تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں (قسط 2)
(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں )
انصار میں تر بیت اولاد کا احساس اُجا گر کرنا
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :
‘‘میں انصار کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ بچوں کی تربیت نہایت ضروری چیز ہے اور ان کی نگرانی نہ کرنا ایک خطرناک غلطی ہے۔’’ (مشعلِ راہ جلد1صفحہ 456)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ـ فرماتے ہیں :
‘‘ یاد رکھیں کہ انصاراللہ کی سب سے اہم ذمہ داری نئی نسل کی تربیت ہے۔اگر انصار اپنے بچوں کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ ایک اہم مقصد کو حاصل کرنے والے ٹھہریں گے۔’’
(سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ 155 )
پھر فرمایا‘‘آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ انصار کو توجہ دلائیں کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کریں ۔ان کے بچے نمازیں پڑھنے والے ہوں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور وقت ضائع نہ کریں ۔’’
(میٹنگ مع نیشنل مجلس عاملہ انصاراللہ سنگا پور منعقدہ 7اپریل2006ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 28اپریل 2006ء )
تربیت اولاد کے طریقوں سے آگا ہی کا انتظام
تربیت اولاد کے طریقوں سے متعلق قر آن و حدیث اور رو حانی خزائن نیز خلفا ء سلسلہ کے ارشادات، سنہری اصولوں اور خوبصورت واقعات سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔اس غرض کے لئے زبانی معلومات مہیا کرنے کے علاوہ اس موضوع سے متعلق سرکلرز، فولڈرز اور کتب وغیرہ کی شکل میں تحریری اور سی ڈیز،ڈی وی ڈیز وغیرہ کی شکل میں ا لیکٹرونک موادمہیا کرنا نہایت مفید ہو سکتا ہے۔ تربیت اولاد کے نام سے نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ کی شائع کردہ کتاب اس موضوع پر ایک نہایت قیمتی دستاویز ہے اور ہر احمدی گھرانے میں اس کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔
بچوں کی اصلاح کی فکر اور نگہداشت
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فر ما تے ہیں :
‘‘یہ بھی انصار اللہ کا کام ہے کہ وہ احمدی بچوں کی تربیت کی فکر کریں’‘ (سبیل الرشاد جلد چہا رم صفحہ 189)۔
پس انصار کونہ صرف اپنے بچوں کی بلکہ دوسروں کے بچوں کی بھی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے اور اُن کے اخلاق و عادات کی نگہداشت کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ اس غرض کے لئے دوسرے بچوں کے اخلاق و عادات پر نظر رکھنے اورانہیں حسبِ موقع سمجھاتے رہنے کے علاوہ اُن کے والدین کو بھی حکمت کے ساتھ اس طرف متوجہ رکھنا ہمارا فرض ہے۔دیگر فوائد کے علاوہ یہ بات ہمارے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے بھی بہت مفید ہو گی اور جب تک ہم دوسروں کے بچوں کے اخلاق کی بھی نگرانی نہیں کریں گے اپنے بچوں کی طرف سے بھی مطمئن نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچے بہت سے اخلاق دوسرے بچوں سے سیکھتے ہیں اور اگر دوسرے بچوں کی عادات و اطوار اچھے نہیں ہوں گے توبیشک ماں باپ نے اچھی تربیت سے اپنے بچے کے اندر نیک خیالات پیدا کر دیئے لیکن بچہ جب گھر سے باہر نکلے گا، دوسرے بچوں سے گھلے ملے گا تو بُری صحبت کا اثر یہاں تک بھی ہو سکتا ہے کہ اس تربیت کا ہونا نہ ہونا مساوی ہو جائے۔بچوں کو دوسرے بچوں سے نہ ملنے دینے اور علیحدہ قید رکھنے سے ہم اُنہیں بدی کے اثرات سے محفوظ نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس طرح جہاں ان کی تربیت نا مکمل رہتی ہے وہاں اُن کے اعضاء کی نشو ونما بھی اچھی طرح نہیں ہو سکتی۔
یہاں ہمیں اس امر کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اگرکوئی ہمارے بچے کے کسی عیب سے ہمیں مطلع کرے یا کوئی شکایت کرے تو ہم قطعاً اس بات کا بُرا نہ منائیں بلکہ ایسے دوست کا شکریہ ادا کریں اورآئندہ بھی اُس سے دعا کے ساتھ ساتھ ایسی مدد کی درخواست کریں اور پھر جلد از جلد مکمل معلومات حاصل کر کے حکمت کے ساتھ اپنے بچے کی اصلاح کے لئے مناسب قدم اُٹھائیں ۔
بچوں کی تربیت کے لئے اپنی تربیت ضروری ہے
تربیت اولاد کے لئے اپنا نمونہ اور عمل بھی اچھا پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
‘‘ تربیت کے مضمون میں یہ بات یاد رکھیں کہ ماں باپ جتنی چاہیں زبانی تربیت کریں اگر ان کا کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزور ی کو لے لیں گے اور مضبوط پہلو کو نہیں لیں گے۔ یہ دو نسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجہ میں قومیں ہلاک بھی ہو سکتی ہیں اور یاد رکھنے کے نتیجہ میں ترقی بھی کر سکتی ہیں ۔ ایک نسل اگلی نسل پر جو اثر چھوڑا کرتی ہے اس میں عموماً یہ اصول کار فرماہوتاہے کہ بچے ماں باپ کی کمزور یوں کو پکڑنے میں تیزی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں ۔ اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں اور بیچ میں سے کمزور ی ہو تو بچہ بیچ کی کمزوری کو پکڑے گا۔
اس لئے یاد رکھیں کہ بچوں کی تربیت کے لئے آپ کو اپنی تربیت ضرور کرنی ہوگی۔ان بچوں کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو تم سچ بولا کرو، تم نے مبلغ بننا ہے۔تم بددیانتی نہ کیا کرو، تم نے مبلغ بننا ہے۔ تم غیبت نہ کیا کرو، تم لڑا جھگڑا نہ کرو اور یہ باتیں کرنے کے بعد پھر ماں باپ ایسا لڑیں ،جھگڑیں ،پھر ایسی مغلّظات بکیں ایک دوسرے کے خلاف، ایسی بے عزتیاں کریں پھر وہ کہیں کہ بچے کو تو ہم نے نصیحت کردی ہے اب ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ، یہ نہیں ہو سکتا۔جو اُن کی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی زندگی بنے گی۔ جو فرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ بچہ یہ کرو،بچے کو کوڑی کی بھی اس کی پرواہ نہیں ہو گی۔ ایسے ماں باپ جو جھوٹ بولتے ہیں وہ لاکھ بچے کو کہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے، خدا کے لئے سچ بولا کرو، سچائی میں زندگی ہے۔ وہ بچہ کہتاہے ٹھیک ہے یہ بات، لیکن اندر سے وہ سمجھتاہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اوروہ ضرور جھوٹ بولے گا۔ اس لئے دو نسلوں کے جوڑ کے وقت یہ ا صول کارفرما ہوتاہے اور اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں آپس میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں ‘’۔
(خطباتِ طاہر جلد نمبر 8 صفحہ 604,603)
خوشگوار گھریلو ما حول کا قیام
والدین اور بچوں کے درمیان اچھا تعلق ہوگا تواُن کی تربیت بھی اچھی ہو سکے گی۔لیکن اس کے لئے ماں اور باپ کے درمیان مثالی تعلق ہونا اورپورے گھر کا ماحول خوشگوار ہونا بے حد ضروری ہے۔اس لحاظ سے سورۃ النساء کی آیت نمبر35جس میں مرد کے قوّام یعنی سرپرست ہونے کا ذکر ہے باپ یا خاوند پر بڑی بھاری ذمّہ داری عائد کرتی ہے۔ اگر اُس کا طرزِ عمل خوشگوار گھریلو زندگی کے فروغ کے لئے ساز گار نہیں اور مناسب ماحول پیدا نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسا خاوند بحیثیت نگران اور سرپرست اپنی ذمّہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
چنانچہ انصار کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ میاں بیوی کے باہمی تعلقات بچوں کے کردار کو سنوارنے یا بگاڑنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے وہ اپنے تعلقات کو ہر طرح مثالی بناتے ہوئے اپنے گھرکے ماحول کو ایسا پُر سکون اور محبت بھرابنائیں کہ بچے فارغ وقت گھر سے باہر گزارنے کی بجائے ماں باپ کی صحبت میں گزارنا پسند کریں ۔ اپنے بچوں کو اپنے سے مانوس رکھیں ۔ دوستانہ ماحول ہو۔بچے کھل کر ماں باپ سے سوال بھی کریں اور ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرقسم کی بات کر سکیں ۔محبت سے ان کے سوالات کا جواب دیں ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں فرماتے ہیں :
‘‘ بچپن ہی سے بچوں کے دل اپنی طرف یعنی ماں باپ اپنی طرف مائل کریں اور گھر کے ماحول میں ان کی لذّت کے ایسے سامان ہونے چاہئیں کہ وہ باہر سے گھر لوٹیں تو سکون کی دنیا میں لَوٹیں ۔ بے سکونی سے نکل کر اطمینان کی طرف آئیں ۔’’
(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍ جون 1997ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 8تا 14اگست 1997ء)
گھریلو ماحول کی کشیدگی کے بد نتائج کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ فرماتے ہیں :
‘‘ہم نے بہت سے بچے دیکھے ہیں جن کی تربیت صرف اس لئے خراب ہوئی کہ ان کے والدین کے آپس کے تعلقات اچھے نہ تھے، اسی کا بُرا اثر پھر ان کی اولاد پر ہوا’’۔ (خطبا ت ناصر جلد10صفحہ236)
پس والدین اپنے گھر کا ماحول جنّت نظیر بنائیں ۔تحمل اور برداشت کے ساتھ ہمیشہ خوش وخرّم زندگی گزاریں ،بچوں کے اخلاق تبھی درست رہ سکتے ہیں ۔
(باقی آئندہ)




