کلام حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

آ رہے ہیں مری بگڑی کے بنانے والے

اے مجھے اپنا پرستار بنانے والے
جوت اِک پریت کی ہِردے میں جگانے والے

سرمدی پریم کی آشاؤں کو دھیرے دھیرے
مَدھ بَھرے سُر میں مدھر گیت سنانے والے

اے محبت کے امر دیپ جلانے والے
پیار کرنے کی مجھے رِیت سکھانے والے

غمِ فرقت میں کبھی اتنا رلانے والے
کبھی دلداری کے جھولوں میں جھلانے والے

دیکھ کر دل کو نکلتا ہؤا ہاتھوں سے کبھی
رس بھری لوریاں دے دے کے سلانے والے

وقت ہے وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت
کون ہیں یہ تری تحریر مٹانے والے

چھین لے ان سے زمانے کی عناں ، مالکِ وقت
بنے پھرتے ہیں کم اوقات ۔ زمانے والے

چشمِ گردُوں نے کبھی پھر نہیں دیکھے وہ لوگ
آئے پہلے بھی تو تھے آ کے نہ جانے والے

سن رہا ہوں قدمِ مالکِ تقدیر کی چاپ
آ رہے ہیں مری بگڑی کے بنانے والے

کرو تیاری! بس اب آئی تمہاری باری
یوں ہی ایام پھرا کرتے ہیں باری باری

ہم نے تو صبر و توکل سے گزاری باری
ہاں مگر تم پہ بہت ہو گی یہ بھاری باری

(جلسہ سالانہ یو کے ١٩٨۴ء۔ انتخاب از کلام طاہر ایڈیشن ۲۰۰۴ء صفحہ۱۹۔۲۲)

مزید پڑھیں: ربوہ کی ایک مبارک رات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button