وقف جدید کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات
(انتخاب از خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳؍جنوری ۲۰۲۵ء)
مارشل آئی لینڈ کے مبلغ نے لکھا کہ لادری آئزک (Isacc) صاحبہ ایک مخلص رکن ہیں اور جماعت کے لنگر چلانے کے لیے انتھک محنت کرتی ہیں۔ جہاں روزانہ دو وقت کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ آتی ہیں، پکاتی ہیں اور خدمت کرتی ہیں لیکن جب بھی انہیں تنخواہ ملتی ہے تو ان کا پہلا کام اپنے اور اپنے پانچ پوتے پوتیوں کی طرف سے مالی قربانی پیش کرنا ہوتا ہے اور ان کی وقفِ جدید کی قربانی جماعت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مربی صاحب کہتے ہیں کہ بڑے غریب گھر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھروں کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بابرکت الفاظ یاد آ جاتے ہیں کہ متقی سچی خوشحالی ایک جھونپڑی میں پا سکتا ہے جو دنیا دار حرص و آز کے پرستار کو رفیع الشان قصر میں بھی نہیںمل سکتی۔
اسی طرح وہیں کی ایک اَور خاتون لورین (Loreen) صاحبہ ہیں یہ بھی مارشل آئی لینڈ میں جماعت کے لنگر میں کام کرتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے وقفِ جدید کے چندے کی یاددہانی کروائی کہ سال ختم ہو رہا ہے اور ہمارا چندہ پچھلے سال سے کم ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ جمعہ کے بعد لورین صاحبہ دفتر آئیں اور اپنے وقفِ جدید کا چندہ پیش کیا تا کہ ہم پچھلے سال کا ہدف حاصل کر سکیں یا اس سے زیادہ کر سکیں۔
قازقستان کے مبلغ سلسلہ ایان ابرائیف صاحب کے چندے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایان ابرائیف صاحب نے کہا کہ میں نے زندگی میں ایسا وقت بھی دیکھا ہے جب میرے پاس روٹی خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مجھے کھانے پینے کی چیزیں قرض لینا پڑتی تھیں اور میری بیوی متفکر رہتی تھی کہ ہم آگے کیسے زندگی گزاریں گے لیکن ان حالات میں بھی کہتے ہیں کہ میں نے چندہ ادا کرنا شروع کر دیا اور اب بھی میرا یہ اصول ہے کہ جب بھی میرے پاس پیسے آتے ہیں تو سب سے پہلے میں چندہ ادا کرتا ہوں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب حسنِ سلوک ہے میرے ساتھ کہ جب بھی میں چندہ ادا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے بہتر مالی وسائل سے نواز دیتا ہے اور میری بیوی بعض دفعہ یہ پوچھتی ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں؟ تو میں اس کو یہی کہتا ہوں یہ سب چندے کی برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ادھار نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب تم مال کو میری خاطر خرچ کرو گے تو میں تمہیں دوں گا، بڑھا کے دوں گا اور اللہ تعالیٰ اپنا یہی وعدہ پورا کرتا ہے۔
کیمرون کے ایک شہر مروہ کے قریب ایک جماعت ہے، وہاں ایک دوست محمد یوسن صاحب ہیں کہتے ہیں میں بہت غریب تھا۔ لوگوں کے فارم پر کام کرتا تھا لیکن احمدی ہونے کے بعد میں نے چندہ دینا شروع کیا اور چندے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف میرے اس چندے کو قبول کیا بلکہ اس قدر نوازا کہ میرا اپنا فارم بن گیا اور یہ چیز مجھے تسلی دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا ہے کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بےشمار نوازا اور مجھے فارم کا مالک بنا دیا۔ کہاں میں مزدوری کرتا تھا اور کہاں میں اب اپنے فارم کا مالک بن گیا ہوں۔
نائیجر ایک غریب جماعت ہے۔ وہاں کے مبلغ نے لکھا کہ ایک احمدی لاولی صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں ٹائیگرنَٹ (Tiger Nut)کاشت کرتا ہوں اور مَیں نے بتایا تو نہیں کہ اس کا دسواں حصہ چندے میں دے دوں گا لیکن دل میں ارادہ کیا ہوا تھا لیکن حالات ایسے ہوئے کہ کاشت کے بعد بارشیں بےشمار ہو گئیں اور فصل خراب ہونے کا خطرہ تھا۔ اس کے لیے پانی اتنا نہیں چاہیے ہوتا۔ ارد گرد کے ہمسائے جو تھے ان کی فصلیں خراب ہو گئیں یا بہت کم ہوئیں لیکن اللہ تعالیٰ نے میری فصل میں اتنی برکت ڈالی کہ جہاں لوگوں کو میرے سے زیادہ زمینوں پہ پانچ یا چھ بیگ ملتے تھے وہاں مجھے دس بیگ یا بوریاں حاصل ہوئیں بلکہ گیارہ بوریاں بھی میرے کھیتوں میں سے حاصل ہوتی رہیں اور ایسے حالات میں جبکہ فصل خراب ہوجائے تو قیمتیں بھی زیادہ ہو جاتی ہیں اور مارکیٹ میں پیسے انسان اچھے کما سکتا ہے لیکن انہوں نے پیسے کا لالچ نہیں کیا۔ انہوں نے دل میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا اور کسی کو نہیں بتایا تھا کیونکہ دل میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر لیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور اپنے وعدے کے مطابق وہ گیارہویں بوری جو تھی انہوں نے جماعت کو چندے میں دینی تھی وہ دے دی اور مال کی محبت ان پر غالب نہیں آئی۔ پس یہ وہ قربانی کرنے والے لوگ ہیں جو آج بھی ہمیں جماعت احمدیہ میں نظر آتے ہیں اور ہر ملک میں نظر آتے ہیں۔
گیمبیا کی ایک جماعت یورو باؤل ہے۔ وہاں کے صدر صاحب کہتے ہیں انہیں کہیں سے کچھ رقم ملی جو انہوں نے دو حصوں میں بانٹ دی۔ ایک حصہ چندے کے لیے رکھ دیا۔ دوسرا حصہ ذاتی استعمال کے لیے رکھ لیا۔ کہتے ہیں بدقسمتی سے جو ان کے ذاتی استعمال کی رقم تھی وہ گم گئی۔ اب ان کے پاس صرف چندے والی رقم باقی تھی جو وہ استعمال کر سکتے تھے لیکن باوجود ضرورت کے انہوں نے چندے کی رقم ذاتی طور پر استعمال نہیں کی۔ ان پر مال کی محبت غالب نہیں آئی اور انہوں نے کوئی بہانہ نہیں بنایا کہ وہ گم ہو گئی ہے تو اس لیے اس میں سے آدھا خرچ کرلوں۔ انہوں نے کہا نہیں جو رقم میں نے چندے کے لیے علیحدہ کر دی تھی وہ چندے میں ادا کروں گا اور کہتے ہیں وہ میں نے چندے میں ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ عرصہ بعد وہی گمشدہ رقم ان کو مل گئی اور ان کی ضرورت پوری ہو گئی۔ ایسے حالات میں جب ضرورت ہوتی ہے تو مال کی محبت یقیناً بڑھتی ہے لیکن لوگوں کے عجیب اخلاص ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا بہرحال کرنا ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وقف جدید کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات




