مَصَالِحُ الْعَرَب قسط نمبر 398
(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات، گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)
مکرم وسیم محمد صاحب(2)
قسطِ گزشتہ میں ہم نے مکرم وسیم محمدصاحب آف شام کے سفرِ احمدیت کے بیان میں ان کی بیعت تک کے حالات اور اس کے بعد نازل ہونے والی برکات کا تذکرہ کیا تھا اس قسط میں ان کے اس ایمان افروز سفر کے باقی واقعات بیان کئے جائیں گے۔وہ بیان کرتے ہیںکہ:
مشکل مرحلہ آسانی سے طے ہوگیا
لازمی فوجی ٹریننگ کا ابتدائی عرصہ گزارنے کے بعد میری ڈیوٹی دمشق سے دُور لاذقیہ نامی ایک ساحلی شہر میں لگی۔ وہاںپر پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک روز دمشق سے میرے افسر کے نام ایک تار آیا جس میں مجھے فورًا دمشق روانہ کرنے کا حکم تھا۔ مجھے یہ حکم سن کرساری رات نیند نہ آئی۔ رہ رہ کر یہی خیال آتا تھا کہ شایداحمدیت سے تعلق کی وجہ سے فوج میں میرے ساتھ دوبارہ تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے، اور یہ سوچتے ہی ظلم کی حکایتِ خونچکاں بھی بار بار میری نظروں سے گزرنے لگی۔بہر حال اگلے روز میں دمشق پہنچا تو پہلے سے بتائے گئے مقام پر فوجی گاڑی میری منتظر تھی۔ میں ڈرتے ڈرتے اس کی سمت بڑھ رہا تھا ۔ قریب پہنچاتو اچانک ایک فوجی بسرعت اس گاڑی سے اترا اور پوری طاقت سے دھرتی ہلا دینے والا سلیوٹ مارا۔میں تو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا، اس دبنگ قسم کے سلیوٹ کی آواز سن کر کانپ کے رہ گیا۔بہر حال فوجی نے نہایت مستعدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بڑے احترام سے مجھے گاڑی میں سوار کروایا اور گاڑی چلانی شروع کردی۔ میں ابھی تک اس غیرمتوقع سلوک کی وجہ سے حیران تھا۔بعد میں معلوم ہواکہ مجھے اُسی بریگیڈیئر نے بلوایا ہے جس کی نگرانی میں مَیں نے ابتدائی فوجی ٹریننگ مکمل کی تھی، اوراس کی ٹیچر بیوی کو تعلیمی بورڈکی طرف سے بھجوائے جانے والے پیپرز کی مارکنگ کرتا رہا تھا۔ اس بار اس موصوف نے مجھے اپنے بیٹے کو پڑھانے کے لئے یاد فرمایا تھا۔ مجھے تو حکم کی تعمیل کرنا تھی۔ چنانچہ لازمی فوجی ٹریننگ کا باقی کا تمام عرصہ بریگیڈیئر صاحب کے بیٹے کو ٹیوشن پڑھاتے گزر گیا۔ اس عرصہ میںایک مرسیڈیز کار ڈرائیور کے ساتھ ہر وقت میری منتظر رہتی تھی۔
سفر او راحمدی کلچر سے آشنائی
لازمی فوجی ٹریننگ کے بعدمیں2001ء میں خلیج کے ایک ملک چلا گیا جہاں احمدیوں سے ملنے، نظام جماعت کو سمجھنے، چندوں کے نظام میں باقاعدہ شامل ہونے، نماز باجماعت کی ادائیگی اورسب کام اطاعت کے جذبہ سے سرشار ہوکر رضائے باری کے حصول کی خاطر کرنے جیسے عظیم امور کو سیکھنے کا موقع ملا۔ مَیں اس جماعت میں اکیلا عربی احمدی تھا ۔ مَیں اردو زبان میں ہونے والے تمام لیکچرز اور خطبہ جات سنتا اور باوجوداردو سے نابلد ہونے کے بھی مجھے ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے مجھے سب کچھ سمجھ آرہا ہے۔
میں نے یہاںپراحمدیوں کی آپس کی اخوت ومحبت اور ایک دوسرے کی تکلیف کے احساس کے جذبہ میں صحیح اسلامی معاشرے کا رنگ دیکھا،خصوصًا پریشانی کے عالم میںاحمدیوں کی ایک دوسرے کی مدد کا انداز دیکھ کر دل گداز ہوجاتا اور روح خدا کے شکر کے جذبات سے سجدہ ریز ہونے کو بے قرار ہو جاتی جس نے محض اپنے خاص فضل سے ایسی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
احمدی لڑکی سے شادی
میںہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میںاہل خانہ کے ساتھ کچھ دن گزارنے کے لئے سیریاواپس آجاتاتھا۔ ایک بار جب میں آیا تومیری والدہ صاحبہ نے لڑکیوں کی ایک لسٹ میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ان میں سے جلدی سے اپنی بیوی کا انتخاب کر کے مجھے بتادو۔میری والدہ صاحبہ ایک تو میری جلدی شادی کی خواہاں تھیں، دوسرے اپنی سادگی میں ان کا خیال تھا کہ اگر وہ میری شادی کسی غیراحمدی بچی سے کروا دیں گی تو کچھ عرصہ کے بعد وہ بچی مجھے احمدیت سے دُو رکرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جبکہ میں اس کے بالمقابل کسی احمدی لڑکی کی تلاش میں تھا لیکن ہمارے علاقہ میں احمدیوں کی قلیل تعداد میں مجھے کوئی لڑکی نہ مل سکی۔ ایسی صورتحال میں میرے ہمسائے رأفت یونس صاحب کی بہن نے کہا کہ اس کی ایک دوست ہے جو احمدی تو نہیں ہے لیکن فطرتی نیک اور طبیعت کی بہت اچھی ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ شادی کے بعد احمدی ہو جائے گی۔اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد مَیں نے سب کے سامنے ہی اسے اپنے احمدی ہونے کے بارہ میں بتا کر مختصراً جماعت کا تعارف بھی کروا دیا۔ پھر اسے کہا کہ تم استخارہ کرو اور مَیں بھی دعا کر نے کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔اس لڑکی نے استخارہ کیا تو بہت اچھا خواب دیکھا،جس کے بعد میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں ساری صورتحال لکھ کر اس شادی کی اجازت کی درخواست کی۔ چند روز کے بعد مجھے مکرم عبد المومن طاہر صاحب نے فون کر کے بتایا کہ حضو ر انور نے شادی کی اجازت مرحمت فرمائی ہے اور رشتہ کے مبارک ہونے کے لئے دعا کی ہے۔یوں میری منگنی ہو گئی اوراس کے دو روز بعد مَیں خلیجی ریاست کے لئے عازم سفر ہو گیا۔ ایک ماہ کے بعد میری منگیتر نے فون کر کے مجھے بتایا کہ ایک ماہ کی تحقیق اور دعا کے بعد اس نے بیعت کرلی ہے۔ یہ خلیفۂ وقت کی استجابتِ دعا کا کرشمہ تھا کہ رشتہ بھی ہوگیا اوراحمدی لڑکی سے شادی کی میری خواہش بھی پوری ہو گئی۔ میرے لئے یہ خوشی کی بہت بڑی خبر تھی۔
بے مثال محبت واخوت کا سلوک
ایک سال بعد مَیں خلیجی ریاست سے شام آیا تو شادی کے بعد مَیں اپنی بیو ی کو ساتھ ہی لے گیا۔ میری بیوی وہاں پر احمدی عورتوں کے پیارومحبت کے سلوک سے بہت زیادہ متأثر ہوئی۔ مثلاً جب میری بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی تو اس کی طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہوگئی ۔یہ خبر سنتے ہی بہت سے احمدی احباب اپنی فیملیوں کے ساتھ حال پوچھنے کے لئے تشریف لائے۔ او رایک دوست تو ایک احمدی لیڈی ڈاکٹر کو بھی اپنے ساتھ لے کر آئے جس نے میری بیوی کے چیک اَپ کے بعد اسے فورًا ہسپتال میں داخل کروانے کا کہا۔ ہسپتال منتقل ہونے کے چند گھنٹوں کے بعدہی بفضلہ تعالیٰ بخیریت ولادت ہوگئی۔ اگلے روز میںیہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ لجنہ اماء اللہ نے نہایت منظم طور پر عورتوں کی اس طرح ڈیوٹی لگادی تھی جس کے مطابق اگلے تین دن تک ہر وقت میری بیوی کے پاس کوئی نہ کوئی احمدی عورت موجود رہتی تھی۔ پھر ہسپتال سے فارغ ہوکر گھر آنے پر بھی ایک ہفتہ تک دوپہر او رشام کا کھانا نہایت منظم طریق پر بھجوایا جاتا رہا۔ ہم اپنی پیاری جماعت کے پیارے افراد کی طر ف سے یہ پیار بھرا برتاؤ زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ اس بے مثال سلوک کا میری بیوی پر بہت گہرا اثر ہوا وہ ابھی تک تو محض نو مبائع تھی لیکن اس سلوک کے بعد احمدیت اس کے رگ وریشہ میں سرایت کرگئی۔
واپسی کے ہر قدم پر خدائی مدد
ہم اس خلیجی ریاست میں 2010ئتک رہے جس کے بعدمیں نے بہت دعاؤں اوربعض رؤیا کی بناء پرواپسی کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنی اہلیہ کو قبل ازیں بھجوا دیا تھا اور خود شام میں اپنے لئے کسی مناسب روزگار کی تلاش کررہا تھالیکن بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی اس لئے غالب خیال یہی تھا کہ شام جا کر ہی کوئی انتظام ہو سکے گا۔ میںنے بہت دعائیں کیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ جس کا تصور بھی وہم وگمان میں نہ تھا۔ ایک روز مَیں نے ایک خلیجی جریدہ میںسیریا میں ایک کمپنی کے لئے فنانشل آفیسر کی نوکری کا اشتہار پڑھا توفون کرکے انٹرویوکے لئے حاضر ہوگیا۔اسی روز ہی مجھے نوکری مل گئی اور یوں شام واپسی سے قبل ہی وہاں پر میرے لئے اچھی تنخواہ پر نہایت مناسب کام کا انتظام ہو گیا جو سراسر خدا کا فضل تھا۔
مَیں نے کرائے کے گھر کا سال بھر کاکرایہ ایڈوانس میں ادا کیا ہوا تھاجبکہ اس میں سے اب تک صرف چار ماہ ہی گزرے تھے ۔ باقی آٹھ ماہ کا کرایہ بظاہرضائع جانا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی انتظام فرمادیا کہ میری واپسی سے کچھ دن پہلے ایک شخص نے کہا کہ میں تم سے یہ گھر لے لیتا ہوں، چنانچہ باقی آٹھ ماہ کا کرایہ ا س نے مجھے ادا کردیا۔
چونکہ مَیں ایک لمبے عرصہ سے اس خلیجی ملک میں رہائش پذیر رہا تھا اس لئے گھر کے سازو سامان میں بہت کچھ خو د اپنی پسند کا خرید کر رکھا ہواتھا جسے وقت ِسفر اونے پونے بیچ کر جانا تھا۔ ایسی صورتحال میں میرے ایک دوست کا مجھے فون آیا وہ کہنے لگا کہ مجھے معلوم ہواہے تم واپس جارہے ہو؟ میرے اثبات میں جواب دینے کے بعد اس نے کہا کہ میں بھی سیریا واپس جارہا ہوں اورمیرے پاس ایک بڑی وین بالکل خالی ہے اگر تم چاہو تو اس کو سامان سے بھر دو اور شام پہنچانا میرا کام ہے۔پھر اس نے آکر نہ صرف اندر سے وین کو بھر لیا بلکہ اس کی چھت پر بھی بہت کچھ لاد لیا اور پھر تین دن کے طویل سفر کے بعد وہ سارا سامان لے کرسیریا پہنچ گیا۔
شاید کسی کی نظر میں یہ امور بہت معمولی ہوں لیکن میرے لئے یہ معمولی نہیں ہیں۔یہ اس خدا تعالیٰ کے افضال ہیں جس کی معرفت کا جام ہمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام نے آکرپلایا۔اور اس سے تعلق اور استجابت دعا کے نتیجہ میں عین وقت پر سب کام ہوجاتے ہیں۔
مَیں مئی 2010ء میںشام منتقل ہوا تو مجھے سیکرٹری مال کی خدمت سونپ دی گئی۔ انہی ایام میںایک اور سیرین مخلص احمدی مکرم مازن عقلہ صاحب کچھ عرصہ کے لئے جرمنی سے شام منتقل ہوئے تھے چنانچہ انہیں سیکرٹری تبلیغ کے فرائض سونپے گئے ۔ ہم دونوں نے مل کر پروگرام بنایا کہ ہم ہفتہ میں چار اشخاص سے خود جا کر ملیں گے ۔ چنانچہ ایسا کرنے سے احباب جماعت میں ایک نئی روح پیدا ہوگئی۔
بحران میں بھی نعمتوں کی فروانی
کچھ عرصہ ہی یہ سلسلہ چلا تھا کہ 2011ء کے اخیر میں شام کا بحران شروع ہوگیااور سب کچھ بدلنے لگا۔ایسے میں مجھے اپنی کمپنی کے بُرے سلوک کی وجہ سے کام چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد میں نے کئی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں درخواست دی لیکن کہیں کوئی نوکری نہ ملی۔ بالآخر دو معمولی کمپنیوں کی طرف سے انٹرویو کے لئے بلایا گیا ۔ایک کے ساتھ انٹرویو ایک روز کے بعد جبکہ دوسری کے ساتھ تین روز کے بعد تھا۔ میں خاصا متردّد تھا۔ میری اہلیہ نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ کوئی اسے زیتون کی ایک تھیلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وسیم سے کہنا کہ ابھی زیتون نہ کھائے بلکہ تین دن بعد کھائے، کیونکہ تب تک اس کا ذائقہ اچھا ہوجائے گا۔
اس رؤیا کی بناء پر میری اہلیہ نے مجھے کہا کہ کل والے انٹرویو کو چھوڑ دو اور تین دن بعد والے کے لئے چلے جانا ۔ مَیں نے ایسے ہی کیا اور واقعی مجھے نوکری مل بھی گئی لیکن ایک تو محض ایک عام ملازم کی حیثیت سے نوکری ملی دوسرے تنخواہ بہت کم تھی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ شام کے حالات خراب ہوئے تو سب کمپنیاں بند ہو گئیں اور ان کے ملازمین ذلیل و خوار ہو نے لگے جبکہ میری کمپنی بفضلہ تعالیٰ چلتی رہی اور خدا کی قدرت دیکھیں کہ باوجود شدید سخت حالات کے دمشق میں یہ واحد کمپنی ہے جو آج تک کامیابی کے ساتھ چلتی جارہی ہے اور ہر سال غیر معمولی منافع کمارہی ہے۔ میں نے اس میں عام ملازم کی حیثیت سے کام کیا اور پھر خدا کے فضل سے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے آج میں اس کے ڈائریکٹرز میں شامل ہوں ۔سیریا کے مالی لحاظ سے سخت مشکل حالات کے باوجود ہم خدا کے فضل سے اس کی نعمتوں کی فروانیوں میں زندگی بسرکررہے ہیں۔
قادیان کا روحانی سفر
شاید زندگی کے سب سے خوبصورت دن وہ ہیں جو پچھلے سال(2015ء میں) ہم نے قادیان میں گزارے۔
جب میں نے اپنی اہلیہ سے جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے لئے جانے کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ میرے لئے بچوں کوکسی کے پاس چھوڑ کر جانا بہت مشکل ہے۔ پھر جب میرا ویزا لگ گیا تو اس نے بھی جانے کے لئے ضد کرلی۔ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ اس کا ویزا دوسرے دن ہی لگ گیا ۔اب ٹکٹ کی خریداری کا مرحلہ تھا جس کی قیمت850 ڈالرز ہے۔ ہمارے پاس یہ رقم تو موجود تھی لیکن اس میں دو ٹکٹیں نہیں آسکتی تھیں۔ایسے میں ایک ٹریول ایجنٹ کا مجھے فون آیا۔ اس نے کہا کہ آپ سستی ٹکٹ کی تلاش میں تھے ۔اور میرے پاس آپ کے لئے خوشخبری ہے کہ ایک ائیر لائن نے خاص رعائتی آفر لگائی ہے ۔لہٰذا اب 440ڈالرز میں ٹکٹ مل سکتا ہے۔ گویا جتنی رقم ہمارے پاس تھی اسی میں ہی دو ٹکٹ آگئے۔پھر اسی روز کمپنی کے مالک نے میرے کام سے خوش ہوکر تقریباً دوہزار ڈالرز مجھے بونس دے دیا اور یوں ہم نے صرف قادیان جانے کی نیت کی اور باقی سارا بندوبست اللہ تعالیٰ نے غیب سے فرمادیا۔
قادیان کا سفر ایک خواب ہے۔ قدم قدم پر دعائیں کرنے کی توفیق ملی اور برکتوں سے جھولیاں بھر کر لوٹے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس مقدس بستی کی زیارت نصیب فرمائے۔آمین۔
(باقی آئندہ)




