متفرق شعراء

ہمارے دل کی زباں ہیں جلسے

کسی پہ شاید گراں ہیں جلسے
ہمارے دل کی زباں ہیں جلسے

کیے تھے ربوہ میں بند تُو نے
تو اب یہ سارے جہاں ہیں جلسے

تمہارے گالی، گلوچ تک ہیں
مرے تو حُسنِ بیاں ہیں جلسے

چلو میں تم کو دکھاؤں کتنے
صداقتوں کے نشاں ہیں جلسے

انہیں فسانہ سمجھ نہ ظالم
حقیقتوں کی زباں ہیں جلسے

نہ رک سکیں گے کبھی میاں یہ
یوں سمجھو آب رواں ہیں جلسے

ہمارے دل میں گلاب جیسے
مگر یہ ان پر خزاں ہیں جلسے

عبث ہیں رنگ و نسل کی باتیں
وفا کی اپنی زباں ہیں جلسے

اے کاش زاہدؔ میں دیکھ پاؤں
یہ جتنے دلکش جواں ہیں جلسے

(سید طاہر احمد زاہدؔ)

مزید پڑھیں: حمد اُس کے نام کی جو ذات ہے ربّ الوریٰ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button