پڑھنے میں غلطیاں زیادہ کروں گی ۔
دادی جان: بیٹی، قرآن سیکھتے وقت غلطی پر ڈرنا نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے۔اسی لیے تو ہمیں آرام سے تلاوت کرنے کا حکم ہے ۔
احمد: دادی جان! قرآن کریم کا دور مکمل کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟
دادی جان: بہت سے فائدے ہوتے ہیں بیٹا۔ دل کو سکون ملتا ہے، ثواب ملتا ہے، اور ہمیں قرآن کے پیغام کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ رمضان میں تو ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ جس نے قرآن کا ایک حرف بھی پڑھا اس کو اس کے پڑھنے کی وجہ سے ایک نیکی ملے گی اور اس ایک نیکی کی وجہ سے دس اور نیکیاں ملیں گی۔ پھر فرمایا :مَیں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، اور لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔
پھرقرآن کریم کی گھروں میں باقاعدہ تلاوت کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھروں میں کثرت سے تلاوت قرآن کریم کیا کرو۔ یقیناً وہ گھر جس میں قرآن نہ پڑھا جاتا ہو وہاں خیر کم ہو جاتی ہے۔ اور وہاں شر زیادہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ گھر اپنے رہنے والوں کے لیے تنگ پڑ جاتا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍ جولائی 2014ء میں فرماتے ہیںکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ اور اللہ تعالیٰ کے خاص منشاء سے آپ کا یہ طریق ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ ہم قرآن کریم
کو کم از کم ایک بار تو ضرور رمضان میں ختم کرنے کی کوشش کریں اور…اس پر غور بھی کریں۔ جب غور کریں گے، پڑھیں گے، سمجھیں گے تو تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کرنے والے ہو سکیں گے کہ ہُدًی لِّلنَّاسِ یعنی انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔ ان انسانوں کے لیے ہدایت ہے جو اس سے ہدایت لینا چاہتے ہیں اور ہدایت پڑھے اور سمجھے بغیر تو نہیں مل سکتی۔
محمود: تو پھر آج سے ہم سب مل کر دور شروع کرتے ہیں اور ہر نماز کے بعد کچھ حصہ تلاوت کریں گے۔
گڑیا اور احمد (خوشی سے): جی ہاں!
چلیں تراویح کا وقت ہو گیا ہے۔ تراویح سے واپسی پر دادی جان نے سب بچوں کو اپنے پاس بٹھایا۔ سب نے اپنا اپنا قرآن مجید کھولا اور سب کی تلاوت کی آواز گھر میں گونجنے لگی۔ گھر کا ماحول نور سے بھر گیا۔
اس دن سے گھر میں روز افطار کے بعد قرآن پاک کی تلاوت معمول بن گئی اور رمضان کی برکتیں ان سب کے دلوں میں اترنے لگیں۔
(درثمین احمد۔ جرمنی)
