متفرق شعراء

بیٹی کے حصول تعلیم کے لیے سفر پر دعائیہ اشعار

’’جاتی ہو میری جان خدا حافظ و ناصر
مولا ہو نگہبان خدا حافظ و ناصر‘‘

رستوں کی مشقت یہ دعاؤں سے کٹے گی
ہر موڑ پہ رحمان خدا حافظ و ناصر

آندھی ہو اندھیرا ہو ہوا بھی ہو مخالف
ہونا نہ پریشان خدا حافظ و ناصر

جو دھوپ میں صحرا میں مسلسل پڑے چلنا
گر زاد ہو ایمان خدا حافظ و ناصر

ہو حِدّتِ ہجراں نہ کبھی دل پہ مسلّط
ہو ہمتِ مردان خدا حافظ و ناصر

شیطان کے خطرات تمہیں چھو بھی نہ پائیں
روشن رہے ایقان خدا حافظ و ناصر

یادوں کی کرن دل کو منوّر کیے رکھے
تنہائی میں قرآن خدا حافظ و ناصر

اسلام کی بیٹی ہو، محمّد کی ہو اُمت
دائم رہے یہ دھیان خدا حافظ و ناصر

ہے حکم یہ آقا کا کرو علم کی تحصیل
بِسرے نہ یہ فرمان خدا حافظ و ناصر

جاتی ہو مگر دل سے نہ جاؤ گی کبھی تم
ہوں وصل کے سامان خدا حافظ و ناصر

(تنویراحمدناصر۔ قادیان)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button