لڈو، شَکَّر اور شُکرگزاری
دادی جان کے آنگن میں شام کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ امرود کے درخت سے پتّے جھڑ رہے تھے اور چڑیوں کی چہچہاہٹ فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے میں محمود منہ سجائے بیٹھا تھا اور گڑیا اور احمد شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ دادی جان نے وجہ پوچھی تو احمد بولا:دادی جان میں تو نہیں بتاؤں گا۔ آپ نے شکایت لگانے سے منع کیا ہے ناں!
دادی جان: خود سے بتائیں تو شکایت ہوتی ہے ناں۔ لیکن میں تو وجہ پوچھ رہی ہوں تاکہ میں محمود کو منا سکوں۔
گڑیا: دادی جان در اصل محمود نے کافی ساری مٹھائی کھا لی۔ تو امی جان سے اُسے ڈانٹ پڑی ہے۔
دادی جان: ہمم تو کوئی بات نہیں ہم آج محمود کو مٹھائی کھانا سکھاتے ہیں۔ دادی جان اٹھیں اور ریک سے تفسیرکبیرکی ایک جلد اٹھا لی اور ٹیگز چیک کرنے لگیں۔ پھر ایک ٹیگ والا صفحہ کھول کر دادی جان نے مسکراتے ہوئے کہا، آج تمہیں ایسی کہانی سناؤں گی جس میں لڈو بھی ہیں، شکر بھی ہے، کھیت بھی، محنت بھی اور شکرگزاری بھی۔
محمود حیران ہوا، اور لڈو بھی؟
ہاں بھئی، لڈو بھی۔ دادی جان ہنس پڑیں۔
پھر انہوں نے اپنی عینک صاف کی اور بولیں، آج میں تمہیں ایک بہت پیارا سا واقعہ سناؤں گی۔اتنا کہہ کر دادی جان نے پڑھنا شروع کر دیا۔
’’حضرت مرزامظہر جانِ جانانؒ دلی کے ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں۔اُن کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں لڈّو بہت پسند تھے۔دِلّی میں بالا ئی کے لڈو بنتے ہیں جو بہت لذیذ ہو تے ہیں۔ایک دفعہ وہ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کو ئی شخص بالا ئی کے دولڈو اُن کے پاس ہدیۃً لایا۔ان کے ایک شاگرد غلام علی شاہ بھی اس وقت پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے وہ دونوں لڈو ان کو دے دیئے۔بالائی کے لڈو بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اخروٹ کے برابر بلکہ اس سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔انہوں نے ایک دفعہ ہی وہ دونوں لڈو اُٹھا ئے اور مونہہ میں ڈال لئے۔جب وہ کھا چکے تو حضرت مرزا مظہر جان جانانؒ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا۔میاں غلام علی! معلوم ہوتا ہے تم کو لڈو کھانے نہیں آتے…‘‘
یہاں گڑیا ہنس پڑی۔ دادی جان! لڈو کھانے کے بھی طریقے ہوتے ہیں؟
ہاں بیٹی، ہر چیز کا ایک ادب ہوتا ہے، دادی جان نے کہا اور آگے پڑھنے لگیں: ’’وہ اُس وقت تو خاموش ہوگئے مگر کچھ دنوں کے بعد اُن سے کہنے لگے۔ حضور مجھے لڈو کھانے سکھا دیجئے۔ حضرت مرزا مظہر جان جانانؒ نے کہا کہ اگر اب کسی دن لڈو آئیں تو مجھے بتانا۔ میں تمہیں لڈو کھانا سکھا دوں گا۔ کچھ دنوں کے بعد پھر کوئی شخص اُن کے لئے بالائی کے لڈو لایا۔ میاں غلام علی صاحب کہنے لگے۔ حضور! آپ نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ میں تمہیں لڈو کھانا سکھا دوں گا۔ آج اتفاقاً پھر لڈو آگئے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ لڈو کس طرح کھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا رومال نکالا اور اس پر وہ لڈو رکھ کر ایک لڈو سے ذرہ سا ٹکڑہ توڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور سبحان اللہ! سبحان اللہ کہنے لگ گئے…‘‘
احمد نے فوراً پوچھا، وہ سبحان اللہ کیوں کہنے لگے؟
دادی جان: بیٹا، کیونکہ وہ ہر نعمت میں اللہ کی قدرت دیکھتے تھے۔ اور دیکھو، کہانی اب سمجھ آنا شروع ہوگی۔
وہ آگے پڑھنے لگیں:’’…پھر فرمانے لگے۔ واہ مظہر جان جاناں تجھ پر تیرے رب کا کتنا بڑا فضل ہے۔ یہ کہہ کر پھر سبحان اللہ! سبحان اللہ کہنے لگ گئے اور اپنے شاگرد کو مخاطب کر کے فرمایا۔ میاں غلام علی! یہ لڈو کن کن چیزوں سے بنتا ہے۔ انہوں نے چیزوں کے نام گنانے شروع کردیئے کہ اس میں کچھ بالائی ہے کچھ میٹھا ہے، کچھ میدہ ہے۔ یہ سن کر انہوں نے پھر سبحان اللہ! سبحان اللہ کہنا شروع کردیا۔‘‘
محمود سوچ رہا تھا، دادی جان، کیا واقعی ایک لڈو بنانے کے لیے اتنی ساری چیزیں لگتی ہیں؟
ہاں بھئی، اور اب ذرا غور سے سننا، دادی جان نے جواب دیا۔
انہوں نے متن دوبارہ پڑھا:’’…اور فرمایا۔ میاں غلام علی! تمہیں پتا ہے یہ میٹھا جو اس لڈو میں پڑا ہے کس طرح بنا۔ انہوں نے بتایا کہ زمیندار نے پہلے گنا بویا۔ پھر بیلنے میں اس کو بیلا۔ پھر رس تیار ہوئی اور اس سے شکر بنائی گئی۔ حضرت مظہر جان جانانؒ فرمانے لگے۔ دیکھو وہ زمیندار جس نے شکر کو بویا تھا وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے کھیتوں میں گیا۔ اس نے ہل چلایا، کھیتوں کو پانی دیا اور ایک لمبے عرصہ تک محنت و مشقت برداشت کرتا رہا۔ صرف اس لئے کہ مظہر جان جانانؒ ایک لڈو کھالے۔‘‘
گڑیا نے حیرت سےپوچھا : اتنی محنت؟ صرف ایک لڈو کے لیے؟
دادی جان نے پیار سے اس کا سر تھپکا، بس یہی تو سبق ہے کہ ہمیں ہر نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔وہ آگے پڑھنے لگیں:’’…یہ کہہ کر وہ پھر اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں مشغول ہوگئے۔ اور تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے۔ چھ ماہ زمیندار اپنے کھیت کو پانی دیتا رہا۔ پھر کس محنت سے اس نے نیشکر کو بیلا۔ اس سے رس نکالی اور پھر آگ جلا کر کتنی دفعہ وہ اس دنیا کے دوزخ میں گیا۔ محض اس لئے کہ مظہر جان جاناں ایک لڈو کھالے۔ اس کے بعد انہوں نے اسی طرح میدہ اور بالائی کے متعلق تفاصیل بیان کرنی شروع کردیں…‘‘
اب احمد کی سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگا تھا۔وہ بولا: دادی جان، ہر چیز میں کتنی محنت چھپی ہوتی ہے ناں؟
دادی جان: ہاں بیٹا، دنیا کی کوئی نعمت بغیر محنت کے نہیں ملتی۔بچے بے حد غور سے سن رہے تھے۔ دادی جان نے آگے پڑھنا شروع کیا’’کہ کس طرح ہزاروں آدمی دن رات اِن کاموں میں مشغول رہے۔ انہوں نے اپنی صحت کی پرواہ نہ کی۔ انہوں نے اپنے آرام کو نہ دیکھا۔ انہوں نے اپنی آسائش کو نظر انداز کردیا۔ اور یہ سارے کام خدا تعالیٰ نے ان سے محض اس لئے کرائے کہ مظہر جانِ جانان ایک لڈو کھالے۔ یہ کہہ کر ان پر پھر ربودگی کی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ سبحان اللہ! سبحان اللہ کہنے لگ گئے۔ اتنے میں عصرکا وقت آگیا اور وہ اٹھ کر نماز کے لئے چلے گئے اور لڈو اسی طرح پڑا رہا۔‘‘
یہاں محمود زور سے ہنستے ہوئے بولا: اتنی باتیں کرنے کے بعد بھی لڈو کھایا ہی نہیں؟
دادی جان بھی ہنس پڑیں، بس یہی تو کمال ہے اصل لطف ان کے لئے سوچنے میں تھا، کھانے میں نہیں۔پھر انہوں نے آخری حصہ پڑھا:’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی ہم نے دیکھا ہے۔ آپ کا یہ طریق تھا کہ جب آپ روٹی کھاتے تو روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیتے اور اس وقت تک کہ دانت اس کو چباسکیں اچھی طرح چباتے رہتے۔ آپ کی عادت بڑا لقمہ لینے کی نہیں تھی بلکہ آپ ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے اور جہاں اس پہلے لقمہ کو دیر تک چباتے رہتے وہاں روٹی کا ایک اور ٹکڑا لے کر اپنے ہاتھ میں ملتے جاتے اور ساتھ ہی سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے۔‘‘
یہ سنتے ہوئے تینوں بچے بالکل خاموش ہو گئے۔’’کچھ دیر کے بعد اس میں سے کوئی ٹکڑہ سالن لگا کر منہ میں ڈال لیتے اور روٹی کے باقی ٹکڑے دسترخوان پر پڑے رہتے۔ دیکھنے والے بعض دفعہ کہا کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام روٹی کے ٹکڑوں میں سے حلال اور حرام ذرّے الگ الگ کرتے ہیں اور چونکہ روٹی کے بہت سے ٹکڑے آپ کے دسترخوان پر جمع ہو جاتے تھے اس لئے جب آپ کھانے سے فارغ ہو جاتے تو لوگ تبرّک کے طور پر ان ٹکڑوں کو آپس میں تقسیم کر لیا کرتے تھے۔‘‘
دادی جان نے کتاب بند کی۔
تو بچو! تمہیں کیا سمجھ آئی؟
گڑیا نے دھیرے سے کہا، دادی جان، ہمیں ہر کھانے کی چیز کی قدر کرنی چاہیے۔
احمد : اور یہ کہ کھانا اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے، اُسے سوچ سمجھ کر کھانا چاہیے۔پھر محمود نے سر ہلایا اور کہا کہ اور ہر چیز کے پیچھے بہت محنت چھپی ہوتی ہے۔
دادی جان نے تینوں کو پیار سے سینے سے لگا لا اور کہا کہ شاباش میرے بچو… یہی سبق ہے اس کہانی کا۔
شام ہونے لگی تھی۔ آنگن میں روشنی مدھم ہو رہی تھی اور تینوں بچوں کے دلوں میں آج شکرگزاری کی نئی روشنی جل اٹھی تھی۔
(ماخوذازتفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 18۔ 19 ایڈیشن 2004ء)
(ابو الفارس محمود)
