متفرق شعراء
ربّ کی مرضی کے آگے ہم سر اپنا جھکائے بیٹھے ہیں

تقدیر کے پَنّوں پر لکھا سب آپ مٹائے بیٹھے ہیں
کچھ لوگ تو آنکھوں میں اپنی دنیا کو بسائے بیٹھے ہیں
کوئی بھوکا ہو، کوئی مفلس ہو رفتہ رفتہ مر جائے گا
آسودہ حال یہ دنیا کے خیرات بچائے بیٹھے ہیں
گر امن کا پوچھو ہر بندہ آواز اُٹھائے گا لیکن
دل میں یہ سارے بدلے کی اِک آگ لگائے بیٹھے ہیں
دنیا کے ستائے بندے کی آنکھوں میں درد سماتا ہے
مسکان سے وقت کے شہزادے یہ درد چھپائے بیٹھے ہیں
کہتے ہیں زخم چھپاؤ گے تو جلدی سے بھر جائیں گے
افسوس کہ ساری دنیا کو ہم گھاؤ دکھائے بیٹھے ہیں
جب صبح کی کرنیں پھوٹیں گی اندھیارا یہ چھٹ جائے گا
ربّ کی مرضی کے آگے ہم سر اپنا جھکائے بیٹھے ہیں
اپنوں سے دور مسافت پر نم آنکھوں سے راہیں تکتے
کچھ لوگ ہیں شاؔہد تم جیسے جو وعدہ نبھائے بیٹھے ہیں
(محمد اسامہ شاہد۔ قزاقستان)
مزید پڑھیں: میرے مرشد کے اک اشارے پہ




