’’جہاد کی ضرورت نہیں رہی‘‘
15مسلمان ممالک کے نامور علماء کا متفقہ اعلان
اردو معاصرروزنامہ ’’پاکستان‘‘ ترکی میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کی خبر دیتے ہوئے زیر عنوان ’’مسلمان علماء نے ابن تیمیہ کا ’’فتویٰ جہاد‘‘ تبدیل کردیا‘‘ لکھتا ہے:
’’نامورمسلمان علماء نے قرون وسطیٰ کے اس فتویٰ کو تبدیل کر دیا جس میں جہاد کی تبلیغ کی گئی ہے۔ جنوب مشرقی ترکی کے شہر مردین میں علماء کی کانفرنس میں قرار دیا گیا کہ اس وقت جب کہ دنیا ’’گلوبل ویلج‘‘ بن گئی ہے اور ایک دوسرے کے مذہبی عقیدے اور انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے جہاد کی ضرورت نہیں رہی۔…مردین فتویٰ کے حوالے سے اب علماء نے کہا ہے ’’جو کوئی اس فتوے سے جہاد کی ترغیب پاتا ہے وہ غلطی پر ہے۔ یہ کسی ایک مسلمان یا گروہ پر لازم نہیں کہ وہ جہاد کرے۔‘‘
مردین کانفرنس میں 15 ملکوں کے نامور دینی سکالر شریک ہوئے جن میں سعودی عرب، ترکی، بھارت، کویت، ایران، مراکش اور انڈونیشیا کے علماء شامل ہیں۔ بوسنیا کے مفتی اعظم مصطفیٰ، ماریطانیہ کے شیخ عبداللہ، اور یمن کے شیخ حبیب علی بھی ان میںتھے۔ ابن تیمیہ کے فتوے میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے خلاف جہاد کے لئے کہا گیا ہے لیکن ان علماء کا کہنا ہے یہ مسلمان علاقوں پر منگولوں کے حملوں کے تناظر میں تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں کہا گیا ہے تمام اقسام کا سیکولرازم خلاف مذہب نہیں…‘‘۔
(روزنامہ ’’پاکستان‘‘ مؤرخہ4؍فروری2010ء)
واضح ر ہے کہ کانفرنس کے اصل اعلامیہ کے مطابق کانفرنس میں شریک علماء نے شیخ تقی الدین ابن تیمیّہ (1263-1328) کاکوئی فتویٰ تبدیل نہیں کیا بلکہ ان کے اصل فتویٰ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جوتحریف شدہ شکل میں رائج ہو چکا ہے اور اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد دنیا کو یہ بتلانا تھاکہ امام ابن تیمیہ نے اپنے زمانہ میں مردین شہر پر قابض منگولوں کے بارہ میں مقامی مسلمانوں کے ایک استفسار پر ’’ تعامل ‘‘ ( ان کے ساتھ معاملہ طے کرلو) کا لفظ استعمال فرمایا تھا لیکن تحریف شدہ مروّجہ فتویٰ میں تعامل کی بجائے ’’تقاتل‘‘ ( ان کو قتل کردو)کا لفظ شامل کردیا گیااور مبیّنہ طور پریہی تحریف شدہ فتویٰ آجکل مذہبی انتہاپسندی اورعالمی دہشت گردی کا سبب بن رہا ہے۔مندوبین کے مطابق امام ابن تیمیہ کا اصل فتویٰ دمشق کی ایک لائبریری میں موجود ہے جو آپ کے ایک شاگرد ابن مفلح کی کتاب ’’اَلآداب الشریعہ‘‘ میں بھی شامل ہے،جبکہ تحریف شدہ فتویٰ 1909ء میں منظر عام پر آیا تھا۔
(بحوالہ مضمون Memories of Mardin – ۔ ازقلم سید افتخار مرشد ۔ شائع کردہ ۔اخبار ’’ دی نیوز ‘‘ پاکستان مؤرخہ 28 ۔ مارچ 2011ء )
سوال یہ ہے کہ کیاواقعی آج بعض مسلمانوں میں رائج جہاد کا بگڑا ہوا تصور، مذہب کے نام پر یا مذہب کی آڑ میں خون خرابہ ،اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی گھمبیر مسائل صرف ابن تیمیہ کے تحریف شدہ فتویٰ کا نتیجہ ہیں؟ ایسا ہوتا تو یقیناً ابن تیمیّہ کے محرّف فتویٰ کی تصحیح ہو چکنے کے بعد مذکورہ مسائل کا قلع قمع نہیں تو ان میں ایک نمایاں کمی ضرورواقع ہوجا تی۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ 2010ء میں منعقدہ اس کانفرنس کے چھ برس گزر جانے کے بعد آج اسلامی دنیا کے مسائل پہلے سے بھی کئی گنا مزیدبڑھ چکے ہیں اور خود کو مسلمان یا ’’اسلامی‘‘ کہنے والی کتنی ہی اور تشددپسندتنظیمیں وجود میں آچکی ہیں جن میں سے اکثر (مبصرین اور محققین کے مطابق) قرون وسطیٰ کے کسی فتویٰ کی بنا پر نہیں بلکہ کسی اورہی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے امت مسلمہ کے مسائل میں افسوسناک اضافہ کا باعث بنتی چلی جارہی ہیں۔
اصل حقیقت یہی ہے کہ عالم اسلام کے جملہ مسائل امام وقت حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کا انکارکرنے کا منطقی اور قدرتی نتیجہ ہیں۔ مخبر صادق حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے مسائل کا ایک حل(توحید کے قیام اوردجل کے خاتمہ کے علاوہ) مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں کا خاتمہ بتایا تھاجس کا اعلان اور انصرام امام آخرالزمان حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ ہونا تھا۔ (بخاری کتاب الانبیاء ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واضح فرمان کے بعداس مقصد کے لئے کسی اور فتویٰ کی کوئی ضرورت یا اہمیت باقی نہیں رہتی۔ بانی ٔ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودعلیہ السلام جہاد بالسّیف کے حوالے سے فرماتے ہیں:
’’جس حالت میں اب اسلام ہے اس کا علاج اب سوائے دعا کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ لوگ جہاد جہاد کہتے ہیں مگر اس وقت تو جہاد حرام ہے اس لئے خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے۔ چونکہ توحید کے لئے دعا کا جوش دل میں ڈالا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارادۂ الٰہی بھی یہی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 3صفحہ 172)
آپؑ نے اس زمانہ میں مسلسل کئی بار پوری ہونے والی یہ عظیم الشان پیشگوئی بھی فرمائی کہ ؎
یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ۔مطبوعہ 1902 ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍ مارچ 2016ء میں فرمایا:
’’اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھل کر بتا دیا ہے کہ اب دین کے لئے جنگ و جدل حرام ہے، یہ حرکتیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بن رہی ہیں۔…ہر ایک جانتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پیغام بڑا واضح ہے کہ اب دین کے لئے یہ جنگیں حرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ دین کے نام پر ظلم کرنے والوں یا مسلمان ہوتے ہوئے ظلم کرنے والوں کو عقل دے چاہے وہ حکومتیں ہیں یا گروہ ہیں کہ وہ زمانے کے امام کی آواز کو سنیں اور ظلموں سے باز آئیں‘‘۔ آمین
(الفضل انٹرنیشنل 15؍ اپریل 2016 تا 21 ؍اپریل 2016۔صفحہ7 ،6)




