خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ مورخہ ۲۶؍دسمبر ۲۰۲۵ء کے آخر میں پاکستان کے احمدیوں کے لیے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ پاکستان کے احمدیوں کے لیے آج کل دعا کریں۔مبارک ثانی صاحب کا ایک مقدمہ چل رہا تھا۔ ان کو سیشن جج نےعمر قید کی سزا سنائی ہے اور الزام یہ ہے کہ قرآن کریم رکھا ہوا تھا اسے پڑھتے بھی تھے اور پڑھاتے بھی تھے۔ یہ اب عدالتوں کا حال ہے ان سے کیا بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس فیصلے پر تو غیروں نے بھی لکھا ہے کہ کیا مضحکہ خیز فیصلہ ہے! گو بعض مولویوں نے عمومی طور پر اس فیصلے کو بڑا سراہا ہے اور جج کی بڑی تعریف کی جا رہی ہے۔ لیکن انصاف پسند لکھنے والے لکھتے ہیں، بعض لوگوں نے مذاقیہ انداز میں لکھا ہے کہ اتنا بڑا جرم ہے کہ قرآن کریم پڑھتا ہے اور گھر میں رکھا ہوا ہے اور بچوں کو پڑھاتا ہے۔
آپ نے احمدیوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی جلد پکڑ کے سامان فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ انشاءاللہ جلد ان پر آئے گی اور اس کے آثار نظر بھی آ رہے ہیں لیکن ہماری دعاؤں میں کمی یا عمل یا عبادت کے حق صحیح نہ ادا کرنے کی وجہ سے اس میں تعطل نہ ہو جائے۔ اس کی فکر ہونی چاہیے ۔بس دعاؤں کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الفضل انٹرنیشنل شمارہ ۲۹؍دسمبر ۲۰۲۵ء)
٭… Dawn.com کے مطابق پنجاب کے ضلع چنیوٹ کی تحصیل لالیاں کی سیشن جج نے جماعت احمدیہ کے ایک شخص کو توہین مذہب کے الزام میں عمرقید کی سزا سنائی ہے، ساتھ ہی انہیں تین سال قید بھی دی گئی، جو دونوں سزائیں ایک ساتھ چلیں گی۔ ملزم کے خلاف چناب نگر پولیس نے ۳؍دسمبر ۲۰۲۲ء کو سیکشن ۲۹۵-ب (توہین مذہب) اور سیکشن ۲۹۸-ج سمیت دیگر دفعات کے تحت FIRدرج کی تھی جس میں الزام تھا کہ انہوں نے قرآن مجید کے ترجمے میں تبدیلی اور متنازع کاپیوں کی اشاعت میں حصہ لیا۔ متاثرہ فریق نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ملزم نے نصرت جہاں گرلز کالج میں ایسے متنازع نسخے طالبات میں تقسیم کروائے۔ عدالت نے ثبوت کی بنیاد پر اس کو مذکورہ جرائم میں ملزم قرار دیا۔ تاہم ملزم کو ایک دوسرے مقدمے میں سیکشن ۷ اور ۹ کے تحت بری بھی کیا گیا۔ یہ فیصلہ ۲۵؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو شائع ہوا۔




