خطاب حضور انور

خطاب سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب تقسیم اسناد جامعہ احمدیہ جرمنی،کینیڈا،برطانیہ اور گھانا۲۰۲۵ء

آج اس خوشی کے موقع پر یہ عہد کریں کہ آج ہم عملی زندگی میں قدم رکھ کر ایک اَور ہی قسم کا انقلاب اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری ترجیحات ہماری دنیاوی خواہشات نہیں ہوں گی بلکہ روحانی اور علمی ترقی کا حصول ہوں گی۔ جب یہ ہو گا تو یقیناً آپ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں

سوچیں اور غور کریں! یہ آپ کے ماں باپ کی خواہشات ہیں۔ یہ آپ کی جامعہ کی انتظامیہ کی خواہشات ہیں۔ یہی خلیفہ وقت کی خواہش ہےکہ جو جامعہ سے پاس کر کے نکلے ہیں وہ ایسے ہوں جو حقیقت میں اسلام کو پھیلانے کے لیے اور جماعت کے افراد کی تربیت کے لیےمیدان عمل میں پورا کردار ادا کرنے والے ہوں

یہ سوچیں کہ کیا جماعت کی خدمت کے لیے آپ حقیقت میں اپنے آپ کو تیار پاتے ہیں ؟ کیا اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لیے آپ پوری طرح علم و معرفت سے اپنے آپ کو پُر کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں یا آئندہ مستقبل میں بھی کرنے کا مصمَّم ارادہ رکھتے ہیں ۔کیا تربیت کے میدان میں قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ہم اس کی کوشش کرتے رہیں گے؟

جماعت احمدیہ میں ایک بہت اہم ادارہ مجلس شوریٰ کا ہے۔ا س کے طریق اور قواعد کو بھی سمجھنے کی ضرور ت ہے اور یہ سمجھیں گے جب قواعد کا آپ کو علم ہو گا تو آپ لوگ عہدیداروں کی بھی راہنمائی کر سکیں گے

آپ لوگوں نے جماعت کے افراد کے اندر سکون پیدا کرنا ہے نہ کہ بے سکونی اور بے چینی

مربیان اپنے آپ کو دیکھیں ۔ آپ ہمہ وقت واقف زندگی ہیں ۔ اپنا جائزہ لیں کہ ہم جو ہمہ وقت ہیں کیا ہم نے وہ معیار حاصل کر لیا ہے جو ایک واقف زندگی کے لیے ضروری ہے۔ اپنا وہ معیار حاصل کریں جس میں کہہ سکیں کہ میں خدا اور اس کے رسولؐ کے حکموں کے مطابق زندگی گزارنے والا ہوں یا کوشش کرنے والا ہوں

معمولی توجہ سے،محنت سے بھی سند مل جاتی ہے۔ یہ تو مل گئی آپ کو۔ اب اس کا حق ادا کرنے کے لیے مستقل ایک کوشش کرنے کی ضرورت ہے

قناعت بھی ایک مربی اور مبلغ کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپ میں قناعت ہونی چاہیے

جو میدان عمل میں ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کریں اور جو اَب میدان عمل میں جانے والے ہیں وہ بھی یہ سوچ کر آج عملی زندگی میں قدم رکھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر زندگی وقف کی ہے تو اب ہم نے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور جب یہ ہو گا تو جہاں آپ کے کاموں میں برکت پڑے گی وہاں آپ کے گھروں میں بھی برکت پڑے گی

اپنے آپ کو ہمہ وقت قربانی کے لیے تیار کریں ۔ یہ عہد ہے جو حقیقت میں خوشی مہیا کرنے والا ہے نہ کہ آج کی سند لیناکیونکہ ایسے لوگوں کے ارادے ہیں، ایسے لوگوں کے عہد ہیں جو پھر دنیا میں انقلاب پیدا کرتے ہیں

جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سے 2024ء جبکہ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا سے 2025ء میں فارغ التحصیل ہونے والے مبلّغینِ سلسلہ کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سےسیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز تاریخی خطاب فرمودہ مورخہ 4؍مئی 2025ء بروز ہفتہ بمقام جامعہ احمدیہ Haslemere، ہمپشئر، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

الحمد للہ آج آپ لوگ شاہد کی ڈگری لے کر نکل رہے ہیں ۔ مختلف جامعات کے پرنسپل صاحبان نے اپنی رپورٹس پیش کیں ۔ بڑی خوش کن رپورٹس ہیں اور انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے کہ آئندہ بھی ہم جامعہ کا جو مقصد ہے اس کو پورا کرنے والے ہوں اور وہ حقیقی سپاہی بن کر نکلیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانا ہے۔

اللہ کرے ان کی یہ نیک خواہشات اور دعائیں اور جو رپورٹ میں انہوں نے اظہار کیا ہے اور جو اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے نہیں کرسکے وہ پورا ہو۔

یقینا ًیہ خوشی کا موقع ہے اور جنہوں نے شاہد کی سند لی ہے وہ خوش ہوں گے۔ اسی طرح ان کے والدین بھی خوش ہوں گے کہ ان کا بیٹا آج جماعت کی خدمت کے لیے، اسلام کا پیغام پھیلانے کے لیے، دینی علم کے ذریعہ تربیت کرنے کے لیے میدان عمل میں آ گیا ہے۔

پس سوچیں اور غور کریں! یہ آپ کے ماں باپ کی خواہشات ہیں۔ یہ آپ کی جامعہ کی انتظامیہ کی خواہشات ہیں۔ یہی خلیفہ وقت کی خواہش ہے کہ جو جامعہ سے پاس کر کے نکلے ہیں وہ ایسے ہوں جو حقیقت میں اسلام کو پھیلانے کے لیے اور جماعت کے افراد کی تربیت کے لیے میدان عمل میں پورا کردار ادا کرنے والے ہوں۔

پس اس بات کو ہر فارغ ہونے والے کو سوچنا چاہیے۔

یہ سوچیں کہ کیا جماعت کی خدمت کے لیے آپ حقیقت میں اپنے آپ کو تیار پاتے ہیں ؟ کیا اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لیے آپ پوری طرح علم و معرفت سے اپنے آپ کو پُر کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں یا آئندہ مستقبل میں بھی کرنے کا مصمَّم ارادہ رکھتے ہیں ۔ کیا تربیت کے میدان میں قرآن ،حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ہم اس کی کوشش کرتے رہیں گے؟

جامعہ میں سات سال میں آپ نے اس علم کو سیکھنے کے لیے ایک ابتدائی کوشش کی ہے اور جامعہ کی تعلیم کے دوران صرف بنیادی علم ہی دیا جا سکتا ہے۔ سات سال میں اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ علم حاصل کر گئے اور perfect ہو گئے تو یہ نہیں ہو سکتا۔ اس میں ترقی کے لیے اگر آپ بھرپور فائدہ نہیں اٹھائیں گے ،مستقل قرآن و حدیث کے علم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم کلام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے تو جو ابتدائی علم آپ نے حاصل کیا ہے اسے بھول جائیں گے۔ یا آپ کی دلچسپیاں اَور ہو گئیں تو اسے بیان کرنے میں وہ روانی نہیں رہے گی جو ایک مربی اور مبلغ میں ہونی چاہیے جس سے آپ اپنے تبلیغ یا تربیت کے مقاصد کو پورا کر سکیں اور اگر آپ نے اپنے علم کو ترقی نہ دی تو یوں مقابل پر آنے والے یا سوال کرنے والے کے سامنے شرمندگی کا آپ کو سامنا کرنا پڑے گا۔ لوگ تو یہی سمجھتے ہیں کہ ایک مربی جو جامعہ سے علم حاصل کر کے نکلا ہے اس میدان میں ماہر ہے۔ پس

مہارت کے لیے اور اپنے آپ کو اور جماعت کو شرمندگی سے بچانے کے لیے علم و معرفت حاصل کرنے میں مسلسل کوشش اور ترقی کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے آج سے ہی یہ عہد کریں کہ آج ڈگری لینے کے بعد، سند لینے کے بعد ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ اب ہم نے صرف سال کے دو امتحانوں کی تیاری نہیں کرنی بلکہ زندگی کے سفر میں اب ہمارا ہر لمحہ امتحان کا ہے اور اس کے لیے ہمیں مستقل تیاری کی ضرورت ہے۔

پس اس حقیقت کو سمجھنے کی ہر مربی کو ہر پاس ہونے والے کو کوشش کرنی چاہیے لیکن اس حقیقت کو بھی کبھی نہ بھولیں کہ

یہ علم و معرفت اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں مل سکتی۔اس لیے خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا کرنا ضروری ہے۔ اپنی عبادتوں کو آپ نے اس معیار تک پہنچانا ہے جو ایک حقیقی مومن کا معیار ہے۔

اپنی تقریروں میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓکی مثال دیتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ ؓکی مثال دیتے ہیں تو پھر ایک مربی اور مبلغ کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ مقام وہ خود بھی حاصل کرے۔ تبھی حقیقت میں آج جامعہ سے حصول تعلیم کے بعد سند لینے کا فائدہ ہے۔

پس آج اس خوشی کے موقع پر یہ عہد کریں کہ آج ہم عملی زندگی میں قدم رکھ کر ایک اَور ہی قسم کا انقلاب اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری ترجیحات، ہماری دنیاوی خواہشات نہیں ہوں گی بلکہ روحانی اور علمی ترقی کا حصول ہوں گی۔ جب یہ ہو گا تو یقیناً آپ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔

جس کے لیے متعدد موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اظہار فرمایا ہے۔ جماعت کے افراد سے اظہار فرمایا ہے کہ ایسا ہونا چاہیے۔ ایسا ہونا چاہیے۔ پس اپنے آپ کو دیکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم اس معیار کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ دنیاوی خواہشات ہمیں پیچھے تو نہیں دھکیل رہیں ۔

اسی طرح جماعتی روایات اور قواعد کا پورا علم بھی ایک مربی کے لیے ضروری ہے۔

جماعتی نظام کا آپ کو پورا علم ہونا چاہیے۔ دینی علم حاصل کر لیا انتظامی لحاظ سے بھی آپ کو ہر چیز کا پتہ ہونا چاہیے۔ جماعت کے مختلف شعبہ جات ہیں ان کا بھی آپ کو علم ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ کبھی میٹنگ ہوئی مشنری انچارج سے پوچھ لیا یا امیر جماعت سے پوچھ لیا یا میرے پاس آئے تو مجھ سے سوال کر لیے یا خطوں میں لکھ کے سوال کر لیے کہ یہ قاعدہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں کیا ہے؟ خود آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہیے، محنت کرنی چاہیے، سمجھنا چاہیے، پڑھنا چاہیے۔ جماعتی نظام کا پورا علم ایک مربی کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ بھی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ شعبہ جات کا علم ضروری ہے۔ کتنے شعبے ہیں ۔کون کون سے شعبے ہیں ۔ کس کا کیا کام ہے۔ ہر شعبہ کے قواعد کا آپ کو علم ہو۔ اس کی کتابیں چھپی ہوئی ہیں وہ پڑھیں ۔

جماعت احمدیہ میں ایک بہت اہم ادارہ مجلس شوریٰ کا ہے۔ا س کے طریق اور قواعد کو بھی سمجھنے کی ضرور ت ہے اور یہ تب سمجھیں گے جب آپ کو قواعد کا علم ہو گا اور پھر آپ لوگ عہدیداروں کی بھی راہنمائی کر سکیں گے

لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اکثر کو کئی سال میدان عمل میں رہنے کے باوجود بھی اس کا صحیح طرح علم اور ادراک نہیں ہے۔

مثلاً آجکل مختلف جگہوں پر شوریٰ ہو رہی ہیں۔ مجھے پتہ لگا ہے گو ابھی باقاعدہ امیر صاحب کی طرف سے رپورٹ تو نہیں ہے لیکن ایک رپورٹ آئی ہے کہ امریکہ میں مربی صاحب نے انتخاب کے دوران کھڑے ہو کر یہ کہا کہ میری بات کو شوریٰ میں شامل کیا جائے ۔ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ہیں کہ امیر کو اس کی اہمیت کے پیش نظر ہمہ وقت ہونا چاہیے۔ امیر جماعت جو ہے وہ جماعت کا کارکن ہو بجائے دوسرا ہونے کے۔ تو مربی کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ شوریٰ کی روایات اور قاعدے کے خلاف ہے کہ ایسے موقع پر اس طرح اپنی رائے دی جائے اور پھر اس پر اصرار کیا جائے کہ ضرور شامل کیا جائے۔ اگر آپ کوئی مشورہ دینا چاہتے ہیں، جماعتی نظام کے لیے کوئی مشورہ دینا ہے۔ میدان عمل میں جائیں گے تو ہو سکتا ہے بہت ساری باتیں آپ کے سامنے آئیں جس میں مشورہ دینا چاہیں تو خلیفہ وقت کو براہ راست لکھیں نہ یہ کہ غلط موقع پر غلط فورم پر آپ وہ باتیں اٹھائیں جس سے باقی جو مجلس ہے وہ بھی بے چین ہو جائے۔

آپ لوگوں نے جماعت کے افراد کے اندر سکون پیدا کرنا ہے نہ کہ بے سکونی اور بے چینی۔

پس ان باتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

دو تین سال فیلڈ میں رہنے کے بعد بعض دفعہ آپ لوگوں کو خیال آ جائے گا کہ اب ہم بہت تجربہ کار ہو گئے ہیں اپنے مشورے دے دیں ۔

آپ تجربہ کار بےشک ہو جائیں لیکن ابھی آپ کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ چار سال، پانچ سال یا دس سال میں نہیں سیکھ سکتے۔ اس کے لیے ایک تجربے کی ضرور ت ہے۔ علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور سیکھنے کے لیے پھر خلیفہ وقت سے راہنمائی کی ضرورت ہے۔ جماعتی نظام سے مرکز سے راہنمائی کی ضرور ت ہے۔ اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔

یہ فیصلہ کرنا خلیفہ وقت اور مرکز کا کام ہے کہ ملک کا امیر جو ہے یا کسی بھی جگہ کا امیر جو ہے اس کو مستقل ہونا چاہیے یا انتخاب کے ذریعہ ہونا چاہیے اور کون ہونا چاہیے۔ہر ملک کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ شوریٰ میں بھی یہ باتیں پیش نہیں ہو سکتیں کجا یہ کہ انتخاب کے وقت یہ سوال اٹھایا جائے۔

مربیان اپنے آپ کو دیکھیں ۔ آپ ہمہ وقت وقف زندگی ہیں ۔ اپنا جائزہ لیں کہ ہم جو ہمہ وقت ہیں تو کیا ہم نے وہ معیار حاصل کر لیا ہے جو ایک واقف زندگی کے لیے ضروری ہے۔ اپنا وہ معیار حاصل کریں جس میں وہ کہہ سکیں کہ میں خدا اور اس کے رسولؐ کے حکموں کے مطابق زندگی گزارنے والا ہوں یا کوشش کرنے والا ہوں، کوشش کر رہا ہوں ۔

ا گر نہیں تو پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ میدان عمل میں جا کے یہ بعض عملی باتیں سامنے آئیں گی جن کو آپ لوگوں نے سمجھنا ہے اور جو میدان عمل میں ہیں ان کو بھی میں سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ وہ بھی سمجھیں ۔

یہ دیکھیں کہ کیا وہ خود روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ تہجد کی نماز پڑھنے والے ہیں جس میں وہ اپنے مقاصد کے لیے دعا کریں۔ جماعت کی ترقی کے لیے دعا کریں ۔ جس کوجو کام سپرد کیا گیا ہے اس کے لیے دعا کریں ۔

مربی کو دیکھنا چاہیے وہ یہ جائزہ لے کہ اس کی پانچ وقت کی فرض نمازوں کی کیا حالت ہے۔ باقاعدہ باجماعت نماز ادا ہونی چاہیے بغیر کسی جائز عذر کے اس میں کوئی چھوٹ نہیں ہے۔

فرائض کے علاوہ سنتوں کی ادائیگی کا جائزہ لیں کہ کس حد تک سنوار کر ادا کر رہے ہیں ۔

یہ نہیں کہ فرض نماز سے، باجماعت نماز سے دو منٹ پہلے آئے اور جلدی جلدی دو یا چار سنتیں پڑھیں اور فارغ ہو گئے۔ سنتیں بھی سنوار کر ادا کرنی چاہئیں ۔

یہ بھی مربی کا کام ہے۔ اپنے نمونے دکھائیں گے تو دوسرے آپ کے نمونے دیکھ کر اس پہ عمل کریں گے۔ آپ ہمہ وقت ہیں۔ آپ یہ جائزہ لیتے ہیں۔ یہ دیکھیں اور

سوچیں کہ ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اپنا علم بڑھانے کے لیے ہم باقاعدہ مطالعہ کریں اور اس کے لیے پروگرام بنائیں ۔

جرمنی کے مربیان کی میرے ساتھ میٹنگ تھی۔ ان کو میں نے کہا تھا کہ میں ان کاموں کے لیے گھنٹوں کی بات کر رہا ہوں۔ یہ نہیں کہہ رہا کہ وقت کتنا دیتے ہیں کیونکہ آپ زندگی وقف ہیں ۔ یہ کہہ دینا کہ ہم نے دس منٹ وقت دیا یا پندرہ منٹ دیا یا بیس منٹ دیے یا پچاس منٹ دیا۔ یا ہفتہ میں اتنا وقت دیا۔ یہ نہیں۔ روزانہ آپ نے یہ دیکھنا ہے یا ہفتوں میں یہ دیکھنا ہے کہ کتنے گھنٹے آپ نے مختلف کاموں کے لیے وقت دیا۔

اپنے وقت کو آپ نے گھنٹوں میں تقسیم کرنا ہے۔ جب اس طرح کریں گے تب آپ کو محنت کی عادت پڑے گی۔

یہ دیکھنا ہے کہ تبلیغ کے لیے آپ نے کتنے گھنٹے دیے۔ اس کے لیے ابھی سے ایک پروگرام بنانا ہو گا۔ جماعت کے افراد کی تربیت کے لیے کتنے گھنٹے دیے۔ جماعت کے بچوں کی تربیت اور انہیں قرآن کریم پڑھانے اور دینی علم سکھانے کے لیے کتنے گھنٹے دیے۔

بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمارے مربی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے اس لیے ہم قرآن نہیں پڑھا سکتے اور مجبوراً ہمیں پھر غیر احمدیوں سے پڑھوانا پڑتا ہے یا ہمیں اجازت دیں کہ ہم غیر احمدیوں سے پڑھوا لیں ۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ ایک مربی کو سوچنا چاہیے کہ یہ جواب مربی کے لیے مناسب ہے؟ جو جواب دینے والے ایسے ہیں ان کو تو شرم سے پانی پانی ہو جانا چاہیے کہ لوگ غیروں کے پاس جائیں ۔ جماعت اتنا خرچ کر کے مربیان تیار کر رہی ہے اور وہ کہہ دیں ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ وقت نہیں ہے تو پھر مقصد کیا ہے آپ لوگوں کا؟ آپ زندگی وقف ہیں آپ کا وقت تو اپنا ہے ہی نہیں۔ آپ نے تو یہ عہد کیا ہوا ہے کہ جو میرا وقت ہے وہ جماعت کا وقت ہے۔ تو پھر اس کے لیے قربانی کریں ۔

پس آپ جو میدان عمل میں جا رہے ہیں بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ جارہے ہیں اور جو میدان عمل میں پہلے ہی ہیں انہیں بھی میں آج اس بارے میں کہتا ہوں کہ اپنا جائزہ لیں ۔ نئے آنے والوں کے لیے نمونہ بنیں نہ کہ سستی کی راہ دکھائیں اور نہ ہی اپنے غلط قسم کی ترجیحات کے نمونے دکھائیں ۔ اور آپ لوگ جو میرے سامنے آج بیٹھے ہیں نئے مربیان ہیں وہ یہ سوچیں کہ ہم نے خداتعالیٰ کی خاطر وقف کیا ہے۔ ایک عہد کیا ہے تو پھر اس عہد کو پورا کرنا ہے۔

اگر آپ کے سامنے بعض لوگوں کے، سینئرز کے نیک نمونے نہیں ہیں ۔ بہت سارے نیک نمونے بھی ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ نمونے نہیں ہیں ۔ جن کے نیک نمونے نہیں ہیں ان کو آپ نے نہیں دیکھنا۔ جن کے نیک نمونے ہیں ان کو دیکھنا ہے۔ جن کے نیک نمونے نہیں ہیں وہ آپ کے لیے اسوہ یا رول ماڈل نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے کہا صحابہؓ اور حقیقی وقف نبھانے والے آپ کے لیے اسوہ ہیں ۔ ان کا نمونہ ہے جو آپ نے دیکھنا ہے۔

پس آج اس عہد کے ساتھ میدان میں اترنے کا وقت ہے ورنہ سند لینا تو کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ یہ تو معمولی توجہ اور محنت سے بھی مل جاتی ہے۔

آپ کے سامنے جو تلاوت کی گئی اس میں بھی آپ کو یہی نصیحتیں ہیں ۔اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الانعام:163) یہ چیزیں غور کرنے والی ہیں ۔ نظم پڑھی گئی آپ کے سامنے حضرت مصلح موعودؓ نے بہت توقعات کیں، بہت دعائیں دیں، ان کو سوچیں اور غور کریں۔ یہ نہیں کہ شعر سنا، محظوظ ہوئے اور معاملہ ختم ہو گیا۔

ایک مربی کو تو اس بارے میں ہر وقت غور کرتے رہنا چاہیے۔ سند تو معمولی توجہ سے،محنت سے بھی مل جاتی ہے۔ یہ تو مل گئی آپ کو۔ اب اس کا حق ادا کرنے کے لیے مستقل ایک کوشش کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے۔

اسی طرح بعض فارغ ہونے والوں کی تقرری دفاتر میں ہوتی ہے یا انتظامی امور کی سرانجام دہی کے لیے ہوتی ہے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم اب یہاں ہیں۔ یہاں دفتروں میں ہی رہیں گے۔ اور اپنے اصل مقصد کو بھول جائیں ۔ علم حاصل کرنے کی طرف توجہ کم ہو جائے۔ ایسے مربیان کو بھی میں یاددہانی کروا دوں کہ

اپنی روحانی ،علمی ترقی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ آج اگر دفتر میں ہیں تو کل آپ کو مربی بنا کر کسی جماعت میں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ وہاں جا کر یہ عذر نہ ہو کہ ہم کیونکہ دفاتر میں کام کرتے رہے اس لیے ہمیں مسائل اور تربیتی امور پردسترس نہیں ہے یا جو کچھ ہم نے پڑھا وہ ان کاموں کی وجہ سے ہم بھول گئے۔

میں نے اس حوالے سے بھی بعض مربیان کے جائزے لیے ہیں۔ بعض آسان باتیں بھی انہیں بیان کرنی مشکل لگتی ہیں اس لیے کہ دفتر میں کام کر کے وہ باتیں بھول گئی ہیں جو مسائل تھے۔ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارا دفتری کاموں سے ہی واسطہ ہے اور علم بڑھانے کی طرف توجہ نہیں ۔ یا اگر کوئی جواب دیتا بھی ہے تو بہت سوچ کر جواب دینا پڑتا ہے حالانکہ ان کو فوری جواب آنا چاہیے۔

آجکل تو ہمارے جو مخالفین ہیں وہ جماعت کے خلاف لٹریچر پڑھ کے سوال پر سوال کر رہے ہوتے ہیں اور اگر وہ یہ اعتراض کے سوال کر سکتے ہیں تو آپ لوگ جو اس معاملے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، کہیں بھی کام کر رہے ہوں کیوں نہیں اپنے علم کو بڑھاتے ہوئے فوری طور پر ہر اعتراض کا جواب دینے والے ہوں ۔

پس آپ لوگ یاد رکھیں کہ

جہاں بھی آپ کو لگایا جائے آپ نے اپنے تعلق باللہ میں بڑھنے کی طرف خاص توجہ دینی ہے۔ قرآن و حدیث میں علم وسیع کرنے کی طرف خاص تو جہ دینی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف خاص توجہ دینی ہے۔

بعض مربی بڑے فخر سے مجھے بتا دیتے ہیں کہ آج ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فلاں کتاب کے چار یا پانچ صفحے پڑھ لیے۔ یہ تو فخر کی بات نہیں یہ تو شرم کی بات ہے۔

مربی کو تو یہ بتانا چاہیے کہ آج اتنے گھنٹے مطالعہ میں مَیں نے یہ علم حاصل کیا اور اس کے نوٹس بھی بنائے۔

بعضوں کو میں نے کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ جامعہ کے مربی پاس ہوکے فیلڈ میں آ گئے، ابھی ٹریننگ کر رہے ہیں اور مَیں نے پندرہ دن بیس دن مہینہ تک دیا لیکن وہ کتاب ان سے ختم نہیں ہوئی۔ یہ تو ایک مربی کا شیوہ نہیں ہے۔ یہ تو ایک اس شخص کا شیوہ نہیں جو اپنے آپ کو یہ کہتا ہے کہ میں نے دینی علم کا ماہر بننا ہے اور دین کو دنیا میں پھیلانا ہے۔ اسلام کے غلبہ کے لیے میں نے اپنی جان ،مال ،وقت اور عزت کو قربان کرنا ہے۔ یہ تو عام آدمی کا عہد ہے۔ مربی کا تو اس سے بہت بڑھ کے عہد ہونا چاہیے۔ پندرہ دن بعد، بیس دن بعد، مہینے بعد پوچھو تو کہتے ہیں اوہو ہم بھول گئے اور یہ عملاً اس طرح ہو رہا ہے۔ تو اس لیے جامعہ پاس کرنے کے بعد بھی آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

پھر

آپ میں وسعت حوصلہ دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہونا چاہیے۔

اگر آپ بھی کسی بات پر چڑ کر جواب دیں گے۔ لوگوں کے اعتراضوں پر چڑ کر یا غصہ میں یا غلط رنگ میں ان کے جواب دیں گے یا اپنے سے بات کرنے والے سے بیزاری کا اظہار کریں گے یا سوال کرنےوالے سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو آپ لوگ اس کی ٹھوکر کا باعث بنیں گے۔

آپ لوگ، لوگوں کی ٹھوکر کے لیے نہیں بنائے گئے۔آپ لوگ لوگوں کے سکون کا سامان پیدا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ ان کو راہ راست پر لانے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ پس اس بات کو سمجھیں ۔ لوگوں سے پیار اور محبت اور ادب و احترام سے پیش آنا ایک مربی کا خاصہ ہونا چاہیے۔ دنیاوی خواہشات ترجیح نہ ہوں بلکہ دین کو مقدم کرنے کے اعلیٰ نمونے دکھانے والے آپ ہونے چاہئیں ۔

متقیوں کا امام بننے کی دعا کرتے ہیں ۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا (الفرقان :75)۔ تو سب سے پہلے اپنے گھر سے یہ شروع ہونا چاہیے۔

اپنے گھروں کو ایسا بنائیں کہ جہاں حقیقت میں یہ نظر آئے کہ آپ کے گھروں میں اسلامی تعلیم کے نمونے قائم ہیں ۔

بچوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے، بیوی کو یہ پتہ ہونا چاہیے۔ کچھ کی شادیاں ہو گئی ہیں۔ کچھ کی ہوں گی ان شاء اللہ اور جومیدان میں ہیں ان کو بھی کہتا ہوں کہ بیوی بچوں کا خیال ہو کہ ہمارا خاوند یا باپ جو کچھ ہمیں کہے گا یا کہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے کہتا ہےاور اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق وہ ہمیں یہ باتیں کہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپؐ کے ارشادات کے مطابق ہمیں یہ باتیں بتا رہا ہے۔ قرآن کریم کے احکامات کے مطابق ہمیں یہ باتیں کر رہا ہے۔ پس یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ

روحانی ترقی گھروں کے لیے وہ چیز ہے جو آپ کے گھروں کو بھی سکون دے گی اور ہر واقف زندگی عورت کا خاوند یا ہر واقف زندگی باپ کا بچہ دل میں یہ احساس رکھے گا کہ ہمارے والدین ہمارے لیے، ہمارا والد ہمارے لیے، ہمارا باپ ہمارے لیے نمونہ ہے۔

اسی طرح جب یہ احساس پیدا ہو جائے گا تو بیوی کی یا بچوں کی دنیاوی خواہشات جو ہیں وہ بھی ختم ہوجاتی ہیں ۔ ان کو بھی پتہ ہے کہ ہمارا باپ وقف زندگی ہے اور اس نے محدود وسائل میں گھر چلانا ہے اور گزارہ کرنا ہے۔ جب گھروں میں آپ کی یہ حالت ہو گی تو جماعت میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہوں گے۔ یہ نمونے پھر باہر بھی نکلیں گے۔ پس اس بات کو دیکھتے رہیں ۔

جماعت کے تو اپنے وسائل ہیں ۔ اپنے وسائل کے لحاظ سے آج مربیان یا واقف زندگی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ چند سال پہلے تک یہ حالت نہیں تھی۔ گھانا میں مَیں رہا ہوں ۔ واقف زندگی کا الاؤنس مشکل سے مہینے کے لیے پورا ہوتا تھا۔ بعض وقت تو مشکل سے پندرہ بیس دن کے بعد تک بھی نہیں جاتا تھا لیکن میں نے بہت سے واقفین کو دیکھا ہے وہ اسی میں خوش تھے۔ کبھی انہوں نے شکوہ نہیں کیا۔ اس لیے کہ ان کو پتہ تھا کہ ہم نے اپنے بیوی بچوں کے سامنے جو نمونے بیان کیے ہوئے ہیں اور جو وقف زندگی کی اہمیت بتائی ہوئی ہے اس کی وجہ سے یہ ہم سے غلط مطالبات نہیں کریں گے۔ جب غلط مطالبات گھر سے نہ ہوں تو بے چینی بھی نہیں ہوتی بلکہ مجھے یاد ہے کہ جب میں گھانا جانے لگا تو مولانا محمد شریف صاحب سیکرٹری نصرت جہاں تھے۔ وہ اپنے واقعات بیان کر رہے تھے۔ وہ فلسطین میں مبلغ رہے ہیں اور گیمبیا میں بڑا عرصہ رہے ہیں۔ کہتے ہیں وہاں ہم پہ ایسے حالات ہوتے تھے کہ سالن پکانا تو مشکل بات تھی ڈبل روٹی لیتے تھے اور پانی میں بھگو کے کھا لیتے تھے۔ اس طرح بھی مربیان نے گزارہ کیا۔ آپ لوگ تو بڑی سہولتوں سے آجکل رہ رہے ہیں۔ اس لیے یہ سامنے رکھیں باتیں اور سوچیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے جو اتنے فضل ہیں، اتنے احسان ہیں اس کا شکر ہم نے کس طرح ادا کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ بھوکا نہیں مارتا۔ میں نے دیکھا ہے ہم بھی وہاں بعض کٹھن حالات میں رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ہی انتظام کر دیتا ہے اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ رات کو بھوکے سوئے ہوں ۔

بہت سارے مربیان نے وہاں بہت قربانیاں کی ہیں ۔ پس

قناعت بھی ایک مربی اور مبلغ کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپ میں قناعت ہونی چاہیے۔

آج بھی ہمارے ساتھ گھانا کے طلبہ شامل ہیں، افریقہ کے ممالک کے بھی ہیں، انہیں میں بتا دوں کہ جو سہولتیں آج آپ کو مل رہی ہیں ہمارے وقت میں اس کا تصور بھی نہیں تھا لیکن مربیان اس وقت جو کام کرنے والے تھے، جو وقف کی روح کو سمجھنے والے تھے وہ اس بات پر بھی خوش تھے اور اپنے کام کرتے تھے۔ اس لیے

جو میدانِ عمل میں ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کریں اور جو اَب میدان عمل میں جانے والے ہیں وہ بھی یہ سوچ کر آج عملی زندگی میں قدم رکھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر زندگی وقف کی ہے تو اب ہم نے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور جب یہ ہو گا تو جہاں آپ کے کاموں میں برکت پڑے گی وہاں آپ کے گھروں میں بھی برکت پڑے گی۔

اصل چیز تو سکون ہے۔ ذہنی سکون ہے،گھریلو سکون ہے، معاشرے کا سکون ہے اس کے لیے آپ نے کوشش کرنی ہے۔ پیٹ بھرنا یا دنیاوی خواہشات کو پورا کرنا یہ تو کوئی کمال نہیں ہے۔ یہ تو ہو ہی جاتا ہے۔

پس آج کے دن آپ جو یہاں اپنی سند لینے آئے ہیں ان میں انگلستان کے جامعہ کے فارغ التحصیل مربیان بھی شامل ہیں کینیڈا کے بھی شامل ہیں ۔ امریکہ سے بھی آئے ہوئے ہیں۔ یورپ سے بھی آئے ہوئے ہیں ۔ گھانا والے بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور گھانا جامعہ میں جیسا کہ انہوں نے رپورٹ میں بھی بتایا کہ یہاں تو کئی ممالک کے مربیان ہیں ۔کینیڈا میں بھی کئی ممالک کے تھے لیکن اب کچھ دیر کے لیے انہوں نے شاید حکومت نے پابندی لگائی ہے آئندہ شاید نہ ہوں لیکن اس وقت تو ہیں ۔ تو

ہمیشہ ہر ایک کو، پڑھنے والوں کو بھی، جو آج فارغ ہوئے ہیں ان کو بھی، جو میدان عمل میں ہیں ان کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے اپنے وقف کو اس طرح نبھانا ہے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے۔ کسی قسم کی دنیاوی خواہش کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا۔ خواہ کہیں بھی ہماری ڈیوٹی ہو۔ اپنے آپ کو ہمہ وقت دین کے کاموں کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار کرنا ہے۔

اگر آپ ہمہ وقت یہ سمجھ لیں گے تو پھر یہ سوال نہیں ہو گا کہ امیر ہمہ وقت ہونا چاہیے بلکہ آپ امیر کا کام بھی کر رہے ہوں گے ،سیکرٹری تبلیغ کا کام بھی کر رہے ہوں گے ،سیکرٹری تعلیم کا کام بھی کر رہے ہوںگے،سیکرٹری تربیت کا کام بھی کر رہے ہوں گے بلکہ یہاں تک کہ سیکرٹری مال کا کام بھی آپ کر رہے ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنے عمل سے، اپنی تقریروں سے، اپنے خطبات سے لوگوں کی صحیح راہنمائی کرنی ہے اور جب لوگوں کی صحیح راہنمائی ہو جائے گی تو سیکرٹریان کا کام تو ویسے ہی ہلکا ہو جاتا ہے۔

پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں بجائے یہ کہنے کے کہ فلاں ہمہ وقت ہو یا فلاں نہ ہو۔

اپنے آپ کو ہمہ وقت قربانی کے لیے تیار کریں ۔ یہ عہد ہے جو حقیقت میں خوشی مہیا کرنے والا ہے نہ کہ آج کی سند لینا کیونکہ ایسے لوگوں کے ارادے ہیں، ایسے لوگوں کے عہد ہیں جو پھر دنیا میں انقلاب پیدا کرتے ہیں

اور آپ نے اپنے آپ کو مسیح موعودؑ کی واقفِ زندگی کی فوج میں اس لیے شامل کیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنی ہے اور دنیا کے کونے کونے میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہرانا ہے۔ پس

یہ عہد اگر کیا ہے تو اس کے لیے عملی کوشش کی ضرورت بھی ہے

اور جب یہ عملی کوشش ہو گی تو یہ کوشش آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بھی بنائے گی اور جس کو خدا تعالیٰ کے فضل حاصل ہو جائیں اسے اَور کیا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو یہ توفیق دے کہ یہ فضل حاصل کرنے والے ہوں ۔ دعا کر لیں ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطبہ کسوفِ شمس فرمودہ مورخہ 29؍مارچ 2025ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button