(مقربین الٰہی کی) ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ظاہری صورت کے اعتبار سے عام انسانوں جیسے ہوتے ہیں لیکن مخفی صلاحیتوں کے لحاظ سے ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ انہیں رِیا کی آمیزش کے بغیر نہایت خالص کھرے اخلاق عطا کئے جاتے ہیں۔ وہ چہرے کی شادابی سے پہچانے جاتے ہیں اور انہیں پاک و صاف اور معطّر کیا جاتا ہے۔ ان کی صحبت دلوں کو زندگی بخشتی، گناہوں کو کم کرتی اور ناتواں تھکے ماندوں کو قوت دیتی ہے۔
’’ان (مقربین الٰہی) کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ظاہری صورت کے اعتبار سے عام انسانوں جیسے ہوتے ہیں لیکن مخفی صلاحیتوں کے لحاظ سے ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ اللہ ان کے لئے ایک نمایاں امتیاز رکھ دیتا ہے جیسے اجڑے دیار میں سطح مرتفع نمایاں ہوتی ہے۔ ا نہیں سرسبزو شاداب اور پھل دار بنا دیا جاتا ہے اور وہ ایک ٹیلے پر اُگے ہوئے درخت کی طرح بلند ہوتے ہیں۔
ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ انہیں رِیا کی آمیزش کے بغیر نہایت خالص کھرے اخلاق عطا کئے جاتے ہیں۔ اللہ ان کے دلوں کی زمین کو اُس (روحانی) پانی کو اپنے اندر سمونے کے لئے تیار فرماتا ہے اور وہ چہرے کی شادابی سے پہچانے جاتے ہیں اور انہیں پاک و صاف اور معطّر کیا جاتا ہے۔
ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ہر میدان کے دھنی ہوتے ہیں اور ڈھیلے ڈھالے بھاری بھر کم شخص کی طرح نہیں ہوتے۔ آسمانی قوت انہیں کھینچتی ہے اور وہ ہر طرح کے میل کچیل سے پاک و صاف کئے جاتے ہیں۔ اللہ کی ایک ہی ضرب ان کی نفسانی خواہشات کا قلع قمع کر دیتی ہے۔ پس وہ کھرے پن کی وجہ سے نفسانی خواہشات کو چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں دنیا کی کوئی آلودگی نہیں چھوتی اور وہ ان کے چھوڑنے میں کوئی تکلیف اور اذیت محسوس نہیں کرتے۔
ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بلائو ں کے نزول کے وقت ان کی صحبت زمین پر بسنے والوں کے لئے آسمان سے حفاظت کاسامان ہوتاہے اور اس سنگدلی کی دوا بن جاتی ہے جو دنیا کی تمنائوں اور خواہشات کے نتیجہ میں پید اہوتی ہے اور جس طرح پانی کے قلّتِ استعمال سے بدن پر میل چڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولیاء اللہ کی صحبت کی قلت دلوں کو میلا کر دیتی ہے اور جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں۔
ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی صحبت دلوں کو زندگی بخشتی، گناہوں کو کم کرتی اور ناتواں تھکے ماندوں کو قوت دیتی ہے۔ ان کی صحبت سے لوگ اپنی راہ پر ثابت قدم ہو جاتے ہیں اور وہ تفرقہ میں نہیں پڑتے۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان کا دشمنوں سے مقابلہ اونٹوں کے آپس میں مقابلے کی طرح نہیں ہوتا۔وہ (مقربینِ الٰہی) صرف اس وقت مقابلہ کرتے ہیں جب ان کے ربّ کے ہاں لڑائی حتمی اور قطعی ہو جائے اور وہ صرف اس وقت مجادلہ کرتے ہیں جب حقیقت خلط ملط ہو جائے۔ وہ اذنِ الٰہی کے بغیر کسی ظالم کو بھی ایذا نہیں پہنچاتے خواہ وہ تندرست جوان بکری ذبح کرنے کی طرح مار دئیے جائیں۔ وہ اللہ کے اخلاق اپناتے ہیں۔
ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ جھوٹ، عداوت، خواہشات نفس، رِیا، گالی گلوچ اور ایذارسانی سے بچتے ہیں اور وہ اپنے ہاتھ اور پائوں کو صرف اور صرف اللہ کے حکم کے تحت حرکت دیتے ہیں اور اس کے خلاف جرأت نہیں کرتے۔ وہ دنیا کی لعنت کو اپنی خاطر میں نہیں لاتے اور ہر وہ چیز جو اللہ کے نزدیک باعث فضیحت و رسوائی ہو وہ اس سے پرہیز کرتے ہیں اور صبح و شام اللہ کی مغفرت کے طالب ہوتے ہیں اور جب ان پر غفلت کی میل چڑھ جائے تو ذکر الٰہی (کے پانی سے) دھوتے ہیں۔ ان کا لباس تقویٰ ہے اور اسی کو وہ سفید رکھتے ہیں۔ وہ بوسیدہ لباس سے گریز کرتے ہیں اور تقویٰ میں تیز رو ہیں۔ وہ اغیار کی صحبت میں وحشت محسوس کرتے ہیں۔ وہ ربّ العزت کی بارگاہ پر دھونی رمائے رہتے ہیں اور اس سے جدا نہیں ہوتے۔دنیا اور دنیا والوں کو ترک کرنے پر جو چیز ان کو دلیر کرتی ہے وہ صرف اورصرف اس ذات کی رضا جوئی ہے جس کے لئے وہ ہمیشہ بیدار رہتے ہیں۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول بات نہیں کرتے۔ تمسخر سے پرہیز کرتے ہیں اور ٹھٹھا نہیں کرتے۔ وہ افسردہ زندگی گزارتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے منہ سے نکلی ہوئی کوئی بات اور ان کا کوئی فعل ان کے (نیک) اعمال کو ضائع نہ کر دے۔ ان کی گفتار صرف مضبوط (بنیاد) پر استوار ہوتی ہے اور وہ لایعنی گفتگو نہیں کرتے۔
ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ تو انہیں دیکھتا ہے کہ اللہ انہیں ضعف کے بعد قوت اور افلاس کے بعد تونگری بخشتا ہے اور وہ لوگ بے یارومددگار نہیں چھوڑے جاتے۔
ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کے ہاتھوں سے ہر قسم کی تکلیف اور کجروی پاتے ہیں اور ہر طرف سے انہیں مایوسی نظر آتی ہے پھر اللہ تعالیٰ انہیں تھام لیتا ہے اور وہ بچائے جاتے ہیں۔ جب ان پر کوئی آفت نازل ہوتی ہے تو اللہ کی جناب سے انہیں ایسا صبر عطا کیا جاتا ہے جو فرشتوں کو حیران کردیتا ہے۔ پھر فضل نازل ہوتا ہے تو وہ (آفات سے) نجات دئیے جاتے ہیں۔ ‘‘ (تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 59تا 62)




