خطاب حضور انور

جماعت احمدیہ یوکے کے49ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر22اگست2015ء کوسیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حدیقۃالمہدی، آلٹن میں دوسرے دن بعد دوپہر کا خطاب(دوسری و آخری قسط)

2015 – 2014 ء میں جماعت احمدیہ عالمگیر پر نازل ہونے والے بے انتہا فضلوں کا ایمان افروز تذکرہ

ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے تحت جاری مختلف نشریات کے شیریں ثمرات کا تذکرہ۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں احمدیہ ریڈیوز کے ذریعہ اسلام احمدیت کے پیغام کی وسیع پیمانے پر تشہیر۔ ایم ٹی اے کے علاوہ مختلف ممالک کے مقامی ٹی وی چینلزاور اسی طرح مقامی ریڈیوز پر پروگرام۔ اخبارات کے ذریعہ جماعتی پیغام کی تشہیر۔ تحریک وقف نَو، مخزن تصاویر، احمدیہ آرکائیو ریسرچنگ سینٹر ، مجلس نصرت جہاں ، ہیومینٹی فرسٹ اور خدمت انسانیت کے مختلف پروگراموں کا تذکرہ۔قیدیوں سے رابطہ، نو مبائعین سے رابطوں کی تفصیلات۔

اس سال 113ممالک کی 391اقوام کے 5لاکھ 67ہزار 330 افرادبیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔قبولِ احمدیت کے ایمان افروز واقعات

جماعت احمدیہ یوکے کے49ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر22اگست2015ء کوسیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حدیقۃالمہدی، آلٹن میں دوسرے دن بعد دوپہر کا خطاب (دوسری و آخری قسط)

ایم ٹی اے انٹرنیشنل

ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے تحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی کام ہو رہا ہے۔ بڑی وسعت اس میں پیدا ہو چکی ہے۔ سب ٹائٹلنگ(subtitling) کی صورت کے ساتھ اب خطبات بھی آتے ہیں ۔ ان کے سٹوڈیو وغیرہ میں وسعت دی گئی ہے۔ جلسہ سالانہ برطانیہ پر اب آج کل افریقن ممالک کے لئے خصوصی نشریات بھی ہیں ۔ یوں تو سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ کے ذریعہ ایم ٹی اے کے تمام پروگرام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ رہے ہیں مگر جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر حدیقۃ المہدی سے امسال چار افریقن ممالک گھانا ،نائیجیریا، سیرالیون اور یوگنڈا کے سات چینل جو ان کے اپنے لوکل چینل ہیں خصوصی نشریات کا اہتمام بھی کر رہے ہیں ۔ ایم ٹی اے افریقہ پروجیکٹ بھی اب اللہ کے فضل سے کام کر رہا ہے اور غانا میں نیشنل ٹی وی اور سائن پلس(Cine Plus) چینل پر ہفتہ وار ایک slot حاصل کیا گیا ہے جس پر جماعتی پروگرام دکھائے جا رہے ہیں ۔ تبلیغی کام بھی ان سے ہو رہا ہے۔ غانا میں ایک وسیع سٹوڈیو کمپلیکس بھی تعمیر کے مراحل میں ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہاں سے ایم ٹی اے کا افریقہ کے ریجن کے لئے علیحدہ سٹوڈیو کام کرے گا اور افریقن ریجن کو انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کا پیغام پہنچائے گا، اسلام کا پیغام پہنچائے گا۔

 ملک مالی میں ایک میڈیا گروپ Africable ہے جس نے 2004ء میں Africable ٹی وی سیٹلائٹ شروع کیا تھا۔ یہ افریقہ کے تیرہ ممالک میں سب سے مقبول پرائیویٹ چینل ہے۔ اس کے مالک نے اب

ٹی این ٹی سیٹ افریقہ (TNT SAT AFRICA) کے نام سے پچاس فری چینل پر مشتمل ایک سروس شروع کی ہے۔ یہ ویسٹ افریقہ کو کور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت مالی کو یہ توفیق ملی ہے کہ ان فری چینلز میں ایم ٹی اے بھی شامل کروایا گیا ہے اور اس سروس پر چینل نمبر 36 ایم ٹی اے کا ہے۔ اس کمپنی کا ٹارگٹ ہے کہ پینتیس لاکھ گھروں تک یہ سہولت پہنچائی جائے۔ اس طرح ٹارگٹ مکمل ہونے پر ایم ٹی اے کی نشریات انشاء اللہ تین سو ملین افراد تک پہنچیں گی۔

ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بیعتیں

ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بیعتیں ۔ گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ گاؤں مَامَت فانہ(Mamt Fanna) میں مولویوں کی وجہ سے جماعت کی شدید مخالفت ہوئی۔ گاؤں میں جن لوگوں نے احمدیت قبول کی تھی انہوں نے ایم ٹی اے لگوا لیا اور پروگرام دیکھنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدیت میں لوگوں کی دلچسپی بڑھنے لگی اور آہستہ آہستہ مخالفین بھی ایم ٹی اے کے پروگرام دیکھنے لگے اور لوگ جو جماعت کے شدید مخالف تھے جب خطبہ سنتے اور دیکھتے تو انہوں نے کہا کہ اس شخص کی مخالفت تو نہیں ہونی چاہئے۔ اور کہتے ہیں اس جگہ پر 350افراد نے احمدیت قبول کر لی۔

امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ’ مَامَت فانہ‘ گاؤں میں ایک خاتون احمدی ہوئیں اور ایم ٹی اے کے پروگرام دیکھنے شروع کئے۔ موصوفہ کے خاوند احمدیت کے شدید مخالف تھے۔ انہوں نے گھر میں جماعت اور خلافت کے بارے میں بات کی تو وہ خاوند غصے میں آ گیا اور کہا کہ آج کے بعد گھر میں احمدیت کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی اور لوگوں کی موجودگی میں بیوی کو سخت برا بھلا کہا۔ موصوفہ نے حوصلے اور صبر کے ساتھ خاوند کی بات سن لی لیکن ثابت قدمی سے احمدیت کو تھامے رکھا اور مسلسل ایم ٹی اے دیکھتی رہیں ۔ کچھ عرصے بعد خاوند نے بھی ایم ٹی اے دیکھنا شروع کر دیا۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں ایک ماہ کے بعد موصوفہ کے خاوند نے بھی احمدیت قبول کر لی۔

قمر رشید صاحب صاحب لکھتے ہیں کہ کانڈی میں منعقد کی جانے والی نمائش کے موقع پر ایک دوست نمائش دیکھنے آئے۔ میری وہاں تصویر لگی ہوئی تھی۔ مختلف کتابیں دیکھتے ہوئے ان کی نظر اس پر پڑی تو کہنے لگے یہ تصویر کس کی ہے؟ جب انہیں بتایا گیا کہ ہمارے موجودہ خلیفہ کی ہے۔ تو اس پر کہنے لگے کہ یہ آدمی تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ میں اس کو روز اپنے ٹی وی پر دیکھتا ہوں ۔ مجھے اس کی زبان تو سمجھ نہیں آتی۔ لیکن بہرحال اس کے بعد ان کو بتایا گیا کہ اس پر فرنچ ترجمہ بھی آتا ہے وہ سنا کریں اور انہیں ریسیور کی سیٹنگ کے بارے میں بتایا گیا۔ بہت خوش ہوئے اور پھر انہوں نے اس کے مطابق کر لیا۔

احمدیہ ریڈیو کے ذریعہ سے قبول احمدیت بھی ہو رہی ہے۔ برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ برکینا فاسو کے ریجن ’فادا ‘میں بھی ریڈیو کے ذریعہ اسلام احمدیت کا پیغام پہنچ رہا ہے اور دور دراز علاقوں سے لوگ فون کر کے بتاتے ہیں کہ وہ احمدیت کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ یہی حقیقی اسلام ہے اور یہی تعلیم دنیا کی ہدایت کا باعث بن سکتی ہے چنانچہ ایک دفعہ ایک سو دس کلو میٹر دور سے جنگل کے علاقے سے ایک شخص نے مشن کو فون کیا کہ میں آپ کی تعلیم کو باقاعدگی سے سنتا ہوں اور میں سمجھ گیا ہوں کہ جماعت احمدیہ جو تعلیم دے رہی ہے وہی اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ چنانچہ آج سے میں اور میرا خاندان جماعت احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ریڈیو کے ذریعہ سے بھی بہت سارے لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں ۔ بینن میں بھی ریڈیو کے ذریعہ بہت سارے لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔Bandundu کانگو کنشاسا میں بھی۔ مختلف جگہوں کے واقعات ہیں ۔

ایک صاحب کیتھولک عیسائی ہیں ہمارے مبلغ کو لکھتے ہیں کہ میں ہر جمعہ پر ریڈیو پر اسلام احمدیہ کی نشریات سنتا ہوں ۔ آپ کے پروگراموں سے میں اخلاقیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہوں ۔ اب تو میں ہر جمعہ اپنے خاندان اور دیگر افراد کو جمع کر کے آپ کا پروگرام دوسروں کو بھی سناتا ہوں ۔ اگر کبھی ہم نے اپنا مذہب تبدیل کیا تو سچے اسلام احمدیت میں ہی داخل ہوں گے۔ انشاء اللہ

ایم ٹی اے کے علاوہ دیگر ممالک کے ٹی وی چینلز پر کوریج

ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کے علاوہ مختلف ممالک کے ٹی وی چینلز پر بھی جماعت کو اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔ اس سال اٹھارہ سو بیاسی ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ سے نو سو چوّن گھنٹے وقت ملا۔ اس طرح مختلف ممالک کے ملکی ریڈیو سٹیشنز پر نو ہزار ستّر گھنٹوں پر مشتمل دس ہزار پانچ سو چوالیس پروگرام نشر ہوئے۔ ٹی وی اور ریڈیو کے ان پروگراموں کے ذریعہ محتاط اندازے کے مطابق بیس کروڑ سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچا۔ اس میں سیرالیون میں جماعتی ریڈیو اسٹیشن کے علاوہ دوسرے ملکی ریڈیو اسٹیشنز بھی شامل ہیں جہاں کافی کام ہو رہا ہے۔ غانا میں ، نائیجیریا میں ، گیمبیا میں ، یوگنڈا میں ، آئیوری کوسٹ میں ، نائیجر میں ، گنی کناکری میں ، ٹوگو میں ، لائبیریا میں ، کونگو برازویل میں ،مڈغاسکر میں ، کونگو کنشاسا، سورینا، گیانا، فجی، طوالو، ہندوستان میں بھی، کینیڈا میں ، ہالینڈ، جرمنی، مالٹا، آئر لینڈ، یوکے، سینیگال، بیلیز، ڈنمارک، یوایس اے، ناروے، کریباتی، اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے وسیع پیمانے پر جماعت کا پیغام پہنچ رہا ہے۔

جامعہ احمدیہ گھانا میں طلباء اور اساتذہ کا ایک پینل بنایا گیا ہے جو ایک پروگرام کرتا ہے اورپھر لوگوں کو فون پر ان کے جواب بھی دیتا ہے۔ امیر صاحب گھانا کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے بڑے وسیع علاقے میں احمدیت کا پیغام پہنچ رہا ہے اور لوگ اس پروگرام کی بڑی تعریف کرتے ہیں ۔

کونگو کنشاسا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ ٹی وی کے ذریعہ سے پیغام سنتے ہیں اور بڑا appreciate کر رہے ہیں اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں بھی ہو رہی ہیں ۔

اخبارات میں جماعتی خبروں کی اشاعت

اخبارات میں جماعتی خبروں اور مضامین کی اشاعت۔ اخبارات میں بھی جماعتی خبریں اور آرٹیکل شائع ہوتے ہیں ۔ مجموعی طور پر تین ہزار سات سو تیس اخبارات نے چھ ہزار آٹھ جماعتی مضامین، آرٹیکل اور خبریں وغیرہ شائع کیں ۔ اخبارات کے قارئین کی مجموعی تعداد تقریباً ستاسٹھ کروڑ اڑتیس لاکھ چھیاسی ہزار سے اوپر بنتی ہے جہاں اس ذریعہ سے ان تک پیغام پہنچا۔

تحریک وقف نَو

تحریک وقف نو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال واقفین نو کی تعداد میں دوہزار چھ سو تراسی واقفین کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد واقفین کی کل تعداد چھپن ہزار آٹھ سو اٹھارہ ہو گئی ہے۔ اس میں دنیا بھر کے 105ممالک سے واقفین نَو شامل ہیں ۔ لڑکوں کی تعداد چونتیس ہزار آٹھ سو اسّی۔ لڑکیوں کی تعداد اکیس ہزار نوسواڑتیس۔ تعداد کے لحاظ سے پاکستان پہلے نمبر پر ہے اور بیرون پاکستان یہ تعداد چھبیس ہزار ہے۔

مخزن تصاویر کا شعبہ ہے۔ نمائش ہے۔ یہ بھی بڑا اچھا کام کر رہے ہیں ۔ بڑی وسعت پیدا ہو چکی ہے۔

 احمدیہ آرکائیو ریسرچنگ سینٹر ہے یہ بھی نیا کام شروع کیا ہے۔ اس میں تاریخ کے لحاظ سے بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔

 مجلس نصرت جہاں سکیم کے تحت افریقہ کے بارہ ممالک میں بیالیس ہسپتال اور کلینک کام کر رہے ہیں جن میں 39 مرکزی ڈاکٹرز اور دس مقامی ڈاکٹر خدمت میں مصروف ہیں ۔ اس کے علاوہ تیرہ ممالک میں ہمارے 684ہائر سیکنڈری سکول، جونیئر سیکنڈری سکول اور پرائمری سکول کام کر رہے ہیں جن میں 19مرکزی اساتذہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں ۔ اور اس سال یوگنڈا میں ایک فری ڈسپنسری کا قیام بھی ہوا۔

ایبولہ(Ebola) کی جو بیماری افریقہ میں پھیلی تھی اس کی وجہ سے سیرالیون اور لائبیریا میں جماعت کو بڑا کام کرنے کی توفیق ملی اور اس کا بڑا اچھا نیک اثر ہوا۔

 انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹیکٹس اینڈ انجنیئرزبھی اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام کر رہی ہے اور ماڈل ویلج پراجیکٹ اور پانی کے نلکے لگانے کا کام بڑا اچھا چل رہا ہے۔ سولر سسٹم بھی یہ لگا رہے ہیں اور اس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان علاقوں پر بڑا اچھا اثر ہو رہا ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ سے بھی بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔ فری میڈیکل کیمپس بھی دنیا میں لگائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے احمدیت کا اور اسلام کا پیغام پہنچتا ہے۔

خون کے عطیات۔ امریکہ میں اس سال ایک سو تیس بلڈ ڈرائیوز منعقد کی گئیں جن میں تین ہزار خون کے عطیات دئیے گئے اور اس کا وہاں کے لوگوں پر بڑا اچھا اثر ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں بھی یہ کام ہو رہا ہے۔ کینیڈا میں بھی ہو رہا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش ،جرمنی، ماریشس، آئر لینڈ، یو کے اس سلسلے میں کافی اچھا کام کر رہے ہیں ۔

آنکھوں کے فری آپریشن۔ اس میں گوئٹے مالا، سیرالیون، مالی، برکینا فاسو، لائبیریا، بینن اور ٹوگو میں اچھا کام ہو رہا ہے۔ موتیا کے انہوں نے کافی فری آپریشن کئے ہیں ۔ چیریٹی واک کے ذریعہ سے کافی اچھی کولیکشن ہو جاتی ہے جو مختلف چیریٹیز میں تقسیم کی جاتی ہے۔

قیدیوں سے رابطہ اور خبر گیری میں بھی بعض ملکوں میں بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔ برکینا فاسو میں بھی۔ کنشاسا کونگو میں بھی۔ عید الاضحی اور دوسرے موقعوں پر یہاں چیزیں تقسیم کی گئیں ۔

نو مبائعین سے رابطے

نومبائعین سے رابطے کی بحالی کے سلسلے میں نائیجیریا نے اس سال پچیس ہزار سے اوپر نومبائعین سے رابطہ بحال کیا۔ بینن نے بائیس ہزار سے زائد نومبائعین سے دوبارہ رابطہ قائم کیا جو بڑے عرصے سے سالوں سے کٹا ہوا تھا۔ برکینا فاسو نے انیس ہزار آٹھ سو سے زائد نو مبائعین سے رابطہ کیا۔ آئیوری کوسٹ نے تیرہ ہزار سات سو سے زائد، سیرالیون نے پانچ ہزار تین سو سے زائد، اسی طرح کینیا چار ہزار سے اوپر۔ ٹوگو، غانا، ہندوستان، گنی بساؤ، مالی، تنزانیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رابطے میں کافی وسعت پیدا ہو رہی ہے اور پرانے جو گمے ہوئے تھے ان میں جنہوں نے دین کو دین سمجھ کر، احمدیت کو سمجھ کر قبول کیا تھا وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ واپس آ رہے ہیں ۔ جو کسی غرض کے لئے آئے تھے وہ علیحدہ ہو رہے ہیں تو ان کے لئے علیحدہ ہونا ہی بہتر ہے۔

ساوے ریجن( بینن) کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ پرانے نومبائعین سے تعلق از سر نو بحال کرنے کے لئے لوکل مبلغین اور معلمین پر مشتمل ٹیمیں بنا کر ریجن میں روانہ کی گئیں ۔ میں بھی ایک ٹیم کے ہمراہ ایک جگہ گیا۔ گاؤں میں جو بینن سے ملحق نائیجیریا کی سرحد کے قریب واقع ہے جب ہمارے مقامی مبلغ ابوبکر صاحب اور خاکسار نے اس جماعت سے رابطہ بحال کیا تو احباب نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور تمام گاؤں ملاقات کے لئے اکٹھا ہو گیا۔ تب مقامی مبلغ اور خاکسار نے تربیتی موضوع پر تقاریر کیں ۔ پروگرام کے اختتام پر احباب جماعت نے چندہ بھی پیش کیا۔ اللہ کے فضل سے اب اس جماعت سے ہماری ٹیم کا مستقل اور مضبوط رابطہ ہے۔ اسی طرح آئیوری کوسٹ میں بھی رابطہ بحال کیا گیا۔

بیعتیں

اس سال جو بیعتیں ہوئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک کی جو اطلاعیں آئی ہیں اس کے مطابق پانچ لاکھ ستاسٹھ ہزار تین سو تیس افراد نے احمدیت اور حقیقی اسلام کو قبول کیا۔

اس سال 113ممالک سے تقریباً تین سو اکانوے(391) اقوام احمدیت میں داخل ہوئیں ۔ مالی میں ایک لاکھ سینتیس ہزار سے اوپر بیعتیں ہوئیں ۔ نائیجیریا کی بیعتیں اٹھانوے ہزار سے اوپر ہیں ۔ سیرالیون میں چھیالیس ہزار سے اوپر ہیں ۔ غانا کی دس ہزار سے اوپر ہیں ۔ برکینا فاسو بیالیس ہزار سے اوپر ہیں ۔ گنی کناکری کو پچاس ہزار سے اوپر کی توفیق ملی۔ آئیوری کوسٹ میں بارہ ہزار سے اوپر۔ اسی طرح سینیگال سترہ ہزار سے اوپر۔ بینن اڑتالیس ہزار سے اوپر۔ کیمرون چھبیس ہزار سے اوپر۔ یوگنڈا، کینیا ان میں ہزاروں کی تعداد ہے اور باقی کچھ ممالک میں سینکڑوں میں ہیں ۔

بیعتوں کے تعلق میں بعض واقعات۔ گوہاٹی صوبہ آسام کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک معلم کے ساتھ ایک جماعت میں تبلیغ کے لئے گیا۔ اس جماعت میں مخالفین کی کافی تعداد ہے۔ رات کو بھی مخالفین کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ دوران گفتگو مخالفین گالی گلوچ کرتے رہے۔ لیکن ہماری طرف سے انہیں قرآن کریم اور احادیث کی رو سے سمجھانے کی کوشش ہوتی رہی۔ ساری رات بات چیت ہوتی رہی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز فجر کے بعد انہی مخالفین میں سے دس افراد کو جماعت احمدیہ کی صداقت سمجھ میں آئی اور قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

 کہتے ہیں اس سال بنگلہ دیش میں ایک چھوٹی سی جماعت میں جلسہ کے آخری دن ایک غیر احمدی امام حافظ ظہور الاسلام بھی شریک ہوئے۔ اس سے کچھ عرصے بعد موصوف اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ سات افراد کا وفد بنا کر ڈھاکہ مشن ہاؤس آئے۔ یہاں جماعت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اللہ کے فضل سے ساتوں ہی بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔

نائیجیریا کی ایک نو احمدی خاتون اپنی قبولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں اس سال جلسہ سالانہ نائیجیریا میں شامل ہوئی اور پہلی مرتبہ مجھے اتنا بڑا منظم ہجوم دیکھنے کو ملا۔ احمدیت کا جلسہ سالانہ دیکھ کر ہی احمدی مسلمانوں کو دوسرے جاہل مسلمانوں سے تمیز کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ جلسے کے بعد میں نے بیعت کر لی۔

اسی طرح بینن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ گاؤں ’گاہ یِیرو‘ (Ga Yero) میں تبلیغ کے لئے گیا۔ تبلیغ کے دوران انہوں نے سورۃ اخلاص کی تلاوت کی اور اس کی تفسیر پیش کی۔ جس پر ایک عمر رسیدہ شخص جس کا تعلق مقامی ارواح پرست مذہب سے تھا غصے سے کہنے لگا کہ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں ۔ تب اس کا بیٹا کھڑا ہوا اور اس نے اپنے باپ کو روک دیا اور کہا کہ ہمیں احمدی مبلغ کی باتیں سننے دو۔ تب ہمارے مبلغ صاحب نے انہیں مزید تبلیغ کی جس کے نتیجے میں اس ارواح پرست بوڑھے شخص کے بیٹے نے اپنے کئی دوستوں کے ساتھ احمدیت قبول کر لی۔ ان نوجوانوں کا تعلق مقامی ارواح پرست مذہب سے تھا۔

بہرحال بہت سارے واقعات ہیں ۔

 خوابوں کے ذریعہ سے بعض لوگ احمدیت قبول کرتے ہیں ۔ بینن کے لوکل مشنری حسینی صاحب کہتے ہیں کہ تابے (Tabe)گاؤں کے ایک شخص فاضل صاحب نے فون کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔ موصوف اپنے گاؤں میں جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے۔ چنانچہ جب وہ ملنے آئے تو انہوں نے بتایا کہ میں نے خواب میں ایک آواز سنی ہے یا تو وہ کوئی فرشتہ ہے یا خدا ہے جو مجھے کہہ رہا ہے کہ جس نے امام مہدی کو نہیں مانا وہ مسلمان نہیں ہے۔ جس نے امام مہدی کو نہیں مانا وہ مسلمان نہیں ہے۔ موصوف کہنے لگے کہ اس خواب سے مَیں ہِل گیا ہوں ۔ میں امام مہدی کی جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ اس طرح موصوف نے بیعت کر لی۔

یہاں سے بھی ہمارے مبلغ نے لکھا کہ ایک شخص اجمل صاحب ہیں انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کچھ دوستوں کے ساتھ ایک راستے پر جا رہے ہیں اور اچانک کیچڑ میں گر جاتے ہیں ۔ وہ مدد کے لئے پکارتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ان کے ساتھ ان کے دوست ہوتے ہیں کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آتا۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں تو اچانک ایک بزرگ آتے ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کیچڑ سے باہر نکال دیتے ہیں ۔ جب باہر نکلتے ہیں تو کپڑے بالکل صاف ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں ۔ وہ اس بزرگ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کون ہیں ۔ اس پر بزرگ کچھ نہیں بولتے صرف آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کچھ دن بعد ایک احمدی دوست جن کے ساتھ وہ کام کرتے ہیں ان کے گھر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھتے ہی فوراً پہچان لیا کہ یہی وہ بزرگ تھے۔

مالی کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک شخص فاتح صاحب مشن ہاؤس ’سکاسو‘ آئے اور بتایا کہ وہ بیعت کرنے آئے ہیں ۔ جب ان سے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کچھ عرصہ سے ایک خواب بار بار دیکھ رہے ہیں جس میں ایک سفید باریش بزرگ ان کے خواب میں آتے ہیں اور ان کو احمدیت میں شامل ہونے کا کہتے ہیں ۔ اس پر جب ان کو تصاویر دکھائی گئیں تو میری تصویر دیکھ کر کہنے لگے یہی وہ شخص تھا جو مجھے خواب میں آتا ہے۔

مالی ریجن کے معلم ادریس صاحب ہیں ۔ کہتے ہیں ان کے ریجن میں ایک بزرگ فاکنا گونے(Faqina Goune) صاحب روزانہ ریڈیو سنتے تھے لیکن ان کی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے خواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا جس کے بعد مشن ہاؤس آئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کو دیکھا اور بتایا کہ یہی وہ بزرگ تھے جو خواب میں آئے تھے۔ انہوں نے اسی وقت بیعت کر لی۔

اس کے بھی بیشمار واقعات ہیں ۔ بیان کرنے تو مشکل ہیں ۔

 فرانس کے ایک شہرRoubaix سے ایک خاتون Malissa صاحبہ کہتی ہیں کہ قبول احمدیت سے پہلے میں نے خواب میں ایک مسجد دیکھی جس میں لوگ نماز پڑھنے کے بعد چھوٹے چھوٹے گروپس میں کھڑے ہیں ۔ ان لوگوں میں میرا بھائی بھی شامل ہے۔ چنانچہ کچھ عرصے بعد میرا جماعت احمدیہ کے ساتھ تعارف ہوا اور مجھے فرانس جماعت کی مرکزی مسجد ’مسجد مبارک‘ میں جانے کا موقع ملا۔ جونہی میں مسجد میں داخل ہوئی تو مجھے اپنی خواب یاد آ گئی کہ یہ تو وہی مسجد ہے جو مجھے خواب میں دکھائی گئی تھی اور جب میں مسجد میں داخل ہوئی تو وہی نظارہ تھا جو میں نے خواب میں د یکھا تھا۔ اب اللہ کے فضل سے انہوں نے بیعت کر لی ہے۔

پھر نشانات دیکھ کر بیعتیں ہوئی ہیں۔ امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں میں دعوت الی اللہ کے لئے ایک ٹیم گئی جب تبلیغ شروع ہوئی تو گاؤں کی ایک عورت’ کمباں جالو‘ صاحبہ بڑے غور سے تبلیغ سننے لگیں ۔ تبلیغ میں جب جماعت کا ذکر آیا تو اپنے خاوند سے کہنے لگیں کہ فوراً احمدیت قبول کر لو یہی اللہ تعالیٰ کی جماعت ہے اور اسی میں شامل ہو کر جہنم کے عذاب سے بچا جا سکتا ہے۔ موصوفہ کا خاوند کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس نے کہا کہ سب سے پہلے میرے خاوند کا نام لکھیں ۔ اس کے بعد کہنے لگی کہ میرا بھائی احمدیت کا شدید مخالف تھا اور کہتا تھا کہ میں گاؤں میں احمدیوں کی مسجد نہیں بننے دوں گا۔ اس کے لئے اس نے رشوت بھی دی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مخالفت کی وجہ سے سخت سزاد ی۔ پہلے گاؤں سے ذلیل کر کے باہر نکالا گیا۔ پھر اس کی بیوی مر گئی اور پھر اس کی ماں پر ابلتا ہوا تیل گر گیا جس کی وجہ سے وہ جل گئی۔ یہ سب اس کو احمدیت کی مخالفت کی وجہ سے ملا۔ میں نہیں چاہتی کہ ہمارا انجام بھی میرے بھائی جیسا ہو۔ چنانچہ وہاں مجمع میں اس وجہ سے 45افراد نے احمدیت قبول کر لی ہے۔

مخالفین کے پروپیگنڈے کے نتیجہ میں بیعتیں ہوتی ہیں۔ ڈوڈومہ (تنزانیہ)کے مبلغ لکھتے ہیں کہ جب گھر گھر جماعت کا تعارف کروایا اور جماعتی لٹریچر تقسیم کیا تو دوسرے دن یہ خبر گاؤں کے بڑے مولوی تک پہنچی اور وہ شدیدغصے میں آ کر کہنے لگے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں آپ لوگ ان کی بات نہ سنیں اور نہ ان کو گاؤں میں آنے دیں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹیم بنائی۔ اور انہوں نے کثرت سے مخالفت شروع کر دی اور احمدیت کے خلاف جو بھی ان کے منہ میں تھا کہنا شروع کر دیا کہ یہ لوگ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے۔ مولوی صاحب ایک ایسی بڑھیا کے گھر بھی پہنچے جس کو ہم لوگ پہلے جماعت کا تعارف کروا چکے تھے اور اسے جماعتی لٹریچر بھی مہیا کیا ہوا تھا۔ وہ بڑھیا اَن پڑھ تھی لیکن وہ اپنے بیٹے سے یہ لٹریچر پڑھوا کر سن چکی تھی۔ چنانچہ جب مولوی صاحب اس بڑھیا کے گھر گئے اور اس سے کہا کہ یہ لوگ تو مسلمان نہیں ہیں کافر ہیں وغیرہ وغیرہ اور کہا کہ ہم آپ کو جہنم سے بچانے آئے ہیں ۔ اس پر اس عورت نے جو پہلے ہی ہماری تمام باتیں سن اور سمجھ چکی تھی جلدی سے وہ لٹریچر منگوایا اور اپنے بیٹے کو مولوی صاحب کو پڑھ کر سنانے کو کہا اور مولوی صاحب سے کہا آپ مجھے بتاتے جائیں کہ ان میں کون کون سی بات ایسی ہے جو اسلامی نہیں ہے اور کون سی ایسی بات ہے جو ہمیں جہنم میں لے کر جا رہی ہے؟ مولوی صاحب نے دو تین اعتراضات کئے جن کے جوابات اسی لڑکے نے ہمارے لٹریچر سے نکال کر مولوی صاحب کو دے دئیے۔ اس پر مولوی صاحب آگ بگولا ہو کر بڑھیا کو یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ تم بھی کافر ہو گئی ہو۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ اچھا اگر سچی بات کو ماننا کفر ہے تو ٹھیک ہے مَیں کافر ہی ہوں ۔

پھر خطبات سن کر بعض لوگوں میں بڑی نمایاں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ ایم ٹی اے سے جو خطبات سنتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا نیک اثر ہو رہا ہے۔ بعض جگہ دھمکیاں ملتی ہیں، احمدیت کو چھوڑنے کا کہا جاتا ہے لیکن لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت قدمی سے قائم رہتے ہیں۔

 مبلغ انچارج زیمبیا کہتے ہیں کہ زیمبیا کے کیپیٹل لوکاسا سے ایک ہزار پچیس کلو میٹر دور ایک شہر مپوروکوسو (Mporokoso) ہے امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شہر میں ایک جماعت قائم ہوئی۔ اس شہر میں جب اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچا تو گیارہویں کلاس کے ایک عیسائی طالبعلم برائن چی سنگا (Brian Chisenga)نے جماعتی پمفلٹ اور تبلیغ سننے کے بعد جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ موصوف کے والد اس شہر میں کافی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ اسلام کے شدید مخالف ہیں ۔ جب انہیں اپنے بیٹے کے مسلمان ہو جانے کا علم ہوا تو غصے میں آ کر کہنے لگے کہ تم نے اسلام قبول کر کے اس شہر میں میری عزت خاک میں ملا دی ہے اس لئے میرے گھر سے نکل جاؤ۔ اس پر ان کے بیٹے عبدالوہاب صاحب نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اور میں اپنا اچھا برا سمجھتا ہوں ۔ میں نے اسلام احمدیت کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے اب آپ مجھے بیشک گھر سے نکال دیں لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ انہیں بعد میں لالچ بھی دیا گیا کہ احمدیت کو چھوڑ دو لیکن اس نوجوان نے ہر لالچ کو ٹھکرا دیا۔ ثابت قدمی کے ساتھ احمدیت پر قائم ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کے بعد احمدی ہونے کے بعد غیر معمولی تبدیلیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں ۔ ازبکستان کے ایک ظہیر واحد صاحب ہیں ۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے 2014ء میں بیعت کی توفیق پائی۔ کہتے ہیں قبول احمدیت سے پہلے وہ اکثر اپنے دوستوں سے گفتگو کے دوران چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث میں پڑ جاتے تھے اور بعض اوقات بات بدکلامی تک پہنچ جاتی تھی۔ لیکن احمدی ہونے کے بعد اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پڑھنے کے بعد ان کی زندگی میں عجیب روحانی تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ اب جب دوستوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور کوئی ایسی بات ہو جس پر بحث چل نکلے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد یاد آ جاتا ہے کہ سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سوچ کر میں نہ صرف خود اس بحث سے دُور رہتا ہوں بلکہ اپنے دوستوں کو بھی یہ بات سمجھاتا ہوں اور میرے دوست انتہائی حیرانگی سے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم تو خود اتنی بحث کرتے تھے اب تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ تو میں ان کے سامنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پڑھ دیتا ہوں۔

مبلغ کوسووو بیان کرتے ہیں کہ ایک نومبائع ابراہیمی صاحب بہت مخلص احمدی ہیں ۔ نظام وصیت میں شامل ہیں اور مالی قربانی میں پیش پیش ہیں۔ دین کی خاطر وقت کی قربانی بھی کرتے ہیں۔ موصوف مشن ہاؤس سے دور ایک شہر میں رہتے ہیں ۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے ہر جمعرات کو لمبا سفر طے کر کے مشن ہاؤس آتے ہیں ا ور معلم صاحب کے ساتھ مل کر تبلیغی پروگرام کرتے ہیں اور پھر اگلے روز جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس اپنے شہر چلے جاتے ہیں۔

 اسی طرح بہت سارے نشانات ہیں بارشوں کے نشانات، قبولیت دعا کے واقعات ہیں۔ دعوت الی اللہ میں روکیں ڈالنے والوں کے واقعات ہیں۔

قرغیزستان کے ایک عظمت صاحب لکھتے ہیں جو ملازمت کی غرض سے آجکل ماسکو میں ہیں، کہتے ہیں ماسکو میں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور ایک احمدی رشتے دار بھی کام کرتے ہیں ان کے بھائی غیر احمدی ہیں اور جماعت کی وجہ سے وہ کافی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن جو رشتے دار ان کے ساتھ وہاں کام کرتا تھاوہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں بہت گندی زبان استعمال کرتا تھا۔ عظمت صاحب نے انہیں بہت دفعہ کہا کہ تم نے اگر مہذب انداز میں جماعت کے بارے میں بات کرنی ہے تو کرو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال نہ کرو اس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن اس شخص نے اپنی بدکلامی جاری رکھی۔ عظمت صاحب کہتے ہیں کہ جب حد ہو گئی تو میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اے اللہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں یہ الفاظ سننا میری برداشت سے باہر ہیں ۔ اب تُو ہی اس شخص کو روکنے کا انتظام کر دے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میرا وہی رشتے دار جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں بدکلامی کرتا تھا کام کرتے کرتے سیڑھیوں سے نیچے گر گیا اور سر پر ایک زخم آیا اور آہستہ آہستہ وہ زخم اتنا خراب ہو گیا کہ وہ رفع حاجت کے لئے بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے زخم کا علاج بھی کروایا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر اسی حالت میں وہ ماسکو سے واپس قرغیزستان چلا گیا۔

امیر صاحب بینن لکھتے ہیں کہ’ نَاتِی ٹِنگُو‘ (Natitingou)علاقے کے ریجنل کمشنر ہماری دعوت پر مشن ہاؤس آئے اور انہوں نے کہا کہ بینن میں جماعت احمدیہ بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس وجہ سے ہمیں کچھ تشویش بھی ہوئی ہے کہ جماعت کے کہیں کوئی خفیہ مقاصد تو نہیں ہیں لہذا حکومت نے احمدیوں کے متعلق اعلیٰ سطح پر ایک خفیہ تحقیق کی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ جماعت احمدیہ ایک پُرامن جماعت ہے اور انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ لوگ جو بھی کہیں لیکن ہمیں آپ کے بارے میں اچھی طرح پتا ہے اس لئے میں آپ کی دعوت پر یہاں آپ سے ملنے آ گیا ہوں۔

علماء کا احمدیت کی صداقت کا اقرار۔ برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک وہابی امام کو مسلسل دو ماہ تبلیغ کی گئی۔ جب اس کو تمام سوالات کے جوابات مل گئے تو اس سے بیعت کرنے کو کہا لیکن اس نے جواب دیا کہ آپ کی تمام باتیں درست ہیں اور قرآن و حدیث سے وفات مسیح بھی ثابت ہے۔ مگر مَیں چونکہ غیر احمدیوں کی مسجد کا امام ہوں اور اسی پر میرا گزربسر ہے اس لئے میرے لئے احمدیت میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ لیکن اگر مجھے کہا جائے کہ احمدیت کی صداقت کو ثابت کر دو تو وہ میں ثابت کر سکتا ہوں۔

یہ مختصر رپورٹ ہے جو میں نے پیش کی ہے۔ آخر میں ایک اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پڑھتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں :

’’پس اے لوگو تم خدا سے مت لڑو۔ یہ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مزاحم مت ہو۔ اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہو مگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں ۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی۔ خدا اُس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔ افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سنتے اور زمین ضرورت ضرورت بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے! اے بدبخت قوم اُٹھ اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پیروں کے نیچے کچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیاگیا۔ وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیا۔ وہ ناپاکوں میں لکھا گیا تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی۔ اب سمجھ کہ آسمان جھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو اَنَا الْمَوْجُود کی آواز آئے‘‘۔ (مجموعۂ اشتہارات، جلد 2 صفحہ 435۔436 )

آمین۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

…٭…٭…٭…٭…

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button