مَصَالِحُ الْعَرَب قسط نمبر 396(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات،گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)
مکرم بن اسماعیلی کمال صاحب(2)
قسطِ گزشتہ میں ہم نے مکرم بن اسماعیلی کمال الدین صاحب آف الجیریاکے احمدیت کی طرف سفر کا کچھ احوال بیان کیا تھا۔ اس قسط میں ان کے اس سفر کے باقی واقعات پیش کئے جائیں گے۔ وہ بیان کرتے ہیں :
یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہوسکتا!
میں مختلف دوستوں کے ساتھ بحث مباحثہ کرنے کا شوقین تھا اور ایم ٹی اے پر پیش کئے جانے والے دلائل کے ساتھ جب ان سے بحث کرتا توان دلائل کے سامنے مدّمقابل کو لاجواب ہوتا دیکھ کرخوب حظّ اٹھاتا۔ چند ایام ہی گزرے تھے کہ مجھے معلوم ہوا کہ یہ چینل جماعت احمدیہ کا ہے اور اس پر پروگرام پیش کرنے والے تمام علماء کا بھی تعلق اسی جماعت سے ہے جس کا دعویٰ ہے کہ مسیح ومہدی ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں اور وہ ان کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ یہ جان کر مجھے شدید صدمہ پہنچا۔ میں نے اپنے بعض دوستوں سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ تم احمقانہ خیالات کو نہ جانے کہاں سے لا کر ہمارے سامنے پیش کررہے ہو۔اس صورتحال میں مَیں نے سوچا کہ اس چینل کو اپنے ٹی وی اور اپنی زندگی سے ہی حذف کردوں اور اپنی سابقہ زندگی کی روٹین کی طرف لَوٹ جاؤں۔ لیکن میں یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ ان لوگوں کی باقی تمام باتیں کیونکر اس قدر عقل ومنطق کے مطابق ہیں جبکہ انہی موضوعات وعقائد کے بارہ میں ہماری اور ہمارے علماء کہلانے والے حضرات کی باتیں کیوں لامعقولیت کی حدوں کو چھوتی ہیں۔ میں نے انکے باقی تمام خیالات کو تو قبول کرلیاپھر یہ کیوں قبول نہیں کرسکتا کہ یہ سچے لوگ ہیں ؟ مَیں جب بھی سونے کے لئے لیٹتا تو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے آجاتی۔ میرے لئے انہیں جھوٹا خیال کرنا ناممکن تھا، میں جب بھی اس بارہ میں غور کرتا میری زبان سے بے اختیار یہی الفاظ نکلتے کہ یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہوسکتا۔پھر میں ایم ٹی اے سے تعارف کے دن سے لے کر جماعت کے بارہ میں حاصل ہونے والی معلومات کے بارہ میں مجموعی طور پر غور کرتا تو اس فیصلہ پر پہنچتا کہ یہی سچی جماعت ہے اور اسی وقت پورے عزم کے ساتھ فیصلہ کرتا کہ آج سے میں احمدی ہوں۔ لیکن جب دن چڑھتا تو میرا عزم کمزور ہو جاتا۔چند دن یہی حالت برقرار رہی جس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ جیسے کوئی چیز مجھے احمدیت کی تصدیق کی جانب کھینچے چلی جارہی ہے۔میں اس جماعت کا حصہ بننے کے لئے بے چین سا ہوگیا۔ اس میں وہ تمام صفات موجود تھیں جن کا میں خواب دیکھا کرتا تھا یعنی یہی کہ ایک ایسی جماعت جس کا ایک امام ہو جو اپنے عقائد واخلاق کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہو،اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسے خدا نے نیکیاں قائم کرنے اوربرائیوں کو دورکرنے کے لئے خود قائم کیا ہو۔
بیعت سے پہلے تبلیغ اور نتیجہ
گو میں احمدیت کی صداقت قائل ہو چکا تھا لیکن بیعت کرنے سے قبل احمدیت کے پیغام کو پیش کر کے لوگوں کے ردّ عمل کو دیکھنا چاہتا تھا۔میرا خیال تھا کہ اگر میں جماعت احمدیہ کے عقائد اور اعلیٰ مفاہیم کو یکجائی صورت میں پیش کروں تو شاید بہت سے لوگ بخوشی اسے قبول کر لیں گے۔ چنانچہ میں نے اپنے بعض کلاس فیلوز کو تبلیغ شروع کی لیکن سب نے ہی ان عقائد اور مفاہیم کو کلیۃً ردّ کرتے ہوئے اپنے آباء واجداد کے طریق پر ہی رہنے کو ترجیح دی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کوشش کو ایک پھل ضرور عطا فرمایا اور عمرنامی میرا ایک کلاس فیلو جو شروع میں تومجھ سے بہت زیادہ بحث کرتا تھا لیکن آہستہ آہستہ احمدیت کی صداقت کا قائل ہو گیااورمیری بیعت کے بعد اس نے بھی 2012ء کے اواخر میں بیعت کرلی۔
فتاویٰٔ تکفیر اورشر انگیز پروپیگنڈہ
ہمارے علاقے میں سلفیوں کی ایک مسجد تھی جہاں میں قبل ازیں نماز اور قرآن کریم کے دروس کے لئے جایا کرتاتھا۔ یہاں کے اکثر لوگوں کے ساتھ میرا ذاتی رابطہ تھا اور سب ہی مجھ سے پیارومحبت اور احترام کا تعلق روا رکھتے تھے۔ میں نے انہیں بھی امام مہدی علیہ السلام کی آمد کی اطلاع دینے کا فیصلہ کیا۔ میں ان کے بارہ میں اپنے حسن ظن کی بناء پر ان کے قبول ہدایت کے بارہ میں خواب دیکھنے لگا تھا۔ اسی حسن ظن اورعقل ومنطق سے ہم آہنگ احمدیت کے مضبوط دلائل کی بنا ء پر میں سمجھتا تھا کہ چند دنوں میں اس مسجد کے تمام نمازی ہی احمدیت میں داخل ہوجائیں گے بلکہ احمدیت سے متعارف کروانے کے لئے سب میرا شکریہ ادا کریں گے۔چنانچہ میں نے اپنی دانست میں ان میں سے سب سے بہتر شخص کو سب سے پہلے پیغام پہنچانے کا سوچا۔ لیکن ابھی میں نے چند امور کے بارہ میں ہی بات کی تھی کہ وہ شخص غصّہ سے سیخ پا ہو گیا۔ وہ متشدّد سلفی طرز فکر کے علاوہ کسی اورمکتب فکر کی بات بھی نہ سننا چاہتا تھا۔ احمدیت کے بارہ میں محض چندباتیں سننے کے بعد ہی اس کے چہرے کی مسکراہٹ جاتی رہی اور اس کی جگہ شرپسندی سے معمورتیوریاں نمودار ہو نے لگیں۔ پھر اس نے مجھ پر اتہامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہاکہ تم نے دین کی تحریف کا ارتکاب کیا ہے، تم بغیر علم کے دینی معاملات میں دخل اندازی کے مرتکب ہوئے ہو،بلکہ تم کافروں کے راستے کی پیروی کررہے ہو۔اس کے ان سب فتاویٰ کا موجب میرا یہ قول تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن کریم کی رو سے وفات پاچکے ہیں، نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں جو مشہور ہے کہ آپ پر بعض یہود نے جادو کردیا تھا یہ غلط ہے۔فرض کریں کہ اگر میں غلطی پر بھی تھا تب بھی میں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا تھا جس کی سزاکے طور پر میرے خلاف ایسے نفرت انگیز فتاویٰٔ تکفیر جاری کئے جاتے جن کو سن کر میں سوچنے لگا کہ اگر یہ شخص میری ساری بات یعنی حضرت امام مہدی ومسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی دعوت بھی سن لیتا تو شاید مجھے جان سے ہی مار دیتا۔ بہر حال میرے بات سننے کے اصرار پر اس نے کہا کہ میں تمہاری بعض اہل علم حضرات کے ساتھ میٹنگ کرواتا ہوں تا تمہارے ذہن میں پیدا ہونے والے تمام شبہات کا جواب دیا جاسکے۔ چنانچہ میری اس کے ساتھ بھی بات ہوئی اور اس کے اہل علم حضرات کے ساتھ بھی بحث چلتی رہی۔ ان کے سنے سنائے باطلانہ اتہامات کے بالمقابل جب میری طرف سے صدق دل سے احمدیت کی صداقت پر ایمان کا موقف سامنے آیا تو انہوں نے یک زبان ہو کر میرے کفر کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو سلام کرنا یا اس کے سلام کا جواب دینا بھی حرام ہے۔اس کے بعد میرے خلاف بھانت بھانت کی باتیں ہونے لگیں۔ کوئی کہتا کہ یہ نیا ہندی دین لے آیا ہے، کوئی کہتا کہ یہ شیعوں میں جا ملا ہے، اور کوئی کہتا کہ یہ عیسائی ہو گیا ہے۔ پھر بعض نے یہ کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی کہ اس پر جنّوں کا سایہ ہو گیا ہے۔ بعض نے کہا کہ بیچارہ پیسوں کے لالچ میں آکردین تباہ کربیٹھا، اور بعض نے کہا کہ یہ اتنا بے وقوف اور احمق ہے کہ شیطان بھی اس پر ہنستا ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ سب کچھ بیعت سے پہلے ہی ہوگیا۔
بیعت میں تاخیراور اس کی وجہ
میرے خلاف مذکورہ بالا فتوی کے جاری ہونے کے ایام کی ہی بات ہے کہ میں جب پروگرام الحوار المباشر دیکھتا تو میرے والد صاحب بھی اکثر میرے ساتھ آبیٹھتے۔ میں تو دل سے احمدی تھا اس لئے میں اپنے والد صاحب کی رائے جاننے کے لئے اکثر پروگرام اور شرکائے پروگرام کے موقف کی بہت تعریف کرتا۔ والد صاحب کو بھی احمدیت کی بہت سے تفاسیر وتشریحات اچھی لگتی تھیں لیکن وہ اس جماعت کی صداقت کے بارہ میں تحقیق جیسے امور سے کوسوں دور تھے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس کے بارہ میں انہیں کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔
جب والد صاحب نے دیکھا کہ میں نمازوں کے وقت اور خصوصًا جمعہ کے روز بہانہ کر کے کہیں چلا جاتا ہوں تو مجھ سے اس بارہ میں پوچھ گچھ شروع کردی۔میں ابھی سابقہ آلائشوں سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکا تھا اس لئے ان کے سوالوں کے جواب میں سچ کو ملحو ظ نہ رکھ سکااور شاید اسی سبب سے میری بیعت بھی لیٹ ہوئی۔ اور میں اپنے اہل خانہ پر بھی کوئی نیک تاثیر نہ ڈال سکا۔
مخالفین کا دباؤ اور میری گھر بدری کا حکم
اسی عرصہ میں گھر سے باہر مسجد کے متشدد نمازیوں سے مایوس ہوکر میں نے کچھ دُور رہنے والے دو اور اشخاص کو تبلیغ کی تووہ احمدیت کی صداقت کے قائل ہو گئے۔تاہم ان کی بیعت سے پہلے ہی ان کے احمدی ہونے کی خبر مسجد کے سلفی متشددین تک جا پہنچی جس پر وہ تلملا اٹھے اور انہوں نے جا کر میرے والد صاحب سے کہا کہ تمہارا بیٹا خود بھی گمراہ ہوگیا ہے اور اب دوسروں کو بھی گمراہ کررہا ہے۔نیز انہوں نے والد صاحب کو دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ اگر تمہارا بیٹا باز نہ آیا تو ہم اسے پولیس کے حوالے کردیں گے اور پھر تم اس کی شکل بھی نہ دیکھ سکو گے۔
یہ صورتحال میرے والد صاحب کے لئے نہایت خوفناک تھی۔ جس کے زیر اثرآنے کی وجہ سے انہوں نے مجھ پر مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔میری طبیعت میں ایسے لوگوں کے پیچھے نماز ادا کرنے کے بارہ میں شدید انقباض پیدا ہوچکا تھا لہٰذا میں نے والد صاحب کی بات پر عمل نہ کیا۔ والد صاحب نے کہاکہ اگر تم اہل محلہ کے ساتھ جا کر ان کی مسجد میں ان کے پیچھے نماز نہیں ادا کروگے تو مَیں تمہاری ماں کو طلاق دے دوں گا۔ بے زبان ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرا عزم ٹوٹ جاتا اور میں والد صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خود کو یہی کہتا کہ اے کمال الدین ! کیاتمہارا یہی انجام ہوگا کہ اب باقی کی تمام زندگی اسی طرح منافقانہ طریق پر گزاردو گے؟اگر خدا موجود ہے اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر ہی تم احمدیت میں شامل ہونا چاہتے ہوتو پھر اس پر توکّل کرو اور دیگر امور کی پرواہ نہ کرو، اللہ تعالیٰ خود ہی ان مشکل حالات کو بدل دے گا۔
میرے والدصاحب میرے خلاف ’’کفر‘‘ کے دلائل جمع کرنے کے لئے باقاعدگی سے میرا کمرہ چیک کرتے، اور ایک روز انہیں میرے کمرے سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی کتاب ’’منہاج الطالبین‘‘مل گئی جسے پڑھے او ردیکھے بغیرانہوں نے مجھے مجرم قرار دے گھربدری کا پروانہ جاری کر دیا۔چونکہ والد صاحب کی ڈیوٹی رات کی ہوتی تھی اس لئے وہ جاتے ہوئے والدہ صاحبہ کو میرے بارہ میں کہہ گئے کہ اگرتم نے اسے گھر میں داخل ہونے دیا تو تمہارا اور میرا رشتہ ختم ہوجائے گا۔
ایسے حالات میں مَیں گھر سے نکلا،اس وقت مجھے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ کیا کروں اور کہاں جاؤں لیکن مجھے اتنا اندازہ تھا کہ یہ میری زندگی کا اہم موڑ ہے اور مجھے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
بیعت،گھر واپسی اور تبدیلی
مجھے قریبی علاقے کے دو احمدی برادران نے پناہ دی۔ میں نے اس موقع پر پہلا کام یہ کیا کہ بیعت فارم پُر کر کے ارسال کر دیا۔ یہ 2012ء کے وسط کی بات ہے۔ پھر مذکورہ بالا دونوں احمدی برادران کے ذریعہ ہی میرا دیگر احمدی احباب کے ساتھ بھی اچھاتعلق قائم ہوگیا۔ میرا خدا پر ایمان اورتوکّل بھی بڑھا اور اس کی قربت کا احساس بھی ہونے لگا۔ اس عرصہ میں والدہ صاحبہ سے میرا رابطہ رہا، ان کی آہ وبکا اور واپس آنے کا اصرار مجھے رُلا تا تھا لیکن میں ایسا کرنے سے قاصر تھا۔چنانچہ میں نے حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ساری صورتحال تحریر کرکے دعا کی درخواست کی۔ حضور انور کی دعا کی برکت یوں ظاہر ہوئی کہ دو ماہ کی گھر بدری کے بعد میرے والد صاحب نے مجھے گھر واپس آنے کی اجازت دے دی۔ میں واپس آیا تو اب والد صاحب بھی قدرے بدل چکے تھے۔ گو اب وہ سلفیوں کے پیچھے نمازپڑھنے پر تو اصرار نہ کرتے تھے لیکن میرے احمدیوں کی طرف جانے اوروہاں نماز اداکرنے کے بھی مخالف تھے۔گویا احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اور ان سے میل جول رکھنا انکے نزدیک ملحد اور بے دین ہونے سے بھی برا تھا،چنانچہ وہ اکثر والدہ صاحبہ کے ذریعہ مجھے دھمکیاں وغیرہ بھی دیتے رہتے تھے۔لیکن اب میں بھی بدل گیا تھا۔ میں نے ان کی ایسی باتوں اور دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کی تاآنکہ اب چار سالوں کے بعد وہ سمجھ چکے ہیں کہ میں اپنے موقف سے ہٹنے والا نہیں ہوں اس لئے انہوں نے میری مخالفت چھوڑ دی ہے۔
اگرچہ میری بیعت اتنی پرانی نہیں ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ شرف عنایت فرمایا ہے کہ میں اپنے علاقے میں پہلا احمدی تھا۔ کہاں مخالفین مجھے بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور اب یہ حال ہے کہ ہمارے علاقے میں جابجا احمدی پائے جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کے زمین کے کناروں تک پہنچنے کی ایک جھلک پیش کررہے ہیں۔
(باقی آئندہ)




