خطاب حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مجلس خدام الاحمدیہ اورمجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع 2025ء کے موقع پر بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ

آپ خدام پر لازم ہے کہ آپ ساری دنیا کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کریں

٭…ہماری جماعت کی تمام ذیلی تنظیموں کے اجتماعات کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی محبّت کو دلوں میں بٹھانا اور اپنے ممبران کے علمی، اخلاقی اور روحانی معیار کو بلند کرنا ہے۔

یہ وہ اصل مقصد ہے جسے آپ، بطور اراکینِ مجلس خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ، ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھیں

٭…اگر جماعت کے نوجوان، بچے اور بزرگ سب مل کر قرآن کی تعلیمات کے مطابق حقیقی طور پر زندگی گزاریں تو ہم دنیا میں ایک حقیقی روحانی اور اخلاقی انقلاب کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں

٭…اگر ہم بلند اخلاقی معیار نہ دکھا سکیں تو احمدی ہونے کا کیا فائدہ؟ اسی لیے ہمارے کھیلوں کے پروگرام اس مقصد کے لیے ہوتے ہیں کہ خدام اور اطفال کی ذہنی نشوونما ہو، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، انسانیت کے حقوق اور جماعت کی خدمت بہترین انداز میں کر سکیں

اميرالمومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۱؍ستمبر۲۰۲۵ء بروز اتوار مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماعات (منعقدہ ۱۹تا۲۱؍ستمبر۲۰۲۵ء) سے انگریزی زبان میں بصیرت افروز اختتامی خطاب ارشاد فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں براہ راست دیکھا اور سنا گیا۔ امسال اجتماعات گلفورڈ میں واقع Hook Lane پر موجود پچاس ایکڑ زمین پر منعقد ہوا۔ مقام اجتماع اسلام آباد ٹلفورڈ سے گاڑی پر پندرہ منٹ کی مسافت پر ہے۔ امسال اجتماع کا مرکزی موضوع ’’قرآن کریم- جواہرات کی تھیلی‘‘ تھا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چار بج کر ۹ منٹ پر فلک شگاف نعروں کی گونج میں مقام اجتماع میں رونق افروز ہوئے۔ حضورِانور نے لوائے خدام الاحمدیہ لہرایا اور دعا کروائی۔

بعد ازاں درج ذیل گروپس کو حضور انور کے ساتھ اجتماع گاہ کے باہر تصاویر کھنچوانے کی سعادت حاصل ہوئی: اجتماع کمیٹی، نیشنل عاملہ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی، نیشنل عاملہ وریجنل ناظمین مجلس اطفال الاحمدیہ یوکے، قائدین مجالس اور نیشنل عاملہ و ریجنل قائد ین مجلس خدام الاحمدیہ یوکے۔

بعد ازاں حضور پُر نور اجتماع گاہ میں تشریف لائے۔ نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد چار بج کر ۳۴ منٹ پر والہانہ نعروں کی گونج میں حضورِانور کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے اور ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کا تحفہ عنایت فرمایا جس کے بعد اختتامی اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

مکرم احسان احمد صاحب نے سورۃ العنکبوت کی آیات ۴۸ تا ۵۰ کی تلاوت کی توفیق پائی۔ متلُوّ آیات کا انگریزی زبان میں ترجمہ مکرم سید سجیل احمد شاہ صاحب کو پیش کرنے کی سعادت ملی۔بعد ازاں حضور انور کی اقتدا میں تمام حاضرین نے خدام الاحمدیہ کا عہد دہرایا۔

مکرم عبد الحئی سرمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے منظوم کلام ’جمال و حسن قرآں نورِ جانِ ہر مسلماں ہے‘ میں سے بعض اشعار پیش کیے۔ ان اشعار کا انگریزی ترجمہ مکرم صفوان اکبر صاحب کو پیش کرنےکی سعادت ملی۔ اس کے بعد مکرم عبدالقدوس عارف صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی جس کے اختتام پر اجتماع کی جھلکیوں پر مشتمل ایک ویڈیو دکھائی گئی۔

حضور انور کی اجازت سے مکرم عمیر بشیر صاحب (معتمد مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ) نے سال ۲۰۲۳-۲۴ء کے دوران عمدہ کارکردگی پر علَمِ انعامی حاصل کرنے والی اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کی مجالس کا اعلان کیا۔ مجلس اطفال الاحمدیہ میں قیادت بریڈفورڈ ساؤتھ (Bradford South) جبکہ مجلس خدام الاحمدیہ میں قیادت نیو کاسل (Newcastle) علمِ انعامی کی حق دار قرار پائی۔ ان مجالس کے قائدین کو حضورانور کے دست مبارک سے علم انعامی وصول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

چار بج کر ۵۵ منٹ پر حضورِانور منبر پر تشریف لائے اور اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔

خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ

آج آپ یہاں مجلس خدام الاحمدیہ کے نیشنل اجتماع میں شامل ہونے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

ہماری جماعت کی تمام ذیلی تنظیموں کے اجتماعات کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی محبّت کو دلوں میں بٹھانا اور اپنے ممبران کے علمی، اخلاقی اور روحانی معیار کو بلند کرنا ہے۔ یہ وہ اصل مقصد ہے جسے آپ، بطور اراکینِ مجلس خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ، ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھیں۔

اطفال کے حوالے سے حضور انور نے فرمایا کہ اس ملک میں بچوں کو جو تعلیم ملتی ہے، وہ کم عمری ہی میں اُن کی سوچ کو وسیع کرنے کا ذریعہ بنتی ہے، مَیں نے خود مشاہدہ کیاہے کہ محض دس سال کی عمر کے بچے بھی نہایت بلیغ اور عمیق دینی سوالات کرتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کم عمری ہی میں کئی دینی مضامین کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، آج مَیں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے خدام اور اطفال کس طرح موجودہ دَور میں اپنے دینی مقاصد کو بہترین رنگ میں پورا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ

مجلس خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کے رُکن ہونے کا بنیادی مقصد آپ کے دینی، علمی اور روحانی معیار کو بلند کرنا ہے۔

اجتماعات میں دینی اور علمی پروگراموں کے ساتھ ساتھ آپ کو کھیلوں اور گیمز میں حصہ لینے کا بھی موقع ملتا ہے، جنہیں بلاشبہ آپ میں سے بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں۔ تاہم آپ کی اصل ترجیح صرف کھیل کے نتیجے پر، یا یہ کہ کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے، نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ

ذیلی تنظیموں کے زیرِ اہتمام کھیلوں اور گیمز کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ممبران جسمانی طاقت اور صحت حاصل کریں، کیونکہ یہ چیز انہیں اللہ کے حقوق ادا کرنے اور اپنی دینی و علمی ترقی کے فرائض پورے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دَور میں بہت سے نوجوان اپنا سارا فارغ وقت آن لائن ویڈیوز دیکھنے، ٹی وی پروگرامز دیکھنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں گزارتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ صحت مند آؤٹ ڈور سرگرمیوں اور کھیلوں میں حصہ لیں۔ اسی لیے ہمارے اجتماعات میں کھیل اور گیمز اس مقصد کے لیے رکھے جاتے ہیں کہ نوجوان باہر کی فضا میں تازہ ہوا لیں، جسمانی صحت بہتر بنائیں اور اپنی فٹنس کو سنواریں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات احمدیوں میں بھی ذاتی مفاد یا اَنا غلط رویوں کو جنم دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اس سال مَیں نے ’’مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ‘‘ کو منسوخ کیا تھا کیونکہ کچھ لوگوں کے دل و دماغ میں بھائی چارے کی بجائے ذاتی مفاد اور تکبر آگیا تھا۔ بجائے اس کے کہ یہ ٹورنامنٹ محبّت اور اخوت کو فروغ دیتا، اس نے اختلافات اور کینہ پیدا کر دیا۔ جب کوئی چیز کدورت یا دشمنی کو بڑھائے تو بہتر یہی ہے کہ اسے روک دیا جائے تاکہ مزید جھگڑوں سے بچا جاسکے۔ امید ہے کہ جو لوگ اصل مقاصد سے ہٹ گئے تھے وہ اپنی اصلاح کریں گے اور بہتری کی جانب مائل ہوں گے۔

احمدیوں کو چاہیے کہ جب بھی وہ کوئی کھیل کھیلیں تو حقیقی اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کریں۔ اعلیٰ اخلاق، برداشت اور دوسروں کے احترام کا ایسا معیار قائم ہونا چاہیے جو احمدی نوجوانوں کو دوسروں سے ممتاز کرے۔

اگر ہم بلند اخلاقی معیار نہ دکھا سکیں تو احمدی ہونے کا کیا فائدہ؟ اسی لیے مَیں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے کھیلوں کے پروگرام اس مقصد کے لیے ہوتے ہیں کہ خدام اور اطفال کی ذہنی نشوونما ہو تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، انسانیت کے حقوق اور جماعت کی خدمت بہترین انداز میں کر سکیں۔

اس کے برعکس، ٹی وی کے سامنے فضول بیٹھے رہنا یا موبائل پر مسلسل اسکرولنگ کرنا جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ پر بے شمار خطرناک اور غیراخلاقی مواد آسانی سے دستیاب ہے جو اخلاقی اقدار کو کھوکھلا کرتا ہے اور نفرت کو ہوا دیتا ہے۔اب تو مصنوعی ذہانت (AI) نے اس خطرے کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ مَیں کئی سال سے اس کے نقصانات کے بارے میں خبردار کرتا رہا ہوں اور آج ہم تقریباً روزانہ اس کے خوفناک نتائج دیکھ رہے ہیں۔ چند ہی دن پہلے امریکہ میں ایک معروف سیاسی کارکن کے قتل کے بعد اُس ریاست کے گورنر نے عوامی سطح پر نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے آلات (devices) بند کریں، گھروں سے باہر نکلیں، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاریں اور اپنی کمیونٹیز کی خدمت کریں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی بچپن ہی سے خلافت کی راہنمائی میں پروان چڑھتے ہیں اور اُنہیں جدید معاشرے کے خطرات اور فتنوں کے بارے میں بار بار متنبہ کیا جاتا ہے۔ اگر ہم حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مختلف طبقوں کی اخلاقی تربیت اُن کی ضروریات، صلاحیتوں اور ماحول کے مطابق نہایت حکمت سے فرمائی۔ آپؓ نے اُن کی ذمہ داریوں اور مقاصد کی وضاحت کی اور اسی مقصد کے تحت مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی اور احمدی نوجوانوں کو اُن کی عمر اور صلاحیت کے مطابق سمت عطا فرمائی۔

جیسا کہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں حضرت مصلح موعودؓ نے آپ خدام الاحمدیہ کو ایک عظیم الشّان اور نہایت گہرا نعرہ عطا فرمایا کہ

’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی‘‘۔ یہ نعرہ ماضی میں بھی آپ کے لیے ایک زبردست چیلنج تھا اور آج بھی ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر آپ کے سامنے ہے۔ یہ الفاظ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ آپ خدام پر لازم ہے کہ آپ نہ صرف اپنی قوم بلکہ ساری دنیا کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کریں۔

دنیا کو حقیقی امن و سکون کی طرف لے جانے کی ذمہ داری آپ پر ہے۔ آپ کو اپنی آخری سانس تک حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے مشن کو پورا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہنا ہے۔

تاہم دوسروں کی طرف توجہ دینے سے پہلے ہر احمدی نوجوان کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہر فرد کی ذاتی اور باطنی اصلاح ہی وہ بنیاد ہے جو اینٹ پر اینٹ رکھ کر ایک شاندار روحانی، اخلاقی اور علمی انقلاب کی تعمیر کرے گی۔ یہی وہ پیغام اور حقیقت ہے جس کی نمائندگی حضرت مصلح موعودؓ کے عطا کردہ اس نعرہ میں کی گئی ہے۔

جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، جسمانی طور پر صحتمند اور مضبوط ہونا آپ کو ان بلند مقاصد کے حصول میں مدد دے گا۔مختلف تحقیقات اور رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو لوگ جسمانی طور پر صحت مند ہوں اور علمی اعتبار سے منظم، محنتی اور باقاعدہ ہوں، وہ اپنے جذبات پر قابو پانے اور درست فیصلے کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف اُنہیں ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ معاشرے پر بھی مثبت اثر ڈالنے کے قابل ہو جاتے ہیں، کیونکہ اُن کی سوچ زیادہ بالغ، گہری اور بصیرت افروز ہوتی ہے۔

بالآخر جب وہ گہرائی سے اور عقل کے ساتھ سوچتے ہیں، خصوصاً بطور خدام الاحمدیہ کے ارکان جنہوں نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے، تو اُن کی سوچ انہیں خدا کے قریب لے جاتی ہے۔ پس حضرت مصلح موعودؓ کے عطا کردہ اس نعرے میں یہی فلسفہ کارفرما ہے کہ اگر ہمارے خدام اور اطفال اپنی اصلاح اور کردار سازی میں سنجیدگی سے محنت کریں، تو ہر احمدی نوجوان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ احمدیت کا ایک درخشاں ستارہ بن سکے۔

اسی لیے اجتماع میں کیے جانے والے تمام پروگرام اور تقاریر کا مقصد یہی ہے کہ آپ کے ذہنوں کو مثبت سمت دی جائے اور آپ کی روحانی، اخلاقی، جسمانی اور علمی ترقی کو فروغ دیا جائے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ دینی علم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرآنِ کریم کا مطالعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر منعقد ہونے والے پروگراموں اور اجتماعات میں تلاوت اور قرآن کے مطالعہ سے متعلق علمی مقابلے شامل کیے جاتے ہیں۔

اسی مقصد کے لیے کہ آپ قرآنِ کریم کے بلند مقام اور اس کی لامحدود برکات کا عرفان حاصل کر سکیں، میں نے اس سال کے اجتماع کا مرکزی موضوع ’’قرآنِ کریم – جواہرات کی تھیلی‘‘ منتخب کیا تھا۔

ہر خادم اور طفل کو چاہیے کہ روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرے، اس کے معانی کو سمجھے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔ فضول وقت ضائع کرنے کی بجائے، خواہ وہ نامناسب فلموں اور پروگراموں پر ہو یا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بے شمار گھنٹوں کے ضیاع پر،

آپ کا پختہ عزم ہونا چاہیے کہ قرآنِ کریم اور اس کی تعلیمات کے ذریعے اپنےعلم میں اضافہ کریں۔ قرآن کو اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بنائیں۔

یہ قرآن ہی ہے جو آپ کو معاشرے کا ایک مثبت اور نفع رساں وجود بنائے گا۔ پس بطور ایک مومن آپ کا مقصد ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ قرآنِ کریم کے ہر لفظ کو محبّت اور شوق سے پڑھیں اور اس پر غور کریں۔

بعض اوقات ترجمہ سمجھنے میں دشواری ہو سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ جماعت کی طرف سے شائع ہونے والی تفاسیر کا مطالعہ بھی کریں۔ آپ کی یہ عمر سیکھنے اور یاد رکھنے کے لیے سب سے موزوں ہے، کیونکہ نوجوانی میں دماغ زیادہ زرخیز ہوتا ہے اور نئی معلومات کو آسانی سے جذب کر لیتا ہے۔

قرآنِ کریم کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ آپ پر لازم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت زندگی اور پاکیزہ سیرت کا بھی مطالعہ کریں، کیونکہ آپؐ کی پوری زندگی ہمارے لیے ایک لازوال نمونہ ہے جس سے ہمیں سیکھنا اور جس کی پیروی کرنا ہے۔

یقیناً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کا قرب چاہتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کو اپنائے۔

مزید برآں، اجتماع میں شامل ہونے کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا، جب آپ یہاں سیکھی ہوئی باتوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔ صرف دو تین دن کے لیے خدا سے تعلق جوڑنے کی کوشش کافی نہیں، بلکہ ہر روز اپنے تعلق کو بڑھانا اور اللہ تعالیٰ سے وابستگی کو اپنی اوّلین ترجیح بنانا ضروری ہے۔ آپ کو چاہیے کہ روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کے مطالعہ کے لیے خاص وقت مقرر کریں۔ اگر آپ اخلاص سے اس کی کوشش کریں گے تو ان شاء اللہ آپ اپنی زندگی میں ایک عظیم روحانی اور اخلاقی انقلاب دیکھیں گے۔ آپ کے دل اور دماغ خود بخود اللہ کی طرف مائل ہوں گے اور وہ آپ کو اس معاشرے کے ہر موڑ پر چھپے خطرات اور گمراہیوں سے بچائے گا، اور آج کی دنیا کی فریب دہ کششوں سے محفوظ رکھے گا۔

قرآنِ کریم ہمیں ایک اَور بنیادی وصف سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر صورت حال میں سچائی پر قائم رہنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ ہر احمدی، چاہے نوجوان ہو یا بوڑھا، کاروبار، مالی معاملات اور دیگر امور میں اعلیٰ ترین معیار کی سچائی اور ایمانداری قائم رکھے۔ مکمل دیانتداری ہر احمدی کی پہچان ہونی چاہیے، تاکہ ہماری جماعت دنیا کو منورکر سکے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کی عبادت کی طرف راہنمائی کر سکے۔

ایک اور غیر اخلاقی عمل جو بعض افراد میں پیدا ہوا ہے وہ ہے غیبت، حقیقت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا، امانتوں میں خیانت اور دوسروں کی تکالیف میں خوشی محسوس کرنا، یا فساد بھڑکانے کے لیے ایسا کرنا۔ آج کے سوشل میڈیا کے دَور میں یہ اَور بھی آسان ہو گیا ہے۔ لوگ اس رویے کو مذاق کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں، لیکن یہ کام دشمنی، بغض اور نفرت پیدا کر سکتے ہیں اور سماجی نظام کو بھی خراب کر سکتے ہیں۔ لہٰذا آپ کبھی بھی ایسے کاموں میں ملوث نہ ہوں۔

اگر سوشل میڈیا استعمال کرنا ہے تو اسے مثبت کاموں، حقائق کی اشاعت، اللہ تعالیٰ کے احکام، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی اخلاقی و روحانی تعلیمات کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔ اسے فضول تفریح یا بےمعنی اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے کے لیے نہ استعمال کریں، نہ دوسروں کو اذیت پہنچانے یا نفرت و تقسیم پیدا کرنے کے لیے۔ سوشل میڈیا صرف نیک اور فائدہ مند کاموں کے لیے استعمال کریں۔

اگر ہم دنیا کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں تو ہمیں پہلے اپنے دل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے صحابہؓ کے دلوں میں کس طرح روحانی انقلاب برپا کیا۔ ایک شخص نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ جنّت میں جانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ آج بھی لوگ یہی سوال کرتے ہیں!آپؐ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شریک نہ بناؤ، نماز باجماعت ادا کرو،زکوٰۃ دو یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے رشتہ داروں سے محبّت اور رحمت کا سلوک کرو۔ اگر یہ سب کریں تو جنت میں جائیں گے۔ رشتہ داروں سے محبّت کا مطلب اپنے تمام قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض نوجوان احمدی خواتین مجھے یہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر یا ساس و سسر انہیں اپنے خاندان سے ملنے نہیں دیتے۔ یہ رویّہ اسلام کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جو لوگ ایسے ظلم کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی اصلاح کریں اور اپنی بیویوں اور بہوؤں کے ساتھ محبّت اور ہمدردی کا سلوک کریں۔

اگر شوہر کے والدین ایسے دکھ اور رنج کا سبب بنیں تو انہیں یاد دلانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے انہی کے لیے جنّت کی خوشخبری دی ہے جو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں، تو پھر وہ اپنی بہوؤں اور بچوں کو ایسا کرنے سے کیوں روکیں؟ یاد رکھیں، اگر آپ کے والدین آپ کو اللہ یا اس کے نبی صلی الله علیہ وسلم کے احکام بجا لانے سے روکتے ہیں، تو بچوں پر فرض ہے کہ اچھے اخلاق اور شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے والدین کی راہنمائی کریں۔ اس میں کچھ بھی نامناسب نہیں۔

حضور انور نے آخر پر ارشاد فرمایا کہ اب جبکہ ہم اس اجتماع کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں، مَیں قرآنِ کریم کے مطالعے کی اہمیت پر دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں۔ بے شک جب آپ قرآن کو غور سے پڑھیں گے تو اس میں ایک بےپناہ الٰہی حکمت پائیں گے جو آپ کی راہنمائی کرے گی کہ کن باتوں کو اپنانا ہے اور کن سے بچنا ہے۔

مَیں نے صرف اس کی تعلیمات کا ایک چھوٹا سا حصّہ بیان کیا ہے۔

اگر جماعت کے نوجوان، بچے اور بزرگ سب مل کر قرآن کی تعلیمات کے مطابق حقیقی طور پر زندگی گزاریں تو ہم دنیا میں ایک حقیقی روحانی اور اخلاقی انقلاب کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں۔

ورنہ صرف زبانی دعوے کرنا کہ ہم دنیا کو بدلیں گے، کچھ نہیں بلکہ محض کھوکھلی باتیں ہوں گی۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم احمدی ہیں، لیکن ہم اپنا حقیقی مقصد، جماعت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا اور ان اجتماعات سے فائدہ اٹھانا، تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم اللہ کے احکام، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی ہدایات کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔

ہمارا فرض ہے کہ اسلام کی ہر تعلیم پر اپنی استعداد کے مطابق عمل کریں۔

اگر آپ نوجوان احمدی اس مقام تک پہنچیں کہ آپ مخلص اور وفادار نوجوان بن جائیں، جو اپنے دینی عہدوں پر قائم رہیں اور دوسروں کی اصلاح اور دنیا میں روحانی بیداری لانے میں قیادت کریں، تو یہی حقیقی کامیابی ہوگی۔ بصورت ِ دیگر، صرف نعرہ لگانا کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی بے معنی ہے اور کوئی مقصد پورا نہیں کرتا۔

ہمیں ہمارا حقیقی مقصد تبھی حاصل ہوگا جب اس نعرے کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنی ہر توانائی سے اپنی اصلاح کریں اور پھر انسانیت کی اصلاح کی راہ میں قدم بڑھائیں۔

اختتامی دعا سے قبل حضور انور نے فرمایا کہ آج جب آپ یہاں سے روانہ ہوں، اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ اُن خدام و اطفال میں شامل ہوں گے جو واقعی اپنی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور دنیا کو اللہ کی طرف، اللہ تعالیٰ کی عبادت، امن اور سچائی کی طرف راہنمائی کرنا چاہتے ہیں؟میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور آپ سب احمدیت کے حقیقی درخشاں ستارے بنیں۔ آمین۔

حضور انور کا خطاب پانچ بج کر چالیس منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد اطفال اور خدام کے گروپس نے ترانے پیش کیے۔ بعد ازاں پونے چھ بجے کے قریب حضور انور اجتماع گاہ سے تشریف لے گئے۔

رپورٹ صدر مجلس

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب سے قبل صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی جو کہ حسب ذیل ہے:

پیارے حضور! اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس سال کے نیشنل اجتماع کے اختتامی اجلاس میں موجود ہیں۔ ذیل میں اجتماع کی ایک مختصر رپورٹ پیش ہے۔

پیارے حضور! اس سال کے اجتماع کا مرکزی موضوع، جو حضورِ اقدس نے ہمیں ازراہِ شفقت عطا فرمایا، وہ تھا: ’’قرآنِ کریم – جواہرات کی تھیلی‘‘۔

پیارے حضور! روایتی علمی اور کھیلوں کے مقابلوں کے علاوہ اس سال کے اجتماع کی چند نمایاں جھلکیاں درج ذیل ہیں:

٭…مذہب اور عصر حاضر کے مسائل پر غیر رسمی تقاریر

٭…ہیومینٹی فرسٹ برطانیہ کے تحت غزہ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے ’ٹرائتھلون‘ (یعنی تین کھیلوں پر مشتمل ایونٹ) کا انعقاد

٭…قرآنِ کریم کے موضوع پر ایک خصوصی نمائش

٭…ایک خصوصی تبلیغ مارکی، جس کا مقصد خدام میں تبلیغ کا شوق بڑھانا تھا

٭…’ماسٹر شیف گرِل‘ کا مقابلہ

٭…تقاریر بموضوع خلافت، اعلیٰ تعلیمی ترقی اور ایک مضبوط احمدی بننا

٭…اطفال کے لیے قرآن و سائنس کی نمائشیں

پیارے حضور! اس سال اجتماع ایک نئے مقام پر منعقد ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اور حضور کی دعاؤں اور راہنمائی کی بدولت نئی جگہ سے متعلق تمام مشکلات کا حل نکلتا گیا۔ الحمدللہ

سیدی، اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال اجتماع پر کل حاضری سات ہزار نو سو چھیانوے (۷۹۹۶) رہی۔

حضور! اس اجتماع کی انتظامیہ پیشہ ور نوجوان افراد پر مشتمل تھی جنہوں نے اجتماع کے اس ماحول کو خوبصورت اور برادرانہ بنانے کے لیے اپنا وقت وقف کیا جس سے ہم لطف اندوزہوئے۔ میں پوری مجلس کی طرف سے ان رضاکاران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور حضور سے ان کے لیے عاجزانہ دعاؤں کے لیے درخواست گزارہوں۔

خاکسار، نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ عاطف خلیل صاحب جنہوں نے امسال اجتماع کے لیے بطور ناظم اعلیٰ خدمات سر انجام دیں کی زیر قیادت اجتماع کمیٹی کے تمام اراکین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے۔ ساتھ ہی جماعت احمدیہ برطانیہ، جلسہ سالانہ کی انتظامیہ اور ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی ٹیموں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوری مجلس کی طرف سے میں حضورِانور کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہم حضور انور کے شکرگزار ہیں کہ حضور انور اجتماع کی پوری تیاری کے دوران ہمارے لیے مسلسل دعائیں کرتے رہے اور ہماری راہنمائی فرماتے رہے، جس کے نتیجہ میں اجتماع کامیابی سے منعقد ہوا۔ الحمد للہ

ہم حضور انور کی اختتامی تقریب میں تشریف آوری پر بھی حضور انور کے نہایت شکر گزار ہیں۔

مجلس کی طرف سے میں حضور انور سے مجلس کے لیے مسلسل دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں کہ ہم ہمیشہ حضرت خلیفۃالمسیح کی توقعات اور ہدایات کے مطابق کام کرتے رہیں۔

ادارہ الفضل انٹرنیشنل محترم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ، انتظامیہ اجتماع اور ممبران مجلس خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ برطانیہ کو اس کامیاب اجتماع پر مبارک باد پیش کرتا ہے نیزدعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام خدام واطفال کو حضور انور کی زریں نصائح پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۵ء کے موقع پر مستورات سے بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button