وہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے آپ کو نثار کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی راہ میں جان دے دیں اور وہ زندگی کے خواہاں نہیں ہوتے۔ پس اللہ کے کرم کا تقاضا ہے کہ انہوں نے جو پیش کیا ہے وہ اسے اپنی جناب سے بڑھا کر انہیں لَوٹائے اور جو رشتہ وہ توڑ رہے تھے اسے جوڑ دے اور اسی طرح اس کی سنّت اپنے بندوں میں جاری ہے کہ وہ احسان کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور وہ جو اس کے لئے تذلّل اختیار کرتے ہیں وہ انہیں ذلّت کی مار نہیں مارتا بلکہ وہ عزت دئیے جاتے ہیں ۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو ایسا خزانہ سمجھتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتا اور ایسا چشمہ جو نہیں رکتا۔ اور ایسا محافظ جو نہیں سوتا اور ایسا نگہبان جو ادائیگی ٔ فرض سے پیچھے نہیں ہٹتا اور وہ ایسا بادشاہ ہے جو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ ایسا محبوب ہے جو کھویا نہیں جاتا اور ایسا مخدوم جو ناقدری نہیں کرتا اور ایسا عالی مرتبت جس کے لئے کوئی پستی نہیں ۔ایسا سمندر جس کا پانی کم نہیں ہوتا اور ایسا زندہ ہے جسے کوئی عُسرت نہیں اور ایسا طاقتور ہے جس میں کوئی کمزوری نہیں اور ایسا حاکم ہے جو رسول بھیجتا اور نمائندگی کا شرف بخشتا ہے۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق اس کے کلمات سے پیدا کی گئی ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹ کر جائے گی۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان کی کئی بار آزمائش کی جاتی ہے پھر ان کا رب انہیں بچا لیتا ہے اور ان کی مدد کی جاتی ہے۔ ان کی اس آزمائش کی غرض محض یہ ہوتی ہے کہ تا ان پر اللہ کا فضل ظاہر ہو اور جاہل جان لیں ۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ شراب طہور کو چُسکیاں لے لے کر پیتے ہیں ان کے دل نور سے لبریز کئے جاتے ہیں ۔ تُو ان کے چہروں پر اللہ کے اکرام اور بشاشت کے آثار دیکھے گااور اللہ کے ہاتھوں انہیں ہر طرح کی آسودگی دی جاتی ہے۔
اوران کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ غیر معمولی مضبوط دل والے ہوتے ہیں جو بیابانوں میں گھس جاتے ہیں جہاں صرف بہادر ہی گھس سکتا ہے۔ وہ اپنی جانوں کو خدائے قدیر کی رضا حاصل کرنے کی خاطر قربان کر دیتے ہیں ۔ تُو انہیں اپنے کئے پر حسرت کا اظہار کرنے والا نہیں پائے گا بلکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اموال آسمان میں جمع کر رہے ہیں اور وہاں نہ تو کوئی چور چوری کر سکتا ہے اور نہ ہی ان سے کوئی چھین سکتا ہے۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ یہ لوگ خدائے غفار کے ہاتھوں سے نچوڑے ہوئے شہد کی طرح ہیں اور وہ دوسروں کی وساطت کے بغیر صرف اپنے ربّ سے تعلیم پاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ انہیں دیا جاتا ہے۔ یا وہ شاخ دار درخت کی طرح ہوتے ہیں جسے چرواہا اپنے ڈھانگے سے جھکاتا ہے۔ نہ درخت کے ان پتوں کی طرح جو چرواہے کے التزام کے بغیر خود بخود گرتے ہیں ۔ اور ان کی نظریں اپنے ربّ پر لگی رہتی ہیں اور وہ حجاب میں نہیں رکھے جاتے۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اللہ کو پانے کے لئے بھاگ دوڑ کے بغیر (بلا روک ٹوک) پوری کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں (اللہ کی محبت کی) آگ شعلہ زن رہتی ہے اور وہ اس اَلائو کو بھڑکائے رکھتے ہیں ۔اور اس (آتش محبت) سے مشقت میں پڑ کر بڑے اہم امور انجام دیتے ہیں اور اس آگ کی قوت سے ایسے خارق عادت افعال انجام دیتے ہیں جو مخلوق کو تعجب میں ڈالتے ہیں اور عقل و فہم حیران رہ جاتی ہے۔ اور تُو ان کے اعمال میں چستی دیکھے گا نہ کہ سستی اور اَڑیل پن۔ اے سُننے والے! اگر تُو تعجب کرے تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ) تُو اہل بصیرت میں سے نہیں ۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ انہیں عذاب نہیں دیا جاتا اور ان کے لئے دکھ درد انعام کی طرح بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے لئے رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ان کو ایسی جگہوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جو ان کے گمان سے بھی باہر ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ انہیں ربّ جلیل و جبّار کے حرم میں قرب اور مقام حاصل ہوتا ہے۔ پس (خدا کے) حرم سے وابستہ کو آگ میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے اور کیونکر ان کو عذاب دیا جا سکتا ہے اور ان کی اولاد بلکہ ان کی اولاد در اولاد کو بھی عذاب نہیں دیا جاتا اور ان میں سے ہر ایک پر رحم کیا جاتا ہے اور اللہ ان کی نسل میں برکت رکھ دیتا ہے۔ پس وہ برکتوں میں ہر روز بڑھتے ہیں اور ہم وہ وجہ بتاتے ہیں جس کے باعث اللہ ان کے لئے یہ تمام مراعات لازم فرما دیتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان کے بیٹوں اور بیٹوں کے بیٹوں کو کثرت بخشے اور انہیں راحت عطا فرمائے اور تمام تکلیفیں ان سے دُور رہیں ۔ اور وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے آپ کو نثار کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی راہ میں جان دے دیں اور وہ زندگی کے خواہاں نہیں ہوتے۔ پس اللہ کے کرم کا تقاضا ہے کہ انہوں نے جو پیش کیا ہے وہ اسے اپنی جناب سے بڑھا کر انہیں لَوٹائے اور جو رشتہ وہ توڑ رہے تھے اسے جوڑ دے اور اسی طرح اس کی سنّت اپنے بندوں میں جاری ہے کہ وہ احسان کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور وہ جو اس کے لئے تذلّل اختیار کرتے ہیں وہ انہیں ذلّت کی مار نہیں مارتا بلکہ وہ عزت دئیے جاتے ہیں اور وہ (شخص) جس نے اپنے رب سے اخلاص کا معاملہ رکھا اور عہد پورا کیا اور اپنا حال پوشیدہ اور مخفی رکھا تو پھر اللہ بھی ایسے شخص کو گمنامی کے گوشوں میں پڑا رہنے نہیں دیتا بلکہ اسے اکرام و عزت دیتا اور عام لوگوں اور اپنے بھائیوں میں اس کی عزت افزائی کی خاطر اس کا لطف و کرم جوش مارتا ہے۔ وہ (خدا) پسند فرماتا ہے کہ جس طرح بھوکا شخص کھانے کی زبردست اِشتہا رکھتا ہے۔ ایسے ہی وہ اس شخص کے ذکر کو دُور دُور کے ممالک میں بلند کرنا چاہتا ہے۔ اللہ کا مقرب بندہ مسور کی دال پر (ہی) قناعت کر لیتا ہے اور تنعّم اور عیش کوشی سے نفرت کرتا ہے تو اس کا ربّ (اس سے) اس کے برعکس معاملہ کرتا ہے اور اسے پھلوں کے خوشے اور انار عطا کرتا ہے۔ وہ گوشہ ء تنہائی اختیار کرتا ہے تا کہ وہ تا دمِ مرگ مستور زندگی گزارے۔لیکن اللہ وحی کے ذریعے اسے اس کے حجرہ سے باہر نکالتا ہے پھر وہ اپنی مخلوق کو، اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس کے پاس تحفے اور نعمتیں لے کر آتے ہیں اور خدمت کرتے ہیں اور زمین میں اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے اور آسمان کے باسیوں میں یہ منادی کر دی جاتی ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن سے اللہ محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور اس سے اخلاص رکھتے ہیں ۔ اللہ ایسے مقرب الٰہی کی آنکھ ہو جاتاہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کا ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے۔ یہ ہے صلہ اُن لوگوں کا جو اپنے پورے وجود سے اللہ کے ہو جاتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ وہ اس امر کا فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ اسی
کے ہیں پھر اس کے بعد وہ مرتے دم تک اپنے قول و قرار کو بدلتے نہیں اور وہ اس کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔‘‘(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 71تا 76)



