حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ا یم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز کےسٹاف ممبران اور رضاکاران کے ایک وفد کی ملاقات

ایسے پروگرام بناؤ دیکھو کہ ہم کس طرح بچوں کی تربیت کر سکتے ہیں، اچھے چھوٹے چھوٹے کہانیوں کے رنگ میں دے کے پروگرام بناؤ

مورخہ۲۹؍جون ۲۰۲۵ء بروزاتوار، امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز کے سٹاف ممبران اور رضاکاران کے ایک وفد کوبالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد(ٹِلفورڈ) یوکے میں واقع ایم ٹی اے اسٹوڈیو زمیں منعقد ہوئی۔مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےکینیڈاسے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نے السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا۔ سب سے پہلے حضورِانور انچارج ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز سے مخاطب ہوئے اور انہیں حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں ایک پریزنٹیشن پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

انہوں نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ سال ۲۰۱۸ء سے ایم ٹی اے کینیڈا اسٹوڈیوز براہِ راست ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تمام امور، خواہ وہ پروگراموں کے معیار سے متعلق ہوں، قواعدو ضوابط کی پابندی ہو، سوشل میڈیا یا آئی ٹی کے معاملات ہوں، ان سب میں کینیڈا اسٹوڈیوز مرکز کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اسی کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب کینیڈا بھر میں مختلف شہروں میں اسٹوڈیوز قائم کیے جا چکے ہیں، جن میں مونٹریال، ٹورانٹو، سسکاٹون، کیلگری اور وینکوور شامل ہیں۔ بعد ازاں ان تمام مذکورہ اسٹوڈیوز کی سرگرمیوں پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو کلپ بھی پیش کیا گیاجس میں ان اسٹوڈیوزکی جھلکیاں دکھائی گئیں۔

حضورِانور کے استفسار کے جواب میں انہوں نے عرض کیا کہ سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ باقاعدگی سے مرکزی ایم ٹی اے انٹرنیشنل آن لائن ٹیم سے راہنمائی حاصل کرتا ہے۔

ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوزکے تنظیمی ڈھانچے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کینیڈا اسٹوڈیوز میں گیارہ واقفین اور دو مستقل کُل وقتی ممبران بطور عملہ خدمات انجام دینے کی توفیق پا رہے ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے کمیشننگ بورڈ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئےبیان کیا کہ اس بورڈ کا بنیادی مقصد مخصوص ملکی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق مواد کی تیاری کے لیے تخلیقی اور مؤثر تجاویز فراہم کرنا ہے۔

پروگرامز کی تیاری کے ضمن میں کارگزاری رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ سال ۲۰۲۴ء میں ہمیں یہ توفیق ملی کہ ہم نے ۱۵۷؍ پروگرامز ایم ٹی اے انٹرنیشنل کو ارسال کیے اور رواں سال کے لیے ہمارا ہدف یہ ہے کہ ۲۵۰؍ پروگرامز تیار کر کے بجھوائے جائیں۔

بعد ازاں ایک اور مختصر ویڈیو پیش کی گئی جس میں ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز کے تیار کردہ مختلف پروگرامز کی جھلکیاں شامل تھیں۔ اس پریزنٹیشن میں نمایاں طور پر اُجاگر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قیمتی اور مسلسل راہنمائی کے نتیجے میں ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز کو ملک بھر میں قائم اپنی پانچ شاخوں کے ذریعے مختلف النوع اور متنوع موضوعات پر مشتمل پروگرامز تیار کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ یہ پروگرامز متعدد زبانوں اور اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی مختلف پروگرامز شامل ہیں، جیسا کہ Friday Sermon for Kids۔

اسی طرح تعلیمی اور دُنیوی نوعیت کے پروگرامز میں The Experts شامل ہے، جبکہ دینی نوعیت کے پروگرامز میں اصحابِ احمدؓ، حیاتِ جاوداں اور Common Grounds شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت اور صفات کو اُجاگر کرنے والے پروگرامزVirtues of Ahmad اور اس کا فرانسیسی ورژن Vertus d’Ahmad بھی شامل ہیں۔

سیزنل (مخصوص مواقع سے متعلق) اور طرزِ زندگی سے متعلق پروگرامز میں نشرِ رمضان، All Fired Up، Final Words اور MTA Explore جیسے پروگرام شامل ہیں جو مختلف طبقات کو مفید اور بامقصد مواد مہیا کرنے کا مؤثرذریعہ بن رہے ہیں۔

مزید برآں آئندہ کی منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے چند اہم پروگرامز کی مجوّزہ تیاری اور اسٹوڈیوز کے اسٹریٹجک اہداف بھی حضورِانور کی خدمت میں پیش کیے جن پر ان شاءاللہ عملدرآمد کی کوشش جاری ہے۔

اس کے بعد انچارج لجنہ ٹیم کی جانب سے ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی جس میں ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز کی لجنہ ٹیم کی بعض مساعی پر مختصر روشنی ڈالی گئی۔ حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ پروڈکشنز کے حوالے سے ہماری ٹیم مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پا رہی ہے جن میں تحقیق اور سکرپٹ کی تیاری، پروڈکشن، پوسٹ پروڈکشن، ایم ٹی اے نیوز، ریکروٹمنٹ، آئی ٹی اور ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔

نیز عرض کیا گیا کہ اس وقت کُل اکتیس خواتین پروڈکشنز کے شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پا رہی ہیں۔ان میں سے اکیس ممبرات ٹورانٹو میں خدمات بجا لا رہی ہیں اور باقی ممبرات کینیڈا کے مختلف اسٹوڈیوز میں نسبتاً چھوٹے پیمانے پر مصروفِ عمل ہیں۔اکتیس خواتین اراکین کی ٹیم میں سے تیرہ وقفِ نَو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔

پروڈکشنز کے سلسلہ میں حضورِانور کی خدمت میں مزید عرض کیا گیا کہ الحمد لله! ہمیں مختلف نوعیت کے پروگرامز تیار کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ ان میں ایک فرانسیسی زبان میں، ایک اردو میں، دو انگریزی زبان میں اور دو بچوں کے لیے انگریزی زبان میں تیار کیے گئے پروگرامز شامل ہیں۔

بعدازاں حضورِانور کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو بھی پیش کی گئی جو کہ لجنہ ٹیم کی بعض مساعی کا احاطہ کرنے والی تھی جس میں بتایا گیا کہ الله تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کینیڈا لجنہ پروڈکشنز ٹیم سال بھر مصروفِ عمل رہتی ہے تاکہ متنوع اور مؤثر مواد تیار کیا جا سکے جس کا مقصد لجنہ اور بچوں پر مشتمل اپنے ناظرین کو متاثر کرنا اور انہیں تعلیم دینا ہے۔ اس پریزنٹیشن میں لجنہ ٹیم کی جانب سے تیار کیے جانے والے مختلف پروگرامز مثلاًانگریزی ٹاک شو Balance،فرنچ ٹاک شو Parlons-en، بچوں کے تعلیمی اور سیر و سیاحتی پروگرام Destination Nextاور بچوں کے معلوماتی گیم شو Little Legendsکی جھلکیاں بھی پیش کی گئیں۔

حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ لجنہ پروڈکشنز کے کیمرے کون چلاتا ہے؟ جب معلوم ہوا کہ لجنہ ممبرات خود ہی یہ ذمہ داری سر انجام دیتی ہیں تو حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ وہ کیمرا ورک میں wide-angle shots کازیادہ استعمال کیاکریں اور ضرورت سے زیادہ close-ups سے گریز کیا کریں۔

اس کے بعد لجنہ کے سوشل میڈیا اور سب ٹائٹلنگ و ترجمہ کےشعبہ جات کی جانب سے بھی مختصر رپورٹس پیش کی گئیں۔

پھر حضورِانور نے فرنچ پروگرامز کی تیاری کے بارے میں دریافت فرمایاتو اس حوالے سےایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز کے انچارج نے عرض کیا کہ اس مقصد کے لیے اب مونٹریال میں ایک مخصوص اسٹوڈیو قائم کر دیا گیا ہے۔

دورانِ ملاقات حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں تمام شاملینِ مجلس کو اپنا تعارف پیش کرنے اور اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنے کا بھی موقع ملا۔

حضورِانور نے ایک اسٹوڈیو کے کوآرڈینیٹر سے گفتگو کے دوران یہ ہدایت فرمائی کہNatureسے متعلق دستاویزی فلمیں بھی تیار کی جاسکتی ہیں۔

حضورِانور نےانچارج لجنہ ٹیم کوتاکید فرمائی کہ لجنہ ممبرات سے رات دیر تک کام نہ لیا جائےکیونکہ اس طرح انہیں رات دیر سے سفر کرنا پڑے گا اور نتیجۃً حفاظتی نقطۂ نظر سے انہیں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جس پر انہوں نے عرض کیا کہ ہم لجنہ کو دفتر میں کام کرنے کے لیےصبح نو بجے سے رات نو بجے تک اجازت دیتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے اس ہدایت کا اعادہ فرمایا کہ نو بجے سے پہلے کیا کریں، جب اندھیرا چھا جاتا ہے، تو پھر لوگوں کی سیکیورٹی بھی دیکھنی چاہیے۔ آپ ایسا کریں کہ لوگ آٹھ سے نو بجے اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔

اس پر انچارج لجنہ ٹیم نے مزید وضاحت پیش کی کہ پہلے یہ پالیسی تھی کہ ہم مغرب تک اجازت دیتے تھے۔ لیکن بعض لڑکیاں یونیورسٹی جاتی ہیں، جاب بھی کرتی ہیں، وہ یہ کہتی تھیں کہ پھر مغرب تک ہم اپنے دوسرے کاموں سے فارغ ہوتے ہیں، ہمارے پاس صرف شام کو آنے کا وقت ہوتا ہے، تو پھر ہمیں ایک سے دو گھنٹے کے لیے اجازت دی جائے۔ تو چونکہ ہمارا ٹورانٹو کا لجنہ کا آفس طاہر ہال کے اندر ہے اور وہاں کافی رونق رہتی ہے۔ یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے توثیق فرمائی کہ جہاں تک اندر کا سوال ہے تو چلو وہاں تو مسئلہ کوئی نہیں، لیکن جب واپس جاتے ہیں تو اس میں دیکھ لیا کریں کہ ایسا نہ ہو کہ اتنی زیادہ رات ہو جائے کہ لڑکیاں دس سے بارہ بجے کے درمیان گھر پہنچیں، اتنا مارجن (margin) رکھا کریں کہ لڑکیاں نو سے دس بجے کے درمیان گھر پہنچ جائیں۔

بعد ازاں حضورِانور نے انچارج ایم ٹی اے انٹرنیشنل کینیڈا اسٹوڈیوز سے دریافت کیا کہ کیا وہاں کوئی علیحدہ پروگرامنگ کا شعبہ قائم ہے؟ جب عرض کیا گیا کہ ایسا کوئی محکمہ موجود نہیں، تو اس پر حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ اس کا قیام ضروری ہے، جس پر انچارج صاحب نے عرض کی کہ ان شاءاللہ جلد اس ہدایت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اسی طرح حضورِانور کے استفسار پر انچارج لجنہ ٹیم نے وضاحت کی کہ مرد انہ عملہ ان کے مشورہ جات کو خوشدلی سے قبول بھی کرتا ہے اور بھرپور تعاون بھی فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں حضورِانور نے حاضرین کو متفرق امور کی بابت مفصّل عمومی ہدایات سے بھی نوازا۔

ملاقات کے دوران انچارج لجنہ ٹیم نے ان پروگرامز کا بھی ذکر کیا کہ جو وہ تیار کر رہی ہیں، جن میں ایک DIYیعنی Do it yourself، خود کچھ بنانے کا طریق سکھانے والاپروگرام بھی شامل ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں بیان کیا کہ تیسرا پروگرام ایک ایسا پروگرام ہے جس طرحDo it yourself طرز کےپراجیکٹس ہوتے ہیں، جن میں خواتین اپنے گھروں میں خود صرف craftwork ہی نہیں کرتی ہیں، بلکہ اس پر بھی کام کرتی ہیں کہ جیسے کوئی چیز پرانی ہو جاتی ہے تو اس کو کس طرح سے ہم رنگ کر کے یا مختلف طریقوں سے واپس استعمال میں لے کر آ سکتے ہیں۔

اس پر حضورِانور نے جاپانی پروگراموں سے سبق لینے کی تلقین کرتے ہوئےفرمایا کہ جاپانی اس طرح کے پروگرام بناتے رہتے ہیں۔ اس میں وہ بعض دفعہ دکھاتے ہیں کہ جتناwaste ہے، اس کو ہم کس طرح recycle کریں گے اوراس کو دوبارہuseکریں گے۔ وہ پروگرام بنا رہے ہوتے ہیںتو وہ تلاش کریں۔ پہلے باہر جا کر دیکھیں کہ یہاں کینیڈا میں کوئی ایسا ادارہ ہے یا صرف پیسے زیادہ ہیں تو جو آیا پھینک دیا یا چیریٹی میں دے دیا اور افریقہ میں چلا گیا۔ وہ چیریٹی میں بھی دیتے ہیں، تو اس کو recycle کر کے دوبارہ بناتے ہیں، ان کے پروگرام بڑے اچھے ہوتے ہیں۔

حضورِانور نے مختلف عالمی چینلز دیکھنے کی ترغیب دلاتے ہوئےہدایت فرمائی کہ مختلف چینلز بھی دیکھا کریں تا کہ آپ کو پتا لگے کہ دنیا کس طرح کام کر رہی ہے۔ اپنے دماغ تو سوچتے ہی ہیں، سوچیں، لیکن اگر آپ کے پاس ایک سے زیادہ کچھ نمونے سامنے ہوں تو اس سے گائیڈنس مل جاتی ہے۔

حضورِانور نے NHK چینل کے تعلیمی پروگراموں کو سراہتے ہوئے ان سے تجربہ حاصل کرنے کی بابت زور دیا کہ خاص طور پرNHKوالوں کے پروگرام اچھے ہوتے ہیں۔وہ اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔پھر نئی چیزیں بھی بچوں کو پڑھاتے ہیں، الیکٹرک سرکٹس وغیرہ یا الیکٹرانکس کے بارے میں کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ کس طرح کام کر رہی ہے۔ اور اس طرح کے ان کے بہت سارے پروگرام ہوتے ہیں۔ وہ جاپانیوں کا ایک چینل ایسا ہے جو اپنے جاپانی بچوں کو سکھاتے ہیں۔وہی پروگرام آپ بچوں کے لیے بنائیں اور ان کو سکھایا کریں۔

نیز تعمیری اور معلوماتی پروگرام بنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اور بھی پروگرامز ہوں گے، لیکن عام طور پر مَیں نے دیکھا ہے کہ وہ ایسے پروگرامز مختلف وقتوں میں دکھاتا رہتا ہے، مختلف ان کی جوslotsآتی ہیں ان میں وہ وقت ضائع نہیں کرتے۔پھر وہ کوئی نہ کوئی ایسا پروگرام بنا دیتے ہیں کہ جس سے کوئی انفارمیشن بھی حاصل ہو اور جوproductive بھی ہو۔ تو ان سے تجربے لیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ این ایچ کے (NHK) جاپان کی سرکاری نشریاتی تنظیم ہے، جسے Nippon Hoso Kyokaiکہا جاتا ہے، یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو جاپانی حکومت سے آزاد ہو کر کام کرتا ہے اور جاپان میں اعلیٰ معیار کے تعلیمی، معلوماتی، ثقافتی اور تفریحی پروگرامز نشر کرتا ہے۔این ایچ کے کے پروگرامز خاص طور پر معیاری اور تعلیمی ہوتے ہیں جن میں سائنس، ٹیکنالوجی، تاریخ، اور ثقافت پر گہری تحقیق کی جاتی ہے۔ یہ چینل بچوں کے لیے بھی تعلیمی مواد فراہم کرتا ہے تاکہ وہ جدید سائنسی موضوعات کو آسانی سے سمجھ سکیں۔این ایچ کے جاپان کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی خدمات فراہم کرتا ہے اور دنیا بھر میں جاپانی ثقافت اور معلوماتی پروگراموں کی پہچان ہے۔]

حضورِانور نے سائنس اور مذہب پر مشتمل پروگراموں کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ پھر یہ ہے کہ بچوں کے ذہنوں میں ابھی سے science and religionبھی ڈالیں۔بارہ سے چودہ سال کے بچے بھی وہ پروگرام دیکھتے ہیں۔اس طرح کے پروگرام بھی آپ کو بنانے چاہئیں۔ جو سائنٹسٹ اور احمدی سائنٹسٹ ہیں اور جن کو religion سے بھی کچھ تعلق ہے یا جو سائنٹسٹ ہے، اس کی تھیوری کیا ہے اور religion اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ کوئی دوسرے سکالر زسے مددلے کے بھی پروگرام بنا سکتی ہیں۔

حضورِانور نے تعلیم یافتہ خواتین کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عصرِ حاضر کے مسائل پر مبنی موضوعات پر پروگرام بنانے کی تلقین فرمائی کہ آپ کی لڑکیاں بھی پڑھی لکھی ہیں، بعض پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، تو بعض مردوں کے پروگرام بن سکتے ہیں تو ان کو دے سکتی ہیں کہ اس پر پروگرام بناؤ۔ تو مختلفtopicsجو آجکل کے contemporary topics ہیں اس پر پروگرام بنانے کی کوشش کریں۔

حضورِانور نے ایم ٹی اے کی پروگرام سازی کے سلسلے میں ناظرین سے فیڈ بیک لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ان کی پسند کے مطابق مواد تیار کرنے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پھر یہ دیکھیں کہ آپ کو فیڈ بیک لینا چاہیے۔ یہ بھی ایم ٹی اے کا ایک کام ہے کہ فیڈ بیک کیا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو کہ دنیا کے ملکوں میں ایم ٹی اے دیکھتے ہیں اور آپ کے پروگراموں کو کتنے لوگ دیکھتے ہیں، اس کا فیڈ بیک کیا ہے؟ کینیڈا میں کتنے لوگ دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ نہیں۔آپ ایسےquestionnairesاپنے لجنہ، خدام، انصار اور اطفال کے ذریعہ سے بھیج سکتے ہیں کہ کون سے پروگرام اچھے ہیں اور کس قسم کے پروگرام وہ چاہتے ہیں تا کہ دیکھ لیں کہ لوگوں کی اپنی سائیکی (psyche) کیا ہے اور پسند کیا ہے، پھر اس کے مطابق پروگرام بنائیں۔ اپنی مرضی سے آپ کے بنائے گئے پروگرام لوگوں کو پسند آتے ہیں کہ نہیں، یہ ضروری تونہیں۔ یہ دیکھنا ہے کہ لوگوں کو کیا پسند آتا ہے، اس کے مطابق آپ نے کس طرح اپنے مذہبی دائرے کے اندر اس کو adjust کرنا ہےتو یہ بہت ساری چیزیں دیکھنے والی ہیں۔

حضورِانور نے مستقل عملہ میں شامل اور زیادہ وقت دینے والی خواتین کے حوالے سے ہدایت فرمائی کہ باقی بہت ساری full-timeآپ کی کام کرنے والی ہیں اور بڑیfertileذہن رکھنے والی ہیں، تو ان کے سپرد کام کریں۔ جو زیادہ وقت دینے والی ہیں، weekend پر مثلاًتین سے پانچ گھنٹے دے سکتی ہیں تو اُن کو یہ کام دیں۔

پھر حضورِانور مردوں کی جانب متوجہ ہوئے اور انہیں بھی تعمیری پروگرام سازی کی ضرورت پر زور دیا کہ اسی طرح مردوں میں کوئی ایسے پروگرام بنیں جو سوچ سمجھ کے ہوں اور productive ہوں اور لوگوں کی پسند کے ہوں۔ یہ نہیں کہ ہمیں یہ پروگرام پسند ہیں۔ فیڈ بیک لو کہ کیا پروگرام لوگوں کو پسند آیا بھی کہ نہیں اور کس نے دیکھا ہے؟

حضورِانور نےایم ٹی اے پر باقاعدگی سےنشر ہونے والے ہفتہ وارپروگرام This Week With Huzoor کی مثال دیتے ہوئےموثر پروگرامز اور درست نشر کا اہتمام کرنے کی بابت تاکید فرمائی کہ ہم چوبیس گھنٹے ایم ٹی اے چلاتے رہتے ہیں اور اگر دیکھو تو لوگوں کا جو فیڈ بیک آتا ہے، وہ یہی ہے کہ ہم کبھی کبھار خطبہ سن لیتے ہیں اور بعض دفعہ خطبہ نہیں سنتے۔ایک دفعہ مجھے بتایا گیا کہ ہم نے اسے نیوز میں دے دیا ہے۔ مَیں نے کہا کہ آپ نے نیوز میں دے دیا ہو گا، لیکن نیوز پر توکوئی نہیں دیکھتا۔ This Week میں دوبارہ اس کو دے دو، جب دیا تو فیڈ بیک یہ آیا کہ ہم نے یہ پہلے نیوز میں دیکھا ہی نہیں تھا اور ہمیں پتا ہی نہیں تھا۔ اچھا کیا، ہم توThis Week دیکھتے ہی ہیں کیونکہ وہ پندرہ سےبیس منٹ کا پروگرام ہوتا ہے اور اس میں سارے پروگرام وغیرہ، خطبے کے خلاصے سمیت، condenseآ جاتے ہیں تو اس سے ہم فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ تو اس طرح کے پروگرام دیں۔

آخر پر حضورِانور نےناظرین کی توجہ، دلچسپی اور مختصر دورانیے کے رجحان کو مدّنظر رکھتے ہوئے پروگرام بنانے کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ دوسرے لوگوں کے آجکلthreshold ہیں، لوگوں میں زیادہ لمبے پروگرام دیکھنے کا رجحان نہیں سوائے اس کے کہ بے حیائیوں والی باتیں ہوں، اس کو تو گھنٹوں بیٹھے دیکھتے رہیں گے۔ اگر کوئی سنجیدہ بات ہو تو وہ کہتے ہیں کہ پندرہ منٹ سے زیادہ برداشت ہی نہیں ہے۔ جو سوشل میڈیا والے ہیں ان کوبھی چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے پروگرام دو سے تین منٹ کے بناکردیں، آپ کے بھی سوشل میڈیا پر آئیں، ان کے بھی آئیں تو اس سے فائدہ ہو جاتا ہے، نہیں تو وہی ٹکسالی باتیں ہیں، آئے، پروگرام کیا، بیٹھے اور چلے گئے۔

بعد ازاں شاملینِ مجلس کو مختلف نوعیت کے متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک سائل نے پوچھا کہ اگر خدانخواستہ ایٹمی جنگ کی صورتحال ہوتی ہے تو اس میں ایم ٹی اے کا نظام کس طرح جاری رہے گا؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ ایٹم کے اثرات سیٹلائٹ تک تو نہیں پہنچیں گے۔ یہاں سے ٹرانسمیشن ہوتی رہے گی ان شاءاللہ! یا وہاں سے بھی ہونی ہے، جس طرح کام چل رہا ہے چلتا رہے گا۔ جو سن سکیں گے، سن لیں گے، جہاں ان کے پاس بجلی یا پاور ہو گی وہ دیکھ لیں گے۔ remote areas بھی تو ہیں۔

مزید برآں حضورِانور نے اس خیال کا اظہار فرمایا کہ ایٹمی جنگ ہو گی تو میرا نہیں خیال کوئی اتنا بڑا ایٹم بم مارے گا کہ جس سے پوری دنیا ہی تباہ ہو جائے۔چھوٹے چھوٹے اگر ماریں گے بھی تو ڈرانے کے لیے ماریں گے۔ اسیstrengthکے ہوں گے کہ جو ناگا ساکی اور ہیروشیما پر مارے گئے تھے۔ تو افریقہ بچا ہوا ہے، دوسرے لوگ بھی بچے ہوئے ہیں، تو پروگرام کرتے رہیں گے۔

آخر میں حضورِانور نے یاد دلایا کہ اس لیے ایک تو یہ ہے کہ مَیں نے ہر ایک کو کہا ہوا ہے کہ سیٹلائٹ فون رکھ لیں۔ سیٹلائٹ فون ان کے پاس ہونے چاہئیں۔ پھر ٹرانسمیشن کے لیے اپنا سسٹم ہونا چاہیے۔power backup system ہونا چاہیے، وہ ہو تو ڈائریکٹ لنک کیا جا سکتا ہے، تو باقی اللہ پر توکّل کرو اور کیا ہو سکتا ہے۔

[قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ سیٹلائٹ فون ایک خاص قسم کا موبائل فون ہوتا ہے جو زمین پر موجود عام موبائل نیٹ ورکس کی بجائے سیٹلائٹ کے ذریعے کام کرتا ہے۔ یہ فون دنیا کے دُور دراز علاقوں میں بھی کام کرتا ہے، جہاں موبائل سگنلز دستیاب نہیں ہوتے، جیسے پہاڑ، صحرا یا سمندر۔ قدرتی آفات یا ہنگامی حالات میں رابطے کے لیے سیٹلائٹ فون بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔]

ایک لجنہ ٹیم ممبر نےحضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کینیڈا میں ہمیں موقع ملا ہے کہ ہم بچوں کے پروگرامز پر کام کرتے ہیں، نیز راہنمائی طلب کی کہ ہمیں کون سے lessons یا qualities اپنے پروگرامز میں ڈالنی چاہئیں، جو ہمارے بچوں کے future کے لیے ان کو بہتر راہنمائی فراہم کریں یا ان کی strong foundation بنائیں؟

حضور انورنے اس پر توجہ دلائی کہ تم دیکھو کہ تمہارے وہاںissuesکیا ہیں، ان کی دینی تربیت کس طرح کرنی ہے، اب سکولوں میں جا کر بچے کچھ اور پڑھتے اور سیکھتے ہیں، آپ کھل کے وہ باتیں ٹی وی پر دکھا بھی نہیں سکتے اور نہ بول سکتے ہیں۔ ویسے آپ لوگوں کی جو نیچر ہے، احمدیوں کی، وہ ایسے ہی جلدی شرما جاتے ہیں اور بات نہیں کر سکتے۔ اور عورتیں جو پروگرام بنائیں گی تو وہ بالکل ہی شرما کر نہیں بنا سکتیں اور غیروں کے پروگرام بعض دفعہ بہت زیادہ ننگے اور کھلے ہوتے ہیں۔ تو ایسے پروگرام بناؤ دیکھو کہ ہم کس طرح بچوں کی تربیت کر سکتے ہیں، اچھے چھوٹے چھوٹے کہانیوں کے رنگ میں دے کے پروگرام بناؤ۔ وہ تو تم خود دیکھو۔

حضورِانور نے آخر میں فیڈبیک لینے کے حوالے سےاس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ مَیں نےتبھی تو کہا ہے کہ فیڈ بیک لیا کرو۔ بچوں سے بھی فیڈ بیک لو، بڑوں سے بھی لو، پھر پروگرام بناؤ۔

ملاقات کے اختتام پر شاملینِ مجلس کو حضورِانور کے ہمراہ الگ الگ گروپ تصاویربنوانے کا بھی شرف حاصل ہوا اور یوں یہ ملاقات بخیر خوبی انجام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار اللہ ناروے کے ایک وفدکی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button