متفرق شعراء

دیکھو! چہار سمت ہے الفضل کی صدا

دیکھو! چہار سمت ہے الفضل کی صدا
ہر دل میں ایک نور ہے الفضل نے بھرا

تحریر میں خلوص کی خوشبو لیے ہوئے
اخلاص کے گلاب سے الفضل آشنا

روئے زمین پر ہے یہ گویا فلک نما
ہوگی لطیف روح جو الفضل کو پڑھا

جائے گی کیوں کسی کی بھی جانب نظر مری
صبح و مسا زبان پہ الفضل ہی رہا

کل بھی رہے گا وقت کے سینے پہ یہ رقم
گویا خدا کی بات ہے الفضل کا لکھا

تاریخ کے قلم سے یہ چمکا ہے باخدا
رنگینیٔ خیال ہے الفضل کی عطا

ہر دور میں صداقتِ کامل کی رہگزر
ہر دل میں اک امید کا الفضل ہے دیا

الہام کی صدا کا جو وارث ہے آج بھی
روحانی اک نظام ہے الفضل کا سوا

زاہد تجھے میں اور کیا اس کی مثال دوں
علم و ادب میں آج بھی الفضل ہے بڑا

(سید طاہر احمد زاہد)

مزید پڑھیں: میری کر مدد خدایا، ہیں کہاں تری سپاہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button