متفرق شعراء
تو جان لینا کہیں کمی ہے

عبادتوں میں نہیں ہے لذت
ریاضتوں میں نہیں ہے رغبت
خدا کے آگے جھکا تو ہے سر
مگر ہے دل میں کسی کی مورت
تو جان لینا کہیں کمی ہے
اگرچہ حاصل ہو عیش و عشرت
جہان بھر کی ہو گھر میں نعمت
سکون دل کا نہ ہو میسر
کسی بھی حرکت میں ہو نہ برکت
تو جان لینا کہیں کمی ہے
اگرچہ دن رات کی ہو محنت
اٹھائی ہر قسم کی مشقت
ہزار کوشش بھی کر کے دیکھی
مگر نہ بدلی تمہاری قسمت
تو جان لینا کہیں کمی ہے
وفا کی راہوں میں بے وفائی
وصال کی شب میں ہو جدائی
بہ جان و دل چاہ کر بھی دیکھا
مگر محبت نہ راس آئی
تو جان لینا کہیں کمی ہے
بروز محشر بوقت پرسش
عیاں جہاں ہو گی خلد و آتش
خدا کی رحمت تو عام ہوگی
نہ ہو سکی گر تمہاری بخشش
تو جان لینا کہیں کمی ہے
(ابو بلال)
مزید پڑھیں: بیٹی کے حصول تعلیم کے لیے سفر پر دعائیہ اشعار




