حضرت مصلح موعود ؓمتفرق مضامین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب’ براہین احمدیہ‘ ان تمام اعتراضات کا جواب ہے جو مستشرقین یورپ قرآن کریم کے متعلق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آیات جس میں پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے اس زمانہ کی ہیں جب وہ واقعات دنیامیں ظاہر ہوچکے تھے

انتخاب از تفسیر کبیر مصنّفہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’…جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا اس وقت تو نہ صحابہ کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا اور نہ کسی اور مسلمان کے دل میں کہ کل دشمن قرآن کریم کے متعلق کیا کیا اعتراض کرے گا۔ اکثر اعتراضات موجودہ زمانہ میں ہوئے ہیں جن کے ہم جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں جو صحابہؓ کے زمانہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ مثلاً سورتوں کے نزول کی ترتیب معلوم کرنے میں اُس وقت کوئی دقّت پیش نہیں آسکتی تھی۔ صحابہؓ زندہ موجود تھے اور اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تو اس سے کہا جاسکتا تھا کہ زید سے پوچھ لو۔ بکر سے دریافت کرلو۔ عمرو اور خالد سے اپنی تسلی کرالو۔ مگر جب جواب دینے والے فوت ہوگئے تو اس وقت قدرتی طور پر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ فلاں سورۃ کب اتری تھی یا فلاں سورۃ کا فلاں حصہ کب نازل ہوا تھا؟ اس وقت دشمن نے اس قسم کے خیالات سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا کہ جہاں کسی پیشگوئی کا ذکر آتا وہ کہہ دیتا کہ یہ حصہ تو وقوعہ کے بعد کا ہے۔ حالانکہ وہ حصہ وقوعہ سے مدّتوں پہلے نازل ہوچکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور پیشگوئی ان میں یہ خبریں موجود ہوتی تھیں کہ کفّار مکہ میں سے کوئی فرعون کا مثیل ہوگا۔ کوئی ہامان کا قائمقام ہوگا اورنبی کریم ؐکی مثال یوسفؑ کی سی ہوگی۔ جس طرح یوسفؑ کو اس کے اپنے بھائیوں نے نکال دیا تھا اسی طرح آپ کے بھائی آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیں گے۔ غرض کئی قسم کی پیشگوئیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں موجود تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوگئیں۔ مگر چونکہ صحابہ کا زمانہ گزرچکا تھا اور وہ لوگ فوت ہوچکے تھے جن کے سامنے قرآن کریم کا نزول ہوا اس لئے دشمن نے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا شروع کردیا کہ جہاں کہیں کوئی امر بطور پیشگوئی ملتا وہ جھٹ کہہ دیتا کہ یہ حصہ وقوعہ کے بعد کا ہے جب واقعات اس رنگ میں ظاہر ہوچکے تھے۔ یہی طریق یورپین مصنفین نے اختیار کیا ہے۔ وہ قرآن کریم کی ہر پیشگوئی کو واقعہ کے بعد نازل شدہ بتاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ دیکھو لوگ کہتے ہیں یہ آیت مکّی ہے حالانکہ اس میں فلاں واقعہ کی خبر ہے جو مدینہ میں ہوا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ آیت مکّی نہیں، مدنی ہے۔ اس سے ان کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی پیشگوئیاں کیں اور وہ وقت پر پوری ہوئیں یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ آپ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی بلکہ واقعہ کے بعد آپ نے اس رنگ کی آیات ڈھال کر قرآن کریم میں شامل کردی تھیں۔

اس اعتراض کا جواب صحابہؓ تو دے نہیں سکتے کیونکہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور صحابہ کے زمانہ میں یہ سوال نہیں اٹھا کہ وہ اس پر کوئی روشنی ڈال جاتے۔ مگر چونکہ اس اعتراض کا جواب ضروری تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے جہاں اسلام کے اور بہت سے مسائل کو حل کیا وہاں اس ترتیب کے سوال کو بھی اللہ تعالیٰ نے بالکل حل کردیاہے۔

جب قرآن کریم نازل ہوا ہے اس وقت ساتھ ہی ساتھ اس رنگ میں کتابت نہیں ہوتی تھی کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ فلاں آیت کس سال میں نازل ہوئی اور فلاں آیت کس سال میں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کتابت کا زور تھا، پریس جاری تھے اور ہر چیز شائع ہوکر فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آجاتی تھی اور یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ الہام میں فلاں واقعہ کا ذکر ہے جو اتنے سال بعد پورا ہوا اس لئے یہ الہام اس واقعہ کے بعد کا ہے، پہلے کا نہیں۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود اس اعتراض کے باطل ہونے پر ایک زبردست گواہ ہے۔ چنانچہ مَیں اس کے ثبوت میں ’’براہین احمدیہ‘‘ کے بعض الہامات پیش کرتاہوں۔

براہین احمدیہ انگریزی مطبع میں چھپی ہے 1880ء میں اس کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی اور 1884ء میں چوتھی جلد چھپنے کے بعد اس کتاب کی دو جلدیں قانون کے مطابق گورنمنٹ کو بھجوادی گئی تھیں بلکہ لنڈن میوزیم میں بھی اس کی کاپیاں محفوظ ہیں۔ اس لئے دشمن یہ نہیں کہہ سکتا کہ براہین احمدیہ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ 1884ء کے بعد کی ہیں۔

جب یہ کتاب شائع ہوئی ہے اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیشک لوگوں میں معروف تھے مگر صرف بطور مباحث کے ہزار دو ہزار آدمی آپ کو جانتے تھے۔ مگر اس لئے کہ آپ عیسائیوں یا ہندوئوں وغیرہ کے ان مضامین کا جواب دیتے رہتے تھے جو وہ اسلام کے خلاف لکھتے تھے یا ایسے لوگ جانتے تھے جو آپ کے تقویٰ کے قائل تھے اور آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔ مثلاً لالہ بھیم سین صاحب سیالکوٹ کے ایک وکیل تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قدر تعلق رکھتے تھے کہ جب آپ پر کرم دین والا مقدمہ ہوا تو اس وقت ان کے بیٹے لالہ کنور سین صاحب ایم۔ اے جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے ہیں اور بعد میں جموں ہائی کورٹ کے جج بن گئے تھے ولایت سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے آئے تھے۔ لالہ بھیم سین صاحب کو جب کرم دین والے مقدمہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو لکھا کہ تمہاری پڑھائی کا کوئی فائدہ ہونا چاہئے۔ مرزا صاحب بڑے مہاتما ہیں ان پر اس وقت ایک مقدمہ دائر ہے تم جائو اور اس مقدمہ کی مفت پیروی کرو تاکہ مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے۔ اب دیکھو ایک شخص ہندو ہے وہ یہ جانتا ہے کہ آپ ہندئووں سے ہمیشہ مباحثات کرتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ آپ سے محبت رکھتا ہے، آپ سے عقیدت اور اخلاص رکھتا ہے اور اپنے بیٹے کو آپ کے مقدمہ کی مفت پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے گی۔

اسی طرح گو عیسائیوں سے آپ مباحثے کرتے رہتے تھے مگر ان میں بھی ہم یہ رنگ دیکھتے ہیں کہ باوجود بحث مباحثہ کے وہ آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے۔ اس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ جن دنوں آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک بہت بڑے انگریز پادری سے جس کا نام پادری بٹلر تھا آپ اکثر مباحثات کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ پادری کچہری میں آیا اور چونکہ اس زمانہ میں پادریوں کا خاص طور پر احترام کیاجاتا تھا، ڈپٹی کمشنر نے سمجھا کہ پادری صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔ چنانچہ وہ اٹھا، بڑے احترام سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا اور پھر کہا فرمائیے میرے لائق کون سی خدمت ہے۔ پادری صاحب نے کہا میں آپ سے ملنے نہیں آیا،میں تو مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ میں اب ولایت جارہاہوں اورچونکہ میرے ساتھ ان کے اکثر مباحثات ہوتے رہے ہیں میرے دل میں ان کی بڑی عقیدت ہے۔ میں نے چاہا کہ ولایت جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرلوں۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جہاں تشریف رکھتے تھے پادری وہیں چلا گیا، فرش پر بیٹھ گیا اور دیر تک آپ سے باتیں کرتا رہا۔ اب دیکھو ایک انگریز پادری جس سے ملنے میں ڈپٹی کمشنر تک اپنی عزت محسوس کرتا تھا ہندوستان سے رخصت ہونے سے پہلے آپ سے رخصت ہونے کے لئے کچہری گیا جبکہ آپ ایک معمولی کلرکی کا کام کرتے تھے اور جبکہ آپ کی عمر اس پادری کے پوتوں سے زیادہ نہ ہوگی۔

پھر مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی مسلمانوں کے چوٹی کے علماء میں سے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ لکھی تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس پر ریویو لکھا:

’’ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبرنہیں۔ لَعَلَّ اللّٰہُ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا۔ اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی، جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے‘‘۔

لوگ جب کسی کتاب کے متعلق تعریفی ریویو لکھتے ہیں تو کہتے ہیں اس سال کی یہ عظیم الشان کتاب ہے۔ اور وہ کتاب بڑی بھاری سمجھی جاتی ہے۔ اگر کہہ دیا جائے کہ دس سال میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تو اس کی شہرت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ ایک صدی کے اندر اندر ایسی عظیم الشان کتاب اور کوئی نہیں لکھی گئی تو یہ اس کتاب کی انتہائی تعریف سمجھی جاتی ہے۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔ گویا ایک صدی کا سوال نہیں، دو صدیوں کا سوال نہیں، تیرہ سو سال میں مسلمانوں کی طرف سے اسلام کے فضائل کے متعلق ایسی شاندار کتاب اور کوئی نہیں لکھی گئی۔

غرض مسلمان کیا اور ہندو کیا اور عیسائی کیا سب براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعریف کرتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد ہندوئوں میں مخالفت کا کچھ چرچا شروع ہوگیا تھا مگر اس سے پہلے ہندوئوں میں بھی آپ کی کوئی مخالفت نہیں تھی بلکہ ان میں سے کئی آپ سے بہت اخلاص رکھتے تھے جیسے لالہ بھیم سین صاحب۔ اسی طرح اور بہت سے ہندو تھے جو آپ سے خط وکتابت رکھتے تھے اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو تسلیم کرتے تھے۔ اس زمانہ میں یہ احتمال ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص آپ کی مخالفت کرے گا کیونکہ سب کے سب لوگ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں آپ کے مداح تھے اور جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعویٔ نبوت سے پہلے لوگ امین اور صدیق کہا کرتے تھے اسی طرح لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راستبازی کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ غرض مسلمانوں، ہندوئوں اور عیسائیوں تینوں میں سے جو لوگ آپ کے واقف تھے وہ آپ کا ادب اور احترام کرتے تھے اور جو لوگ واقف نہیں تھے وہ نہ دوستی کا اظہار کرتے تھے نہ دشمنی کا۔ ایسی حالت میں براہین احمدیہ شائع ہوئی۔

 اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے زمانہ میں جب نہ آپ کی مخالفت کا سوال تھانہ موافقت کا۔ نہ آپ پر ایمان لانے والے دنیا میں موجود تھے اور نہ مخالفت کرنے والے، براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے کیا الہامات شائع ہوئے اور وہ کس قسم کے اخبار غیبیہ پر مشتمل تھے۔ اس غرض کے لئے جب ہم براہین احمدیہ کا سرسری مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس میں ایک الہام یہ نظر آتا ہے کہ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذَالِکَ اَزْکیٰ لَھُمْ (براہین احمدیہ صفحہ 505)۔ یعنی تو اپنے مومنوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ پاکیزگی کے لحاظ سے ان کے لئے بہت بہتر ہوگا۔ اگر یہ کتاب چھپی ہوئی نہ ہوتی یا اس پر اشاعت کی تاریخ درج نہ ہوتی اور یہ سوال اٹھتا کہ یہ الہام کب کا ہے تو پادری وہیری کا کوئی بھائی کہتا کہ یہ الہام 1901ء کا معلوم ہوتا ہے جب ایک جماعت آپ پر ایمان لاچکی تھی۔ حالانکہ یہ1884ء کی کتاب ہے اور گورنمنٹ کے پاس بھی اس کی کاپی موجود ہے۔

پھر اس زمانہ میں جب دنیا میں آپ کی نہ کوئی مخالفت تھی اور نہ مخالفت کاکوئی امکان تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن کریم کی یہ آیت بہ تغیر قلیل الہام ہوئی کہ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفِکِیْنَ حَتّٰی تَاتِیْھِمُ الْبَیِّنَۃ وَ کَانَ کَیْدَھُمْ عَظِیْمًا (صفحہـ 506) یعنی اے شخص لوگ تیری مخالفت کریں گے اور اس مخالفت میں اہل کتاب اور مشرکین دونوں شریک ہوں گے۔ یعنی یہودی بھی تیری مخالفت کریں گے، عیسائی بھی تیری مخالفت کریں گے، مسلمان بھی تیری مخالفت کریں گے، ہندو بھی تیری مخالفت کریں گے اور وہ اس مخالفت سے کبھی باز نہیں آئیں گے جب تک کہ ہماری طرف سے نشان پر نشان ظاہر نہ ہوں۔ ان نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد ان کو معلوم ہوگا کہ تُو ہماری طرف سے کھڑا کیا گیا ہے۔ وَکَانَ کَیْدَھُمْ عَظِیْمًا۔ اور جن مکروں اور فریبوں سے وہ تجھے مغلو ب کرنا چاہیں گے وہ بڑے عظیم الشان ہوں گے مگر ہم ان کے تمام منصوبوں کو باطل کردیں گے اورتجھے غلبہ اور کامیابی عطا کریں گے۔

اس الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیسی زبردست مخالفت کی خبر دی گئی ہے حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ اس وقت ہندو آپ کی عزت کرتے تھے، عیسائی آپ کی عزت کرتے تھے، مسلمان آپ کی عزت کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت فرمادیا کہ یہودی اور عیسائی اور مسلمان اور ہندو اور سکھ سب کے سب تیری مخالفت کریں گے اور تیرے خلاف بڑے بڑے منصوبے کریں گے۔ وہ چاہیں گے کہ تجھے مٹادیں، تیرے نام کو دنیا سے ناپید کردیں، مگر ہم تیری تائید میں اپنے عظیم الشان نشان دکھائیں گے اور آخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ تُو غالب آجائے گا اور تیرے مخالف مغلوب ہوجائیں گے۔ حالانکہ یہود اور دوسرے غیر ملکی مذاہب کے لوگوں کو آپ کے متعلق کوئی علم ہی نہ تھا۔

 پھر فرمایا: وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَاتُفْسِدُوْا فِیْ الْاَرْضِ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ اَلَا اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقْ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبْ (براہین احمدیہ صفحہ 506-507) یہ مدنی آیات ہیں اور منافقوں کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔ اور منافق اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک طرف جماعت کے غلبہ کے آثار ہوں اور دوسری طرف دشمن بھی ابھی طاقتور ہو۔ اس حالت کے نتیجہ میں جو پیدائش ہوتی ہے اس کا منافق نام ہوتا ہے۔ جس طرح ہر زمین کی پیداوار الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح دینی منافقت کی پیداوار اس موسم میں ہوتی ہے جب دین دنیا کے ایک حصہ پر غالب آجاتا ہے مگر کفر ابھی پوری طرح مغلوب نہیں ہوتا۔ انہیں کفر کا بھی ڈر ہوتا ہے اور دین کا بھی ڈرہوتا ہے … اور چونکہ اس وقت دو کشتیاں تیار ہوجاتی ہیں منافق چاہتا ہے کہ دونوں کشتیوں میں سوار ہوکر سفر کرتا چلا جائے۔ نہ وہ پوری طرح دین کی طرف آتا ہے اور نہ وہ پوری طرح کفر کی طرف جاتا ہے۔ یہ بھی جرأت نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں سے مقابلہ کرے کیونکہ ڈرتا ہے کہ وہ جیت نہ جائیں اور یہ بھی جرأت نہیں کرسکتا کہ کفار کا مقابلہ کرے کیونکہ ان کے متعلق بھی اسے خوف ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو وہ جیت جائیں۔ پس فرماتا ہے ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب تیری جماعت ترقی کرتے کرتے کفار کے مقابلہ میں ایک ترازو پر آجائے گی جیسے اِس وقت قادیان میں حالت ہے۔ اُس وقت تیری جماعت میں منافقوں کا ایک گروہ پیدا ہوجائے گا جو اِدھر تجھ سے تعلق رکھے گا اور اُدھر کفار سے تعلق رکھے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں نفاق کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ قادیان میں وہی شخص آتا تھا جو لوگوں سے ماریں کھانے کے لئے تیار ہوتا تھا۔ مگر اب چونکہ جماعت ترقی کرکے دشمن کے مقابلہ میں ترازو کے تول کی مانند کھڑی ہوگئی ہے اس لئے منافقین کا بھی ایک عنصر پیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ 1934ء میں جب احرار نے شورش برپا کی اور گورنمنٹ کے بعض افسروں نے بھی ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تو اس وقت ہماری جماعت میں سے بعض منافق احرار سے جاکر ملتے تھے اور ہمیں ان کی نگرانی کرنی پڑتی تھی۔ اور ابھی تو یہ پیشگوئی صرف قادیان میں پوری ہوئی ہے جب بیرونی مقامات پر بھی جماعت نے ترقی کی اور کفر کے مقابلہ میں اس نے طاقت پکڑنی شروع کردی تو اس وقت وہاں بھی ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے۔ پھر اور ترقی ہوگی تو بیرونی ممالک میں اس پیشگوئی کا ظہور شروع ہوجائے گا۔ کبھی یورپ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی، کبھی امریکہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی، کبھی چین اور جاپان میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی اور کبھی مصر اور شام اور فلسطین وغیرہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ غرض 1884ء میں جب نہ لوگوں کی مخالفت کا کوئی خیال تھا،نہ یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کسی دن دنیامیں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہوجائے گی۔ وہ جماعت ترقی کرے گی اور جب وہ کفار کے مقابل میں ایک ترازو کے تول پر آجائے گی تو اس وقت بعض منافق پیدا ہوجائیں گے۔ حالانکہ یہ باتیں اُس وقت کسی کے وہم اور گمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔

پھر فرماتا ہے تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَ تَرْحَّمْ عَلَیِْھمْ اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسیٰ وَاصْبِرْ عَلیٰ مَا یَقُوْلُوْنَ (براہین احمدیہ۔ صفحہ 508) تُو لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور تُو ان پر رحم کر۔ تو ان میں ایسا ہی ہے جیسے موسیٰؑ اپنی قوم میں تھا اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کر۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جو حالات موسیٰ کے ساتھ پیش آئے تھے وہی تیرے ساتھ پیش آنے والے ہیں۔ تیری مخالفت میں بھی لوگوں کی طرف سے بہت کچھ کہا جائے گا۔ تیرا فرض ہے کہ تو صبر سے کام لے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر الہامات واقعہ کے بعد بنالئے جاتے ہیں تو براہین احمدیہ میں یہ بات کس طرح چھپ گئی۔

پھر الہام ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ (صفحہ 590) کیا تیرے ماننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اتنی بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور وہ آزمائش میں نہیں ڈالے جائیں گے۔ اگر وہ ایسا خیال کرتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔ ان پر بڑے بڑے مظالم کئے جائیں گے، بڑے بڑے مصائب ان کو برداشت کرنے پڑیں گے اور جب وہ ان امتحانات میں پورے اتریں گے تب انہیں خداتعالیٰ کے حضور مومن سمجھاجائے گا۔

یہ تمام الہامات جن کو اوپر پیش کیا گیا ہے ان میں سے کوئی ایک الہام بھی ایسا نہیں جو 1884ء کے واقعات پر چسپاں ہوسکتا ہو بلکہ یہ تمام الہامات وہ ہیں جن میں آئندہ رونما ہونے و الے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔

 اسی طرح اور بھی کئی الہامات ہیں جو آئندہ واقعات پر مشتمل ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1903ء میں رئویا دیکھا کہ ’’زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں ہے‘‘ (تذکرہ صفحہ 430)۔ اب اگر یورپین مستشرقین کی یہ بات صحیح ہے کہ الہامات ہمیشہ واقعات کے بعد گھڑلئے جاتے ہیں تو اس الہام کی بنا کن واقعات پر ہے؟ 1903ء میں کون سے ایسے حالات تھے جن کی بناء پریہ کہا جاسکتا تھا کہ روس کی حکومت ہمارے قبضہ میں آجائے گی۔ اُس وقت تو ظاہری حالات کی بناء پر یہ کہنا بھی مشکل تھا کہ گورداسپور کے ضلع میں ہمیں غلبہ حاصل ہوجائے گا کجا یہ کہ روس کی حکومت ملنے کا دعویٰ کیا جاتا اور یہ وہ پیشگوئی ہے کہ اب تک بھی اس کا خفیف سے خفیف اثر نہیں ظاہر ہوا۔ لیکن جب یہ پوری ہوگی دشمن ہزاروں بہانے یہ ثابت کرنے کے لئے بنائے گا کہ یہ بعد میں بنائی گئی ہے۔

غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ ان تمام اعتراضات کا جواب ہے جو مستشرقین یورپ قرآن کریم کے متعلق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آیات جن میں پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے اس زمانہ کی ہیں جب وہ واقعات دنیامیں ظاہر ہوچکے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ صحیح ہے تو تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ثابت کرو کہ آپ نے جو پیشگوئیاں کی ہیں وہ واقعات کے ظہور کے بعد کی ہیں۔ اور اگر تم یہ ثابت نہیں کرسکتے تو تمہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر ایک شخص جو اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ سے الہام پاکر قبل از وقت غیب کی خبروں سے دنیا کو اطلاع دے سکتا ہے تو اس کا آقا کیوں ایسی خبریں نہیں دے سکتا تھا؟ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں دنیا کی تمام مخالفتوں اور منصوبوں اور شرارتوں کا ایسی حالت میں ذکر کردیا گیا ہے جب سب دنیا آپ کی تائیدمیں تھی تو قرآن کریم میں کیوں ایسے مضامین قبل از وقت نہیں آسکتے تھے؟

پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود سے ان تمام حملوں کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ اب دشمن کو منہ کھولنے کی جرأت ہی نہیں ہوسکتی‘‘۔

(تفسیر کبیر جلد نہم۔ زیر سورۃ العلق۔ صفحہ 237 تا242)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button