متفرق مضامین

رمضان المبارک۔ روحانی موسم بہار کی آمد اور استفادہ کے طریق (قسط نمبر 2۔ آخری)

(سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ سلسلہ امریکہ)

6۔رمضان میں قبولیتِ دعا کے اوقات

اللہ تعالیٰ کی ذات رحمن و رحیم اور مستجاب الدعوات ہے اس کی رحمت ہر وقت وسیع سے وسیع تر ہوتی رہتی ہے کسی وقت بھی اس کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے اور وہ دینے والا ہے، وہ کبھی اس بات سے تھکا نہیں کہ اتنی مخلوق اس سے بار بار مانگ رہی ہے اور وہ عطا پر عطا کرتا جارہا ہے لیکن اس کی یہ عطا رمضان میں تو بہت ہی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس لئے ہر وقت خداتعالیٰ سے اس کی رحمت و مغفرت کی دعا اور تمنا کرتے رہنا چاہئے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے:

’’روزہ دار کے لئے اس کی افطاری کے وقت کی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔‘‘

(سنن ابن ماجہ بحوالہ منتخب احادیث صفحہ97)

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ افطاری کے وقت روزے دار کی دعا قبولیت کا درجہ پاتی ہے۔
کتنا اچھا ہو کہ قبولیت دعا کے اس وقت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اس وقت کو دعاؤں میں صَرف کیا جائے۔ زیرلب دعائیں کرتے ہوئے یہ وقت گزارا جائے۔پس اس وقت کو ہرگز ہرگز باتوں میں ضائع نہ کرنا چاہئے۔ اس وقت کی اتنی اہمیت ہے کہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہر روز افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ بہت سے گناہگاروں کو آگ سے نجات دیتا ہے۔ پس وہ لوگ کتنے ہی خوش قسمت ہوں گے جو اس وقت کو دعاؤں میں خرچ کر کے اپنے رب کو راضی کر لیں، اور خداتعالیٰ کی مغفرت اور رحمت ان کے حصہ میں آجائے۔

حضرت عمرؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’رمضان میں اللہ کا ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے اور اس ماہ اللہ سے مانگنے والا کبھی نامراد نہیں رہتا۔ ‘‘

پس رمضان کا مہینہ دعاؤں کے لئے بہت ہی سازگار اور موزوں ترین مہینہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ ایک منادی کرنے والے فرشتہ کو بھیجتا ہے جو یہ اعلان کرتا ہے۔
’’اے خیر کے طالب! آگے بڑھ اور آگے بڑھ۔ کیا کوئی ہے جو دعا کرے تاکہ اس کی دعا قبول کی جائے کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اسے بخش دیا جائے۔ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے اور اس کی توبہ قبول کی جائے۔‘‘

حضرت امام الزماں علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’ہماری جماعت کو چاہئے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ‘‘

(ملفوظات جلد نمبر9 صفحہ167۔ ایڈیشن 2003ء)

7۔رمضان اور لیلۃ القدر

ابن ماجہ کتاب الصوم میں حضرت انسؓ سے یہ روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
یہ مہینہ تمہارے پاس آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ جو شخص اس رات سے فائدہ نہ اٹھا سکا وہ تمام خیر سے محروم رہا اور اس کی خیر وبرکت سے سوائے محروم انسان کے کوئی خالی نہیں رہتا۔

(تحفۃ الصیام صفحہ173)

پھر حضرت عائشہؓ سے روایت آتی ہے کہ آپؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھاکہ اگر مجھے اس بات کا علم ہو جائے کہ یہ لیلۃالقدر ہے تو میں کیا دعا مانگوں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ دعا مانگنا

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ۔ فَاعْفُ عَنِّیْ۔

(سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر3513)

8۔رمضان المبارک اور ذکر الٰہی۔

درود شریف و استغفار

اگر ہم اپنا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم بہت سارا وقت کھانے پینے میں، اس کی تیاری میں، گپوں میں، فضول باتوں میں اور آج کل تو انٹرنیٹ، سوشل میڈیا TV پر گیمز وغیرہ دیکھنے میں خرچ کر دیتے ہیں۔ اور ان باتوں میں اس قدر انہماک ہو گیا ہے کہ ہمیں آس پاس کی بھی خبر نہیں ہوتی۔ گھر میں والدین، بچوں کی، عزیزوں کی اور حتی کہ مہمانوں کی موجودگی کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ حالانکہ وقت سے زیادہ کوئی چیز بھی قیمتی نہیں۔

پس مومن کو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پوری مستعدی کے ساتھ روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے قیمتی وقت کو ذکر الٰہی، درود شریف اور استغفار میں صرف کرنا چاہئے۔

مسلم کتاب الذکر باب فضل مجالس الذکر میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کے کچھ بزرگ فرشتے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں ذکر کی مجالس کی تلاش رہتی ہے جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو تو وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ساری فضا ان کے اس سایہ برکت سے معمور ہو جاتی ہے۔ جب لوگ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ کہاں سے آئے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح کر رہے تھے۔ تیری بڑائی بیان کر رہے تھے۔تیری عبادت میں مصروف تھے، تیری حمد میں رطب اللسان تھے اور تجھ سے دعائیںمانگ رہے تھے۔ تیری بخشش طلب کر رہے تھے… اس پر اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو انہوں نے مجھ سے مانگا… اس پر فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ان میں فلاں غلط کار شخص تھا وہ وہاںسے گزرا اور ان کو ذکر کرتے دیکھ کر تماش بین کے طور پر ان میں بیٹھ گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس کو بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور بدبخت نہیں رہتا۔‘‘

رمضان المبارک میں مساجد میں درس القرآن کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ ان مجالس میں اور درسوں میں آنے اور درس سننے سے یہ ساری برکات اور فوائدحاصل ہوتے ہیں جس کا اس حدیث نبوی ﷺ میں ذکر ہے۔

ترمذی کتاب الدعوات میں حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا، بڑا کریم اور سخی ہے جب بندہ اس کے حضور اپنے دونوں ہاتھوں کوبلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی اور ناکام واپس کرنے سے شرماتا ہے۔ ‘‘

حضرت موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ذکر الٰہی کرنے والے اور ذکر الٰہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔

ایک صحابی حضرت عبداللہ بن بشرؓ کو آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی:

’’لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطَبًا مِّن ذِکرِ اللہِ‘‘ کہ تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہئے۔ اسی طرح حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے سُبحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھا جنت میں اس کے لئے کھجور کا درخت لگا دیا جائے گا۔

ترمذی ہی میں یہ روایت حضرت ابن مسعودؓ سے آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اسراء کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیمؑ سے ہوئی تو حضرت ابراہیم ؑ نے آپ ؐ سے فرمایا کہ اے محمدﷺ اپنی اُمّت کو میری طرف سے سلام کہیں۔ اور انہیں بتا دیں کہ اَلْجَنَّۃُ طَیِّبَۃُ التُّرَبَۃِ عَذْبَۃُ الْمَاءِ وَاِنَّھَا قِیْعَانٌ وَاَنَّ غِرَاسَھَا سُبحَانَ اللہِ، وَالْحَمدُ لِلہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاللہُ اَکْبَرُ۔‘‘ یعنی جنت کی زمین بہت اچھی ہے ۔پانی بہت میٹھا ہے۔ اور وہ خالی ہے اور اس میں درخت لگانا یہ ہے کہ سُبحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاللہُ اَکْبَرُ کہا جائے۔

حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب جو آنحضرت ﷺ کے چچا تھے ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے ایسی دعا سکھائیں جس کے ذریعہ میں اللہ سے مانگوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ اللہ سے عافیت طلب کریں۔ کچھ دنوں کے بعد آپ پھر آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے ایسی دعا سکھائیں جس کے ذریعہ میں اللہ سے مانگوں۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت میں عافیت ہی طلب کرو۔

(سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث3514)

رسول خدا و محبوب کبریا آنحضرت ﷺ پر کثرت کے ساتھ ان ایام میں درود شریف بھی پڑھنا چاہئے۔ اگر آپ ایک مرتبہ بھی آنحضرت ﷺ پر درود شریف پڑھیں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آپ پر دس مرتبہ برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائےگا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ قیامت کے دن میرے نزدیک وہی لوگ ہوں گے جو مجھ پر زیادہ درود شریف پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اس شخص کی ناک مٹی میں ملے جس کے سامنے میرا نام لیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔

آپ ﷺ نے دعا کرنے کا بھی طریقہ سکھایا اور وہ اس طرح کہ ایک شخص کو آپؐ نے سنا وہ نماز میں دعا مانگ رہا تھا۔ اس نے دعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت کا ذکر نہ کیا اور نہ ہی اپنی دعا میں آنحضرت ﷺ پر درود بھیجا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اس شخص نے اپنی دعا میں جلدی سے کام لیا ہے۔ پھر آپ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو پہلے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرے، اس کی پاکیزگی بیان کرے، اس کی حمد و ثنا کرے۔ پھر رسول خدا پر درود شریف پڑھے اور اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے۔‘‘

(ابوداؤد اور ترمذی میں یہ روایت ہے۔ بحوالہ ریاض الصالحین حدیث نمبر1404)

جہاں تک استغفار کا تعلق ہے اس بارے میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنے اوپر استغفار کو لازم کر لے اللہ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، ہر پریشانی سے نجات بخشتا ہے نیز اس کو ایسے راہ سے رزق دیتا ہے جس کا وہ شخص گمان بھی نہیں کر سکتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’لکھا ہے کہ ایک بار آنحضرت ﷺ کھڑے ہوئے ۔پہلے بہت روئے اورپھر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا۔ یَاعِبَادَ اللہِ! خداسے ڈرو۔ آفات اوربلیّات چیونٹیوں کی طرح انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ۔ان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں بجز اس کے کہ سچے دل سے توبہ استغفار میں مصروف ہوجائو ۔

استغفار اورتوبہ کا یہ مطلب نہیں جو آجکل لوگ سمجھے بیٹھے ہیں۔ اَسْتَغْفِرُ اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا جبکہ اس کے معنے بھی کسی کو معلوم نہیں ۔ اَسْتَغْفِرُ اللہ ایک عربی زبان کا لفظ ہے۔… استغفار کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ سے اپنے گزشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفار انبیاء بھی کیاکرتے تھے اورعوام بھی ۔

درحقیقت مشکل تویہ ہے کہ ہندوستان میں بوجہ اختلاف زبان استغفار کا اصل مقصد ہی مفقود ہوگیا ہے اوران دعائوں کو ایک جنتر منتر کی طرح سمجھ لیا ہے ۔کیانماز اورکیا استغفار اورکیا توبہ؟ اگر کسی کو نصیحت کرو کہ استغفار پڑھا کرو تووہ یہی جواب دیتا ہے کہ میں تو استغفار کی سوباریادوسوبار تسبیح پڑھتا ہوں۔ مگر مطلب پوچھو توکچھ جانتے ہی نہیں۔ استغفار ایک عربی لفظ ہے اس کے معنے ہیں طلب مغفرت کرنا کہ یا الٰہی ہم سے پہلے جو گناہ سرزدہوچکے ہیں ان کے بد نتائج سے ہمیں بچاکیونکہ گناہ ایک زہر ہے اوراس کا اثر بھی لازمی ہے ۔ اورآئندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں ۔ صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا۔

توبہ کے معنے ہیں ندامت اورپشیمانی سے ایک بدکام سے رجوع کرنا ۔ توبہ کوئی براکام نہیں ہے ۔بلکہ لکھا ہے کہ توبہ کرنے والا بندہ خداکو بہت پیاراہوتا ہے ۔ خداتعالیٰ کا نام بھی تواب ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنے گناہوں اور افعال بد سے نادم ہوکر پشیمان ہوتا ہے اور آئندہ اس بدکام سے بازرہنے کا عہد کرلیتا ہے تواللہ تعالیٰ بھی اس پر رجوع کرتا ہے رحمت سے ۔ خداانسان کی توبہ سے بڑھ کر توبہ کرتا ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر انسان خدا کی طرف ایک بالشت بھر جاتا ہے تو خدا اس کی طرف ہاتھ بھر آتا ہے ۔ اگر انسان چل کر آتا ہے تو خدا تعالیٰ دوڑ کر آتا ہے ۔ یعنی اگر انسان خد ا کی طرف توجہ کرے تو اللہ تعالیٰ بھی رحمت فضل اور مغفرت میں انتہا درجہ کا اس پر فضل کرتا ہے ۔ لیکن اگر خدا سے منہ پھیر کر بیٹھ جاوے تو خدا تعالیٰ کو کیا پروا۔‘‘

(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 607-608ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

9۔رمضان المبارک اور صدقات:

رمضان کی عبادات سے انسان جو سبق سیکھتاہے ان میں سے ایک غرباء کے ساتھ ہمدردی، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور غریبوں اور محتاج لوگوں، بیوگان اور یتامیٰ کی خبر گیری اور ان کے جذبات کا احساس بھی ہے۔ ہمارے لئے تو رسول خدا ﷺ ہر کام میں اُسوہ حسنہ ہیں۔ آپ ﷺ کی سخاوت، غرباء سے ہمدردی اور یتامیٰ کی خبرگیری، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بارے میں آپ کے بیشمار واقعات ہیں۔ آپؐ سے جب بھی کسی نے مانگا آپؐ نے اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا بلکہ اسے عطا فرمایا۔ ایک دفعہ ایک شخص آیا تو آپؐ نے دو پہاڑیوں کے درمیان وادی میں بکریوں کا پورا ریوڑ اس کے حوالہ کر دیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور جا کر کہا کہ اے لوگو! اسلام قبول کر لو۔ محمد ﷺ تو اتنا دیتے ہیں کہ فقر و غربت کا انہیں خوف ہی نہیں۔ (تحفۃ الصیام صفحہ157)

ترمذی میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل اور بہترین صدقہ وہ ہے جو رمضان میں خیرات کیا جائے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں خرچ کرنے میں بخل نہ کیا کرو بلکہ اپنے نان و نفقہ پر بھی خوشی سے خرچ کرو کیونکہ اس مہینہ میں تمہارے اپنے نان و نفقہ کا ثواب بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے برابر ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

’’رسول کریم ﷺ رمضان کے دنوں میں بہت کثرت سے صدقہ و خیرا ت کیا کرتے تھے۔ احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے دنوں میں آپ تیز چلنے والی آندھی کی طرح صدقہ کیا کرتے تھے اور درحقیقت یہ قومی ترقی کا ایک بہت بڑا گُر ہے کہ انسان اپنی چیزوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ تمام قسم کی تباہیاں اس وقت آتی ہیں جب کسی قوم کے افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ان کی چیزیں انہی کی ہیں دوسرے کا ان میں کوئی حق نہیں … دنیا کے نظام کی بنیاد اس اصل پر ہے کہ میری چیز دوسرا استعمال کرے اور رمضان اس کی عادت ڈالتا ہے ۔ ‘‘

(تفسیر کبیرسورۃ البقرۃ 375-376)

رسول کریم ﷺ کی مثالوں سے واضح ہے کہ رمضان کے بابرکت ایام میں ہمیں صدقہ و خیرات کثرت سے کرنی چاہئے۔ ہر ایک کا خیال رکھیں، دیکھیں کہیں کوئی ضرورت مند تو نہیں۔ کچھ ضرورت مند ایسے ہوتے ہیں جو خود کہہ کر اپنی ضرورت پوری کروا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی سفید پوش ہوتے ہیں جو خود نہیں کہتے۔ ان کو تلاش کرنا، ان کی مدد کرنا یہ ہم سب کا فرض ہے۔’’ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘‘ ہر دو کا خیال رکھا جائے۔
اس لئے اپنے چندوں کی ادائیگی شرح اور آمد کے مطابق اس بابرکت ماہ میں ضرور کریں اور پھر اس نیکی کو دوام بخشیں۔

صدقۃالفطر

رمضان المبارک کے حوالہ سے ایک اور خاص بات صدقۃ الفطر کی ادائیگی بھی ہے۔ بعض اوقات احباب عید کے دن اس کی ادائیگی کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی جس قدر جلد ممکن ہو رمضان کے ابتدائی دنوں ہی میں اس کی ادائیگی کر دی جائے تو بہتر ہے تا کہ نظام بروقت ضرورت مندوں کی مدد کر سکے۔ بلکہ ایک حدیث میں تو اس کی یہاں تک تاکید ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

اِنَّ شَہْرَ رَمَضَانَ مُعَلَّقٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یُرفَعُ اِلَّا بِزَکٰوۃِ الفِطْرِ۔رمضان کے مہینے کی نیکیاں اور عبادات، آسمان اور زمین کے درمیان معلّق ہو جاتی ہیں۔ انہیں فطرانہ ہی آسمان پر لے کر جاتا ہے۔ یعنی رمضان کی عبادات کی قبولیت کا باعث بنتا ہے۔

10۔رمضان کا آخری عشرہ۔

اعتکاف، جمعۃ الوداع

بخاری کتاب الصوم میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آنحضرت ﷺ اپنی کمر ہمت کس لیتے اور اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے، آنحضرت ﷺ کاسارا رمضان ہی روحانی جدوجہد میں گزرتا تھا لیکن آخری عشرہ تو غیر معمولی اہمیت کا حامل ہو جاتا ۔ آپ کا یہ بھی فرمان تھا کہ رمضان کا اوّل رحمت ہے اور دوسراعشرہ مغفرت والا ہے اور آخری عشرہ آگ سے نجات دلاتا ہے۔

خداتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کی عبادت رمضان کے آخری عشرہ میں کس درجہ کی ہوتی تھی۔ پس ہر مومن کو سوچنا چاہئے کہ اگر گزشتہ دو عشروں میں کچھ کوتاہی اور کمی رہ گئی ہو تو اب ان بقیہ ایام میں پوری کر لیں۔

پھر آخری عشرہ میں ایک اور عبادت اعتکاف کی بھی ہے۔ جس کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ سنت نبوی ﷺ کی اتباع میں اعتکاف کرے۔ ایک حدیث میں رمضان المبارک کے دنوں میں اعتکاف کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی ہے ۔آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے رمضان میں دس دن بتمام شرائط اعتکاف کیا تو اسے دو حج اور دو عمرے کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ یعنی بیشمار ثواب کا مستحق ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے ایمان کی حالت میں اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اعتکاف کیا تو اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘
(منتخب احادیث صفحہ137)

پس چاہئے کہ بکثرت احباب و خواتین جنہیں اللہ تعالیٰ موقع اور توفیق دے یہ دس دن وقف کریں اور اعتکاف کریں۔

’’اعتکاف بیسویں کی صبح کو بیٹھتے ہیں کبھی دس دن ہو جاتے ہیں اور کبھی گیارہ۔‘‘ (تحفۃ الصیام صفحہ11)
اعتکاف کے لئے روزہ ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ خدا کی راہ میں ایک دن اعتکاف کرنے والے اور جہنم کے درمیان اللہ تعالیٰ تین ایسی خندقیں بنا دے گا جن کے درمیان مشرق و مغرب کے مابین فاصلہ سے بھی زیادہ ہو گا۔‘‘

(تحفۃ الصیام صفحہ170)

جمعۃ الوداع

جمعۃ الوداع کی کوئی اصطلاح احادیث میں نہیں ملتی۔ بعض لوگ واقعی نمازوں کو جمعوں کو اور روزوں کو وداع کرنے آتے ہیں، رمضان کا آخری جمعہ کے دن۔ کہ اب پھر سال بھر کی ہمیں چھٹی۔ گویا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ جمعہ پڑھ لیا تو پھر سارا سال نہ کسی نماز پڑھنے کی ضرورت نہ جمعہ پڑھنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ جمعۃ الوداع کا یہ تصور بالکل غلط ہے۔ قرآن اور احادیث میں ہر جمعہ کی اتنی ہی فضیلت بیان ہوئی ہے جتنی رمضان کے آخری جمعہ کی۔ کسی ایک جمعہ میں محض رمضان کی وجہ سے کوئی خاص فضیلت بیان نہیں ہوئی۔ چند احادیث خطبات مسرور سے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

1۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ کے دن جمعہ پڑھنا فرض کیا گیا ہے سوائے مریض، مسافر اور عورت اور بچے اور غلام کے۔ جس شخص نے لہو و لعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لاپرواہی برتی اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کرے گا۔ یقینا اللہ بے نیاز اور حمد والا ہے۔

(سنن دارقطنی کتاب الجمعہ)

2۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ ‘‘

(خطبات مسرور جلد ہفتم صفحہ 446)

3۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس کسی نے بلاوجہ جمعہ چھوڑا وہ اعمال نامے میں منافق لکھا جائے گا جسے نہ تو مٹایا جاسکے گا اور نہ ہی تبدیل کیا جاسکے گا۔

(مجمع الزوائد جلد دوم حدیث نمبر2999)

4۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے تساہل کرتے ہوئے لگاتار تین جمعے چھوڑے (سستی کرتے ہوئے تین جمعے لگاتار چھوڑے) اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ)

’’جب مہر کر دیتا ہے تو پھر نیکیاں کرنے کی توفیق بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان بالکل ہی دور پڑ جاتا ہے۔‘‘

5۔ حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص بھی جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق پاکیزگی اختیار کرے اور تیل لگائے اور گھر سے خوشبو لگا کر چلے… اور پھر جو نماز اس پر واجب ہے وہ ادا کرے، پھر جب امام خطبہ دینا شروع کرے تو وہ خاموشی سے سنے تو اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان ہونے والے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘

(بخاری کتاب الجمعہ حدیث نمبر883)

6۔ ایک حدیث میں جمعہ کی فضیلت اس طرح بھی بیان ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود بھیجو کیونکہ اسی دن تمہارا یہ درود میرے سامنے پیش کیا جائے گا۔‘‘

7۔ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’اس میں ایسی گھڑی بھی آتی ہے جو قبولیت دعا کی گھڑی ہے۔‘‘

(صحیح بخاری کتاب الجمعہ حدیث 935)
(خطبات مسرور جلد ہفتم صفحہ444-445)

پس مومن کا کام ہے کہ خداتعالیٰ کے اس حکم پر دل و جان سے عمل کرے کہ وہ ہر جمعہ کی ادائیگی کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے جو اس دن سے وابستہ ہیں وافر حصہ لے۔
نوٹ: بعض لوگ جو افطاریاں کراتے ہیں وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آخری جمعہ کے دن جو افطاری کرائی جائے گی یا جمعہ کے دن جو افطاری کرائی جائے گی اس کا بہت ثواب ہے۔ احادیث میں روزہ دار کے روزہ کھلوانے پر ثواب ہے اور اس کی جمعہ کے ساتھ کوئی خاص مناسبت نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

11۔عیدالفطر یا عید صیام

عید الفطر مسلمانوں کے لئے خوشی کا دن ہے۔ دین اسلام فطرت کا مذہب یعنی خوشی کے موقع پر خوشیوں کے جائز اظہار سے نہیں روکتا اور نہ ہی کسی قسم کی رہبانیت سکھاتا ہے۔ جو مسلمان ایک مہینہ خدا کی خوشنودی کی خاطر اس کے حکم سے پورا مہینہ روزے رکھتے ہیں تو رمضان کے اختتام پر وہ خدا کے حضور مزید خوشی کے طور پر سجدات شکر بجا لاتے ہیں۔ اس بابرکت تہوار کے لئے آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ آپؐ صفائی کا خاص اہتمام فرماتے، غسل فرماتے، مسواک اور خوشبو استعمال فرماتے۔ صاف ستھرا لباس پہنتے اور اگر نئے کپڑے میسر ہوں تو نئے کپڑے پہنتے۔ خواتین اور بچیوں کو بھی نماز عید میں شامل ہونے کی تاکید ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ خواتین جنہیں شرعی عذر ہوتے انہیں بھی عید اور اس کی دعا میں شامل ہونے کا حکم ہوتاتاہم وہ نماز میں شامل نہ ہوتی تھیں۔ آپؐ عید الفطر کے دن کچھ طاق کھجوریں تناول فرما کر عیدگاہ کی طرف تشریف لے جاتے۔

آپؐ نے عیدین کے لئے ان تکبیرات کا اہتمام بھی فرمایا اَللّٰہُ اَکبَرُ۔ اَللّٰہُ اَکبَرُ۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ وَاللّٰہُ اَکبَرُ۔ اَللّٰہُ اَکبَرُ ۔وَلِلّٰہِ الحَمدُ۔

روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے نماز عید پڑھائی اور خطبہ عید ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد آپؐ خواتین کی طرف تشریف لے گئے۔ حضرت بلالؓ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان کو بھی وعظ و نصیحت فرمائی۔ خاوندوں کی اطاعت کی تلقین فرمائی۔ صدقہ و خیرات دینے کی تلقین کی۔ حضورؐ کی اس تلقین پر مسلمان خواتین نے فوراً لبیک کہا اور اپنے ہاتھ اور کانوں اور گلے کے زیور اتار اتار کر بلال ؓکی چادر میں ڈالنے لگیں۔‘‘ (بخاری)

’’پس اگرہم چاہتے ہیں کہ حضرت اقدس رسول اللہ ﷺ کی عیدیں منائیں اور آپ کے مقدس صحابہ کی عیدیں منائیں تو ہمیں بھی اس دن خدا کے گھروں کو آباد کرنا ہو گا اور رمضان میں عبادات کا سیکھا ہوا سبق بھلانا نہیں بلکہ اور زیادہ مقدار میں پانچوں وقت خدا کے گھروں کو بھرنا ہو گا… پھر اگر ہم حضور اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی طرح حقیقی عیدیں منانا چاہتے ہیں تو اسی طرح ہمیں بھی اس دن غرباء کی خوشیاں بانٹنی ہوں گی اور اسی طرح اپنے بہترین کپڑے اور زیورات کے تحفے اور دیگر تحائف ان کو پیش کرنے ہوں گے۔ یہی وہ حقیقی عید ہے جس کی لذت دائمی اور اَن مٹ ہو گی۔ خدا غرباء میں زیادہ ملا کرتا ہے۔ پس اس دن امراء کی دعوتیں اور ان کے تحائف صرف امراء کے دائرے تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ غرباء کے گھروں تک پہنچیں جس سے نہ صرف ان کی یہ عید حقیقی خوشیوں سے معمور ہو جائے گی بلکہ یہ عید ان کی نجات کا بھی موجب بن جائے گی۔ ان سے خدا بھی راضی ہو گا اور اس کا پیارا رسول ؐ بھی راضی ہو گا۔‘‘ (خطبات طاہر)

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی ساری ہی برکتیں عطا فرمائے۔ ہمارےسارے روزے، دعائیں اور ہر نیکی خدا کی رضا کی خاطر ہو اور عنداللہ مقبول ہو۔ آمین

(نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں قرآن کریم، تفسیر کبیر، کتب احادیث میں سے صحیح بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد، ریاض الصالحین، حدیقۃ الصالحین اور منتخب احادیث۔ اس کے علاوہ ملفوظات، روحانی خزائن، تحفۃالصیام، فقہ احمدیہ، خطبات طاہر، خطبات مسرور سے بھی استفادہ کیا گیا۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button