مکرم محمود احمد صاحب (بنگالی) مرحوم
محترم محمود احمد شاہد صاحب (مرحوم) امیر جماعت آسٹریلیا کی ذات کو سب سے زیادہ اور حسین خراجِ تحسین تو ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا تھا۔چونکہ اس عاجز نے بھی ان کی بے پناہ شفقتوں سے باقی احباب کی طرح حصہ پایا ہے۔ اور ایک لمبا عرصہ ان کے زیرِنگرانی کام کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی اس لیے خاکسار ان کی زندگی کے بعض پُرشفقت واقعات جن کا زیادہ تر تعلق خاکسار سے ہے بیان کرنے کی کوشش کرے گا۔
آپ سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات 1996ء میں آسٹریلیا آنے پر ہوئی۔ خاکسار جب ائر پورٹ سے مسجد پہنچا تو مسجد کے بالائی حصہ پر جہاں آجکل MTA کا اسٹوڈیو ہے وہاں رہائش پذیر ہوا۔ تھوڑی دیر بعد ہی سیڑھیوں سے السلام علیکم کی آواز آئی۔ دیکھا تو محترم امیر صاحب تشریف لا رہے تھے۔ بڑی گرمجوشی سے گلے لگایا اور خوشی کا اظہار فرمایا اور سفر کا بھی پوچھا کہ کیسا گزراہے۔ ان دنوں ان کے پاؤں میں تکلیف تھی۔ خاکسار نے عرض کی کہ مَیں خود حاضر ہو جاتا۔ فرمانے لگے: نہیں، تم مہمان ہو اس لئے میرا آنا فرض بنتا تھا۔
1996 ء میںہی کچھ احمدی خاندان آسٹریلیا آ کر آباد ہوئے تو محترم امیر صاحب نے ہر لحاظ سے ان کی مدد فرمائی اور ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی خود خیال رکھا۔ یہاں تک کہ ان کو Centerlink اور Medicare کے دفاتر میں بھی خود لے کر جاتے رہے۔ خاکسار کے ساتھ بھی خود امیگریشن کے آفس گئے تا کہ میری درخواست جمع کروا سکیں اور اس کے بعد ٹیکس آفس(ATO )میں لے جا کر خود خاکسار کے لیے ٹیکس فائل نمبر کے لیے فارم پُرکئے۔
محترم امیرصاحب اکثر اپنے خطبات میں جو جلسہ سالانہ یا خدام کے اجتماع کے موقعہ پر ہوئے اہل خانہ سے نیک سلوک کی تلقین فرماتے اور خاندانی جھگڑوں کے جو کیس آتے ان کی وجہ سے کافی پریشان رہتے ۔
2000ء میں خاکسار نے جب گھر خریدا تو ازراہِ شفقت خاکسار کے ساتھ گھر دیکھنے گئے اور بہت خوشی کا اظہار بھی فرمایا۔
جون 2003ء میں خاکسار مسجد آیا ایک رپورٹ بنانی تھی جو کہ لندن جانی تھی۔ خاکسار نے رپورٹ تیار کر کے محترم امیر صاحب کو دی اور درخواست کی کہ لندن فیکس کرنی ہے ۔ رات کافی ہو چکی تھی اور موسم بھی خراب تھا۔ واپسی سفر میں Hollinsworth road پر خاکسار کا بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور گاڑی بھی write off ہو گئی تاہم اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خاکسار کو محفوظ رکھا ۔ محترم امیر صاحب کو فجر کی نماز پر پتہ چلا تو دن چڑھتے ہی خاکسار کے گھر تشریف لے آئے۔اور دروازہ پر ہی نہایت فکر سے پوچھا کہ تم ٹھیک ہو۔ مجھے فجر کی نماز پر پتہ چلا تھا اور دن ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ تمہاری خیریت دریافت کرنے آؤں۔
2010ء میں جب خاکسار کے والد صاحب کی وفات ہوئی تو فون سنتے ہی تشریف لے آئے خاکسار کو گلے لگایا تو خاکسار کی سسکیاں نکل گئیں جس پر مجھے کافی دیر سینہ سے لگائے رکھا اور زیر ِلب دعائیں کرتے رہے جن کی آواز مجھے بھی آرہی تھی۔
محترم امیر صاحب(مرحوم) کے اندر خلافت سے محبت اور ادب کا ایک سمندر موجزن رہتا۔ دربارِ خلافت سے جب بھی کوئی ارشاد آتا تو اس کو پورا کرنے کے لیے بیقرار رہتے اور خلیفۂ وقت کے لئے دعا کی تحریک فرماتے رہتے۔ اور حضور انور کے خطبات سننے کی طرف احباب جماعت اور عاملہ کو تلقین فرماتے رہتے اور پھر مجلس عاملہ کے اجلاسات میں یہ سلسلہ بھی شروع فرمایا کہ پچھلے چار ہفتوں کے خطبات جمعہ کا خلاصہ پیش کیا جائے۔ خاکسار کو محترم امیر صاحب کے خطوط لکھنے کی کئی سالوں سے توفیق ملتی رہی۔ میں نے یہ بات خاص طور سے نوٹ کی کہ جب حضورانور کی خدمت میں خط لکھواتے اور کسی معاملہ میں راہنمائی درکار ہوتی تو فرماتے کہ لکھو ’’ حضورِ انور کی خدمت اقدس میں نہایت ادب سے درخواست ہے‘‘ ۔
2013ء میں جب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آسٹریلیا کے دورہ پر تشریف لانے والے تھے تو اس وقت محترم امیر صاحب بیمار تھے لیکن اس کے باوجود دورہ کے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی خیال رکھا اور ہدایات دیتے رہے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بات جس کے لیے حضورِ انور کی اجازت یا راہنمائی کی ضرورت ہوتی تو خاکسارکو فرماتے کہ حضور کو راہنمائی کے لیے خط لکھو۔
محترم امیر صاحب کو اس بات کا بھی بہت خیال رہتا کہ خدّام یا احبابِ جماعت کی بہتر رنگ میں تربیت ہو اور وہ نہایت ذمہ داری سے جماعتی خدمات سر انجام دیں۔ اس سلسلہ میں آپ اکثر نصیحت فرماتے اور ہدایات سے نوازتے۔ ایک وصف آپ میں یہ بھی تھا کہ ہر آدمی سے اس کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیتے اور اکثر احباب کو مختلف کاموں میں involveرکھتے ۔
2003 ء میں مکرم فیروز علی شاہ صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ آسٹریلیا مسجدبیت الفتوح کے افتتاح کے پروگرام میں شرکت کے لئے جماعتی نمائندہ کے طور پر لندن تشریف لے گئے۔ ان دنوں مجلس خدام الاحمدیہ آسٹریلیا کا سالانہ اجتماع تھا اور خاکسار ناظمِ اعلیٰ اجتماع تھا۔ صدر صاحب نے لندن جاتے ہوئے خاکسار کو قائم مقام صدر مجلس کی ذمہ داری بھی عنایت فرمائی ۔ اجتماع کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خاکسار کچھ نروس تھا۔ خاکسار نے محترم امیر صاحب سے درخواست کی کہ وہ بھی اسٹیج پر خاکسار کے ساتھ تشریف رکھیں۔فرمانے لگے کیوں؟ میں نے عرض کی کہ صدر صاحب بھی یہاں نہیں اور میں نے بھی کبھی افتتاحی تقریب سے خطاب نہیں کیا اس لیے تھوڑی گھبراہٹ ہے ۔ فرمانے لگے ایک بات یاد رکھو کہ الٰہی جماعتیں بندوں کے بل بوتے پر نہیں چلتیں۔ خدا خود انہیں چلاتا ہے۔ جاؤ وہاں بیٹھو اور پروگرام شروع کرو۔
محترم امیر صاحب کے اندر انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ لباس بھی بہت سادہ ہوتا اور ہر خاص و عام سے نہایت محبت اور خندہ پیشانی سے ملتے۔ خود نمائی تو چُھو کر بھی نہ گزری تھی۔ ہر کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فضل ہی سمجھتے۔ کبھی یہ نہ کہا کہ یہ کام میری وجہ سے ہوا ہے۔
2008ء میں خلافت جوبلی تھی۔ اس سال نمائش کی تیاری کے سلسلہ میں خاکسار کے ساتھ کچھ چیزیں خریدنے کے لئے گئے۔ کیونکہ شوگر کے مریض تھے مَیں نے عرض کی کہ امیر صاحب کچھ کھا لیں یا کافی پی لیں۔ فرمانے لگے کہ چلو کافی پیتے ہیں۔ جب ہم کافی پی رہے تھے تو فرمانے لگے کہ جب سے آسٹریلیا آیا ہوں آج تیسری دفعہ باہر کافی پی رہا ہوں۔ اس بات کا خاکسار پر آج تک اثر ہے کہ آپ ایک ملک نہیںبلکہ براعظم کے امیر تھے اورکتنی سادگی سے زندگی بسر کر رہے تھے۔
محترم امیر صاحب بچوں سے بہت شفقت فرماتے اور بچے بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ کسی پروگرام کے بعد بچے بھی ان کی طرف مقناطیسی کشش کی طرح کھنچے آتے۔خاکسار کے بچوں سے بھی بہت شفقت فرماتے۔ ایک دفعہ میرا بڑا بیٹا جبکہ وہ ابھی چھوٹا تھا ضد کر بیٹھا کہ میں نے مسجد میں ہی کھانا کھانا ہے۔ پوچھنے لگے کہ کیوں ضد کررہا ہے؟ میں نے عرض کی کہ ضد ہے کہ کھانا مسجد میں ہی کھاؤں گا۔ اس کاہاتھ پکڑ کر گھر لے گئے کہ آؤکھانا کھلاؤں۔
عزیزم کاشف کی آنکھوں کا آپریشن تھا۔ خاکسار نے دعا کے لیے فون کیا تو فرمایا کہ ضرور دعا کروں گا ۔ رات کو ہم لیٹ گھر آئے تو میں نے مناسب نہ جانا کہ اس وقت فون کر کے بتاؤں ۔ رات کے دس بجے فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف محترم امیر صاحب تھے۔ فرمانے لگے کہ کاشف کا کیا حال ہے؟ مَیں جاگ رہا تھا کہ اس کی کوئی خبر آئے تو پھر سوؤں۔
2013 ء میں حضور انور کے دورہ آسٹریلیا کے دوران عزیزم کاشف کی آنکھوں میںجو تار آپریشن کے بعد ڈالی گئی تھی وہ باہر نکل آئی۔ بہت پریشانی ہوئی۔ امیر صاحب کو ساری صورتحال بتائی اور دعا کے لیے بھی عرض کی۔ محترم ناصر کاہلوں صاحب (نائب امیر) کی بیگم صاحبہ نے جو کہ ڈاکٹر ہیںاس کا معائنہ کیا اور ساتھ ساتھ ہاسپٹل سے ہدایات بھی لیں۔ عزیزم کاشف کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا تھا اور یہی وجہ اس کے آپریشن کی تھی۔رات کو میں کاشف کو لے کر حضور ایدہ للہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ دعا اور دوا کی درخواست کروں۔ جب حضور آفس سے باہر تشریف لائے تو میں نے کاشف کو آگے کیا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ یہ بچہ کون ہے؟ محترم امیر صاحب نے عرض کی حضور! ثاقب کا بیٹا ہے ۔حضور نے اس کی آنکھوں کا معائنہ فرمایا اور ازراہ شفقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی انگوٹھی اس کی دونوں آنکھوں پر پھیری اور فرمایا ’اللہ فضل فرمائے‘۔ الحمدللہ کہ اس کے بعد اس کی آنکھو ں سے پانی بہنا بند ہوگیا۔
محترم امیر صاحب جماعت کی ہر چیز کا بہت خیال رکھتے کہ وہ خراب نہ ہو۔ اکثر مسجد میں بچے کرسیاں دھوپ میں چھوڑ جاتے اور محترم امیر صاحب ان کو چھاؤں میں رکھتے کہ دھوپ کی وجہ سے خراب نہ ہو جائیں۔ایک واقعہ اپنی طالبعلمی کے زمانہ کا سنایا کرتے تھے کہ ربوہ میں بہت گرمی ہوتی تھی اور ہوسٹل میں پنکھا بھی نہیں تھا۔ لہٰذا ہم ناظر صاحب تعلیم کے دفتر گئے اور پنکھے کے لیے درخواست کی ۔ ناظر صاحب نے فرمایا کہ درخواست لکھ کر دو۔ امیر صاحب نے کہا کہ ہمارے پاس تو کاغذ اور قلم بھی نہیں ہے تو دفتر کے ایک کارکن سے کاغذ لینے کے لئے کہا اور دفتر کے کارکن نے ناظر صاحب سے پوچھا کہ ان کو پورا کاغذ دوں یا آدھا۔ اور پھر ہمیں پنکھا ملا۔ خاکسار نے محترم امیر صاحب سے پوچھا کہ امیر صاحب پنکھا بجلی کا تھا؟ فرمانے لگے کہ نہیں ہاتھ سے چلانے والا تھا۔ شاید یہی ٹریننگ ان کی پوری زندگی میں جماعتی املاک کے حوالہ سے کام آتی رہی ۔
2013 ء میں جب حضور انور آسٹریلیا کے دورہ پر تھے محترم امیر صاحب بیمار تھے۔ ایک دن خاکسار نے خواب دیکھا کہ امیر صاحب بغیر لاٹھی کے چل رہے ہیں اور بالکل ٹھیک ہیں۔ خاکسار جب مسجد گیا تو دیکھا کہ امیر صاحب اپنی رہائشگاہ سے باہر تشریف لا رہے تھے اور لاٹھی سے چل رہے ہیں۔ میں نے سلام عرض کیا اور آپ نے بڑی گرمجوشی سے جواب دیا۔ خاکسار نے عرض کیا کہ رات کو مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ بغیر لاٹھی کے چل رہے ہیں۔ تو فوراََ لاٹھی اٹھا کر ہاتھ میں پکڑلی اور چلنا شروع کر دیا۔ خاکسار نے عرض کی کہ امیر صاحب لاٹھی آپ کے ہاتھ میں تھی ہی نہیں۔ تو لاٹھی ایک اور صاحب جو ساتھ چل رہے تھے ان کو پکڑا دی اور فرمایا کہ لو تمہارا خواب پورا ہوگیا۔
غرباء اور ضرورتمندوں کی ہر ممکن مدد فرمایا کرتے ۔ خاکسار کے ہاتھ کئی دفعہ اپنے صدر خدام الاحمدیہ کے دَور کے کارکنوں کو پاکستان میں چاکلیٹ اور دوسرے تحائف بھیجے۔ ایک دفعہ لاہور میںایک صاحب کے بیٹے یابیٹی کی شادی تھی تو خاکسار کے ہاتھ دس ہزار روپے کی خطیر رقم ان کے لئے بھجوائی۔
ایک دوست نے خاکسار کو بتایا کہ یہاں آسٹریلیا میں بھی اپنی آمد کا زیادہ تر حصہ بیواؤں اور ضرورتمندوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔محترم امیر صاحب ان افراد کے لیے عید کے موقع پر کھانے کا ضرور اہتمام فرماتے جنہوں نے اسائلم کے لیے اپلائی کیا ہوتا اور وہ یہاں اکیلے ہوتے تھے اور ان کی فیملی کا کوئی اَور فرد یہاں نہ تھا تاکہ ان کو عید کے موقعہ پر اکیلے پن کا احساس نہ ہو۔
آپ کی وفات پر کئی ممبران پارلیمنٹ بھی تشریف لائے۔ آپ کے ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ اس موقع پر خاکسار کی بات ایک ممبر پارلیمنٹ Mrs Louis Markus کے ساتھ ہورہی تھی۔ اور وہ بار بار دکھ کا اظہار کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود صاحب کا وجود صرف جماعت احمدیہ آسٹریلیا کے لیے ہی نہیں بلکہ
HE WAS BLESSING FOR WHOLE AUSTRALIA
اللہ تعالیٰ محترم امیر صاحب(مرحوم) کے درجات بلند فرمائے اور ہمیشہ ان کو اپنی رحمت کے سائے تلے رکھے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ اور ہمیں ان کی نیک یادیں اور نیک کام ہمیشہ زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
محترم ڈاکٹر ریاض اکبر صاحب کے ان الفاظ میں اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔
’’ اک شخص جنابِ عالی تھا
جو حرص و ہوا سے خالی تھا
ہاں علم و عمل میں عالی تھا
محمود احمد بنگالی تھا‘‘
٭…٭…٭




