بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایتِ مسیح الزماںؑ

کہانی سنانا گناہ نہیں

ایک روز کسی بیمار بچہ نے کسی سے کہانی کی فرمائش کی تو اس نے جواب دیا کہ ہم تو کہانی سنانا گناہ سمجھتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایاکہ’’گناہ نہیں۔ کیونکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی کبھی کبھی کوئی مذاق کی بات فرمایا کرتے تھے اور بچوں کو بہلانے کے لئے اِس کو رَوا سمجھتے تھے۔جیسا کہ ایک بڑھیا عورت نے آپؐ سے دریافت کیا کہ حضرت کیا میں بھی جنت میں جائوں گی؟ فرمایا نہیں۔ وہ بڑھیا یہ سن کر رونے لگی۔ فرمایا۔ روتی کیوں ہے؟ بہشت میں جوان داخل ہوں گے۔ بوڑھے نہیں ہوں گے یعنی اس وقت سب جوان ہوں گے۔‘‘

اسی طرح سے فرمایا کہ’’ایک صحابی کی داڑھ میں درد تھا وہ چھوارا کھاتا تھا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ چھوارا نہ کھا کیونکہ تیری داڑھ میں درد ہے ۔اُس نے کہا میں دوسری داڑھ سے کھاتا ہوں۔

پھر فرمایا کہ ایک بچہ کے ہاتھ سے ایک جانور جس کو نُغَیْر کہتے ہیں چھوٹ گیا۔ وہ بچہ رونے لگا۔ اس بچہ کا نام عُمَیر تھا۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ عُمَیرُ! مَافَعَلَتْ بِکَ نُغَیْر؟ اے عمیر نغیر نے کیا کیا؟ لڑکے کو قافیہ پسند آگیا۔اس لیے چپ ہوگیا۔‘‘

(ملفوظات جلد 8 صفحہ237۔238 ایڈیشن2022ء)

سوال جواب

حضور انور کو سحر و افطار میں کیا کھانا پسند ہے؟

٭…ایک ناصرہ نے حضور انور سے دریافت کیا کہ حضور انور کو رمضان میں سحر و افطار میں کیا کھانا پسند ہے؟

حضور انور نے فرما یا کہ میں بالعموم جو ناشتہ کرتا ہوں وہی سحری میں لیتا ہوں اور جو میں کھانا کھاتا ہوں وہی افطاری میں کھا لیتا ہوں۔ جیساکہ یہ آنحضرتﷺ کی سنت ہے، میں افطاری کھجور سے کرتاہوں۔ پھر میں جیساکہ بالعموم لوگ فضول چیزیں کھاتے ہیں جیسے سموسے، پکوڑے اور چاٹ وغیرہ اور دیگر غیرضروری کھانے، بالکل نہیں کھاتا۔ میں اتنا زیادہ بھی نہیں کھاتا کہ افطاری کے بعد پریشانی محسوس ہو اور صبح کے وقت روزہ رکھنے کے لیے اٹھنے میں بھی دِقّت محسوس ہو۔ اس لیے ایک سادہ روٹین ہونی چاہیے۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ ایک معاشرے کے طور پر ہم نے یہ روایت بنا لی ہے کہ رمضان کے سحر و افطار میں ضرور ہم نے کوئی خاص چیز کھانی ہے۔ یوں ایک طرف تو ہم غیرضروری خرچ بڑھا لیتے ہیں اور پیٹ الگ خراب ہو جاتاہے اور روزہ رکھ کر پورا دن آ پ کو سستی رہتی ہے۔ روزہ کا مزہ تو تب ہے کہ جو آپ اپنی معمول کی خوراک کھاتے ہیں اسی سے روزہ رکھو اور اسی سے روزہ کھولو اور وہ پیسے جو آپ شاہانہ چیزوں کے کھانے میں خرچ کرتے ہیں وہ صدقہ و خیرات میں دے دو۔

(الفضل انٹرنیشنل 25؍اگست 2021ء)

میرا پیارا جلسہ سالانہ سیرالیون

میرا نام نبیلہ نور ہے اور میں سیرالیون میں رہتی ہوں۔ فروری 2026ء میں سیرالیون میں جلسہ سالانہ منعقد ہوا تھا۔ یہ میرا تیسرا جلسہ سالانہ تھا۔ مجھے جلسے کے دن بہت اچھے لگتے ہیں کیونکہ وہاں مجھے مزہ آتا ہے اور میں بہت کچھ سیکھتی بھی ہوں۔ آئیے! میں آپ کو اپنے پیارے جلسہ سالانہ سیرالیون کے بارے میں کچھ بتاتی ہوں۔

اس سال 6 تا 8 فروری 2026ء سیرالیون میں اکسٹھواں جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ اس میں بیس ہزار سے بھی زیادہ لوگ شامل ہوئے تھے۔ یہ جلسہ بو (Bo)شہر میں احمدیہ کمپاؤنڈ میں منعقد ہوا۔ اس کمپاؤنڈ میں چھ احمدیہ سکولز، ریجنل ہیڈکوارٹر، جامعہ احمدیہ، ہاسٹل،مسجد، اساتذہ کے کوارٹرز اور ایک بڑا گراؤنڈ ہے جہاں جلسہ سالانہ منعقد ہوتا ہے۔

جلسہ سالانہ کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم ڈاکٹر زاہد احمد خان صاحب صدر قضاء بورڈ یوکے کو اپنے نمائندہ کے طور پر بھجوایا تھا۔ ہم بدھ کی شام کو ہی بو شہر پہنچ گئے تھے۔ جمعرات کے دن ہم نے جلسہ گاہ کی تیاری دیکھی۔ وہاں سب لوگ بہت محنت سے خدمت کر رہے تھے اور جلسے کے انتظامات آخری مراحل میں تھے۔ جمعرات کی رات تک چودہ ہزار سے زیادہ لوگ بو شہر پہنچ چکے تھے۔ جلسہ گاہ میں اُن سب ممالک کے جھنڈے بھی لگائے گئے تھے جہاں احمدیت کا پیغام پہنچ چکا ہے۔

تینوں دنوں کا آغاز تہجد کی نماز سے ہوتا تھا۔ جس میں شہر کے دیگر غیر احمدی مسلمان بھی بڑی تعدادمیں شامل ہوتے ہیں۔ جلسے کی کارروائی پروگرام کے مطابق چلتی رہی۔ جلسے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں کے لوکل احمدیوں نے اردو میں بہت خوبصورت نظمیں پڑھیں۔ خواتین کے اجلاس میں بھی بہت پیاری نظمیں پیش کی گئیں۔حضور انور ایدہ اللہ کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔

جلسہ گاہ میں ایک نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ اس نمائش میں مختلف زبانوں میں ہونے والے تراجم ِقرآنِ کریم رکھے گئے تھے۔ وہاں مختلف بینرز پر سیرالیون اور جماعت احمدیہ کے تعارف اور ترقی کے بارے میں بھی بہت سی معلومات لکھی ہوئی تھیں۔ نمائش میں ایک خاص چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ اسے ایک خوبصورت فریم میں رکھا گیا تھا اور اس پر یہ الہام لکھا تھا:“بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔”

اس سال پہلی مرتبہ لجنہ اماء اللہ کی طرف سے بچوں کے لیے ڈرائنگ اور ایکٹیویٹی کارنر بھی بنایا گیا تھا۔ وہاں بہت سے بچے اور بچیاں آئے اور انہوں نے ڈرائنگ کی اور مختلف چیزیں سیکھیں۔ مجھے وہاں جا کر بہت مزہ آیا۔

جلسہ کے دنوں میں ہمیں یہاں کا مقامی کھانا ملتا ہے جو ہمیں بہت پسند ہے۔ ہم سب بہت شوق سے کھانا کھاتے ہیں۔ جلسے کے دنوں میں گرمی بھی ہوتی ہے، لیکن جب ہم اتنے زیادہ لوگوں کو دیکھتے ہیں تو گرمی کا احساس بھی کم ہوجاتا ہے اور وقت بھی خوشی خوشی گزر جاتا ہے۔

مجھے جلسہ سالانہ بہت پسند ہے کیونکہ وہاں ہمیں دین کی اچھی اچھی باتیں سننے کو ملتی ہیں، نئے دوست بنتے ہیں اور ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

(نبیلہ نور۔ سیرالیون)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button