پیغام سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز بر موقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ واطفال الاحمدیہ بھارت ، اکتوبر2015ء
قادیان کے خدّام اور بھارت کے خدّام کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے نمونے ایسے بنائیں جو جماعت کی نیک نامی کا موجب بنیں اور جس کی
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے
جماعت کی خدمت کے اعلیٰ معیار اپنے اندر قائم کریں اور ملک وقوم کی خدمت کے اعلیٰ معیاربھی اپنے اندر قائم کریں کہ ہر سطح پر حکومت کو بھی اور عام لوگوں کوبھی جو احمدی نہیں ہیں یہ پتہ ہو کہ ملک وقوم کیلئے جب بھی کسی قربانی کی یاکسی خدمت کی ضرورت پڑے گی تو احمدی صف اوّل میں شامل ہونے والے ہوں گے اور وہی ہیں جو اس میں شامل ہوتے ہیں
یادرکھیں کہ ہمارے ان اجتماعات کا مقصد دینی اور روحانی ترقی اور بہتر ی کے لئے پروگرام بناکران کو اپنی عملی حالتوں میں ڈھالنا ہے اور اجتماع اس عملی حالت کو جاری رکھنے کے لئے ایک کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے
پیغام سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز بر موقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ واطفال الاحمدیہ بھارت ، اکتوبر2015ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نَحۡمَدُہ وَنُصَلِّیۡ عَلٰی رَسُوۡلِہِ الۡـکَرِیۡمِ وَعَلٰی عَبۡدِہِ الۡمَسِیۡحِ الۡمَوۡعُوۡد
خداکے فضل اور رحم کے ساتھ
ھو الــنّـــاصــر
لندن
20-09-15
پیارے خدام الاحمدیہ بھارت !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنا سالانہ اجتماع منعقد کررہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کا انعقاد ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ آمین۔
بھارت کی خدام الاحمدیہ کی ایک اہمیت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بستی آپ کے ملک میں ہے اور یہی وہ بستی ہے جہاں سے ابتدا میں خدام الاحمدیہ کی بنیاد پڑی اور ساری دنیا میں پھیل گئی اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خدّام کے لئے یہ ماٹوتجویز فرمایا:’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔‘‘
اس لحاظ سے قادیان کے خدّام اور بھارت کے خدّام کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے نمونے ایسے بنائیں جو جماعت کی نیک نامی کا موجب بنیں اور جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعودؑکے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایاہے کہ وہ صحابہؓ کی جماعت سے ملنے والی ہے۔ وَاٰخَرِیۡنَ مِنۡھُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِھِمۡ مفسّروں نے مان لیاہے کہ یہ مسیح موعود ؑ والی جماعت ہے اور یہ گویا صحابہؓ کی ہی جماعت ہوگی۔ اور وہ مسیح موعود ؑ کے ساتھ نہیں درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ساتھ ہیں ۔ کیونکہ مسیح موعودؑ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے ایک جمال میں آئے گااور تکمیل تبلیغ اشاعت کے کام کے لئے وہ مامورہوگا۔ اس لئے ہمیشہ دل غم میں ڈوبتا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو بھی صحابہ ؓکے انعامات سے بہرہ ور کرے۔ ان میں وہ صدق ووفا ، وہ اخلاص اور اطاعت پیدا ہو جو صحابہ ؓمیں تھی۔یہ خدا کے سوا کسی سے ڈر نے والے نہ ہوں ۔ متقی ہوں ۔ کیونکہ خدا کی محبت متقی کے ساتھ ہوئی ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ۔‘‘ (الحکم ،جلد4 نمبر46 صفحہ1۔3، مورخہ 24دسمبر1900)
اس کے علاوہ جماعت کی خدمت کے اعلیٰ معیار اپنے اندر قائم کریں اور ملک وقوم کی خدمت کے اعلیٰ معیاربھی اپنے اندر قائم کریں کہ ہر سطح پر حکومت کو بھی اور عام لوگوں کوبھی جو احمدی نہیں ہیں یہ پتہ ہو کہ ملک وقوم کے لئے جب بھی کسی قربانی کی یاکسی خدمت کی ضرورت پڑے گی تو احمدی صف اوّل میں شامل ہونے والے ہوں گے اور وہی ہیں جو اس میں شامل ہوتے ہیں ۔
یادرکھیں کہ ہمارے ان اجتماعات کا مقصد دینی اور روحانی ترقی اور بہتر ی کے لئے پروگرام بناکر ان کو اپنی عملی حالتوں میں ڈھالنا ہے اور اجتماع اس عملی حالت کو جاری رکھنے کے لئے ایک کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے لئے اجتماع کے پروگرام مختلف النوع ہوتے ہیں جن میں تربیتی پہلوؤں کو بھی اور روحانی ترقی کے پہلوؤں کو بھی اور جسمانی نشوونمااور بہتری کے پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے پروگرام بنائے جاتے ہیں ۔ پس ان تین دنوں میں آپ جن پروگراموں کو دیکھیں ، سنیں یا ان میں حصہ لیں انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی بھی کوشش کریں اور جیسا کہ مَیں نے شروع میں کہا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب ہو کر جب آپ حضور علیہ السلام کی بستی میں یہ اجتماع منعقد کررہے ہیں تو پھر مستقل مزاجی سے اپنی تربیت کے اس کیمپ کے دوران حاصل کی گئی ہر قسم ٹریننگ کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنالیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے ۔ آمین
والسلام خاکسار
مرزا مسرور احمد
خلیفۃالمسیح الخامس




